🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1098. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23682
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَنَّ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَ عَطَاءً أَنَّهُ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَأَمَرَ امْرَأَتَهُ فَسَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ يَفْعَلُ ذَلِك"، فَأَخْبَرَتْهُ امْرَأَتُهُ، فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَخَّصُ لَهُ فِي أَشْيَاءَ، فَارْجِعِي إِلَيْهِ، فَقُولِي لَهُ، فَرَجَعَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَخَّصُ لَهُ فِي أَشْيَاءَ، فَقَالَ: " أَنَا أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَعْلَمُكُمْ بِحُدُودِ اللَّهِ" .
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے عہد نبوت میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی کو بوسہ دیا پھر خیال آنے پر اپنی بیوی سے کہا چناچہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نبی بھی ایسا کرلیتے ہیں اس عورت نے اپنے شوہر کو بتایا انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بہت سے کاموں کی اجازت حاصل ہے تم واپس جا کر ان سے یہ بات کہو چناچہ اس نے واپس جا کر عرض کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بہت سے کاموں کی اجازت حاصل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کی حدود کو جاننے والا ہوں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23682]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1099. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23683
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: كَانَ جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ أَمِيرًا عَلَيْنَا فِي الْبَحْرِ سِتَّ سِنِينَ، فَخَطَبَنَا ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: دَخَلْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تُحَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنَ النَّاسِ، قَالُوا: قَالَ: فَشَدَّدُوا عَليْهِ، فَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أُنْذِرُكُمْ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ، أُنْذِرُكُمْ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ، وَهُوَ رَجُلٌ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: أَظُنُّهُ قَالَ: الْيُسْرَى يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، مَعَهُ جِبَالُ خُبْزٍ وَأَنْهَارُ مَاءٍ، يَبْلُغُ سُلْطَانُهُ كُلَّ مَنْهَلٍ، لَا يَأْتِي أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ" فَذَكَرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَالْمَسْجِدَ الْأَقْصَى، وَالطُّورَ، وَالْمَدِينَةَ" غَيْرَ أَنَّ مَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ، فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْوَرَ، لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْوَرَ" ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَأَظُنُّ فِي حَدِيثِهِ:" يُسَلَّطُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْبَشَرِ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ، وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهِ".
مجاہد کہتے ہیں کہ چھ سال تک جنادہ بن ابی امیہ ہمارے گورنر رہے ایک دن وہ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے کہنے لگے کہ ہمارے یہاں ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ آئے تھے ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو لوگوں سے سنی ہوئی کوئی حدیث نہ سنائیے ہم نے یہ فرمائش کر کے انہیں مشقت میں ڈال دیا پھر وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں مسیح دجال سے ڈرا دیا ہے اس کی (بائیں) آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں چلتی ہوں گی " اس کی علامت یہ ہوگی کہ وہ چالیس دن تک زمین میں رہے گا اور اس کی سلطنت پانی کے ہر گھاٹ تک پہنچ جائے گی البتہ وہ چار مسجدوں میں نہیں جاسکے گا خانہ کعبہ، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ اور کوہ طور، بہرحال! اتنی بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اسے ایک آدمی پر قدرت دی جائے گی جسے وہ قتل کر کے دوبارہ زندہ کرے گا لیکن اس کے علاوہ اسے کسی پر تسلط نہیں دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23683]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23684
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدَّجَّالِ وَلَا تُحَدِّثْنِي عَنْ غَيْرِكَ، وَإِنْ كَانَ عِنْدَكَ مُصَدَّقًا، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنْذَرْتُكُمْ فِتْنَةَ الدَّجَّالِ، فَلَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ أَوْ أُمَّتَهُ، وَإِنَّهُ آدَمُ جَعْدٌ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُسْرَى، وَإِنَّهُ يُمْطِرُ وَلَا يُنْبِتُ الشَّجَرَةَ، وَإِنَّهُ يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ فَيَقْتُلُهَا ثُمَّ يُحْيِيهَا وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا، وَإِنَّهُ مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ، وَنَهْرٌ َمَاءٌ، وَجَبَلُ خُبْزٍ، وَإِنَّ جَنَّتَهُ نَارٌ وَنَارَهُ جَنَّةٌ، وَإِنَّهُ يَلْبَثُ فِيكُمْ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، يَرِدُ فِيهَا كُلَّ مَنْهَلٍ إِلَّا أَرْبَعَ مَسَاجِدَ: مَسْجِدَ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدَ الْمَدِينَةِ، وَالطُّورِ، وَمَسْجِدَ الْأَقْصَى، وَإِنْ شَكَلَ عَلَيْكُمْ أَوْ شُبِّهَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ" .
مجاہد کہتے ہیں کہ چھ سال تک جنادہ بن ابی امیہ ہمارے گورنر رہے ایک دن وہ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے کہنے لگے کہ ہمارے یہاں ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ آئے تھے ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو لوگوں سے سنی ہوئی کوئی حدیث نہ سنائیے ہم نے یہ فرمائش کر کے انہیں مشقت میں ڈال دیا پھر وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں مسیح دجال سے ڈرا دیا ہے اس کی (بائیں) آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں چلتی ہوں گی " اس کی علامت یہ ہوگی کہ وہ چالیس دن تک زمین میں رہے گا اور اس کی سلطنت پانی کے ہر گھاٹ تک پہنچ جائے گی البتہ وہ چار مسجدوں میں نہیں جاسکے گا خانہ کعبہ، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ اور کوہ طور، بہرحال! اتنی بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اسے ایک آدمی پر قدرت دی جائے گی جسے وہ قتل کر کے دوبارہ زندہ کرے گا لیکن اس کے علاوہ اسے کسی پر تسلط نہیں دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23684]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23685
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْأَزْدِيِّ ، قَالَ: ذَهَبْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذْكَرُ فِي الدَّجَّال، وَلَا تُحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِهِ، وَإِنْ كَانَ مُصَدَّقًا، قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَنْذَرْتُكُمْ الدَّجَّالَ ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ، وَإِنَّهُ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ، وَإِنَّهُ جَعْدٌ آدَمُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ، وَمَعَهُ جَبَلٌ مِنْ خُبْزٍ وَنَهْرٌ مِنْ مَاءٍ، وَإِنَّهُ يُمْطِرُ الْمَطَرَ وَلَا يُنْبِتُ الشَّجَرَ، وَإِنَّهُ يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ فَيَقْتُلُهَا وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا، وَإِنَّهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، يَبْلُغُ فِيهَا كُلَّ مَنْهَلٍ، وَلَا يَقْرَبُ أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ: مَسْجِدَ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدَ الْمَدِينَةِ، وَمَسْجِدَ الطُّورِ، وَمَسْجِدَ الْأَقْصَى، وَمَا يُشَبَّهُ عَلَيْكُمْ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ" .
مجاہد کہتے ہیں کہ چھ سال تک جنادہ بن ابی امیہ ہمارے گورنر رہے ایک دن وہ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے کہنے لگے کہ ہمارے یہاں ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ آئے تھے ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو لوگوں سے سنی ہوئی کوئی حدیث نہ سنائیے ہم نے یہ فرمائش کر کے انہیں مشقت میں ڈال دیا پھر وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں مسیح دجال سے ڈرا دیا ہے اس کی (بائیں) آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں چلتی ہوں گی " اس کی علامت یہ ہوگی کہ وہ چالیس دن تک زمین میں رہے گا اور اس کی سلطنت پانی کے ہر گھاٹ تک پہنچ جائے گی البتہ وہ چار مسجدوں میں نہیں جاسکے گا خانہ کعبہ، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ اور کوہ طور، بہرحال! اتنی بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اسے ایک آدمی پر قدرت دی جائے گی جسے وہ قتل کر کے دوبارہ زندہ کرے گا لیکن اس کے علاوہ اسے کسی پر تسلط نہیں دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23685]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1100. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23686
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي الْمَسْجِدِ، فَمَرَّ شَيْخٌ جَمِيلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ وَفِي أُذُنَيْهِ صَمَمٌ أَوْ قَالَ: وَقْرٌ، أَرْسَلَ إِلَيْهِ حُمَيْدٌ، فَلَمَّا أَقْبَلَ، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَوْسِعْ لَهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ، فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَقَالَ لَهُ حُمَيْدٌ هَذَا الْحَدِيثُ الَّذِي حَدَّثْتَنِي، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الشَّيْخُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْشِئُ السَّحَابَ فَيَنْطِقُ أَحْسَنَ الْمَنْطِقِ، وَيَضْحَكُ أَحْسَنَ الضَّحِكِ" .
ابراہیم بن سعد اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں حمید بن عبدالرحمن کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا کہ بنو غفار کے ایک خوبصورت بزرگ گذرے ان کے کان کچھ اونچا سنتے تھے حمید نے ایک آدمی کو ان کے پاس بھیج کر انہیں بلایا جب وہ آئے تو حمید نے مجھ سے کہا کہ بھتیجے! ذرا تھوڑی سی جگہ دے دو کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں چناچہ وہ آکر میرے اور حمید کے درمیان بیٹھ گئے حمید نے ان سے عرض کیا کہ وہ حدیث سنائیے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھ سے بیان کی تھی انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو پیدا فرماتا ہے بہترین طریقے سے بولتا ہے اور بہترین طریقے سے تبسم فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23686]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23687
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْغُلُوطَاتِ" ، قَالَ الْأَوْزَاعِّيُّ: الْغُلُوطَاتِ: شِدَادُ الْمَسَائِلِ وَصِعَابُهَا.
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " غلوطات " سے منع فرمایا ہے امام اوزاعی (رح) اس کا معنی وہ مسائل بتاتے ہیں جن میں سختی اور مشکل ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23687]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن سعد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23688
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنِ الْغُلُوطَاتِ" .
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " غلوطات " سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23688]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن سعد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1101. حَدِيثُ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23689
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي عُفَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ مُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ يُقَالُ لَهُ: نَافِعٌ أَبُو طَيِّبَةَ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ خَرَاجِهِ، فَقَالَ: " لَا تَقْرَبْهُ" فَرَدَّدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اعْلِفْ بِهِ النَّاضِحَ، وَاجْعَلْهُ فِي كِرْشِهِ" .
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23689]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عفير الأنصاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23690
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ، فَنَهَاهُ عَنْهَا، فَلَمْ يَسْأَلْهُ فِيهَا حَتَّى قَالَ لَهُ: " اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ، وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ" .
حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا ایک غلام سینگی لگانے کا ماہر تھا جس کا نام نافع ابوطیبہ تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے غلام کے یومیہ زر محصول کے متعلق پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جانا انہوں نے پھر یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پانی لاد کر لانے والے اونٹ کا چارہ خرید لیا کرو اور اپنے غلام کو کھلا دیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23690]

الحكم على الحديث:
إسناده متصل صحيح إن كان ابن محيصة سمع من جده محيصة سمع من جده محيصة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23691
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ هُوَ ابْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ،" أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ دَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فِيهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتْ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا" .
حرام بن محیصہ (اپنے والد سے) نقل کرتے ہیں کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی اونٹنی نے ایک باغ میں داخل ہو کر اس میں تباہی مچا دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت باغ کی حفاظت اس کے مالکوں کے ذمے ہے اور اگر رات کو جانور کوئی نقصان پہنچاتے ہیں تو اس نقصان کا ضامن جانور کا مالک ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23691]

الحكم على الحديث:
إسناده مرسل صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں