مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1284. حَدِيثُ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27363
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ , عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ , أَنَّ فُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ أُخْتَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ حَدَّثَتْهَا , أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَهُمْ , فَأَدْرَكَهُمْ بِطَرَفِ الْقَدُومِ , فَقَتَلُوهُ , فَأَتَاهَا نَعْيُهُ وَهِيَ فِي دَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ , شَاسِعَةٍ عَنْ دَارِ أَهْلِهَا , فَكَرِهَتْ الْعِدَّةَ فِيهَا , فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتَانِي نَعْيُ زَوْجِي , وَأَنَا فِي دَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ , شَاسِعَةٍ عَنْ دُورِ أَهْلِي , إِنَّمَا تَرَكَنِي فِي مَسْكَنٍ لَا يَمْلِكُهُ , وَلَمْ يَتْرُكْنِي فِي نَفَقَةٍ يُنْفَقُ عَلَيَّ , وَلَمْ أَرِثْ مِنْهُ مَالًا , فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ أَلْحَقَ بِإِخْوَتِي وَأَهِلِي , فَيَكُونَ أَمَرُنَا جَمِيعًا , فَإِنَّهُ أَحَبُّ إِلَيَّ , فَأَذِنَ لِي أَنْ أَلْحَقَ بِأَهْلِي , فَخَرَجْتُ مَسْرُورَةً بِذَلِكَ , حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ الْمَسْجِدِ دَعَانِي أَوْ أَمَرَ بِي فَدُعِيتُ فَقَالَ لِي:" كَيْفَ زَعَمْتِ؟" , فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ , فَقَالَ: " امْكُثِي فِي مَسْكَنِ زَوْجِكِ الَّذِي جَاءَكِ فِيهِ نَعْيُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ" , قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا .
حضرت فریعہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے شوہر اپنے چند عجمی غلاموں کی تلاش میں روانہ ہوئے، وہ انہیں ”قدوم“ کے کنارے پر ملے، لیکن ان سب نے مل کر انہیں قتل کر دیا، مجھے اپنے خاوند کے مرنے کی خبر جب پہنچی تو میں اپنے اہل خانہ سے دور کے گھر میں تھی، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ مجھے اپنے خاوند کے مرنے کی خبر ملی ہے اور میں اپنے اہل خانہ سے دور کے گھر میں رہتی ہوں، میرے خاوند نے نہ کوئی نفقہ چھوڑا ہے اور نہ ہی ورثہ کے لئے کوئی مال و دولت، نیز اس کا کوئی مکان بھی نہ تھا، اگر میں اپنے اہل خانہ اور بھائیوں کے پاس چلی جاؤں تو بعض معاملات میں مجھے سہولت ہو جائے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلی جاؤ“، لیکن جب میں مسجد یا حجرے سے نکلنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ اسی گھر میں عدت گزارو جہاں تمہارے پاس تمہارے شوہر کی موت کی خبر آئی تھی یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے“، چنانچہ میں نے چار مہینے اور دس دن وہیں گزارے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27363]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
1285. حَدِيثُ أُمِّ أَيْمَنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27364
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا تَتْرُكْ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا , فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا , فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ" .
حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جان بوجھ کر نماز کو ترک مت کیا کرو، اس لئے کہ جو شخص جان بوجھ کر نماز کو ترک کرتا ہے، اس سے اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27364]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، مكحول لم يسمع من أم أيمن
1286. حَدِيثُ أُمِّ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27365
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , وَرَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ , أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا اسْتَأْمَرَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَتْلِ الْوَزَغَاتِ , " فَأَمَرَهَا بِقَتْلِ الْوَزَغَاتِ" , قَالَ ابْنُ بَكْسٍ وَرَوْحٌ: وَأُمُّ شَرِيكٍ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ".
حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپکلی مارنے کی اجازت لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی، یاد رہے کہ حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا کا تعلق بنو عامر بن لوئی سے ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27365]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3359، م: 2237
1287. حَدِيثُ امْرَأَةٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27366
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنِي دَيْلَمٌ أَبُو غَالِبٍ الْقَطَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ جَحْلٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْكِرَامِ , أَنَّهَا حَجَّتْ , قَالَتْ: فَلَقِيتُ امْرَأَةً بِمَكَّةَ كَثِيرَةَ الْحَشَمِ , لَيْسَ عَلَيْهِنَّ حُلِيٌّ إِلَّا الْفِضَّةُ , فَقُلْتُ لَهَا: مَا لِي لَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ مِنْ حَشَمِكِ حُلِيًّا إِلَّا الْفِضَّةَ؟ قَالَتْ: كَانَ جَدِّي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ , عَلَيَّ قُرْطَانِ مِنْ ذَهَبٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شِهَابَانِ مِنْ نَارٍ" , فَنَحْنُ أَهْلَ الْبَيْتِ , لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يَلْبَسُ حُلِيًّا إِلَّا الْفِضَّةَ .
