🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1195. حَدِيثُ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27030
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ خَبَّابٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَحُجَّ، فَأَشْتَرِطُ؟ قَالَ:" نَعَمْ" , قَالَتْ: فَكَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ: " قُولِي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، مَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ تَحْبِسُنِي" .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب آئیں، وہ بیمار تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تم اس سفر میں ہمارے ساتھ نہیں چلو گی؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ حجۃ الوداع کا تھا، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بیمار ہوں، مجھے خطرہ ہے کہ میری بیماری آپ کو روک نہ دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم حج کا احرام باندھ لو اور یہ نیت کر لو کہ اے اللہ! جہاں تو مجھے روک دے گا، وہی جگہ میرے احرام کھل جانے کی ہو گی۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27030]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27031
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , أَنَّهَا ذَبَحَتْ فِي بَيْتِهَا شَاةً، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَطْعِمِينَا مِنْ شَاتِكُمْ , فَقَالَتْ لِلرَّسُولِ: وَاللَّهِ مَا بَقِيَ عِنْدَنَا إِلَّا الرَّقَبَةُ، وَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أُرْسِلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّقَبَةِ، فَرَجَعَ الرَّسُولُ، فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " ارْجِعْ إِلَيْهَا، فَقُلْ لَهَا أَرْسِلِي بِهَا، فَإِنَّهَا هَادِيَةٌ، وَأَقْرَبُ الشَّاةِ إِلَى الْخَيْرِ، وَأَبْعَدُهَا مِنَ الْأَذَى" .
حضرت ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے گھر میں ایک بکری ذبح کی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس پیغام بھیجا کہ اپنی بکری میں سے ہمیں بھی کچھ کھلانا، انہوں نے قاصد سے کہا کہ واللہ! اب تو ہمارے پاس صرف گردن بچی ہے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بھیجتے ہوئے مجھے شرم آ رہی ہے، قاصد نے واپس جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتا دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ گردن ہی بھیج دو، وہ بکری کا اچھا حصہ ہوتا ہے، خیر کے قریب ہوتا ہے اور گندگی سے دور ہوتا ہے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27031]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة الفضل بن الفضل، و تفرد به أسامة بن زيد، ومثله لا يحتمل تفرده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1196. حَدِيثُ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27032
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ , أَنَّهَا قَالَتْ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِلًا فِي بَيْتِي، إِذْ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ، مَا يُضْحِكُكَ؟ فَقَالَ: " عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي، يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ، كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ"، فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ"، ثُمَّ نَامَ أَيْضًا، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي، مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ:" عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي، يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ" , فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فقَالَ:" أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ" , فَغَزَتْ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَكَانَ زَوْجَهَا، فَوَقَصَتْهَا بَغْلَةٌ لَهَا شَهْبَاءُ، فَوَقَعَتْ، فَمَاتَتْ.
حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں قیلولہ فرما رہے تھے کہ اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہو گئے، میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کس بناء پر مسکرا رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے میری امت کے کچھ لوگوں کو پیش کیا گیا، جو اس سطح سمندر پر اس طرح سوار چلے آ رہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر براجمان ہوتے ہیں“، میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! انہیں بھی ان میں شامل فرما دے۔“ تھوڑی ہی دیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوبارہ آنکھ لگ گئی اور اس مرتبہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے وہی سوال دہرایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی مزید کچھ لوگوں کو اس طرح پیش کئے جانے کا تذکرہ فرمایا: میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے ان میں بھی شامل کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پہلے گروہ میں شامل ہو“، چنانچہ وہ اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سمندری جہاد میں شریک ہوئیں اور اپنے ایک سرخ و سفید خچر سے گر کر ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گئیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27032]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2799، م: 1912
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27033
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27033]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2799، م: 1912
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1197. حَدِيثُ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27034
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ جُدَامَةَ بِنْتَ وَهْبٍ حَدَّثَتْهَا , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ، حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ يَصْنَعُونَهُ، فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ" .
حضرت جدامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا ارادہ بن رہا تھا کہ حالت رضاعت میں مردوں کو اپنی بیویوں کے قریب جانے سے منع کر دوں لیکن پھر مجھے بتایا گیا کہ فارس اور روم کے لوگ تو ایسا کرتے ہیں، ان کی اولاد کو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا (لہٰذا میں نے یہ ارادہ ترک کر دیا)۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27034]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1442
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27035
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ، حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ، فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ" .
حضرت جدامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا ارادہ بن رہا تھا کہ حالت رضاعت میں مردوں کو اپنی بیویوں کے قریب جانے سے منع کر دوں لیکن پھر مجھے بتایا گیا کہ فارس اور روم کے لوگ تو ایسا کرتے ہیں ان کی اولاد کو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا (لہٰذا میں نے یہ ارادہ ترک کر دیا)۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27035]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1442
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27036
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ , وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: " هُوَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ" .
حضرت جدامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا ”جو کہ اولین ہجرت کرنیوالی خواتین میں شامل ہیں“ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ”عزل“ (آب حیات کو باہر خارج کر دینے) کے متعلق سوال پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ تو پوشیدہ طور پر زندہ درگور کر دینا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27036]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27037
حَدَّثَنَا أبُو عَبدِ الْرَحَمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، فَذَكَرَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27037]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1198. حَدِيثُ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27038
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ,أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , تَقُولُ: خَرَجْتُ مِنَ الْحَمَّامِ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ؟" , قَالَتْ: مِنَ الْحَمَّامِ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ أَحَدٍ مِنْ أُمَّهَاتِهَا، إِلَّا وَهِيَ هَاتِكَةٌ كُلَّ سِتْرٍ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الرَّحْمَنِ" .
حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حمام سے نکل رہی تھی کہ راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے ام درداء! کہاں سے آ رہی ہو؟ عرض کیا: حمام سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! جو عورت بھی اپنی ماں کے گھر کے علاوہ کہیں اور اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور رحمان کے درمیان حائل تمام پردے چاک کر دیتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27038]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد مسلسل بالضعفاء: ابن لهيعة و زبان و سهل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27039
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ أَبِيهِ ,أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , تَقُولُ: خَرَجْتُ مِنَ الْحَمَّامِ، فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27039]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد مسلسل بالضعفاء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں