مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 26150
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ , وقال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ أَشْعَثَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ" , قَالَ عَبْد اللَّهِ: فَحَدَّثَنِيهِ أَبِي , فَقَالَ: أَسْمَعْهُ مِنْ يَحْيَى.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی سے منع فرما لیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26150]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 26151
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ , عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ قَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , يَقُولُ: سَمِعْتُهَا وَهِيَ تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ , لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَبْتُ الْبَيْتَ" قَالَ أَبِي: قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ , فَإِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا عَنِ الْبِنَاءِ , فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ: لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا , فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ سَمِعْتُ هَذَا قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ , لَتَرَكْتُهُ عَلَى بِنَاءِ ابْنِ الزُّبَيْرِ .
ابو قزعہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ خلیفہ عبدالملک بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، دوران طواف وہ کہنے لگا کہ ابن زبیر پر اللہ کی مار ہو، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف جھوٹی نسبت کر کے کہتا ہے کہ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو شہید کر کے حطیم کا حصہ بھی اس میں شامل کردیتا کیونکہ تمہاری قوم نے بیت اللہ کی عمارت میں سے اسے چھوڑ دیا تھا، اس پر حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا امیر المومنین! یہ بات نہ کہیں کیونکہ یہ حدیث تو میں نے بھی ام المومنین سے سنی ہے، تو عبدالملک نے کہا کہ اگر میں نے اسے شہید کرنے سے پہلے یہ حدیث سنی ہوتی تو میں اسے ابن زبیر کی تعمیر پر برقرار رہنے دیتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26151]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1333
حدیث نمبر: 26152
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ , قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ , إِلَّا رَكَعَ عِنْدَهَا رَكْعَتَيْنِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عصر کی نماز کے بعد جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تشریف لائے تو وہاں دو رکعتیں ضرور پڑھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26152]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 591، م: 835
حدیث نمبر: 26153
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ أَلَيْسَ ذُكِرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ كَانَ يُصْبِحُ وَهُوَ جُنُبٌ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ؟" , فَقَالَ سُفْيَانُ: حَدَّثَنِيهِ حَمَّادٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے تو غسل کر کے روزہ رکھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26153]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 26154
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لَا يَرَوْنَ إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ , فَلَمَّا طَافَ بِالْبَيْتِ , وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَطَافُوا , أَمَرَهُمْ فَحَلُّوا , قَالَتْ: وَكُنْتُ قَدْ حِضْتُ , فَوَقَفْتُ الْمَوَاقِفَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ , فَقُلْتُ: يَرْجِعُونَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ؟ قَالَتْ: فَأَرْسَلَ مَعِي أَخِي , فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعِدًا مُدْلِجًا عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ , وَأَنَا مُدْلِجَةٌ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا لیکن احرام نہیں کھولا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی کا جانور تھا، آپ کو ازواج مطہرات اور صحابہ رضی اللہ عنہ نے بھی طواف و سعی کی اور ان تمام لوگوں نے احرام کھول لیا جن کے ساتھ نہیں تھا۔ میں ایام سے تھی، ہم لوگ اپنے مناسک حج ادا کر کے جب کوچ کرنے کے لئے مقام حصبہ پر پہنچے تو میں نے عرض کے یا رسول اللہ! کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تھے تو کیا تم نے ان دونوں میں طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے عرض کیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی کو بھیج دیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کے وقت ملی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر چڑھ رہے تھے اور میں نیچے اتر رہی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26154]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1561، م: 1211
حدیث نمبر: 26155
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا إسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَمْكُثُ , قَالَتْ: وَكَانَ يُهْدِي الْغَنَمَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26155]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1703، م: 1321
حدیث نمبر: 26156
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہر میں سو جاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26156]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1146
حدیث نمبر: 26157
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26157]
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه
حدیث نمبر: 26158
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى يَكُونَ آخِرَ صَلَاتِهِ الْوَتْرُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب نماز پڑھتے تھے تو سب سے آخری نماز وتر کی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26158]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 740
حدیث نمبر: 26159
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26159]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 730