🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26390
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَعْجَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: " كَانَ يُحِبُّ الدَّائِمَ , قَالَ: قُلْتُ: فِي أَيِّ حِينٍ كَانَ يُصَلِّي؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ قَامَ , فَصَلَّى" .
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا تھا؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ کیا جائے، میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کس وقت قیام فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26390]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1132، م: 741
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26391
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ , ثُمَّ يَغْتَسِلُ , ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کے ساتھ رات کو " تخلیہ " کیا اور وجوب غسل کی حالت میں ہی سو گئے جب صبح ہوئی تو غسل کرلیا اور اس دن کا روزہ رکھ لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26391]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف الفضل بن سليمان، خ: 1930، م: 1109
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26392
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26392]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1106
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26393
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أُمِّهِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ , وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26393]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26394
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْبَانَ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْكَلْبَ الْأَسْوَدَ شَيْطَانٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26394]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل ليث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26395
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْرُكُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26395]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26396
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26396]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26397
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَفَّى خَدِيجَةَ , قَبْلَ مَخْرَجِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ بِسَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ , وَأَنَا بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ , فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جَاءَتْنِي نِسْوَةٌ وَأَنَا أَلْعَبُ فِي أُرْجُوحَةٍ , وَأَنَا مُجَمَّمَةٌ , فَذَهَبْنَ بِي , فَهَيَّأْنَنِي وَصَنَعْنَنِي , ثُمَّ أَتَيْنَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اور مدینہ منورہ ہجرت سے دو تین سال پہلے مجھ سے نکاح فرمایا جبکہ میری عمر سات سال کی تھی، جب ہم مدینہ منورہ آئے تو ایک دن کچھ عورتیں میرے پاس آئیں، میں اس وقت جھولا جھول رہی تھی اور بخار کی شدت سے میرے بہت سے بال جھڑ کر تھوڑے ہی رہ گئے تھے، وہ مجھے لے گئیں اور مجھے تیار کرنے لگیں اور بناؤ سنگھار کر کے مجھے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تخلیہ فرمایا: اس وقت میری عمر نو سال تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26397]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1422
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26398
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلَيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " سَابَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَبَقْتُهُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آگے بڑھ گئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26398]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26399
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنَ الْأَحْزَابِ , دَخَلَ الْمُغْتَسَلَ يَغْتَسِلُ , وَجَاءَ جِبْرِيلُ , فَرَأَيْتُهُ مِنْ خَلَلِ الْبَابِ قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ الْغُبَارُ , فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ , أَوَضَعْتُمْ أَسْلِحَتَكُمْ؟ فَقَالَ: " مَا وَضَعْنَا أَسْلِحَتَنَا بَعْدُ , انْهَدْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احزاب سے فارغ ہوگئے تو غسل کرنے کے لئے غسل خانے میں چلے گئے، اتنی دیر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام آگئے، میں نے دروازے کے سوراخ سے انہیں دیکھا کہ ان کے سر پر گردوغبار ہے اور وہ کہنے لگے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ نے اسلحہ اتار دیا؟ ہم نے تو اب تک اپنا اسلحہ نہیں اتارا، آپ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوجائیے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26399]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1769
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں