مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1217. حَدِيثُ أُمِّ حُمَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27090
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْب ، ٍقَال: حَدَّثَنِي دَاوُدُ ابْنُ قَيْس ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيّ ، عَنْ عَمَّتِهِ أُمِّ حُمَيْدٍ امْرَأَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهَا جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّ الصَّلَاةَ مَعَكَ؟ قَالَ: " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ تُحِبِّينَ الصَّلَاةَ مَعي ,ِ وَصَلَاتُكِ فِي بَيْتِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي حُجْرَتِكِ، وَصَلَاتُكِ فِي حُجْرَتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي دَارِك، وَصَلَاتُكِ فِي دَارِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ، وَصَلَاتُكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِي" , قَالَ: فَأَمَرَتْ فَبُنِيَ لَهَا مَسْجِدٌ فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنْ بَيْتِهَا وَأَظْلَمِه، فَكَانَتْ تُصَلِّي فِيهِ حَتَّى لَقِيَتْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ .
حضرت ام حمید زوجہ رضی اللہ عنہا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کی معیت میں نماز پڑھنا محبوب رکھتی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے کہ تم میرے ساتھ نماز پڑھنے کو پسند کرتی ہو، لیکن تمہارا اپنے کمرے میں نماز پڑھنا حجرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنا میری مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، چنانچہ ان کے حکم پر ان کے گھر کے سب سے آخری کونے میں جہاں سب سے زیادہ اندھیرا ہوتا تھا، نماز پڑھنے کے لئے جگہ بنا دی گئی اور وہ آخری دم تک وہیں نماز پڑھتی رہیں۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27090]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن سويد، وقد توبع
1218. حَدِيثُ أُمِّ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27091
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُون ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ صَالِحًا أَبَا الْخَلِيلِ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَل ، أَنَّ أُمَّ حَكِيمٍ بِنْتَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَتْهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْر، " فَنَهَسَ مِنْ كَتِفٍ عِنْدَهَا، ثُمَّ صَلَّى، وَمَا تَوَضَّأَ مِنْ ذَلِكَ .
حضرت ام حکیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے اور ان کے یہاں شانے کا گوشت ہڈی سے نوچ کر تناول فرمایا، پھر نماز ادا فرمائی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27091]
الحكم على الحديث:
ترك الوضوء مما مست النار صحيح، وهذا اسناد اختلف فيه على قتادة
1219. حَدِيثُ امْرَأَةٍ وَهِيَ جَدَّةُ ابْنِ زِيَادٍ أُمُّ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27092
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ الْأَشْجَعِيُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَشْرَجُ بْنُ زِيَاد ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَر، وَأَنَا سَادِسَةُ سِتِّ نِسْوَة، قَالَتْ: فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَعَهُ نِسَاءً، قَالَت: فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَدَعَانا، قَالَتْ: فَرَأَيْنَا فِي وَجْهِهِ الْغَضَبَ، فَقَالَ: " مَا أَخْرَجَكُنَّ؟ وَبِأَمْرِ مَنْ خَرَجْتُنّ؟" , قُلْنَا: خَرَجْنَا مَعَكَ نُنَاوِلُ السِّهَام، َوَنَسْقِي السَّوِيق، وَمَعَنَا دَوَاءٌ لِلْجُرْحى , وَنَغْزِلُ الشَّعْرَ، فَنُعِينُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّه، قَالَ:" قُمْنَ فَانْصَرِفْن"، قَالَت: فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَر، أَخْرَجَ لَنَا منها سِهَامًا كَسِهَامِ الرِّجَالِ، فَقُلْتُ لَهَا: يَا جَدَّتِي، وَمَا الَّذِي أَخْرَجَ لَكُن؟ قَالَت: تَمْرٌ .
حشرج بن زیاد اپنی دادی سے نقل کرتے ہیں کہ میں غزوہ خیبر کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلی، میں اس وقت چھ میں سے چھٹی عورت تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ ان کے ہمراہ خواتین بھی ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے پاس پیغام بھیجا کہ تم کیوں نکلی ہو اور کس کی اجازت سے نکلی ہو؟ ہم نے جواب دیا کہ ہم لوگ اس لئے نکلے ہیں تاکہ ہمیں بھی حصہ ملے، ہم لوگوں کو ستو گھول کر پلا سکیں، ہمارے پاس مریضوں کے علاج کا سامان بھی ہے، ہم بالوں کو کاٹ لیں گی اور اللہ کے راستہ میں اس کے ذریعے ان کی مدد کریں گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ واپس چلی جاؤ“، جب اللہ نے خیبر کو فتح کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی مردوں کی طرح حصہ مرحمت فرمایا، میں نے اپنی دادی سے پوچھا کہ دادی جان! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کیا حصہ دیا؟ انہوں نے جواب دیا کھجوریں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27092]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حشرج بن زياد
1220. حَدِيثُ قُتَيْلَةَ بِنْتِ صَيْفِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27093
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِي ، قاَلَ: حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِد ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ قُتَيْلَةَ بِنْتِ صَيْفِيٍّ الْجُهَيْنِيَّةِ، قَالَتْ: أَتَى حَبْرٌ مِنَ الْأَحْبَار إلي رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، فَقَال: يَا مُحَمَّدُ، نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُون، قَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ، وَمَا ذَاكَ؟" , قَالَ: تَقُولُونَ إِذَا حَلَفْتُمْ: وَالْكَعْبَةِ، قَالَت: فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُ قَدْ قَالَ: " فَمَنْ حَلَفَ فَلْيَحْلِفْ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ" , ثم قَالَ: يَا مُحَمَّدُ , نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تَجْعَلُونَ لِلَّهِ نِدًّا، قَال:" سُبْحَانَ اللَّه، وَمَا ذَاكَ؟" , قَالَ: تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ، قَالَ: فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُ قَدْ قَال، فَمَنْ قَال: مَا شَاءَ اللَّهُ، فَلْيَفْصِلْ بَيْنَهُمَا: ثُمَّ شِئْتَ" .
حضرت قتیلہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اہل کتاب کا ایک بڑا عالم بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے محمد! تم لوگ بہترین قوم ہوتے اگر تم شرک نہ کرتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! وہ کیسے؟“ اس نے کہا کہ آپ لوگ قسم کھاتے ہوئے کعبہ کی قسم کھاتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر سکوت کے بعد فرمایا: ”یہ صحیح کہہ رہا ہے، اس لئے آئندہ جو شخص قسم کھائے وہ رب کعبہ کی قسم کھائے“، پھر اس نے کہا کہ اے محمد! اگر تم لوگ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے، تو تم بہترین قوم ہوتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! وہ کیسے؟“ اس نے کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں، جو اللہ نے چاہا اور آپ نے چاہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر سکوت کے بعد فرمایا: ”یہ صحیح کہہ رہا ہے، اس لئے جو شخص یہ کہے اسے چاہیے کہ ان دونوں جملوں کے درمیان فصل پیدا کیا کرے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27093]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
1221. حَدِيثُ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27094
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَال: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِي ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَتْ امْرَأَةً مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ , قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ، عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ، فَقَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَل، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ" .
حضرت شفاء رضی اللہ عنہا ”جو مہاجر خواتین میں سے تھیں“، سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل عمل کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا، جہاد فی سبیل اللہ اور حج مبرور۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27094]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل من آل أبى حثمة، ولاضطرابه، والمسعودي مختلط ، وقد سمع منه هاشم بعد الاختلاط
حدیث نمبر: 27095
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَان ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَة , عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّه ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَ حَفْصَةَ، فَقَالَ لِي: " أَلَا تُعَلِّمِينَ هَذِهِ رُقْيَةَ النَّمْلَة، كَمَا عَلَّمْتِيهَا الْكِتَابَةَ؟" .
حضرت شفاء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ یہ طریقہ حفصہ کو بھی سکھا دو جیسے تم نے انہیں کتابت سکھائی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27095]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أحاديث إبراهيم بن مهدي عن على بن مسهر لا يتابع عليها ، وقد اختلف فى وصله و إرساله
حدیث نمبر: 27096
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْر ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الْإِيمَانُ بِاللَّه، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّه، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ" ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ:" أَوْ حَجٌّ مَبْرُورٌ".
حضرت شفاء رضی اللہ عنہا ”جو مہاجر خواتین میں سے تھیں“، سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل عمل کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا، جہاد فی سبیل اللہ اور حج مبرور۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27096]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل من آل أبى حثمة ، ولا ضطرابه، والمسعودي مختلط، وقد سمع منه هاشم بعد الاختلاط
1222. حَدِيثُ ابْنَةٍ لِخَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27097
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الْفَائِشِيِّ ، عَنِ ابْنَةٍ لِخَبَّابٍ ، قَالَتْ: خَرَجَ خَبَّابٌ فِي سَرِيَّة، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَاهَدُنَا، حَتَّى كَانَ يَحْلُبُ عَنْزًا لَنَا، قَالَتْ: فَكَانَ يَحْلُبُهَا حَتَّى يَطْفَح، أَوْ يَفِيضَ، فَلَمَّا رَجَعَ خَبَّابٌ، حَلَبَهَا، فَرَجَعَ حِلَابُهَا إِلَى مَا كَانَ , فَقُلْنَا لَهُُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَحْلُبُهَا حَتَّى يَفِيضَ , وَقَالَ مَرَّة: حَتَّى تَمْتَلِئَ , فَلَمَّا حَلَبْتَهَا، رَجَعَ حِلَابُهَا" .
حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کہتی ہیں کہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ ایک لشکر کے ساتھ روانہ ہو گئے، ان کے پیچھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا یہاں تک خیال رکھتے تھے کہ ہماری بکری کا دودھ بھی دوہ دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بڑے پیالے میں دودھ دوہتے تھے جس سے وہ پیالہ لباب بھر جاتا تھا، جب حضرت خباب رضی اللہ عنہ واپس آئے اور انہوں نے اسے دوہا تو اس میں سے حسب معمول دودھ نکلا، ہم نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا دودھ دوہتے تھے تو پیالہ لباب بھر جاتا تھا اور آپ نے دوہا تو اس کا دودھ کم کر دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27097]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن زيد، وأبو إسحاق مختلط، وقد اختلف عليه
حدیث نمبر: 27098
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكٍ الْأَحْمَسِي ، عَنِ ابْنَةٍ لِخَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ ، قَالَتْ: خَرَجَ أَبِي فِي غَزَاةٍ، وَلَمْ يَتْرُكْ إِلَّا شَاةً، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27098]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن زيد، وأبو إسحاق مختلط، وقد اختلف عليه
1223. حَدِيثُ أُمِّ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27099
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبة ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْهَلِيُّ ، عَنْ أُمِّ عَامِرٍ بِنْتِ يَزِيدَ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ: أَنَّهَا أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرْقٍ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ " فَتَعَرَّقَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" .
حضرت ام عامر رضی اللہ عنہا ”جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے والی خواتین میں شامل ہیں“ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ بنو فلاں کی مسجد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہڈی والا گوشت لے کر آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور تازہ وضو کئے بغیر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27099]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن إسماعيل، وعبدالرحمن بن عبدالرحمن مجهول، وقد اختلف فى إسناده