🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1127. حَدِيثُ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23878
حدثنا عبد الرزاق ، حدثنا ابن جُرَيْج ، حدثني عِمْران بن موسى ، عن سعيد بن أبي سعيدٍ المَقبُري ، عن أبيه ، أنه رأَى أبا رافع مولى رسول الله صَلَّي الله ُعَلَيْهِ وَسَلَّمَ مرَّ بحسن بن عليَّ وهو يُصلَّي قائمًا، وقد غَرَزَ ضَفِيرتَه في قَفَاهُ، فحَلَّها أبو رافعٍ، فالْتَفَتَ إليه مغُضَبًا، فقال أبو رافع : أَقْبِل على صلاتك ولًا تَغضَبْ، فإني سمعتُ رسول الله ِصَلَّي الله ُعَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول: " ذلك كِفْلُ الشَّيطانِ" يعني: مَغرِزَ ضَفِيرته.

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ، وقد اختلف فى اسناده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23878
حدثنا محمد بن جعفرٍ ، قال: حدثنا شعبةُ ، عن فُرات ، عن أبي الطُفيل ، عن أبي سَرِيحة ، قال: كان رسولُ الله صَلَّي الله ُعَلَيْهِ وَسَلَّمَ في غُرْفة ونحن تحتها نتحدَّثُ، قال: فأشرف علينا رسولُ الله صَلَّي الله ُعَلَّيْهِ وَسَلَّمَ، فقال:" ما تذكُرون؟" قالوا: الساعة، قال: " إن الساعة لن تقوم حتى تَرَوْا عشر آيات: خَسفٌ بالمشرِق، وخَسفٌ بالمَغرِب، وخَسفٌ في جَزِيرة العرب، والدُّخان، والدجَّال، والدابَّة، وطُلُوع الشمس من مغرِبها، ويَأْجوج ومَأْجوجُ، ونارٌ تخرج من قَعْر عَدَنٍ تُرحَّل الناسَ" ، فقال شعبة: سمعتُه وأحسبه قال:" تنزل معهم حيث نَزَلُوا، وتَقِيلُ معهم حيثُ قالُوا"، قال شعبةُ : وحدَّثني بهذا الحديث رجلٌ ، عن أبي الطُفَيل ، عن أبي سَرِيحةَ ، ولم يرفعه إلى النبيَّ صَلَّي الله ُعَلَّيْهِ وَسَلَّمَ، قال أَحدُ هذينِ الرَّجُلينِ: الدَّجَّال يَقتُلُه عيسى ابن مريم، وقال الآخر: رَيحٌ تُلقيِهم في البحر.
ابو طفیل کے واسطہ سے ابو سریحہ سے مروری ہے لیکن مرفوع ہونا روایت نہیں کیا ان میں سے ایک آدمی نے حضرت عیسیٰ بن مریم کا نزول اور دوسرے نے آندھی کا ذکر کیا جو انہیں سمندر میں ڈال دے گی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23878]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2901
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1128. حَدِيثُ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23879
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ السُّلَمِيَّ ، يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ ضَمْيرَةَ ، وَعَنْ جَدِّهِ وَكَانَا شَهِدَا حُنَيْنًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَا: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى ظِلِّ شَجَرَةٍ فَجَلَسَ فِيهِ وَهُوَ بِحُنَيْنٍ، فَقَامَ إِلَيْهِ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ يَخْتَصِمَانِ فِي عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ الْأَشْجَعِيِّ، وَعُيَيْنَةُ يَطْلُبُ بِدَمِ عَامِرٍ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ رَئِيسُ غَطَفَانَ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ يَدْفَعُ عَنْ مُحَلَّمِ بْنِ جَثَّامَةَ بِمَكَانِهِ مِنْ خِنْدِفٍ، فَتَدَاوَلَا الْخُصُومَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَسَمِعْنَا عُيَيْنَةَ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَدَعُهُ حَتَّى أُذِيقَ نِسَاءَهُ مِنَ الْحَرِّ مَا ذَاقَ نِسَائِي، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بَلْ تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا هَذَا، وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا"، قَالَ: وَهُوَ يَأْبَى عَلَيْهِ، إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ، يُقَالُ لَهُ: مُكَيْتِلٌ، قَصِيرٌ مَجْمُوعٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ لِهَذَا الْقَتِيلِ شَبَهًا فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ إِلَّا كَغَنَمٍ وَرَدَتْ فَرُمِيَتْ أَوَائِلُهَا فَنَفَرَتْ أُخْرَاهَا، اسْنُنِ الْيَوْمَ وَغَيِّرْ غَدًا، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، ثُمَّ قَالَ:" بَلْ تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا هَذَا، وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا"، قَالَ: فَقَبِلُوا الدِّيَةَ، ثُمَّ قَالُوا: أَيْنَ صَاحِبُكُمْ يَسْتَغْفِرْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ آدَمُ ضَرْبٌ طَوِيلٌ، عَلَيْهِ حُلَّةٌ لَهُ، قَدْ كَانَ تَهَيَّأَ فِيهَا لِلْقَتْلِ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا اسْمُكَ؟"، قَالَ: أَنَا مُحَلَّمُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلَّمِ بْنِ جَثَّامَةَ، قُمْ"، فقام وَهُوَ يَتَلَقَّى دَمْعَهُ بِفَضْلِ رِدَائِهِ ، قَالَ: فَأَمَّا نَحْنُ بَيْنَنَا فَنَقُولُ: إِنَّا نَرْجُو أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اسْتَغْفَرَ لَهُ، وَأَمَّا مَا ظَهَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا.
زیاد بن ضمرہ نے عروہ بن زبیر کو اپنے والد اور دادا سے یہ حدیث نقل کرتے ہوئے سنا " جو کہ غزوہ حنین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے " کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی اور ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے اقراع بن حابس اور عیینہ بن حصین اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عیینہ اس وقت عامر بن اضبط اشجعی کے خون کا مطالبہ کر رہا تھا جو کہ قبیلہ قیس کا سردار تھا اور اقرع بن حابس حندف کی وجہ سے محلم بن جثامہ کا دفاع کر رہا تھا وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھگڑنے لگے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم سفر میں دیت کے پچاس اونٹ ہم سے لو اور پچاس واپس پہنچ کرلے لینا عیینہ نے جواب دیا نہیں اللہ کی قسم میں دیت نہیں لوں گا جس وقت تک کہ میں اس شخص کی عورتوں کو وہی تکلیف اور غم نہ پہنچاؤں جو میری عورتوں کو پہنچا ہے پھر صدائیں بلند ہوئیں اور خوب لڑائی اور شوروغل برپا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عیینہ تم دیت قبول نہیں کرتے؟ عیینہ نے پھر اسی طریقہ سے جواب دیا یہاں تک کہ اس ایک شخص قبیلہ بنی لیث میں سے کھڑا ہوا کہ جس کو مکیتل کہا کرتے تھے وہ شخص اسلحہ باندھے ہوئے تھا اور ہاتھ میں (تلوار کی) ڈھال لئے ہوئے تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس قتل کرنے والے شخص کے یعنی محلم کے شروع اسلام میں اس کے علاوہ کوئی مثال نہیں دیکھتا ہوں جس طرح کچھ بکریاں کسی چشمہ پر پانی پینے کے لئے پہنچیں تو کسی نے پہلی بکری کو تو مار دیا کہ جس کی وجہ سے آخری بکری بھی بھاگ کھڑی ہوئی تو آپ آج ایک دستور بنا لیجئے اور کل اس کو ختم کر دیجئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پچاس اونٹ اب ادا کریں اور پچاس اونٹ اس وقت ادا کرے جب ہم لوگ مدینہ منورہ کی طرف لوٹ آئیں (چنانچہ آپ نے اس شخص سے دیت ادا کرائی) اور یہ واقعہ دوران سفر پیش آیا تھا محلم ایک طویل قد گندمی رنگ کا شخص تھا وہ لوگوں کے کنارے بیٹھا تھا لوگ بیٹھے تھے کہ وہ بچتے بچاتے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر بیٹھا اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے گناہ کیا ہے جس کی آپ کو اطلاع ملی ہے اب میں اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہوں آپ میرے لئے دعائے مغفرت فرما دیجئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم نے اسلام کے شروع زمانہ میں اس شخص کو اپنے اسلحہ سے قتل کیا ہے؟ اے اللہ! محلم کی مغفرت نہ کرنا آپ نے یہ بات بآواز بلند فرمائی (راوی) ابو سلمہ نے یہ اضافہ کیا محلم یہ بات سن کر کھڑا ہوگیا اور وہ اپنی چادر کے کونے سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا (راوی) ابن اسحاق نے بیان کیا کہ محلم کی قوم نے کہا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اس کے لئے بخشش کی دعا فرمائی لیکن ظاہر وہی کیا جو پہلے فرمایا تھا تاکہ لوگ ایک دوسرے سے تعرض نہ کریں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23879]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة زياد بن ضمرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1129. حَدِيثُ أَبِي بُرْدَةَ الظَّفَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23880
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَتِّبِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ الظَّفَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَخْرُجُ مِنَ الْكَاهِنَيْنِ رَجُلٌ يَدْرُسُ الْقُرْآنَ دِرَاسَةً لَا يَدْرُسُهَا أَحَدٌ يَكُونُ بَعْدَهُ" .
حضرت ابو بردہ ظفری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کاہنین سے ایک آدمی نکلے گا جو اس طرح قرآن کا درس دے گا کہ اس کے بعد کوئی اس طرح درس نہ دے سکے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23880]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن معتب وأبيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1130. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23881
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ ، قَالَ: " بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِضَمَ، فَخَرَجْتُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ وَمُحَلَّمُ بْنُ جَثَّامَةَ بْنِ قَيْسٍ فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَطْنِ إِضَمَ مَرَّ بِنَا عَامِرٌ الْأَشْجَعِيُّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ مُتَيْعٌ وَوَطْبٌ مِنْ لَبَنٍ، فَلَمَّا مَرَّ بِنَا، سَلَّمَ عَلَيْنَا، فَأَمْسَكْنَا عَنْهُ، وَحَمَلَ عَلَيْهِ مُحَلَّمُ بْنُ جَثَّامَةَ فَقَتَلَهُ بِشَيْءٍ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ، وَأَخَذَ بَعِيرَهُ وَمُتَيْعَهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ، نَزَلَ فِينَا الْقُرْآنُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا سورة النساء آية 94" .
حضرت عبداللہ بن ابی حددر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں " اضم " نامی جگہ کی طرف بھیجا میں مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ ہوا جس میں حضرت ابو قتادہ بن حارث ربعی رضی اللہ عنہ اور محلم بن جثامہ بھی شامل تھے جب ہم " بطن اضم " میں پہنچے تو عامر اشجعی اپنے کچھ اونٹ لے کر ہمارے پاس سے گذرا اس کے ساتھ کچھ سامان اور دودھ کا مشکیزہ بھی تھا، اس نے گذرتے ہوئے ہمیں سلام کیا جس پر ہم نے اپنے ہاتھ روک لئے لیکن محلم بن جثامہ نے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کردیا دراصل ان دونوں کے درمیان پرانی رنجش چلی آرہی تھی محلم نے اسے قتل کر کے اس کے اونٹ اور سامان پر قبضہ کرلیا ہم لوگوں نے واپس آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے سے آگاہ کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی " اے اہل ایمان! جب تم زمین پر سفر کیا کرو تو خوب اچھی دیکھ بھال کرلیا کرو اور جو شخص تمہیں سلام کرے اس سے یہ مت کہا کرو کہ تو مسلمان نہیں ہے "۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23881]

الحكم على الحديث:
إسناده مضطرب، واختلف فى صحبة القعقاع بن عبدالله، والراجح أنه لا صحبة له. واصل الحديث صحيح من حديث ابن عباس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23882
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعِينُهُ فِي صَدَاقِهَا، فَقَالَ: " كَمْ أَصْدَقْتَ؟" قَالَ: قُلْتُ: مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، قَالَ:" لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ الدَّرَاهِمَ مِنْ وَادِيكُمْ هَذَا مَا زِدْتُمْ، مَا عِنْدِي مَا أُعطِيك"، قَالَ: فَمَكَثْتُ ثُمَّ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَنِي فِي سَرِيَّةٍ بَعَثَهَا نَحْوَ نَجْدٍ، فَقَالَ:" اخْرُجْ فِي هَذِهِ السَّرِيَّةِ لَعَلَّكَ أَنْ تُصِيبَ شَيْئًا فَأُنَفِّلَكَهُ" قَالَ: قَالَ:" فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا الْحَاضِرَ مُمْسِينَ، قَالَ: فَلَمَّا ذَهَبَتْ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ، بَعَثَنَا أَمِيرُنَا رَجُلَيْنِ رَجُلَيْنِ، قَالَ: فَأَحَطْنَا بِالْعَسْكَرِ، وَقَالَ: إِذَا كَبَّرْتُ وَحَمَلْتُ، فَكَبِّرُوا وَاحْمِلُوا، وَقَالَ حِينَ بَعَثَنَا رَجُلَيْنِ: لَا تَفْتَرِقَا، وَلَأَسْأَلَنَّ وَاحِدًا مِنْكُمَا عَنْ خَبَرِ صَاحِبِهِ فَلَا أَجِدُهُ عِنْدَهُ، وَلَا تُمْعِنُوا فِي الطَّلَبِ، قَالَ: فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نَحْمِلَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَ الْحَاضِرِ صَرَخَ: يَا خَضْرَةُ، فَتَفَاءَلْتُ بِأَنَّا سَنُصِيبُ مِنْهُمْ خَضْرَةً، قَالَ: فَلَمَّا أَعْتَمْنَا، كَبَّرَ أَمِيرُنَا وَحَمَلَ، وَكَبَّرْنَا وَحَمَلْنَا، قَالَ: فَمَرَّ بِي رَجُلٌ فِي يَدِهِ السَّيْفُ فَاتَّبَعْتُهُ، فَقَالَ لِي صَاحِبِي: إِنَّ أَمِيرَنَا قَدْ عَهِدَ إِلَيْنَا أَنْ لَا نُمْعِنَ فِي الطَّلَبِ فَارْجِعْ، فَلَمَّا رَأَيْتُ إِلَّا أَنْ أَتَّبِعَهُ، قَالَ: وَاللَّهِ لَتَرْجِعَنَّ أَوْ لَأَرْجِعَنَّ إِلَيْهِ، وَلَأُخْبِرَنَّهُ أَنَّكَ أَبَيْتَ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأَتَّبِعَنَّهُ، قَالَ: فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى إِذَا دَنَوْتُ مِنْهُ رَمَيْتُهُ بِسَهْمٍ عَلَى جُرَيْدَاءِ مَتْنِهِ فَوَقَعَ، فَقَالَ: ادْنُ يَا مُسْلِمُ إِلَى الْجَنَّةِ، فَلَمَّا رَآنِي لَا أَدْنُو إِلَيْهِ وَرَمَيْتُهُ بِسَهْمٍ آخَرَ فَأَثْخَنْتُهُ رَمَانِي بِالسَّيْفِ فَأَخْطَأَنِي، وَأَخَذْتُ السَّيْفَ فَقَتَلْتُهُ به، وَاحْتَزَزْتُ بِهِ رَأْسَهُ، وَشَدَدْنَا نَعَمًا كَثِيرَةً وَغَنَمًا، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفْنَا، قَالَ: فَأَصْبَحْتُ فَإِذَا بَعِيرِي مَقْطُورٌ بِهِ بَعِيرٌ عَلَيْهِ امْرَأَةٌ جَمِيلَةٌ شَابَّةٌ، قَالَ: فَجَعَلَتْ تَلْتَفِتُ خَلْفَهَا فَتُكَبِّرُ، فَقُلْتُ لَهَا: إِلَى أَيْنَ تَلْتَفِتِينَ؟ قَالَتْ: إِلَى رَجُلٍ وَاللَّهِ إِنْ كَانَ حَيًّا خَالَطَكُمْ، قَالَ: قُلْتُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ صَاحِبِي الَّذِي قَتَلْتُ: قَدْ وَاللَّهِ قَتَلْتُهُ، وَهَذَا سَيْفُهُ، وَهُوَ مُعَلَّقٌ بِقَتَبِ الْبَعِيرِ الَّذِي أَنَا عَلَيْهِ، قَالَ: وَغِمْدُ السَّيْفِ لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ مُعَلَّقٌ بِقَتَبِ بَعِيرِهَا، فَلَمَّا قُلْتُ ذَلِكَ لَهَا قَالَتْ: فَدُونَكَ هَذَا الْغِمْدَ فَشِمْهُ فِيهِ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا، قَالَ: فَأَخَذْتُهُ فَشِمْتُهُ فِيهِ فَطَبَقَهُ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ بَكَتْ، قَالَ: فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي مِنْ ذَلِكَ النَّعَمِ الَّذِي قَدِمْنَا بِهِ" .
حضرت عبداللہ بن ابی حدر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک عورت سے شادی کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مہر کی ادائیگی میں ان سے مدد کی درخواست کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم نے اس کا مہر کیا مقرر کیا تھا؟ میں نے عرض کیا دو سو درہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس وادی سے دراہم کنکریوں کی طرح اٹھا رہے ہوتے تب بھی اتنا زیادہ مہر مقرر نہیں کرنا چاہئے تھا میرے پاس تو اس وقت تمہیں دینے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ کچھ عرصے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور نجد کی طرف جانے والے ایک دستے میں شامل کر کے مجھے بھی وہاں بھیج دیا اور فرمایا کہ اس دستے کے ساتھ جاؤ شاید تمہیں کچھ مل جائے اور وہ میں تم ہی کو انعام میں دے دوں چناچہ ہم لوگ روانہ ہوگئے اور شام کے وقت شہر کے قریب پہنچ گئے جب رات کی سیاہی دور ہوگئی (اور چاندنی ہوگئی) تو ہمارے امیر نے ہمیں دو دو آدمی کر کے بھیجنا شروع کردیا ہم نے لشکر کو گھیر لیا ہمارے امیر نے کہا تھا کہ جب میں تکبیر کہہ کر حملہ کروں تو تم بھی تکبیر کہہ کر حملہ کردینا ایک دوسرے سے جدا نہ ہونا اور میں تم میں سے ہر ایک سے اس کے ساتھی کے متعلق پوچھوں گا یہ نہ ہو کہ وہ مجھے اپنے ساتھی کے پاس نہ ملے اور دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے بہت زیادہ آگے نہ بڑھ جانا۔ جب ہم نے حملے کا ارادہ کیا تو میں نے شہر سے ایک آدمی کی آواز سنی جو چیخ رہا تھا اے شادابی! میں نے اس سے یہ فال لی کہ ہمیں ان کی جانب سے شادابی نصیب ہوگی رات گہری ہوئی تو ہمارے امیر نے تکبیر کہہ کر حملہ کردیا اس کے پیچھے ہم نے بھی تکبیر کہتے ہوئے حملہ کردیا اچانک میرے پاس سے ایک آدمی گذرا جس کے ہاتھ میں تلوار تھی میں اس کے پیچھے لپکا تو میرا ساتھی کہنے لگا کہ ہمارے امیر نے ہمیں یہ تلقین کی تھی کہ ہم دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے زیادہ آگے نہ بڑھیں اس لئے واپس آجاؤ جب میں اس کا پیچھاکر نے سے باز نہ آیا تو اس نے کہا کہ بخدایاتم واپس آجاؤور نہ میں انہیں جا کر بتادوں گا کہ تم نے ان کی بات نہیں مانی میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں اس کا پیچھا ضرور کروں گا اور میں اس کا پیچھا کرتا رہاحتیٰ کہ اس کے قریب پہنچ کر میں نے اس کی کمر پر ایک تیرمارا وہ گرپڑا اور کہنے لگا اے مسلمان! جنت کے قریب آجا لیکن میں اس کے قریب نہیں گیا اور اسے دوسراتیر بھی دے مارا اور اسے ڈھیلا کردیا یہ دیکھ کر اس نے گھما کر اپنی تلوار مجھے دی ماری۔ لیکن اس کانشانہ خطا گیا اور میں نے وہ تلوار پکڑ کر اسی سے اسے قتل کردیا اور اس کا سر قلم کردیا چونکہ ہمارا حملہ بڑا شدید تھا (اس لئے دشمن بھاگ گیا) اور ہمیں بہت سے جانور اور بکریاں مال غنیمت میں ملیں اور ہم واپس روانہ ہوگئے۔ صبح ہوئی تو میرے اونٹ کے قریب ایک دوسرا اونٹ کھڑا تھا جس پر ایک خوبصورت جوان عورت سوار تھی وہ بارباربڑی کثرت کے ساتھ پیچھے مڑمڑ کر دیکھ رہی تھی میں نے اس سے پوچھا کہ تم کسے دیکھ رہی ہو؟ اس نے کہا کہ ایک آدمی کو تلاش کررہی ہوں بخدا! اگر وہ زندہ ہوتا تو وہ تمہیں آپکڑتا میں سمجھ گیا کہ یہ اسی شخص کی بات کررہی ہے جسے میں نے قتل کیا تھا چناچہ میں نے اسے بتایا کہ اسے تو میں قتل کرچکا ہوں ' اور اس کی تلواریہ ہے وہ تلوار میرے اونٹ کے پالان کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی جبکہ تلوار کے نیام میں جو اس کے اونٹ کے پالان کے ساتھ لٹکا ہوا تھا کچھ نہیں تھا جب میں نے اسے یہ بات بتائی تو وہ کہنے لگی کہ یہ نیام پکڑو اور اگر سچے ہو تو اس سے اندازہ کرو میں نے اس کے ہاتھ سے نیام پکڑا اور دونوں کا موازنہ کیا تو وہ ایک دوسرے کے برابرنکلے یہ دیکھ کر وہ عورت رونے لگی اور ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں میں سے مجھے بھی حصہ دیا جو ہم لے کر آئے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23882]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لإبهام جدة عبدالواحد بن أبى عون
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1131. حَدِيثُ بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23883
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: قَالَ بِلَالٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، " لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ" .
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آمین کہہ لینے کا موقع دے دیا کریں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23883]

الحكم على الحديث:
مرسل صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23884
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ: " مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ" .
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23884]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 275
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23885
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ حَجَّ، فَأَرْسَلَ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ: أَنْ افْتَحْ بَابَ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: عَلَيَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: هَلْ بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْكَعْبَةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ، فَتَأَخَّرَ خُرُوجُهُ، فَوَجَدْتُ شَيْئًا فَذَهَبْتُ، ثُمَّ جِئْتُ سَرِيعًا فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا، فَسَأَلْتُ بِلَالَ بْنَ رَبَاحٍ : هَلْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، " رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ" .
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آئے تو بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر کس حصے میں نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو باہر نکلنے میں کافی تاخیر کردی مجھے کوئی ضرورت محسوس ہوئی تو میں چلا گیا پھر جلدی سے واپس آیا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آچکے ہیں میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے بتایا ہاں! دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23885]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 397، م: 1329
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23886
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قُلْتُ لِبِلَالٍ : كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ:" كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ" .
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی حالت میں ہی سلام کردیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کیسے جواب دیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے دست مبارک سے اشارہ فرما دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23886]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل هشام بن سعد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں