مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1193. حَدِيثُ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27020
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِنَاعٍ فِيهِ رُطَبٌ وَأَجْرُ زُغْبٍ، فَوَضَعَ فِي يَدِي شَيْئًا، فَقَالَ: " تَحَلَّيْ بِهَذَا، وَاكْتَسِي بِهَذَا" .
حضرت ربیع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک تھالی میں کچھ تر کھجوریں رکھ کر اور کچھ گلہریاں لے کر حاضر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ میں کچھ رکھ دیا اور فرمایا: ”اس کا زیور بنا لینا یا کپڑے بنا لینا۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27020]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شريك وابن عقيل
حدیث نمبر: 27021
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَمُهَنَّأُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ أَبُو شبل , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، قَالَ: عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ , حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ , عَنِ الرُّبَيِّعِ , وَقَالَ خَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عُرْسِي، فَقَعَدَ فِي مَوْضِعِ فِرَاشِي هَذَا، وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِالدُّفِّ، وَتَنْدُبَانِ آبَائِي الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَتَا فِيمَا تَقُولَانِ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا يَكُونُ فِي الْيَوْمِ وَفِي غَدٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا هَذَا، فَلَا تَقُولَاهُ" .
حضرت ربیع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس دن میری شادی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے بستر پر اس جگہ بیٹھ گئے، اس وقت میرے یہاں دو بچیاں آئی ہوئی تھیں جو دف بجا رہی تھیں اور غزوہ بدر کے موقع پر فوت ہو جانے والے میرے آباؤ و اجداد کا تذکرہ کر رہی تھیں، ان اشعار میں جو وہ پڑھ رہی تھیں، ایک شعر یہ بھی تھا کہ ہم میں ایک ایسا نبی موجود ہے جو آج اور آئندہ کل ہونے والے واقعات کو جانتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ والا جو جملہ ہے، یہ نہ کہو۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27021]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4001
حدیث نمبر: 27022
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ رُبَيِّعَ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ عِنْدَهَا، فَرَأَيْتُهُ: " مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ مَجَارِيَ الشَّعْرِ مَا أَقْبَلَ مِنْهُ وَمَا أَدْبَرَ، وَمَسَحَ صُدْغَيْهِ، وَأُذُنَيْهِ، ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا" .
حضرت ربیع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں وضو کیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر کے بالوں پر آگے پیچھے سے مسح کرتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنپٹیوں اور کانوں کا بھی اندر باہر سے مسح کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27022]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن محمد ابن عقيل، وقد انفرد به، واضطرب فى متنه، وابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 27023
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَتْ: أَهْدَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِنَاعًا مِنْ رُطَبٍ وَأَجْرٍ زُغْبٍ , قَالَتْ: فَأَعْطَانِي مِلْءَ كَفَّيْهِ حُلِيًّا أَوْ قَالَ ذَهَبًا، فَقَالَ:" تَحَلَّيْ بِهَذَا" .
حضرت ربیع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک تھالی میں کچھ تر کھجوریں رکھ کر اور کچھ گلہریاں لے کر حاضر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ میں کچھ رکھ دیا اور فرمایا: ”اس کا زیور بنا لینا یا کپڑے بنا لینا۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27023]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شريك وابن عقيل
حدیث نمبر: 27024
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , تَوَضَّأَ عِنْدَهَا: " فَمَسَحَ الرَّأْسَ كُلَّهُ مِنْ فَوْقِ الشَّعْرِ، كُلِّ نَاحِيَةٍ لِمُنْصَبِّ الشَّعْرِ، لَا يُحَرِّكُ الشَّعْرَ عَنْ هَيْئَتِهِ" .
حضرت ربیع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں وضو کیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر کے بالوں پر آگے پیچھے سے مسح کرتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنپٹیوں اور کانوں کا بھی اندر باہر سے مسح کیا اور بالوں کو اپنی ہیئت سے نہیں ہلایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27024]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن محمد، وقد انفرد به، واضطرب فى متنه
حدیث نمبر: 27025
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي رُبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذٍ ، قَالَتْ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُرَى الْأَنْصَارِ، قَالَ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ صَائِمًا، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَمَنْ كَانَ أَكَلَ، فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ" .
حضرت ربیع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کے دن انصار کی بستیوں میں ایک قاصد کو بھیجا اور اعلان کروا دیا کہ تم میں سے جس شخص نے آج روزہ رکھا ہوا ہو، اسے چاہیے کہ اپنا روزہ مکمل کر لے اور جس نے پہلے سے کچھ کھا پی لیا ہو، وہ دن کا باقی حصہ کچھ کھائے پیے بغیر ہی گزار دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27025]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1960، م: 1136
حدیث نمبر: 27026
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، قَالَ: سَأَلْتُ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ: " مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ صَائِمًا؟" , قَالَ: قَالُوا: مِنَّا الصَّائِمُ، وَمِنَّا الْمُفْطِرُ , قَالَ:" فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَأَرْسِلُوا إِلَى مَنْ حَوْلَ الْمَدِينَةِ، فَلْيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ" .
حضرت ربیع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کے دن انصار کی بستیوں میں ایک قاصد کو بھیجا اور اعلان کروا دیا کہ تم میں سے جس شخص نے آج روزہ رکھا ہوا ہو، اسے چاہیے کہ اپنا روزہ مکمل کر لے اور جس نے پہلے سے کچھ کھا پی لیا ہو، وہ دن کا باقی حصہ کچھ کھائے پئے بغیر ہی گزار دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27026]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف على بن عاصم، وقد خولف، وقد سلف بالحديث قبله بغير هذا السياق باسناد صحيح
حدیث نمبر: 27027
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حُسَيْنٍ ، قَالَ: كَانَ يَوْمٌ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ يَلْعَبُونَ , فَدَخَلْتُ عَلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ ، فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَعَدَ عَلَى مَوْضِعَ فِرَاشِي هَذَا، وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تَنْدُبَانِ آبَائِي الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، تَضْرِبَانِ بِالدُّفُوفِ وَقَالَ عَفَّانُ: مَرَّةً بِالدُّفِّ , فَقَالَتَا: فِيمَا تَقُولَانِ وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا يَكُونُ فِي غَدٍ , فَقَالَ:" أَمَّا هَذَا فَلَا تَقُولَاهُ" .
حضرت ربیع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس دن میری شادی ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے بستر پر اس جگہ بیٹھ گئے، اس وقت میرے یہاں دو بچیاں آئی ہوئی تھیں جو دف بجا رہی تھیں اور غزوہ بدر کے موقع پر فوت ہو جانے والے میرے آباؤ و اجداد کا تذکرہ کر رہی تھیں، ان اشعار میں جو وہ پڑھ رہی تھیں، ایک شعر یہ بھی تھا کہ ہم میں ایک ایسا نبی موجود ہے جو آج اور آئندہ کل ہونے والے واقعات کو جانتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ والا جو جملہ ہے یہ نہ کہو۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27027]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4001
حدیث نمبر: 27028
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ عِنْدَهَا، " فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، الرَّأْسِ كُلِّهِ، مِنْ وَرَاءِ الشَّعْرِ، كُلَّ نَاحِيَةٍ لِمُنْصَبِّ الشَّعْرِ، لَا يُحَرِّكُ الشَّعْرَ عَنْ هَيْئَتِهِ" .
حضرت ربیع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں وضو کیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر کے بالوں پر آگے پیچھے سے مسح کرتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنپٹیوں اور کانوں کا بھی اندر باہر سے مسح کیا اور بالوں کو اپنی ہیئت سے نہیں ہلایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27028]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن محمد، وقد انفرد به، واضطرب فى متنه
1194. حَدِيثُ سَلَامَةَ بِنْتِ مَعْقِلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27029
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْخَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي سَلَامَةُ بِنْتُ مَعْقِلٍ ، قَالَتْ: كُنْتُ لِلْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو، وَلِي مِنْهُ غُلَامٌ، فَقَالَتْ لِيَ امْرَأَتُهُ: الْآنَ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَاحِبُ تَرِكَةِ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو؟" فَقَالُوا: أَخُوهُ أَبُو الْيُسْرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا تَبِيعُوهَا، وَأَعْتِقُوهَا، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِيقٍ قَدْ حَسَبَنِي، فَأْتُونِي أُعَوِّضُكُمْ" , فَفَعَلُوا، فَاخْتَلَفُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قَوْمٌ أُمُّ الْوَلَدِ مَمْلُوكَةٌ: لَوْلَا ذَلِكَ لَمْ يُعَوِّضْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: هِيَ حُرَّةٌ , قَدْ أَعْتَقَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَفِيَّ كَانَ الِاخْتِلَافُ.
حضرت سلامہ بنت معقل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں حباب بن عمرو کی غلامی میں تھی اور ان سے میرے یہاں ایک لڑکا بھی پیدا ہوا تھا، ان کی وفات پر ان کی بیوی نے مجھے بتایا کہ اب تمہیں حباب کے قرضوں کے بدلے میں بیچ دیا جائے گا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ حباب بں عمرو کے ترکے کا ذمہ دار کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ان کے بھائی ابو الیسر کعب بن عمرو ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا: ”اسے مت بیچو، بلکہ اسے آزاد کر دو اور جب تم سنو کہ میرے پاس کوئی غلام آیا ہے تو تم میرے پاس آ جانا میں اس کے عوض میں تمہیں دوسرا غلام دے دوں گا“، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف رائے پیدا ہو گیا، بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ ام ولدہ مملوک ہوتی ہے، اگر وہ ملکیت میں نہ ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا عوض کیوں دیتے؟ اور بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ یہ آزاد ہے کیونکہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کیا تھا، یہ اختلاف رائے میرے حوالے سے ہی تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27029]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، ووالدة الخطاب بن صالح مجهولة