🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1214. حَدِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27080
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ , قَال: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَوْلًى لِمَعْمَرٍ التَّيْمِيّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " بِمَاذَا كُنْتِ تَسْتَشْفِينَ؟" , قَالَتْ: بِالشُّبْرُمِ، قَالَ:" حَارٌّ جَار" , ٌّثُمَّ اسْتَشْفَيْتُ بِالسَّنَا، قَالَ:" لَوْ كَانَ شَيْءٌ يَشْفِي مِنَ الْمَوْتِ، كَانَ السَّنَا" , أَوْ:" السَّنَا شِفَاءٌ مِنَ الْمَوْت" .
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون سی دوا بطور مسہل کے استعمال کرتی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ ”شبرم“ کو (جو کہ ایک جڑی بوٹی کا نام ہے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بہت زیادہ گرم ہوتی ہے، پھر میں ”سنا“ نامی بوٹی کو بطور مسہل استعمال کرنے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی چیز میں موت کی شفاء ہوتی تو وہ سنا میں ہوتی۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27080]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عبدالحميد بن جعفر مختلف فيه، وقد تفرد بهذا الحديث، ولا يحتمل تفرده، لا سيما وقد اضطرب فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27081
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ عَلِيّ ، فَقَالَ لَهَا رَفِيقِي أَبُو سَهْلٍ: كَمْ لَكِ؟ قَالَتْ: سِتَّةٌ وَثَمَانُونَ سَنَةً، قَالَ: مَا سَمِعْتِ مِنْ أَبِيكِ شَيْئًا؟ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيّ" .
موسیٰ جہنی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں فاطمہ بنت علی کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے رفیق ابوسہل نے ان سے پوچھا کہ آپ کی عمر کتنی ہے؟ انہوں نے بتایا: چھیاسی سال، ابو سہل نے پوچھا کہ آپ نے اپنے والد سے کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے نسبت تھی، البتہ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27081]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27082
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيز ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالٌ مَوْلَانَا، عَنِ أَبِي عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيز ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَت: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهَا عِنْدَ الْكَرْبِ: " اللَّهُ رَبِّي , لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا" .
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ کلمات سکھا دیئے ہیں جو میں پریشانی کے وقت کہہ لیا کرتی ہوں «اللَّهُ رَبِّي , لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27082]

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27083
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ الثَّالِثَ مِنْ قَتْلِ جَعْفَر، فَقَال: " لَا تَحِدِّي بَعْدَ يَوْمِكِ هَذَا" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے تیسرے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”آج کے بعد سوگ نہ منانا۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27083]

الحكم على الحديث:
هذا حديث اختلف فى وصله وإرساله، وإرساله أصح، وفي اسناده محمد بن طلحة ضعيف يعتبر به
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27084
َقرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِم ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ : أَنَّهَا وَلَدَتْ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، بِالْبَيْدَاء، فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ، لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مُرْهَا فَلْتَغْتَسِلْ , ثُمَّ لِتُهِلَّ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے یہاں محمد بن ابی بکر کی پیدائش مقام بیداء میں ہوئی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں کہو کہ غسل کرلیں اور تلبیہ پڑھ لیں۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27084]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1209، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، القاسم بن محمد لم يسمع من أسماء بنت عميس ، ثم إنه اختلف عليه فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27085
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، قَال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّوِيلُ صَاحِبُ الْمَصَاحِفِ، أَنَّ كِلَابَ بْنَ تَلِيدٍ أَخَا بَنِي سَعْدِ بْنِ لَيْث، أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، جَاءَهُ رَسُولُ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ , يَقُول: إِنَّ ابْنَ خَالَتِكَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ , وَيَقُولُ: أَخْبِرْنِي كَيْفَ الْحَدِيثُ الَّذِي كُنْتَ حَدَّثْتَنِي عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ؟ فَقَال سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَخْبرِْهُ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ أَخْبَرَتْنِي: أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا , أَوْ شَهِيدًا , يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
کلاب بن تلید ”جن کا تعلق بنو سعد بن لیث سے تھا“، ایک مرتبہ حضرت سعید بن مسیب کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس نافع بن جبیر کا قاصد آ گیا اور کہنے لگا کہ آپ کا بھانجا آپ کو سلام کہتا ہے اور پوچھتا ہے کہ وہ حدیث کیسے تھی جو آپ نے مجھ سے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ذکر کی تھی؟ سعید بن مسیب نے فرمایا کہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص بھی مدینہ منورہ کی تکلیفوں اور شدت پر صبر کرتا ہے، قیامت کے دن میں اس کی سفارش اور گواہی دوں گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27085]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة كلاب بن تليد، وعبد الله بن مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27086
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْر ، عَنْ أُمِّ عِيسَى الْجَزَّارِ ، عَنْ أُمِّ جَعْفَرٍ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِب ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْس ، قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ وَأَصْحَابُه، دَخَل عَلي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ دَبَغْتُ أَرْبَعِينَ مَنِيئَة، وَعَجَنْتُ عَجِينِي، وَغَسَّلْتُ بَنِي، وَدَهَنْتُهُمْ، وَنَظَّفْتُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" ائْتِينِي بِبَنِي جَعْفَرٍ" , قَالَتْ: فَأَتَيْتُهُ بِهِمْ، فَشَمَّهُمْ، وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا يُبْكِيكَ، أَبَلَغَك، عَنْ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ شَيْءٌ، قَالَ:" نَعَمْ، أُصِيبُوا هَذَا الْيَوْمَ" , قَالَتْ: فَقُمْتُ أَصِيحُ , وَاجْتَمَعَ إِلَيَّ النِّسَاءُ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ: " لَا تُغْفِلُوا آلَ جَعْفَرٍ مِنْ أَنْ تَصْنَعُوا لَهُمْ طَعَامًا، فَإِنَّهُمْ قَدْ شُغِلُوا بِأَمْرِ صَاحِبِهِمْ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی شہید ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، اس وقت میں نے چالیس کھالوں کو دباغت کے لئے ڈالا ہوا تھا، آٹا گوندھ چکی تھی اور اپنے بچوں کو نہلا دھلا کر صاف ستھرا کر چکی تھی اور انہیں تیل لگا چکی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر فرمایا: ”جعفر کے بچوں کو میرے پاس لاؤ“، میں انہیں لے کر آئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سونگھنے لگے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا جعفر اور ان کے ساتھیوں کے حوالے سے کوئی خبر آئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! آج وہ شہید ہو گئے ہیں“، یہ سن کر میں کھڑی ہو کر چیخنے لگی اور دوسری عورتیں بھی میرے پاس جمع ہونے لگیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر اپنے اہل خانہ کے پاس چلے گئے اور فرمایا آل جعفر سے غافل نہ رہنا، ان کے لئے کھانا تیار کرو، کیونکہ وہ اپنے ساتھی کے معاملے میں مشغول ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27086]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أم عيسى الجزار، ولجهالة حال أم جعفر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1215. حَدِيثُ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27087
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيد ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ كَعْبٍ ، عَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ ، قَالَتْ: خَرَجَ زَوْجِي فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَه، فَأَدْرَكَهُمْ بِطَرَفِ الْقَدُومِ، فَقَتَلُوهُ، فَأَتَانِي نَعْيُهُ وَأَنَا فِي دَارٍ شَاسِعَةٍ مِنْ دُورِ أَهْلِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ نَعْيَ زَوْجِي أَتَانِي فِي دَارٍ شَاسِعَةٍ مِنْ دُورِ أَهْلِي، وَلَمْ يَدَعْ لِي نَفَقَة، وَلَا مَالًا لِوَرَثَتِه، وَلَيْسَ الْمَسْكَنُ لَهُ، فَلَوْ تَحَوَّلْتُ إِلَى أَهْلِي وَأَخْوَالِي، لَكَانَ أَرْفَقَ بِي فِي بَعْضِ شَأْنِي، قَالَ:" تَحَوَّلِي"، فَلَمَّا خَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَى الْحُجْرَةِ , دَعَانِي أَوْ أَمَرَ بِي فَدُعِيتُ , فَقَالَ: " امْكُثِي فِي بَيْتِكِ الَّذِي أَتَاكِ فِيهِ نَعْيُ زَوْجِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَه"، قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ إِلَيَّ عُثْمَان، فَأَخْبَرْتُهُ، فَأَخَذَ بِهِ .
حضرت فریعہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے شوہر اپنے چند عجمی غلاموں کی تلاش میں روانہ ہوئے، وہ انہیں قدوم کے کنارے پر ملے لیکن ان سب نے مل کر انہیں قتل کر دیا، مجھے اپنے خاوند کے مرنے کی خبر جب پہنچی تو میں اپنے اہل خانہ سے دور کے گھر میں تھی، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ مجھے اپنے خاوند کے مرنے کی خبر ملی ہے اور میں اپنے اہل خانہ سے دور کے گھر میں رہتی ہوں، میرے خاوند نے کوئی نفقہ چھوڑا ہے اور نہ ہی ورثہ کے لئے کوئی مال و دولت نیز اس کا کوئی مکان بھی نہ تھا، اگر میں اپنے اہل خانہ اور بھائیوں کے پاس چلی جاؤں تو بعض معاملات میں مجھے سہولت ہو جائے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلی جاؤ“، لیکن جب میں مسجد یا حجرے سے نکلنے لگی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ اسی گھر میں عدت گزارو جہاں تمہارے پاس تمہارے شوہر کی موت کی خبر آئی تھی، یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے، چنانچہ میں نے چار مہینے دس دن وہیں گزارے، ایک مرتبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی مجھ سے یہ حدیث پوچھی تھی جو میں نے انہیں بتا دی تھی اور انہوں نے اسے قبول کر لیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27087]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27088
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّل ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ كَعْب ، عَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِك ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، َنَحْوَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27088]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1216. حَدِيثُ يُسَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27089
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْر ، ٍقَال: حَدَّثَنَا هَانِئُ بْنُ عُثْمَانَ الْجُهَنِيّ ، عَنْ أُمِّهِ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِر ، عَنْ جَدَّتِهَا يُسَيْرَةَ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ: قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ َلَيْهِ وَسَلَّم:" يَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ عَلَيْكُنَّ بِالتَّهْلِيلِ , وَالتَّسْبِيحِ , وَالتَّقْدِيسِ، وَلَا تَغْفُلْنَ، فَتَنْسَيْنَ الرَّحْمَة، وَاعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ، فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ" .
حضرت یسیرہ ”جو مہاجر صحابیات میں سے ہیں“ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ہے کہ اے مسلمانوں کی عورتو! اپنے اوپر تسبیح و تہلیل اور تقدیس کو لازم کر لو، غافل نہ رہا کرو کہ رحمت الٰہی کو فراموش کر دو اور ان تسبیحات کو انگلیوں پر شمار کیا کرو کیونکہ قیامت کے دن ان سے پوچھ گچھ ہو گی اور انہیں قوت گویائی عطاء کی جائے گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27089]

الحكم على الحديث:
إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں