مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1091. حَدِيثُ عُبَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23652
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سُئِلَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُ بِصَلَاةٍ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ، أَوْ سِوَى الْمَكْتُوبَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ" .
حضرت عبید رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازوں کے علاوہ بھی کسی نماز کی تلقین فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! مغرب اور عشاء کے درمیان تلقین کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23652]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة الراوي عن عبيد
حدیث نمبر: 23653
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، الْمَعْنَى، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُمْ فِي مَجْلِسِ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ: عَنْ شَيْخٍ فِي مَجْلِسِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ صَامَتَا، وَأَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَاهُنَا امْرَأَتَيْنِ قَدْ صَامَتَا، وَإِنَّهُمَا قَدْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا مِنَ الْعَطَشِ! فَأَعْرَضَ عَنْهُ أَوْ سَكَتَ، ثُمَّ عَادَ وَأُرَاهُ، قَالَ بِالْهَاجِرَةِ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّهُمَا وَاللَّهِ قَدْ مَاتَتَا أَوْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا! قَالَ:" ادْعُهُمَا"، قَالَ: فَجَاءَتَا، قَالَ: فَجِيءَ بِقَدَحٍ أَوْ عُسٍّ، فَقَالَ لِإِحْدَاهُمَا:" قِيئِي" فَقَاءَتْ قَيْحًا أَوْ دَمًا وَصَدِيدًا وَلَحْمًا حَتَّى قَاءَتْ نِصْفَ الْقَدَحِ، ثُمَّ قَالَ لِلْأُخْرَى:" قِيئِي" فَقَاءَتْ مِنْ قَيْحٍ وَدَمٍ وَصَدِيدٍ وَلَحْمٍ عَبِيطٍ وَغَيْرِهِ حَتَّى مَلَأَتْ الْقَدَحَ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَاتَيْنِ صَامَتَا عَمَّا أَحَلَّ اللَّهُ لهما، وَأَفْطَرَتَا عَلَى مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمَا، جَلَسَتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى، فَجَعَلَتَا يَأْكُلَانِ لُحُومَ النَّاسِ" .
حضرت عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دور نبوت میں دو عورتوں نے روزہ رکھا ہوا تھا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! یہاں دو عورتیں ہیں جنہوں نے روزہ رکھا ہوا ہے لیکن پیاس کی وجہ سے مرنے کے قریب ہوگئی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سن کر سکوت یا اعراض فرمایا وہ دوبارہ دوپہر کے وقت آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی! واللہ وہ مرجائیں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں بلا کر لاؤ وہ دونوں آئیں تو ایک پیالہ منگوایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک سے فرمایا کہ اس میں قے کرو اس نے قے کی تو اس میں سے خون، پیپ اور گوشت نکلا حتی کہ آدھا پیالہ بھر گیا پھر دوسری سے بھی یہی فرمایا اس نے بھی یہی چیزیں قے کیں حتی کہ پیالہ بھر گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہوں نے اللہ کی حلال چیزوں سے رک کر روزہ تو رکھ لیا لیکن اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اختیار کر کے روزہ توڑ دیا یہ دونوں ایک دوسرے کے پاس بیٹھ کر لوگوں کا گوشت کھا رہی تھیں (غیبت کر رہی تھیں) [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23653]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة الراوي عن عبيد
حدیث نمبر: 23654
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: طَرَأَ عَلَيْنَا رَجُلٌ فِي مَجْلِسِ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ فَحَدَّثَنَا، عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" وَسُئِلَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ صَلَاتَهُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ" ..
حضرت عبید رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازوں کے علاوہ بھی کسی نماز کی تلقین فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! مغرب اور عشاء کے درمیان تلقین کرتے تھے۔ حدیث نمبر (٢٤٠٥٣) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23654]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة الراوي عن عبيد
حدیث نمبر: 23655
حدثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: حَدَّثَنَا سَعْدٌ أو عُبَيْدٌ عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ الَّذِي يَشُكُّ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ أُمِرُوا بِصِيَامٍ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْضَ النَّهَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانًا وَفُلَانَةَ قَدْ بَلَغَهُمَا الْجَهْدُ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ يَزِيدَ، وَابْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ..
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة الراوي عن عبيد
حدیث نمبر: 23656
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ فِي حَلْقَةِ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدٌ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ أُمِرُوا بِصِيَامِ يَوْمٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْضَ النَّهَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانَةَ وَفُلَانَةَ قَدْ بَلَغَهُمَا الْجَهْدُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة الراوي عن سعد
1092. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23657
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ: " زَمِّلُوهُمْ فِي ثِيَابِهِمْ" قَالَ: وَجَعَلَ يَدْفِنُ فِي الْقَبْرِ الرَّهْطَ، قَالَ: وَقَالَ:" قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" .
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شہداء کو ان ہی کے کپڑوں میں لپیٹ دو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک قبر میں کئی کئی لوگوں کو دفن کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے کہ ان میں سے جس شخص کو قرآن سب سے زیادہ یاد رہا ہوا سے پہلے قبر میں اتار دو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23657]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23658
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ ، قَالَ: لَمَّا أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، فَقَالَ: " أَشْهَدُ عَلَى هَؤُلَاءِ مَا مِنْ مَجْرُوحٍ جُرِحَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَدْمَى، اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ، وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ، انْظُرُوا أَكْثَرَهُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ فَقَدِّمُوهُ أَمَامَهُمْ فِي الْقَبْرِ" .
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد کے پاس تشریف لائے تو فرمایا کہ میں ان کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص اللہ کے راستہ میں زخمی ہوا تو قیامت کے دن اللہ اسے اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کے زخم سے خون رس رہا ہوگا جس کا رنگ تو خون کا ہوگا لیکن مہک اس کی مشک جیسی ہوگی دیکھو! ان میں سے جسے قرآن سب سے زیادہ حاصل رہا ہو اسے ان سے پہلے قبر میں رکھو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23658]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23659
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ وَثَبَّتَنِيهِ مَعْمَرٌ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، فَقَالَ: " إِنِّي أَشْهَدُ عَلَى هَؤُلَاءِ، زَمِّلُوهُمْ بِكُلُومِهِمْ وَدِمَائِهِمْ" .
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد کے پاس تشریف لائے تو فرمایا کہ میں ان کے متعلق گواہی دیتا ہوں انہیں ان کے زخموں اور خون کے ساتھ ہی کفن میں لپیٹ دو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23659]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23660
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي صُعَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: " زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ، فَإِنِّي قَدْ شَهِدْتُ عَلَيْهِمْ"، فَكَانَ يُدْفَنُ الرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ فِي الْقَبْرِ الْوَاحِدِ، وَيُسْأَلُ:" أَيُّهُمْ كَانَ أَقْرَأَ لِلْقُرْآنِ" فَيُقَدِّمُونَهُ ، قَالَ جَابِرٌ: فَدُفِنَ أَبِي وَعَمِّي يَوْمَئِذٍ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ.
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد کے پاس تشریف لائے تو فرمایا کہ میں انہیں ان کے خون کے ساتھ ہی کفن میں لپیٹ دو میں ان کے متعلق گواہی دوں گا پھر ایک ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفنایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے دیکھو! ان میں سے جسے قرآن سب سے زیادہ حاصل رہا ہو اسے ان سے پہلے قبر میں رکھو چناچہ میرے والد اور چچا ایک ہی قبر میں دفنائے گئے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23660]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1343
حدیث نمبر: 23661
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ ، " أَنَّ أَبَا جَهْلٍ، قَالَ حِينَ الْتَقَى الْقَوْمُ: اللَّهُمَّ أَقْطَعَنَا للرَّحِمَ، وَآتَانَا بِمَا لَا نَعْرِفُهُ، فَأَحْنِهِ الْغَدَاةَ، فَكَانَ الْمُسْتَفْتِحَ" ..
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوجہل نے جنگ احد کے دن یہ دعا کی کہ اے اللہ! اس نے قطع رحمی کی اور ہمارے پاس وہ چیز لایا جسے ہم نہیں پہچانتے تو کل ہم پر مہربانی فرما، گویا وہ فتح حاصل کرنے کی دعا کر رہا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23661]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن