🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1188. حَدِيثُ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27000
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أُمِّْ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ أُخْتِ عُكَّاشَةَ , قَالَتْ: جِئْتُ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَنْهُ، أَخَافُ أَنْ يَكُونَ بِهِ الْعُذْرَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذِهِ الْعَلَائِقِ؟ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، قَالَ يَعْنِي الْكُسْتَ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ" ثُمَّ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيَّهَا، فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ , فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ، وَلَمْ يَكُنْ الصَّبِيُّ بَلَغَ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ , قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَمَضَتْ السُّنَّةُ بِأَنْ يُرَشَّ بَوْلُ الصَّبِيِّ، وَيُغْسَلَ بَوْلُ الْجَارِيَةِ , قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَيُسْتَسْعَطُ لِلْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ لِذَاتِ الْجَنْبِ.
حضرت ام قیس بنت محصن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھاناپینا شروع نہ کیا تھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک لیا، پھر جب میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئی تو میں نے اس کے گلے اٹھائے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس طرح گلے اٹھا کر اپنے بچوں کو گلا دبا کر تکلیف کیوں دیتی ہو؟ قسط ہندی استعمال کیا کرو کہ اس میں سات بیماریوں کی شفاء رکھی گئی ہے، جن میں سے ایک بیماری ذات الجنب بھی ہے، گلے ورم آلود ہونے کی صورت میں قسط ہندی کو ناک میں ٹپکایا جائے اور ذات الجنب کی صورت میں اسے منہ کے کنارے سے ٹپکایا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27000]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5692، م: 287
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27001
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلُ ، عَنْ ثَابِتٍ أَبِي الْمِقْدَامِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ: " حُكِّيهِ وَلَوْ بِضِلَعٍ" .
حضرت ام قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کپڑے کے متعلق دریافت کیا جسے دم حیض لگ جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پسلی کی ہڈی سے کھرچ دو۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27001]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27002
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ: " اغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَحُكِّيهِ بِضِلَعٍ" .
حضرت ام قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کپڑے کے متعلق دریافت کیا جسے دم حیض لگ جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پسلی کی ہڈی سے کھرچ دو اور پانی اور بیری کے ساتھ دھو لو۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27002]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27003
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ إِحْدَى بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّائِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: " عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ؟" .
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھانا پینا شروع نہ کیا تھا . . . . پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27003]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5692، م: 287
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27004
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَقَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أُمِّْ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , أَنَّهَا جَاءَتْ بِابْنٍ لَهَا وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذِهِ الْعُلُقِ؟ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ" , ثُمَّ أَخَذَ الصَّبِيَّ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: مَضَتْ السُّنَّةُ بِذَلِكَ.
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بچے کو لے کر حاضر ہوئی جس نے ابھی کھانا پینا شروع نہ کیا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس جگہ پر چھڑک لیا، پھر جب میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئی تو میں نے اس کے گلے اٹھائے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس طرح گلے اٹھا کر اپنے بچوں کو گلا دبا کر تکلیف کیوں دیتی ہو؟ قسط ہندی استعمال کیا کرو کہ اس میں سات بیماریوں کی شفاء رکھی گئی ہے، جن میں سے ایک بیماری ذات الجنب بھی ہے، گلے ورم آلود ہونے کی صورت میں قسط ہندی کو ناک میں ٹپکایا جائے اور ذات الجنب کی صورت میں اسے منہ کے کنارے سے ٹپکایا جائے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27004]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5692، م: 287
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1189. حَدِيثُ سَهْلَةَ بِنْتِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَامْرَأَةِ أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27005
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَهْلَةَ امْرَأَةِ أَبِي حُذَيْفَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلَيَّ، وَهُوَ ذُو لِحْيَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْضِعِيهِ" , فَقَالَتْ: كَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ ذُو لِحْيَةٍ؟! فَأَرْضَعَتْهُ، فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا.
حضرت سہلہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوحذیفہ کا غلام سالم میرے پاس آتا ہے اور وہ ڈاڑھی والا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے دودھ پلا دو، عرض کیا کہ میں اسے کیسے دودھ پلا سکتی ہوں جبکہ اس کے تو چہرے پر ڈاڑھی بھی ہے، بالآخر انہوں نے سالم کو دودھ پلا دیا، پھر وہ ان کے یہاں آتے جاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27005]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح على خطأ فى إسناده، أسقط حماد بن سلمة عائشة من الاسناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1190. حَدِيثُ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27006
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ ، تَقُولُ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ، فَلَقَّنَنَا:" فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ" , قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ مِنَّا مِنْ أَنْفُسِنَا , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْنَا , قَالَ: " إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ، إِنَّمَا قَوْلِي لِامْرَأَةٍ، قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ" .
حضرت امیمہ بنت رقیقہ سے مروی ہے کہ میں کچھ مسلمان خواتین کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لقمہ دیا کہ اور حسب استطاعت اور بقدر طاقت ایسا ہی کریں گی، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہم پر ہم سے زیادہ رحم والے ہیں، یا رسول اللہ! ہمیں بیعت کر لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جاؤ میں نے تم سب کو بیعت کر لیا) میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، سو عورتوں سے بھی میری وہی بات ہے جو ایک عورت سے ہے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27006]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27007
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ التَّيْمِيَّةِ ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لِنُبَايِعَهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْنَا لِنُبَايِعَكَ عَلَى أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ، وَلَا نَزْنِيَ، وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا، وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا، وَلَا نَعْصِيَكَ فِي مَعْرُوفٍ , قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَعْتُنَّ" , قَالَتْ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا، بَايِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" اذْهَبْنَ، فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ، إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ، كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ" , قَالَتْ: وَلَمْ يُصَافِحْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا امْرَأَةً.
حضرت امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں کچھ مسلمان خواتین کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئی اور ہم سب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کے پاس ان شرائط پر بیعت کرنے کے لئے آئے ہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، بدکاری نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، کوئی بہتان اپنے ہاتھوں، پیروں کے درمیان نہیں گھڑیں گی اور کسی نیکی کے کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لقمہ دیا کہ اور حسب استطاعت اور بقدر طاقت ایسا ہی کریں گی، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہم پر ہم سے زیادہ رحم والے ہیں، یا رسول اللہ! ہمیں بیعت کر لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جاؤ میں نے تم سب کو بیعت کر لیا) میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، سو عورتوں سے بھی میری وہی بات ہے جو ایک عورت سے ہے“، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے کسی عورت سے مصافحہ نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27007]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27008
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ , أَنَّها قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ نُبَايِعُهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ، وَلَا نَزْنِيَ، وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا، وَلَا نَعْصِيَكَ فِي مَعْرُوفٍ , قَالَ: قَالَ: " فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَعْتُنَّ" , قَالَتْ: فَقُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنَّا بِأَنْفُسِنَا، هَلُمَّ نُبَايِعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ، إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ، كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ" .
حضرت امیمہ بنت رقیقہ سے مروی ہے کہ میں کچھ مسلمان خواتین کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئی اور ہم سب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کے پاس ان شرائط پر بیعت کرنے کے لئے آئے ہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، بدکاری نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، کوئی بہتان اپنے ہاتھوں، پیروں کے درمیان نہیں گھڑیں گی اور کسی نیکی کے کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لقمہ دیا کہ اور حسب استطاعت اور بقدر طاقت ایسا ہی کریں گی، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہم پر ہم سے زیادہ رحم والے ہیں، یا رسول اللہ! ہمیں بیعت کر لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جاؤ میں نے تم سب کو بیعت کر لیا) میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، سو عورتوں سے بھی میری وہی بات ہے جو ایک عورت سے ہے“، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے کسی عورت سے مصافحہ نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27008]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27009
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسَاءٍ نُبَايِعُهُ، فَأَخَذَ عَلَيْنَا مَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12 الْآيَةَ، قَالَ: " فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَعْتُنَّ" , قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تُصَافِحُنَا؟ قَالَ:" إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ، إِنَّمَا قَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ، كَقَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ" .
حضرت امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں کچھ مسلمان خواتین کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئی اور ہم سب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کے پاس ان شرائط پر بیعت کرنے کے لئے آئے ہیں جو قرآن میں ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لقمہ دیا کہ اور حسب استطاعت اور بقدر طاقت ایسا ہی کریں گی، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہم پر ہم سے زیادہ رحم والے ہیں، یا رسول اللہ! ہمیں بیعت کر لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جاؤ میں نے تم سب کو بیعت کر لیا) میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا“، سو عورتوں سے بھی میری وہی بات ہے جو ایک عورت سے ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے کسی عورت سے مصافحہ نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27009]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں