مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1033. أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23152
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ أَعْوَرَ، يُقَالُ لَهُ: مَعْرُوفٌ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلِيمَةُ حَقٌّ، وَالْيَوْمُ الثَّانِي مَعْرُوفٌ، وَالْيَوْمُ الثَّالِثُ سُمْعَةٌ وَرِيَاءٌ" .
قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف میں " معروف " نام کے ایک صاحب تھے جن کی ایک آنکھ کام نہیں کرتی تھی ان کا اصل نام زہیر بن عثمان تھا وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ولیمہ برحق ہے دوسرے دن کھلانا نیکی ہے اور تیسرے دن بھی کھلانا شہرت اور دکھاوے کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23152]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن عثمان
حدیث نمبر: 23153
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبي الزَّعْرَاءِ ، عَنْ أَبي الْأَحْوَصِ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَتْ تُعْرَفُ قِرَاءَةُ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ، بتَحْرِيكِ لِحْيَتِهِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز ظہر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا پتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک ہلنے سے ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23153]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23154
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ بنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سَالِمِ بنِ أَبي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مُحَمَّدِ ابنِ الْحَنَفِيَّةِ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبي عَلَى صِهْرٍ لَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ، ائْتِينِي بوَضُوءٍ لَعَلِّي أُصَلِّي فَأَسْتَرِيحَ، فَرَآنَا أَنْكَرْنَا ذَاكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قُمْ يَا بلَالُ، فَأَرِحْنَا بالصَّلَاةِ" .
عبداللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ہمراہ سسرالی رشتہ داروں میں " جو انصاری تھے " گیا نماز کا وقت ہوا تو میزبان نے کہا اے باندی! وضو کا پانی میرے پاس لاؤ تاکہ میں نماز پڑھ کر راحت حاصل کروں جب انہوں نے دیکھا کہ ہمیں اس بات پر تعجب ہو رہا ہے تو وہ کہنے لگے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اسے بلال! کھڑے ہو اور ہمیں نماز کے ذریعے راحت مہیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23154]
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات لكن اختلف فيه على سالم بن ابي الجعد
حدیث نمبر: 23155
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُوسَى بنِ جُبيْرٍ ، عَنْ أَبي أُمَامَةَ بنِ سَهْلِ بنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اتْرُكُوا الْحَبشَةَ مَا تَرَكُوكُمْ، فَإِنَّهُ لَا يَسْتَخْرِجُ كَنْزَ الْكَعْبةِ إِلَّا ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبشَةِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تک حبشی تمہیں چھوڑے رہیں تم انہیں چھوڑے رہو کیونکہ خانہ کعبہ کا خزانہ حبشیوں میں سے ایک چھوٹی پنڈلیوں والا آدمی نکالے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23155]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل موسي بن جبير
حدیث نمبر: 23156
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بنِ يِسَافٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بهِ جُرْحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْعُوا لَهُ طَبيب بنِي فُلَانٍ"، قَالَ: فَدَعَوْهُ، فَجَاءَ، فَقَالُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَيُغْنِي الدَّوَاءُ شَيْئًا؟ فَقَالَ: " سُبحَانَ اللَّهِ، وَهَلْ أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ دَاءٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا جَعَلَ لَهُ شِفَاءً؟!" .
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جو زخمی ہوگیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنوفلاں کے طبیب کو بلا کر اسے دکھاؤ لوگوں نے اسے بلایا تو وہ آیا اور لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ! کیا علاج اسے کچھ فائدہ دے سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! اللہ نے زمین میں کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی شفاء نہ رکھی ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23156]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23157
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنْ ذِي مِخْمَرٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " سَتُصَالِحُكُمْ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا، ثُمَّ تَغْزُونَ وَهُمْ عَدُوًّا، فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ، ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ، فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ النَّصْرَانِيَّةِ صَلِيبا، فَيَقُولُ: غَلَب الصَّلِيب، فَيَغْضَب رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ، وَيَجْمَعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ" .
حضرت ذو مخمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب رومی تم سے امن وامان کی صلح کرلیں گے پھر تم ان کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ دشمن سے جنگ کرو گے تم اس میں کامیاب ہو کر صحیح سالم، مال غنیمت کے ساتھ واپس آؤ گے جب تم " ذی تلول " نامی جگہ پر پہنچو گے تو ایک عیسائی صلیب بلند کر کے کہے گا کہ صیلب غالب آگئی اس پر ایک مسلمان کو غصہ آئے گا اور وہ کھڑا ہو کر اسے جواب دے گا وہیں سے رومی عہد شکنی کر کے جنگ کی تیاری کرنے لگیں گے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23157]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23158
حَدَّثَنَا أَبو عَامِرٍ عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ أَبي سُلَيْمَانَ ، مَدِينِيٌّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ خُبيْب ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: كُنَّا فِي مَجْلِسٍ، فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرَاكَ طَيِّب النَّفْسِ، قَالَ:" أَجَلْ"، قَالَ: ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا بأْسَ بالْغِنَى لِمَنْ اتَّقَى اللَّهَ، وَالصِّحَّةُ لِمَنْ اتَّقَى اللَّهَ خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى، وَطِيب النَّفْسِ مِنَ النِّعَمِ" .
عبداللہ بن خبیب اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مجلس میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے سر مبارک پر پانی کے اثرات تھے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم آپ کو بہت خوش دیکھ رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! پھر لوگ مالداری کا تذکرہ کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرنے والے کے لئے مالداری میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اللہ سے ڈرنے والے کے لئے مالداری سے زیادہ بہتر چیز صحت ہے اور دل کا خوش ہونا بھی نعمت ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23158]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 23159
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ حَرْب ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوب ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا بالْمَدِينَةِ وَقَدْ طَافَ النَّاسُ بهِ، وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ بعْدِكُمْ الْكَذَّاب الْمُضِلَّ، وَإِنَّ رَأْسَهُ مِنْ بعْدِهِ حُبكٌ حُبكٌ حُبكٌ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَإِنَّهُ سَيَقُولُ: أَنَا رَبكُمْ، فَمَنْ قَالَ: لَسْتَ رَبنَا، لَكِنَّ رَبنَا اللَّهُ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْهِ أَنَبنَا، نَعُوذُ باللَّهِ مِنْ شَرِّكَ، لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهِ سُلْطَانٌ" .
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں میں نے ایک آدمی کو دیکھا جسے لوگوں نے اپنے حلقے میں گھیر رکھا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (احادیث بیان کر رہا تھا) تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے بعد ایک گمراہ کن کذاب آئے گا جس کے سر میں پیچھے سے راستے بنے ہوں گے اور وہ یہ دعویٰ کرے گا کہ میں تمہارا رب ہوں سو جو شخص یہ کہہ دے کہ تو ہمارا رب نہیں ہے ہمارا رب تو اللہ ہے ہم اسی پر توکل کرتے اور رجوع کرتے ہیں اور ہم تیرے شر سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں تو دجال کو اس پر تسلط حاصل نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23159]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23160
حَدَّثَنَا أَبو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: لَقِيتُ شَيْخًا مِنْ بنِي سُلَيْمٍ بالْكُنَاسَةِ، فَحَدَّثَنِي , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدَّ خَمْسًا فِي يَدِهِ أَوْ فِي يَدِي، قَالَ: " التَّسْبيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ، وَالتَّكْبيرُ يَمْلَأُ مَا بيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبرِ، وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ" .
بنوسلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں سبحان اللہ نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23160]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وللتحقيق انظر: 18287
حدیث نمبر: 23161
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ حَرْب ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ ، قَالَ: بيْنَمَا أَطُوفُ بالْبيْتِ إِذْ لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ بنِي سُلَيْمٍ، فَقَالَ: ألا أبشرك؟ قُلْتُ: بلَى، قَالَ: أَتَذْكُرُ إِذْ بعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِكَ بنِي سَعْدٍ أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ أَنْتَ: وَاللَّهِ مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا، وَلَا أَسْمَعُ إِلَّا حُسْنًا، فَإِنِّي رَجَعْتُ فَأَخْبرْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمَقَالَتِكَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَحْنَفِ"، قَالَ: فَمَا أَنَا بشَيْءٍ أَرْجَى مِنِّى لها .
احنف کہتے کہ ایک مرتبہ میں بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا کہ بنوسلیم کا ایک آدمی مجھے ملا اور کہنے لگا کیا میں آپ کو خوشخبری نہ سناؤں؟ میں نے کہا کیوں نہیں اس نے کہا کیا تمہیں وہ وقت یاد ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آپ کی قوم بنو سعد کے پاس اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا اور آپ نے کہا تھا کہ بخدا! انہوں نے اچھی بات کہی اور اچھی بات ہی سنائی جب میں واپس بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے اس قول کے متعلق بتایا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اے اللہ! احنف کی مغفرت فرما یہ سن کر انہوں نے کہا کہ میرے پاس اس سے زیادہ پر امید کوئی چیز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23161]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد