🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1094. حَدِيثُ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23672
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَئِذٍ لِلنَّاسِ، وَهُوَ يُحَذِّرُهُمْ فِتْنَةَ الدَّجَّالِ: " تَعْلَمُونَ أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَمُوتَ، وَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ: كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ مَنْ كَرِهَ عَمَلَهُ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو فتنہ دجال سے باخبر کر رہے تھے تو اسی دوران فرمایا کہ اس بات کا یقین رکھو کہ تم میں سے کوئی شخص مرنے سے پہلے اپنے رب کو نہیں دیکھ سکتا اور اس کی آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا ہر وہ شخص جو اس کے کاموں کو ناپسند کرتا ہو اسے پڑھ لے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23672]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2930
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1095. حَدِيثُ الْمُسَيَّبِ بْنِ حَزْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23673
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَدِّهِ، جَدِّ سَعِيدٍ: " مَا اسْمُكَ؟" قَالَ: حَزْنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ"، فَقَالَ: لَا أُغَيِّرُ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي ، قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: فَمَا زَالَتْ فِينَا حُزُونَةٌ بَعْدُ.
حضرت سعید بن مسیب (رح) سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دادا سے پوچھا کہ تمہارا کیا نام ہے؟ انہوں نے بتایا " حزن " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں تمہارا نام سہل ہے انہوں نے کہا کہ میرے باپ نے میرا جو نام رکھا ہے میں اسے بدلنا نہیں چاہتا سعید کہتے ہیں کہ اس کے بعد سے ہمارے خاندان میں ہمیشہ غمگینی رہی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23673]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2190
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23674
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، فَقَالَ:" أَيْ عَمِّ، قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، كَلِمَةً أُحَاجُّ بِهَا لَكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: يَا أَبَا طَالِبٍ، أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟! قَالَ: فَلَمْ يَزَالَا يُكَلِّمَانِهِ حَتَّى قَالَ آخِرَ شَيْءٍ كَلَّمَهُمْ بِهِ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ"، فَنَزَلَتْ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ سورة التوبة آية 113 قَالَ: َونَزَلَتْ فِيهِ إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ سورة القصص آية 56 .
حضرت مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خواجہ ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے ان کے پاس اس وقت ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ موجود تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چچاجان! لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیجئے یہ ایک ایسا کلمہ ہوگا جس کے ذریعے میں اللہ کے یہاں آپ کے لئے حجت پکڑ سکوں گا ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ کہنے لگے کہ اے ابوطالب! کیا تم عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے؟ وہ دونوں مسلسل یہی کہتے رہے حتیٰ کہ ابوطالب کے منہ سے آخری کلمہ جو نکلا وہ یہ تھا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک مجھے منع نہیں کیا جاتا میں آپ کے حق میں بخشش کی دعا کرتا رہوں گا پھر یہ آیت نازل ہوئی کہ " پیغمبر اور اہل ایمان کے لئے مشرکین کے حق میں بخشش کی دعا کرنا مناسب نہیں ہے اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہوں نیز یہ آیت نازل ہوئی کہ جسے آپ چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے۔ " [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23674]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3884، م: 26
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23675
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: كَانَ أَبِي مِمَّنْ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ، فَقَالَ: انْطَلَقْنَا فِي قَابِلٍ حَاجِّينَ، فَعُمِّيَ عَلَيْنَا مَكَانُهَا، فَإِنْ كَانَتْ بَيَّنَتْ لَكُمْ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ!" .
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد بیعت رضوان جو ایک درخت کے نیچے ہوئی تھی کے شرکاء میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ اگلے سال جب ہم حج کے ارادے سے روانہ ہوئے تو بیعت کی وہ جگہ ہم سے پوشیدہ ہوگئی اگر وہ ظاہر رہتی تو تم بہتر جانتے ہو (کہ کیا ہوتا؟) [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23675]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4164، م: 1859، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23676
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَارِقٍ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ الشَّجَرَةُ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي : أَنَّهُ كَانَ ذَلِكَ الْعَامَ مَعَهُمْ، فَنَسُوهَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ" .
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد بیعت رضوان جو ایک درخت کے نیچے ہوئی تھی کے شرکاء میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ اگلے سال جب ہم حج کے ارادے سے روانہ ہوئے تو بیعت کی وہ جگہ ہم سے پوشیدہ ہوگئی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23676]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4164، م: 1859، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1096. حَدِيثُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23677
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام جَالِسٌ فِي الْمَقَاعِدِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَجَزْتُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ وَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هَلْ رَأَيْتَ الَّذِي كَانَ مَعِي؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ وَقَدْ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ" .
حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی تھے جو اپنی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے میں نے انہیں سلام کیا اور آگے بڑھ گیا جب میں واپس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس جا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اس آدمی کو دیکھا تھا جو میرے ساتھ تھا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور انہوں نے تمہارے سلام کا جواب دیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23677]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23678
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ مَوْلَى غُفْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَتَّخِذُ أَحَدُكُمْ السَّائِمَةَ فَيَشْهَدُ الصَّلَاةَ فِي جَمَاعَةٍ، فَتَتَعَذَّرُ عَلَيْهِ سَائِمَتُهُ، فَيَقُولُ: لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِي مَكَانًا هُوَ أَكْلَأُ مِنْ هَذَا، فَيَتَحَوَّلُ وَلَا يَشْهَدُ إِلَّا الْجُمُعَةَ، فَتَتَعَذَّرُ عَلَيْهِ سَائِمَتُهُ، فَيَقُولُ: لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِي مَكَانًا هُوَ أَكْلَأُ مِنْ هَذَا، فَيَتَحَوَّلُ فَلَا يَشْهَدُ الْجُمُعَةَ وَلَا الْجَمَاعَةَ، فَيُطْبَعُ عَلَى قَلْبِهِ" .
حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ایک آدمی جانور حاصل کرتا ہے اور کچھ عرصے تک جماعت کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا رہتا ہے پھر اس کے جانور بڑھنے کی وجہ سے اسے مشکلات پیش آتی ہیں اور وہ سوچتا ہے کہ مجھے اپنے جانوروں کے لئے کوئی ایسی جگہ تلاش کرنی چاہئے جو اس سے زیادہ گھاس والی ہو چناچہ وہ وہاں سے منتقل ہوجاتا ہے اور صرف جمعہ میں شریک ہونے لگتا ہے کچھ عرصے بعد پھر مشکل پیش آتی ہے اور وہ سابقہ سوچ کے مطابق وہاں سے بھی منتقل ہوجاتا ہے اور جماعت میں حاضر ہوتا ہے اور نہ جمعہ میں یوں اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23678]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عمر مولي غفرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1097. حَدِيثُ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23679
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ السَّقِيفَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ مِنَ امْبِرِّ امصِيَامُ فِي امسَفَرِ" .
حضرت کعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو کہ اصحاب سقیفہ میں سے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23679]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23680
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ ابْنُ بَكْرِ: ابْنِ عَاصِمٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ" .
حضرت کعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو کہ اصحاب سقیفہ میں سے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23680]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23681
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ" .
حضرت کعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23681]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں