مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 26270
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُطَرِّفُ بْنُ أَبِي طَرِيفٍ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَظَلُّ صَائِمًا وَيُقَبِّلُ مَا شَاءَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں مجھے بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26270]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 26271
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يُخَيِّرُ امْرَأَتَهُ , فَتَخْتَارُهُ , قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أَتَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنِّي سَأَعْرِضُ عَلَيْكِ أَمْرًا , فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّى تُشَاوِرِي أَبَوَيْكِ" فَقُلْتُ: وَمَا هَذَا الْأَمْرُ؟ قَالَتْ: فَتَلَا عَلَيَّ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29 قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَفِي أَيِّ ذَلِكَ تَأْمُرُنِي أَنْ أُشَاوِرَ أَبَوَيَّ؟ بَلْ أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ , قَالَتْ: فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ , وَقَالَ:" سَأَعْرِضُ عَلَى صَوَاحِبِكِ مَا عَرَضْتُ عَلَيْكِ" , فَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ كَمَا قَالَ لِعَائِشَةَ , ثُمَّ يَقُولُ:" قَدْ اخْتَارَتْ عَائِشَةُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ" , قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَرَ ذَلِكَ طَلَاقًا .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو الخ۔ " میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور فرمایا میں تمہاری سہیلیوں کے سامنے بھی یہی بات رکھوں گا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی بتا دیتے تھے، کہ عائشہ نے اللہ اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرلیا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو اختیار دیا، ہم نے اسے طلاق شمار نہیں کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26271]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، جعفر بن برقان ضعيف فى الزهري ولكن توبع
حدیث نمبر: 26272
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ تین دن کے بعد میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26272]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن من أجل عطاء، وسلف بإسناد صحيح دون قوله: بعد ثلاث، برقم: 24107
حدیث نمبر: 26273
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26273]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 26274
حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ , عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَائِمًا , صَلَّى قَائِمًا , وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَاعِدًا صَلَّى قَاعِدًا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھتے تھے اور بیٹھ کر بھی نماز پڑھتے تھے جب کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر فرماتے اور جب نماز بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26274]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 26275
حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ أَخِي يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ كَسْرَ عَظْمِ الْمُؤْمِنِ مَيْتًا مِثْلُ كَسْرِ عَظْمِهِ حَيًّا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26275]
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات
حدیث نمبر: 26276
حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ , عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ مَكْحُولٌ ، حَدَّثَنِي عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ رِيَاطٍ يَمَانِيَةٍ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین یمنی چادروں میں کفنایا گیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26276]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، مسكين بن بكير فيه كلام من قبل حفظه
حدیث نمبر: 26277
حَدَّثَنَا عُمَرُ أَبُو حَفْصٍ الْمُعَيْطِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَأَنَا جَارِيَةٌ لَمْ أَحْمِلْ اللَّحْمَ وَلَمْ أَبْدُنْ , فَقَالَ لِلنَّاسِ: " تَقَدَّمُوا" فَتَقَدَّمُوا , ثُمَّ قَالَ لِي:" تَعَالَيْ حَتَّى أُسَابِقَكِ" فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقْتُهُ , فَسَكَتَ عَنِّي , حَتَّى إِذَا حَمَلْتُ اللَّحْمَ وَبَدُنْتُ وَنَسِيتُ , خَرَجْتُ مَعَهُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ , فَقَالَ لِلنَّاسِ:" تَقَدَّمُوا" فَتَقَدَّمُوا , ثُمَّ قَالَ:" تَعَالَيْ حَتَّى أُسَابِقَكِ" فَسَابَقْتُهُ , فَسَبَقَنِي , فَجَعَلَ يَضْحَكُ , وَهُوَ يَقُولُ:" هَذِهِ بِتِلْكَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مقابلے میں میں آگے نکل گئی، کچھ عرصے بعد جب میرے جسم پر گوشت چڑھ گیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور فرمایا یہ اس مرتبہ کے مقابلے کا بدلہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26277]
الحكم على الحديث:
إسناده جيد
حدیث نمبر: 26278
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ سُفْيَانَ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ , قَالَتْ: فَغَسَلْتُ رَأْسَهُ وَإِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْعَتَبَةَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے تو صرف انسانی ضرورت کی بناء پر ہی گھر میں آتے تھے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی جبکہ میرے اور ان کے درمیان دروازے کی چوکھٹ حائل ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26278]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 26279
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ , إِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ , فَإِنَّ التَّوْبَةَ مِنَ الذَّنْبِ النَّدَمُ وَالِاسْتِغْفَارُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ واقعہ افک کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ! اگر تم سے گناہ کا ارادہ ہوگیا ہو تو اللہ سے استغفار کیا کرو کیونکہ گناہ سے توبہ ندامت اور استغفار ہی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26279]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله فى حديث الإفك: فإن التوبة من الذنب الندم والاستغفار