مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 26280
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الثَّقَفِيَّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَلَا سَهِرَ بَعْدَهَا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء سے پہلے کبھی سوئے اور نہ عشاء کے بعد کبھی قصہ گوئی کی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26280]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عبدالله بن عبد الرحمن ضعيف
حدیث نمبر: 26281
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو , قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26281]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1106
حدیث نمبر: 26282
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " فُرِضَتْ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فُرِضَتْ ثَلَاثًا لِأَنَّهَا وِتْرٌ , قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَى إِلَّا الْمَغْرِبَ , فَإِذَا أَقَامَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ , لِأَنَّهَا وَتْرٌ , وَالصُّبْحَ , لِأَنَّهُ يُطَوِّلُ فِيهَا الْقِرَاءَةَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ میں نماز کی ابتدائی فرضیت نماز مغرب کے علاوہ دو دو رکعتوں کی صورت میں ہوئی تھی، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچے تو حکم الٰہی کے مطابق ہر دو رکعتوں کے ساتھ دو رکعتوں کا اضافہ کردیا، سوائے نماز مغرب کے کہ وہ دن کے وتر ہیں اور نماز فجر کے کہ اس میں قرأت لمبی کی جاتی ہے، البتہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جاتے تھے تو ابتدائی طریقے کے مطابق دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26282]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لأن الشعبي لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 26283
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيُمْنَى لِطُهُورِهِ وَلِطَعَامِهِ , وَكَانَتْ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ , وَمَا كَانَ مِنْ أَذًى" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا ہاتھ کھانے اور ذکر اذکار کے لئے تھا اور بایاں ہاتھ دیگر کاموں کے لئے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26283]
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 26284
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ رَجُلٍ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَائِشَةَ , نَحْوَهُ.
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه و شاهده، وإسناده كسابقه
حدیث نمبر: 26285
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ , وَمَا كَانَ مِنْ أَذًى , وَكَانَتْ الْيُمْنَى لِوُضُوئِهِ وَلِمَطْعَمِهِ" .
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا ہاتھ کھانے اور ذکر اذکار کے لئے تھا اور بایاں ہاتھ دیگر کاموں کے لئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26285]
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه وشاهده، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 26286
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ دو رکعتیں ساری دنیا سے زیادہ بہتر ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26286]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 725
حدیث نمبر: 26287
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ مُعَاذَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور جتنا چاہتے اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26287]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 719
حدیث نمبر: 26288
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ , عَنْ مُعَاذَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ" , وَكَانَ فِي حَدِيثِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْدَأُ قَبْلَهَا .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26288]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 321
حدیث نمبر: 26289
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَإِنِّي أَسْتَحْيِيكِ , فَقَالَتْ:" سَلْ مَا بَدَا لَكَ , فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّكَ" , فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ فَقَالَتْ:" إِذَا اخْتَلَفَ الْخِتَانَانِ وَجَبَتْ الْجَنَابَةُ" , فَكَانَ قَتَادَةُ يُتْبِعُ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " قَدْ فَعَلْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا" , فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَمْ كَانَ قَتَادَةُ يَقُولُهُ؟ .
عبداللہ بن رباح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے حیاء آتی ہے؟ انہوں نے فرمایا جو چاہو پوچھ سکتے ہو کہ میں تمہاری ماں ہوں، میں نے عرض کیا ام المومنین! غسل کس چیز سے واجب ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جب شرمگاہیں ایک دوسرے سے مل جائیں تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد قتادہ یہ بھی کہتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے تو ہم غسل کرتے تھے، اب مجھے معلوم نہیں ہے کہ یہ جملہ حدیث کا حصہ یہ یا قتادہ کا قول ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26289]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع لأن عبد الله بن رباح لم يسمع هذا الحديث من عائشة