مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1279. حَدِيثُ أُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27353
حدثنا يونس بن محمد , قال: حدثنا عبد الواحد بن زياد قال: حدثنا ليث يعني ابن أبي سُلَيْمٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي طَاوُسٌ , عَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ النَّاسِ فِي الْفِتْنَةِ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي مَالِهِ , يَعْبُدُ رَبَّهُ , وَيُؤَدِّي حَقَّهُ , وَرَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , يُخِيفُهُمْ وَيُخِيفُونَهُ" .
حضرت ام مالک بہزیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فتنہ کے زمانے میں لوگوں میں سب سے بہترین آدمی وہ ہو گا جو اپنے مال کے ساتھ الگ تھلگ رہ کر اپنے رب کی عبادت کرتا ہو اور اس کا حق ادا کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی جو راہ اللہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ کر نکلے، وہ دشمن کو خوف زدہ کرے اور دشمن اسے خوفزدہ کرے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27353]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم، وقد اختلف فيه على طاووس
1280. حَدِيثُ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27354
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , أَنَّ صَالِحًا يَعْنِي أَبَا الْخَلِيلِ حَدَّثَهُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ , أَنَّ أُمَّ حَكِيمٍ بِنْتَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَتْهُ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ , " فَنَهَسَ مِنْ كَتِفٍ عِنْدَهَا , ثُمَّ صَلَّى , وَمَا تَوَضَّأَ مِنْ ذَلِكَ" .
حضرت ام حکیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے اور ان کے ہاں شانے کا گوشت ہڈی سے نوچ کر تناول فرمایا، پھر نماز ادا فرمائی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27354]
الحكم على الحديث:
ترك الوضوء مما مست النار صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على قتادة
حدیث نمبر: 27355
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ , عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ الزُّبَيْرِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ عَلَى أُخْتِهَا ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ , فَنَهَسَ مِنْ كَتِفٍ , ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ , وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" , قَالَ أَبِي: وقَالَ الْخَفَّافُ: هِيَ أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ الزُّبَيْرِ".
حضرت ام حکیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے اور ان کے ہاں شانے کا گوشت ہڈی سے نوچ کر تناول فرمایا، پھر نماز ادا فرمائی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27355]
الحكم على الحديث:
ترك الوضوء مما مست النار صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على قتادة
حدیث نمبر: 27356
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ , عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ الزُّبَيْرِ , أَنَّهَا نَاوَلَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا مِنْ لَحْمٍ , " فَأَكَلَ مِنْهُ , ثُمَّ صَلَّى" .
حضرت ام حکیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مر تبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے اور ان کے یہاں شانے کا گوشت ہڈی سے نوچ کر تناول فرمایا، پھر نماز ادا فرمائی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27356]
الحكم على الحديث:
ترك الوضوء مما مست النار صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على قتادة
1281. حَدِيثُ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27357
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ حَكِيمٍ , عَنْ أُخْتِهَا ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ , أَنَّهَا دَفَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَحْمًا " فَانْتَهَسَ مِنْهُ , ثُمَّ صَلَّى , وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" , قَالَ أَبِي: قَالَ عَفَّانُ: دَفَعَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمًا.
حضرت ام حکیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے اور ان کے یہاں شانے کا گوشت ہڈی سے نوچ کر تناول فرمایا، پھر نماز ادا فرمائی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27357]
الحكم على الحديث:
ترك الوضوء مما مست النار صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على قتادة
حدیث نمبر: 27358
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ , عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحْرِمِي وَقُولِي: إِنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي , فَإِنْ حُبِسْتِ أَوْ مَرِضْتِ , فَقَدْ أَحْلَلْتِ مِنْ ذَلِكَ شَرْطُكِ عَلَى رَبِّكَ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ضباعہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ان کے پاس آئے اور فرمایا: ”تم حج کا احرام باندھ لو اور یہ نیت کر لو کہ اے اللہ! جہاں تو مجھے روک دے گا وہی جگہ میرے احرام کھل جانے کی ہو گی۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27358]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد خولف فيه يحيى بن أبى كثير
حدیث نمبر: 27359
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي ضُبَاعَةُ , أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ , فَقَالَ لَهَا: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي" .
حضرت ضباعہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ عرض کیا: یا رسول اللہ! میں حج کرنا چاہتی ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم حج کا احرام باندھ لو اور یہ نیت کر لو کہ اے اللہ! جہاں تو مجھے روک دے گا وہی جگہ میرے احرام کھل جانے کی ہو گی۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27359]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، شيخ عبدالكريم الجزري المبهم فى الإسناد هو عكرمة مولي ابن عباس
1282. حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27360
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ حَدَّثَتْهُ , أَنَّهَا أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ ذَلِكَ عِرْقٌ , فَانْظُرِي , فَإِذَا أَتَاكِ قُرْؤُكِ , فَلَا تُصَلِّي , فَإِذَا مَرَّ الْقُرْءُ , فَتَطَهَّرِي , ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقُرْءِ إِلَى الْقُرْءِ" .
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور دمِ حیض کے مستقل جاری رہنے کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تو ایک رگ کا خون ہے اس لئے یہ دیکھ لیا کرو کہ جب تمہارے ایام حیض کا وقت آ جائے تو نماز نہ پڑھا کرو اور جب وہ زمانہ گزر جائے تو اپنے آپ کو پاک سمجھ کر طہارت حاصل کیا کرو اور اگلے ایام تک نماز پڑھتی رہا کرو۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27360]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة المنذر بن المغيرة، وقد اختلف فيه على عروة بن الزبير
1283. حَدِيثُ أُمِّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27361
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ , قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ , فَقَالَ:" لَكِ هَذَا؟" , فَقُلْتُ: نَعَمْ , فَقَالَ:" مَنْ غَرَسَهُ مُسْلِمٌ أَوْ كَافِرٌ؟" , قُلْتُ: مُسْلِمٌ , قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا , فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَائِرٌ , أَوْ إِنْسَانٌ , أَوْ سَبُعٌ أَوْ شَيْءٌ , إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً" , قَالَ أَبِي: وَلَمْ يَكُنْ فِي النُّسْخَةِ , سَمِعْتُ جَابِرًا , فَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: سَمِعْتَ جابرًا.
حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی باغ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ تمہارا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کے پودے کسی مسلمان نے لگائے ہیں یا کافر نے؟“ میں نے عرض کیا: مسلمان نے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو مسلمان کوئی پودہ لگائے یا کوئی فصل اگائے اور اس سے انسان، پرندے، درندے یا چوپائے کھائیں تو وہ اس کے لئے باعث صدقہ ہے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27361]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27362
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ , أَنَّها سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حَفْصَةَ , يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ , الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا" , فَقَالَتْ: بَلَى , يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَانْتَهَرَهَا , فَقَالَتْ حفْصَةُ: وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا سورة مريم آية 71 فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا سورة مريم آية 72" .
حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ارشاد فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ غزوہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والا کوئی آدمی جہنم میں داخل نہ ہو گا“، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتا کہ «وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا» ”تم میں سے ہر شخص اس میں وارد ہو گا۔“ تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: «ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا» ”پھر ہم متقی لوگوں کو نجات دے دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا رہنے کے لئے چھوڑ دیں گے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27362]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2496