ام کرام کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حج پر گئیں وہاں ایک عورت سے مکہ مکرمہ میں ملاقات ہوئی، جس کے ساتھ بہت سی خادمائیں تھیں لیکن ان میں سے کسی پر بھی چاندی کے علاوہ کوئی زیور نہ تھا، میں نے اس سے کہا کہ کیا بات ہے مجھے آپ کی خادمہ پر سوائے چاندی کے کوئی زیور نظر نہیں آ رہا، اس نے کہا: میرے دادا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خاضر ہوئے، میں بھی ان کے ساتھ تھی اور میں نے سونے کی دو بالیاں پہن رکھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آگ کے دو شعلے ہیں، اس وقت سے ہمارے گھر میں کوئی عورت بھی چاندی کے علاوہ کوئی زیور نہیں پہنتی۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27366]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أم الكرام
1288. حَدِيثُ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي تَجْرَاةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا
حدیث نمبر: 27367
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ , عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ , عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي تَجْرَاةَ , قَالَتْ: دَخَلْنَا دَارَ أَبِي حُسَيْنٍ فِي نِسْوَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ , وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , قَالَتْ: وَهُوَ يَسْعَى , يَدُورُ بِهِ إِزَارُهُ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ , وَهُوَ يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ: " اسْعَوْا , فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمْ السَّعْيَ" .
حضرت حبیبہ بنت ابی تجراہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ قریش کی کچھ خواتین کے ساتھ دار ابوحسین میں داخل ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا مروہ کے درمیان سعی فرما رہے تھے اور دوڑنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ازار گھوم گھوم جاتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سعی کرتے جا رہے تھے اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرماتے جا رہے تھے کہ سعی کرو، کیونکہ اللہ نے تم پر سعی کو واجب قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27367]
الحكم على الحديث:
حسن بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن المؤمل، وقد اضطرب فيه
حدیث نمبر: 27368
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي تَجْرَاةَ , قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , وَالنَّاسُ بَيْنَ يَدَيْهِ , وَهُوَ وَرَاءَهُمْ , وَهُوَ يَسْعَى حَتَّى أَرَى رُكْبَتَيْهِ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ , يَدُورُ بِهِ إِزَارُهُ , وَهُوَ يَقُولُ: " اسْعَوْا , فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمْ السَّعْيَ" .
حضرت حبیبہ بنت ابی تجراہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ قریش کی کچھ خواتین کے ساتھ دار ابوحسین میں داخل ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا مروہ کے درمیان سعی فرما رہے تھے اور دوڑنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ازار گھوم گھوم جاتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سعی کرتے جا رہے تھے اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرماتے جا رہے تھے کہ سعی کرو، کیونکہ اللہ نے تم پر سعی کو واجب قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27368]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف على انقطاع فيه، فبين عطاء و عبدالله بن المؤمل عمرو بن عبدالرحمن
1289. حَدِيثُ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ الْخُزَاعِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27369
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ عَطَاءٍ , عن حبيبة بنت ميسرة , عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ الْخزاعية , عنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَقِيقَةِ , فَقَالَ: " عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ , وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ" .
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27369]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حبيبة بنت ميسرة
حدیث نمبر: 27370
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ , قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُلَامٍ , فَبَالَ عَلَيْهِ , " فَأَمَرَ بِهِ فَنُضِحَ" , وَأُتِيَ بِجَارِيَةٍ , فَبَالَتْ عَلَيْهِ ," فَأَمَرَ بِهِ فَغُسِلَ" .
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھوٹے بچے کو لایا گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاپ کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس پر پانی کے چھینٹے مار دیئے گئے، پھر ایک بچی کو لایا گیا، اس نے پیشاپ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دھونے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27370]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عمرو بن شعيب لم يسمع من أم كرز
حدیث نمبر: 27371
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , حَدَّثَنِي عَطَاءٌ , عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ , عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ , وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ" .
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27371]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حبيبة بنت ميسرة
حدیث نمبر: 27372
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خُثَيْمٍ , عَنْ أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ , أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ , فَقَالَ: " عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ , وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ" , قُلْتُ لِعَطَاءٍ: مَا الْمُكَافَأَتَانِ؟ قَالَ: الْمِثْلَانِ , قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: وَالضَّأْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الْمَعْزِ , وَذَكَرَ أَنَّهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ إِنَاثِهَا , قَالَ: وَنُحِبُّ أَنْ يَجْعَلَهُ سَوَادَهَا مِنْهُ.
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے عقیقہ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: تو انہوں نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27372]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حبيبة بنت ميسرة