🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1101. حَدِيثُ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23692
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَاعِدَةَ بْنِ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو طَيِّبَةَ يَكْسِبُ كَسْبًا كَثِيرًا، فَلَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ اسْتَرْخَصَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهُ فِيهِ وَيَذْكُرُ لَهُ الْحَاجَة، حَتَّى قَالَ لَهُ: " لِتُلْقِ كَسْبَهُ فِي بَطْنِ نَاضِحِك" .
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابو طیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23692]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع، وحرام بن ساعدة بن محيصة ليست له صحبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23693
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، أَنَّ مُحَيِّصَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ حَجَّامٍ لَهُ، فَنَهَاهُ عَنْهُ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ يُكَلِّمُهُ حَتَّى قَالَ: " اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ، وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ" .
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زرمحصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23693]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وفي سماع حرام بن سعد من جده محيصة نظر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23694
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: وَسَمِعَهُ الزُّهْرِيُّ ، من سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَحَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ،" أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ قَوْمٍ فَأَفْسَدَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ الْأَمْوَالِ عَلَى أَهْلِهَا بِالنَّهَارِ، وَأَنَّ عَلَى أَهْلِ الْمَاشِيَةِ مَا أَصَابَتْ بِاللَّيْلِ" ..
حرام بن محیصہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے والد سے) نقل کرتے ہیں کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی اونٹنی نے ایک باغ میں داخل ہو کر اس میں تباہی مچادی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت باغ کی حفاظت اس کے مالکوں کے ذمے ہے اور اگر رات کو جانور کوئی نقصان پہنچاتے ہیں تو اس نقصان کا ضامن جانور کا مالک ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23694]

الحكم على الحديث:
إسناده مرسل صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23695
حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَاعِدَةَ بْنِ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23695]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23696
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَنَهَاهُ، فَأَعَادَ عَلَيْهِ فَنَهَاهُ، فَذَكَرَ مِنْ حَاجَتِهِ، فَقَالَ: " اعْلِفْ نَاضِحَكَ، وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ" .
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23696]

الحكم على الحديث:
إسناده متصل صحيح إن كان حرام بن سعد ابن محيصة سمع من جده، وقوله هنا : "عن أبيه" أراد به جده، وليس لأبيه سعد بن محيصة صحبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23697
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ،" أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْهُ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْأَمْوَالِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي حِفْظَهَا بِاللَّيْلِ" .
حرام بن محیصہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے والد سے) نقل کرتے ہیں کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی اونٹنی نے ایک باغ میں داخل ہو کر اس میں تباہی مچا دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت باغ کی حفاظت اس کے مالکوں کے ذمے ہے اور اگر رات کو جانور کوئی نقصان پہنچاتے ہیں تو اس نقصان کا ضامن جانور کا مالک ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23697]

الحكم على الحديث:
مرسل صحيح، وقوله فيه : "عن ابيه" وهم من عبدالرزاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23698
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَنَهَاهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ لَهُ الْحَاجَةَ، فَقَالَ: " اعْلِفْهُ نَوَاضِحكَ" .
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23698]

الحكم على الحديث:
إسناده متصل صحيح إن كان حرام بن سعد بن محيصة سمع من جده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23699
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ يُقَالُ لَهُ: مُحَيِّصَةُ ،" كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ، فَزَجَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِهِ، فَقَالَ: أَفَلَا أُطْعِمُهُ يَتَامَى لِي؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَلَا أَتَصَدَّقُ بِهِ؟ قَالَ: لَا، فَرَخَّصَ لَهُ أَنْ يَعْلِفَهُ نَاضِحَهُ" .
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23699]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن أيوب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1102. حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23700
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ امْرَأً أُصِيبُ مِنَ النِّسَاءِ مَا لَا يُصِيبُ غَيْرِي، قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ خِفْتُ، فَتَظَاهَرْتُ مِنَ امْرَأَتِي فِي الشَّهْرِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هِيَ تَخْدُمُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ، فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ وَقَعْتُ عَلَيْهَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " حَرِّرْ رَقَبَةً"، قَالَ: قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَمْلِكُ رَقَبَةً غَيْرَ رَقَبَتِي! قَالَ:" فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" فَقُلْتُ: وَهَلْ أَصَابَنِي الَّذِي أَصَابَنِي إِلَّا مِنَ الصِّيَامِ؟! قَالَ:" فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" .
حضرت سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں عورتوں کو بہت چاہتا تھا اور میں کسی مرد کو نہیں جانتا جو عورتوں سے اتنی صحبت کرتا ہو جیسے میں کرتا تھا۔ خیر رمضان آیا تو میں نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا اخیر رمضان تک تاکہ رات کے وقت اس کے قریب نہ چلا جاؤں دن ہونے تک میں اسی طرح کرتا تھا اور اپنے اندر اتنی طاقت نہ پاتا تھا کہ اس سے مکمل جدا ہوجاؤں ایک رات میری بیوی میری خدمت کر رہی تہی کہ اس کی ران سے کپڑا اوپر ہوگیا میں اس سے صحبت کر بیٹھا جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ بیان کردیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ایک غلام آزاد کر میں نے کہا قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا میں تو بس اپنے ہی نفس کا مالک ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا! دو ماہ لگاتار روزے رکھ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ جو بلا مجھ پر آئی یہ روزہ رکھنے ہی سے تو آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ دے اور ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23700]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة محمد بن إسحاق، وسليمان بن يسار لم يسمع من سلمة بن صخر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1103. حَدِيثُ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23701
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَقُومُ عَلَى رَأْسِ الْمُخْتَارِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَتْ لِي كِذَابَتُهُ، هَمَمْتُ أَيْمُ اللَّهِ أَنْ أَسُلَّ سَيْفِي، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، حَتَّى تَذَكَّرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ آمَنَ رَجُلًا عَلَى نَفْسِهِ فَقَتَلَهُ، أُعْطِيَ لِوَاءَ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
رفاعہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں ایک دن مختار کے سرہانے کھڑا تھا جب اس کا جھوٹا ہونا مجھ پر روشن ہوگیا تو بخدا! میں نے اس بات کا ارادہ کرلیا کہ اپنی تلوار کھینچ کر اس کی گردن اڑا دوں لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو مجھ سے حضرت عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی مسلمان کو پہلے اس کی جان کی امان دے دے پھر بعد میں اسے قتل کر دے تو قیامت کے دن اسے دھوکے کا جھنڈا دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23701]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں