🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26260
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يُرْسِلْنَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ: أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ازواج مطہرات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وراثت میں سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجنا چاہا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم وراثت میں کچھ نہیں چھوڑتے، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں تو وہ صدقہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26260]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6730، مؒ: 1758
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26261
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ , فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ , وَهُوَ مُعْتَكِفٌ , وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی اور وہ گھر میں صرف انسانی ضرورت کی بناء پر ہی آتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26261]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2029، م: 297
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26262
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أخبرنا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا , فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ , وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ تُنْتَهَكُ حُرْمَةُ اللَّهِ , فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہ لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ دور ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26262]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3560، م: 2327
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26263
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ , فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ , وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر بیمار ہوجاتے تو معوذتین پڑھ کر اپنے اوپر دم کرلیتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی تو یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت حاصل ہوجائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26263]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5016، م: 2192
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26264
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَيُّوبَ الْمَوْصِلِيُّ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ وَكَثِيرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كَانَ يَرَاهُ فِي مِرْطِ إِحْدَانَا , ثُمَّ يَفْرُكُهُ" , يَعْنِي الْمَاءَ , وَمُرُوطُهُنَّ يَوْمَئِذٍ الصُّوفُ , تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کی چادر پر مادہ منویہ کے اثرات دیکھتے تو اسے کھرچ دیتے تھے اور اس دور میں ان کی چادریں اون کی ہوتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26264]

الحكم على الحديث:
حديث ضعيف بهذا اللفظ ، تفرد به جعفر بن برقان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26265
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ مَا أَغْسِلُ" , قَالَ أَبُو قَطَنٍ قَالَتْ مَرَّةً: أَثَرَهُ , وَقَالَتْ مَرَّةً: مَكَانَهُ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے مادہ منویہ کو کھرچ دیتی تھی اور کپڑے کو دھوتی نہیں تھی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26265]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد بن منصور
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26266
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْحَكَمِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ عَائِشَةَ , مِثْلَ مَعْنَاهُ.

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 288
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26267
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ , فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ , فَأَكَلْنَا مِنْهُ , فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَرَتْنِي إِلَيْهِ حَفْصَةُ , وَكَانَتْ بِنْتَ أَبِيهَا , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا كُنَّا صَائِمَتَيْنِ الْيَوْمَ فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ , فَأَكَلْنَا مِنْهُ , فَقَالَ: " اقْضِيَا يَوْمًا آخَرَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس کہیں سے ایک بکری ہدئے میں آئی، ہم دونوں اس دن روزے سے تھیں، انہوں نے میرا روزہ اس سے کھلوا دیا، وہ اپنے والد کی بیٹی تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اس کے بدلے میں کسی اور دن کا روزہ رکھ لینا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26267]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لأن جعفر بن برقان ضعيف فى الزهري خاصة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26268
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حَسَنٍ , عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا كَانَ عَلَيْهَا رَقَبَةٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ , فَجَاءَ سَبْيٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ خَوْلَانَ , فَأَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ , فَنَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ جَاءَ سَبْيٌ مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ , فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کی منت مان رکھی تھی، اس دوران یمن کے قبیلہ خولان سے کچھ قیدی آئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے ایک غلام کو آزاد کرنا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا، پھر جب مضر کے قیبلہ بنو عنبر کے قیدی آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ان میں سے کسی کو آزاد کردیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26268]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبن معقل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26269
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , وَعِنْدَهَا حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ , فَقَالَتْ لِي: إِنَّ هَذِهِ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهَا , فَقَالَتْ: أَنْشُدُكِ اللَّهَ أَنْ تُصَدِّقِينِي بِكَذِبٍ قُلْتُهُ أَوْ تُكَذِّبِينِي بِصِدْقٍ قُلْتُهُ , تَعْلَمِينَ أَنِّي كُنْتُ أَنَا وَأَنْتِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ , فَقُلْتُ لَكِ أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ؟ وقُلْتِ: لَا أَدْرِي , فَأَفَاقَ , فَقَالَ: " افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ" , ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ , فَقُلْتُ: لَكِ أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ؟ قُلْتِ: لَا أَدْرِي , ثُمَّ أَفَاقَ , فَقَالَ:" افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ" , فَقُلْتُ لَكِ: أَبِي أَوْ أَبُوكِ؟ قُلْتِ: لَا أَدْرِي , فَفَتَحْنَا الْبَابَ , فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ , فَلَمَّا أَنْ رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ادْنُهْ" , فَأَكَبَّ عَلَيْهِ , فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي أَنَا وَأَنْتِ مَا هُوَ , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ:" أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" ادْنُهْ" , فَأَكَبَّ عَلَيْهِ أُخْرَى مِثْلَهَا , فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي , مَا هُوَ , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ:" أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ؟" قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" ادْنُهُ" , فَأَكَبَّ عَلَيْهِ إِكْبَابًا شَدِيدًا , فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ:" أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ؟" قَالَ: نَعَمْ , سَمِعَتْهُ أُذُنَيَّ وَوَعَاهُ قَلْبِي , فَقَالَ لَهُ:" اخْرُجْ" , فقَالَ: قَالَتْ حَفْصَةُ: اللَّهُمَّ نَعَمْ , أَوْ قَالَتْ: اللَّهُمَّ صِدْقٌ .
ابو عبداللہ جسری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کے پاس حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا کہ یہ حفصہ رضی اللہ عنہ ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں آپ کی قسم دیکھ کر پوچھتی ہوں، اگر میں غلط کہوں تو آپ میری تصدیق نہ کریں اور صحیح کہوں تو تکذیب نہ کریں، آپ کو معلوم ہے کہ ایک مرتبہ میں اور آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بےہوشی طاری ہوگئی، میں نے آپ سے پوچھا کیا خیال ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا؟ آپ نے کہا مجھے کچھ معلوم نہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوگیا اور انہوں نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو، میں نے آپ سے پوچھا کہ میرے والد آئے ہیں یا آپ کے؟ آپ نے جواب دیا مجھے کچھ معلوم نہیں ہم نے دروازہ کھولا تو وہاں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کھڑے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا میرے قریب آجاؤ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر جھک گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سرگوشی میں کچھ باتیں کیں جو آپ کو معلوم ہیں اور نہ مجھے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر فرمایا میری بات سمجھ گئے؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں! تین مرتبہ اس طرح سرگوشی اور اس کے بعد یہ سوال جواب ہوئے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اب تم جاسکتے ہو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ اسی طرح ہے اور یہ بات سچی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26269]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف على ابن عاصم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں