مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1190. حَدِيثُ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا
حدیث نمبر: 27010
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ تُحَدِّثُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَسْتُ أُصَافِحُ النِّسَاءَ، إِنَّمَا قَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ، كَقَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ" .
حضرت امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا سو عورتوں سے بھی میری وہی بات ہے جو ایک عورت سے ہے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27010]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
1191. حَدِيثُ أُخْتِ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27011
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنِ امْرَأَتِهِ ، عَنْ أُخْتِ حُذَيْفَةَ ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ، أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تَحَلَّى ذَهَبًا تُظْهِرُهُ، إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے گروہ خواتین! کیا تمہارے لئے چاندی کے زیورات کافی نہیں ہو سکتے؟ یاد رکھو تم! میں سے جو عورت نمائش کے لئے سونا پہنے گی، اسے قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27011]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أمرأة ربعي بن حراش
حدیث نمبر: 27012
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ امْرَأَتِهِ ، عَنِ أُخْتِ خُذَيْفَةَ ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27012]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أمرأة ربعي بن حراش
حدیث نمبر: 27013
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ امْرَأَتِهِ ، عَنْ أُخْتِ حُذَيْفَةَ وَكُنَّ لَهُ أَخَوَاتٌ قَدْ أَدْرَكْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، أَلَيْسَ لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ به؟ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَتْ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تَتَحَلَّى ذَهَبًا تُظْهِرُهُ، إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے گروہ خواتین! کیا تمہارے لئے چاندی کے زیورات کافی نہیں ہو سکتے؟ یاد رکھو! تم میں سے جو عورت نمائش کے لئے سونا پہنے گی، اسے قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27013]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أمرأة ربعي بن حراش
1192. حَدِيثُ أُخْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27014
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ الْأَيَامِيَّ يُحَدِّثُ , وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْقَيْسِ، عَنْ أُخْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " وَجَبَ الْخُرُوجُ عَلَى كُلِّ ذَاتِ نِطَاقٍ" .
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر کمربند والی پر خروج کرنا واجب ہو گیا ہے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27014]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لإبهام المرأة من بني عبدالقيس، وأخت عبدالله بن رواحة لم نقف لها على ترجمة، ولعلها صحابية
1193. حَدِيثُ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27015
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ إِلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ ، فَسَأَلْتُهَا عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْرَجَتْ لَهُ، يَعْنِي إِنَاءً يَكُونُ مُدًّا، أَوْ نَحْوَ مُدٍّ وَرُبُعٍ قَالَ سُفْيَانُ: كَأَنَّهُ يَذْهَبُ إِلَى الْهَاشِمِيِّ، قَالَتْ: كُنْتُ أُخْرِجُ لَهُ الْمَاءَ فِي هَذَا، فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَقَالَ مَرَّةً يَغْسِلُ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا، وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيُمَضْمِضُ ثَلَاثًا، وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا، وَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، وَالْيُسْرَى ثَلَاثًا، وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ وَقَالَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، ثُمَّ يَغْسِلُ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ، قَدْ جَاءَنِي ابْنُ عَمٍّ لَكَ، فَسَأَلَنِي وَهُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لي: مَا أَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا مَسْحَتَيْنِ وَغَسْلَتَيْنِ.
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے امام زین العابدین رحمہ اللہ نے حضرت ربیع رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، میں نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ پوچھا، تو انہوں نے ایک برتن نکالا جو ایک مد یا سوا مد کے برابر ہو گا اور فرمایا کہ میں اس برتن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پانی نکالتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی بہاتے تھے، پھر تین مرتبہ چہرہ دھوتے تھے، تین مرتبہ کلی کرتے تھے، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے تھے، تین مرتبہ دائیں ہاتھ کو اور تین مرتبہ بائیں ہاتھ کو دھوتے تھے، سر کا آگے، پیچھے سے مسح کرتے تھے، پھر تین مرتبہ پاؤں دھوتے تھے، تمہارے ابن عم یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی میرے پاس یہی سوال پوچھنے کے لئے آئے تھے اور میں نے انہیں بھی یہی جواب دیا تھا لیکن انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے تو کتاب اللہ میں دو چیزوں پر مسح اور دو چیزوں کو دھونے کا حکم ملتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27015]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن محمد، وقد انفرد به، واضطرب فى متنه
حدیث نمبر: 27016
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْتِينَا، فَيُكْثِرُ، فَأَتَانَا فَوَضَعْنَا لَهُ الْمِيضَأَةَ، فَتَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، مَرَّةً مَرَّةً، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ بِمَا بَقِيَ مِنْ وَضُوئِهِ فِي يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ، بَدَأَ بِمُؤَخَّرِهِ، ثُمَّ رَدَّ يَدَهُ إِلَى نَاصِيَتِهِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ أُذُنَيْهِ مُقَدَّمَهُمَا وَمُؤَخَّرَهُمَا" .
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت ربیع رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ہمارے یہاں آتے تھے، میں اس برتن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پانی نکالتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی بہاتے تھے، پھر تین مرتبہ چہرہ دھوتے تھے، تین مرتبہ کلی کرتے تھے، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے تھے، تین مرتبہ دائیں ہاتھ کو اور تین مرتبہ بائیں ہاتھ کو دھوتے تھے، سر کا آگے پیچھے سے مسح کرتے تھے، پھر تین مرتبہ پاؤں دھوتے تھے اور کانوں کا بھی آگے پیچھے سے مسح کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27016]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن محمد، وقد انفرد به، واضطرب فى متنه
حدیث نمبر: 27017
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَتْ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَسْقِي الْقَوْمَ وَنَخْدُمُهُمْ، وَنَرُدُّ الْجَرْحَى وَالْقَتْلَى إِلَى الْمَدِينَةِ" .
حضرت ربیع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں شرکت کر کے لوگوں کو پانی پلاتی اور ان کی خدمت کرتی تھیں اور زخمیوں اور شہداء کو مدینہ منورہ لے کر آتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27017]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2882
حدیث نمبر: 27018
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعْنَا لَهُ الْمِيضَأَةَ، " فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ، بَدَأَ بِمُؤَخَّرِهِ، وَأَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ" .
حضرت ربیع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا برتن رکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین مرتبہ اپنے اعضاء کو دھویا اور سر کا مسح دو مرتبہ فرمایا اور اس کا آغاز سر کے پچھلے حصے سے کیا اور کانوں کے سوراخوں میں انگلیاں داخل کیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27018]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ابن عقيل، وقد انفرد به، واضطرب فى متنه
حدیث نمبر: 27019
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ، فَأَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي حُجْرَيْ أُذُنَيْهِ" .
حضرت ربیع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور کانوں کے سوراخوں میں انگلیاں داخل کیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27019]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ابن عقيل، وقد انفرد به، واضطرب فى متنه