🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1033. أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23172
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبي أُمَامَةَ بنِ سَهْلِ بنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ، وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبلُغُ الثَّدْيَ، وَمنها مَا يَبلُغُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ، فَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ"، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الدِّينُ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں اور انہیں نے قمیضیں پہن رکھی ہیں لیکن کسی کی قمیض چھاتی تک اور کسی کی اس سے نیچے تک ہے جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گذرے تو انہوں نے جو قمیض پہن رکھی تھی وہ زمین پر گھس رہی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! پھر آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23172]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23173
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ مُحَمَّدِ بنِ عَمْرِو بنِ حَزْمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بيْتِهِ، وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ، وَبارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بيْتِهِ، وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بارَكْتَ عَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" ، قَالَ ابنُ طَاوُسٍ: وَكَانَ أَبي يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ.
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اہل بیت یعنی ازواج مطہرات اور اولاد پر اپنی رحمتیں اسی طرح نازل فرما جیسے آل ابراہیم پر نازل فرمائیں بیشک تو قابل تعریف بزرگی والا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اہل بیت یعنی ازواج مطہرات اور اولاد پر اپنی برکتیں اسی طرح نازل فرما جیسے آل ابراہیم پر نازل فرمائیں بیشک تو قابل تعریف و بزرگی والا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23173]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، الصحابي مبهم إلا أن يكون أبا حميد الساعدي. وهذا اسناد منقطع، قد روي مالك الحديث عن عبدالله بن ابي بكر عن ابيه عن عمرو بن سليم انه قال: اخبرني ابو حميد الساعدي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23174
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبدِ الْعَزِيزِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ، حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ برَجْمِ رَجُلٍ بيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَلَمَّا أَصَابتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ، فَبلَغَ ذَلِكَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے متعلق حکم دیا کہ اسے مکہ اور مدینہ کے درمیان رجم کردیا جائے جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا؟ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23174]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره غير أن قوله: بين مكة والمدينة، فيه نظر، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبدالعزيز بن عبدالله، وقد اختلف على سماك باسمه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23175
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا دَاوُدُ بنُ قَيْسٍ الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ وَهْب ، عَنْ أَبيهِ ، حَدَّثَنِي فَنَّجُ ، قَالَ: كُنْتُ أَعْمَلُ فِي الدَّيْنَباذِ، وَأُعَالِجُ فِيهِ، فَقَدِمَ يَعْلَى بنُ أُمَيَّةَ أَمِيرًا عَلَى الْيَمَنِ، وَجَاءَ مَعَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَنِي رَجُلٌ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَهُ، وَأَنَا فِي الزَّرْعِ أَصْرِفُ الْمَاءَ فِي الزَّرْعِ، وَمَعَهُ فِي كُمِّهِ جَوْزٌ، فَجَلَسَ عَلَى سَاقِيَةٍ مِنَ الْمَاءِ وَهُوَ يَكْسِرُ مِنْ ذَلِكَ الْجَوْزِ وَيَأْكُلُهُ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَى فَنَّجَ، فَقَالَ: يَا فَارِسِيُّ، هَلُمَّ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ لِفَنَّجَ: أَتَضْمَنُ لِي وَأَغْرِسُ مِنْ هَذَا الْجَوْزِ عَلَى هَذَا الْمَاءِ؟ فَقَالَ لَهُ فَنَّجُ: مَا يَنْفَعُنِي ذَلِكَ؟ قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ: " مَنْ نَصَب شَجَرَةً، فَصَبرَ عَلَى حِفْظِهَا وَالْقِيَامِ عَلَيْهَا حَتَّى تُثْمِرَ كَانَ لَهُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُصَاب مِنْ ثَمَرِهَا صَدَقَةٌ عِنْدَ اللَّهِ" ، فَقَالَ لَهُ فَنَّجُ: آَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ فَنَّجُ: فَأَنَا أَضْمَنُهَا، قال: فَمِنْهَا جَوْزُ الدَّيْنَباذِ.
فنج کہتے ہیں کہ " دینباذ " (علاقے کا نام) میں کام کاج کرتا تھا، اس دوران یعلی بن امیہ یمن کے گورنر بن کر آگئے ان کے ساتھ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ بھی آئے تھے ان میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا میں اس وقت اپنے کھیت میں پانی لگا رہا تھا اس آدمی کی جیب میں اخروٹ تھے وہ پانی کی نالی پر بیٹھ گیا اور اخروٹ توڑ توڑ کر کھانے لگا پھر اس شخص نے اشارے سے مجھے اپنے پاس بلایا کہ اے فارسی! ادھر آؤ میں قریب چلا گیا تو وہ کہنے لگا کہ کیا تم مجھے اس بات کی ضمانت دے سکتے ہو کہ اس پانی کے قریب اخروٹ کے درخت لگائے جاسکتے ہیں؟ میں نے کہا کہ مجھے اس ضمانت سے کیا فائدہ ہوگا؟ اس شخص نے کہا کہ میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی درخت لگائے اور اس کی نگہداشت اور ضرورت کا خیال رکھتا رہے تاآنکہ اس پر پھل آجائے تو جس چیز کو بھی اس کا پھل ملے گا وہ اللہ کے نزدیک اس کے لئے صدقہ بن جائے گا فنج نے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا جی ہاں! اس پر فنج نے انہیں ضمانت دے دی اور اب تک وہاں کے آخروٹ مشہور ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23175]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال فتج، وهذا حديث منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23176
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي عُبيْدُ اللَّهِ بنُ أَبي يَزِيدَ ، أَنَّ عَبدَ الرَّحْمَنِ بنَ طَارِقِ بنِ عَلْقَمَةَ أَخْبرَهُ , عَنْ عَمِّهِ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا" جَاءَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى نَسِبهُ عُبيْدُ اللَّهِ اسْتَقْبلَ الْبيْتَ فَدَعَا" . قَالَ رَوْحٌ : عَنْ أَبيهِ . وَقَالَ ابنُ بكْرٍ : عَنْ أُمِّهِ .
عبدالرحمن بن طارق (رح) اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی داریعلی سے کسی جگہ تشریف لے جاتے تو قبلہ رخ ہو کر دعا ضرور فرماتے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23176]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن طارق، وقد اضطرب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23177
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِبرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ مُعَاذٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَب النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بمِنًى وَنَزَّلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ، وَقَالَ: " لِيَنْزِلْ الْمُهَاجِرُونَ هَاهُنَا"، وَأَشَارَ إِلَى مَيْمَنَةِ الْقِبلَةِ،" وَالْأَنْصَارُ هَاهُنَا"، وَأَشَارَ إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبلَةِ،" ثُمَّ لِيَنْزِلْ النَّاسُ حَوْلَهُمْ"، قَالَ: وَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ، فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُ أَهْلِ مِنًى حَتَّى سَمِعُوهُ وَهُمْ فِي مَنَازِلِهِمْ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" ارْمُوا الْجَمْرَةَ بمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ" ..
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان منٰی میں لوگوں کو ان کی جگہوں پر بٹھا کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کی دائیں جانب اشارہ فرمایا " اور انصار یہاں اتریں اور قبلہ کی بائیں جانب اشارہ فرمایا: پھر لوگ ان کے آس پاس اتریں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مناسک حج کی تعلیم دی جس نے اہل منٰی کے کان کھول دیئے اور سب کو اپنے اپنے پڑاؤ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی دیتی رہے میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ٹھکیری کی کنکری جیسی کنکریوں سے جمرات کی رمی کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23177]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف دون قوله: ارموا الجمرة بمثل حصى الخذفه فهو صحيح لغيره، وقد اختلف فى هذا الإسناد على حمد الأعرج
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23178
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبي ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِبرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: وَكَانَ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَبنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23178]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، وقد اختلف فيه على حميد الأعرج
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23179
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ هِلَالِ بنِ يِسَافٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " سَيَكُونُ قَوْمٌ لَهُمْ عَهْدٌ، فَمَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْهُمْ، لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبعِينَ عَامًا" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب ذمیوں کی ایک قوم ہوگی جو شخص ان میں سے کسی کو قتل کرے گا وہ جنت کی مہک بھی نہ سونگھ سکے گا حالانکہ جنت کی مہک تو ستر سال کی مسافت سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23179]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23180
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ الْمُبارَكِ ، عَنْ عَبدِ الْحَمِيدِ بنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: إِنَّ صُهَيْبا قَدِمَ عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبيْنَ يَدَيْهِ تَمْرٌ وَخُبزٌ، قَالَ: " ادْنُ فَكُلْ"، فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ، فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بعَيْنِكَ رَمَدًا"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا آكُلُ مِنَ النَّاحِيَةِ الْأُخْرَى، قَالَ: فَتَبسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبدالحمید بن صفی (رح) کے دادا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور روٹی رکھی ہوئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صہیب سے فرمایا کہ قریب آجاؤ اور کھاؤ چناچہ وہ کھجوریں کھانے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں تو آشوب چشم ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں دوسری جانب سے کھا رہا ہوں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23180]

الحكم على الحديث:
إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23181
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، أَخْبرَنِي سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ السَّائِب ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبدَ الرَّحْمَنِ بنَ الْحَضْرَمِيِّ ، يَقُولُ: أَخْبرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يُعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُورِ أَوَّلِهِمْ، يُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت (کے آخر) میں ایک قوم ایسی بھی آئے گی جنہیں پہلے لوگوں کی طرح اجر دیا جائے گا یہ وہ لوگ ہوں گے جو گناہ کی برائی کو بیان کریں گے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23181]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة عبدالرحمن بن الحضرمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں