🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1289. حَدِيثُ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ الْخُزَاعِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27373
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ , عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ , أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ , فَقَالَ: " يُعَقُّ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ , وَعَنِ الْأُنْثَى وَاحِدَةٌ , وَلَا يَضُرُّكُمْ أَذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا" .
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے عقیقہ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: تو انہوں نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جانور مذکر ہو یا مونث۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27373]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن جريج، والصحيح عن ابن جريج بحذف محمد بن ثابت
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27374
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ , أَنَّ سِبَاعَ ابْنَ ثَابِتِ بْنِ عم مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ سِبَاعٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أُمَّ كُرْزٍ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ، فَذَكَرَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27374]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن جريج، والصحيح عن ابن جريج بحذف محمد بن ثابت
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1290. حَدِيثُ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27375
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , عَنْ أُمِّهِ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ , قَالَتْ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا: أَنْ لَا تَغُشَّنَّ أَزْوَاجَكُنَّ , قَالَتْ: فَلَمَّا انْصَرَفْنَا , قُلْنَا: وَاللَّهِ لَوْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِشُّ أَزْوَاجِنَا؟ قَالَتْ: فَرَجَعْنَا فَسَأَلْنَاهُ , قَالَ: " أَنْ تُحَابِينَ أَوْ تُهَادِينَ بِمَالِهِ غَيْرَهُ" .
حضرت سلمیٰ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے کچھ انصاری عورتوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تو منجملہ شرائط بیعت کے ایک شرط یہ بھی تھی کہ تم اپنے شوہروں کو دھوکہ نہیں دو گی، جب ہم واپس آنے لگے تو خیال آیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی پوچھ لیتے کہ شوہروں کو دھوکہ دینے سے کیا مراد ہے؟ چنانچہ ہم نے پلٹ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھ لیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے شوہر کا مال کسی دوسرے کو ہدیہ کے طور پر دے دینا۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27375]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، الرجل المبهم من الأنصار هو سليط بن أيوب، وهو مجهول، وأمه لم نقف لها على ترجمة، وقد اختلف فيه على ابن إسحاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1291. حَدِيثُ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27376
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُرُّ بْنُ الصَّيَّاحِ , عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ , عَنِ امْرَأَتِهِ , عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ , وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ , وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ: أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ , وَخَمِيسَيْنِ" .
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو ذی الحجہ، دس محرم اور مہینے کے تین دنوں کا روزہ رکھتے تھے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27376]

الحكم على الحديث:
ضعيف لاضطرابه، والصحيح ما رواه عائشة عند مسلم: كان رسول الله ﷺ يصوم من كل شهر ثلاثة أيام، ولم يكن يبالي من أى أيام الشهر يصوم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1292. حَدِيثُ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27377
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ , عَنْ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ , وَهِيَ خَالَتُهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ أَوْ قَالَ فِي بَيْتِهَا , فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا يُضْحِكُكَ؟ فَقَالَ: " عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الْأَخْضَرِ , كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ , فَقَالَ:" إِنَّكِ مِنْهُمْ" , ثُمَّ نَامَ , فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ:" عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الْأَخْضَرِ , كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ , قَالَ:" أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ" , قَالَ: فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ , فَأَخْرَجَهَا مَعَهُ , فَلَمَّا جَازَ الْبَحْرَ بِهَا , رَكِبَتْ دَابَّةً , فَصَرَعَتْهَا , فَقَتَلَتْهَا .
حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں قیولہ فرما رہے تھے کہ اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہو گئے، میں نے عرض کیا کہ میرے باپ آپ پر قربان ہوں آپ کس بناء پر مسکرا رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے میری امت کے کچھ لوگوں کو پیش کیا گیا جو اس سطح سمندر پر اس طرح سوار چلے جا رہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر براجمان ہوتے ہیں“، میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعا کر دیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! انہیں بھی ان میں شامل فرما دے۔“ تھوڑی ہی دیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوبارہ آنکھ لگ گئی اور اس مرتبہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے وہی سوال دہرایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی مزید کچھ لوگوں کو اس طرح پیش کیے جانے کا تذکرہ فرمایا: میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعا کر دیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پہلے گروہ میں شامل ہو“، چنانچہ وہ اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سمندری جہاد میں شریک ہوئیں اور اپنے ایک سرخ و سفید خچر سے گر کر ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گئیں۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27377]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2799، م: 1912
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27378
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي بَيْتِهَا يَوْمًا , فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَضْحَكُ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں قیلولہ فرما رہے تھے کہ اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہو گئے، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27378]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2894، م: 1912
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1293. وَمِنْ حَدِيثِ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27379
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ أَبِي النَّضْرِ , عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , عَنْ أُمِّ هَانِئٍ , أَنَّهَا ذَهَبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ , قَالَتْ: فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ , وَفَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ , فَسَلَّمْتُ , وَذَلِكَ ضُحًى , فَقَالَ:" مَنْ هَذا؟" , قُلْتُ: أَنَا أُمُ هَانِئٍ , قلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ , فُلَانَ ابْنَ هُبَيْرَةَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ" , فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غُسْلِهِ , قَامَ , فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ .
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں نے اپنے دو دیوروں کو ”جو مشرکین میں سے تھے“ پناہ دے دی، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم گرد و غبار میں اٹے ہوئے ایک لحاف میں لپٹے ہوئے تشریف لائے، مجھے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام ہانی کو خوش آمدید“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے دو دیوروں کو ”جو مشرکین میں سے تھے“ پناہ دے دی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے تم نے پناہ دی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں، جسے تم نے امن دیا اسے ہم بھی امن دیتے ہیں۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا، انہوں نے پانی رکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے غسل فرمایا، پھر ایک کپڑے میں اچھی طرح لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27379]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 280، م: 336
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27380
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ , عَنْ أُمِّ هَانِئٍ , قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِأَعْلَى مَكَّةَ , فَلَمْ أَجِدْهُ , وَوَجَدْتُ فَاطِمَةَ , فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْغُبَارِ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ حَمْوَيْنِ لِي , وَزَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلُهُمَا , قَالَ: " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ" , وَوُضِعَ لَهُ غُسْلٌ فِي جَفْنَةٍ , فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَثَرَ الْعَجِينِ فِيهَا , فَتَوَضَّأَ , أَوْ قَالَ: اغْتَسَلَ أَنَا أَشُكُّ , وَصَلَّى الْفَجْرَ فِي ثَوْبٍ مُشْتَمِلًا بِهِ .
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں نے اپنے دو دیوروں کو ”جو مشرکین میں سے تھے“ پناہ دے دی، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم گرد و غبار میں اٹے ہوئے ایک لحاف میں لپٹے ہوئے تشریف لائے، مجھے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام ہانی کو خوش آمدید“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے دو دیوروں کو ”جو مشرکین میں سے تھے“ پناہ دے دی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے تم نے پناہ دی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں، جسے تم نے امن دیا اسے ہم بھی امن دیتے ہیں۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا، انہوں نے پانی رکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے غسل فرمایا، پھر ایک کپڑے میں اچھی طرح لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27380]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27381
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أُمِّ هَانِئٍ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّخِذُوا الْغَنَمَ فَإِنَّ فِيهَا بَرَكَةً" .
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بکریاں رکھا کرو کیونکہ ان میں برکت ہوتی ہے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27381]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27382
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الْعَبْدِيِّ , عَنْ ابْنِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ , عَنْ أُمِّ هَانِئٍ , قَالَتْ: " كُنْتُ أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي" .
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں رات کے آدھے حصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت سن رہی تھی، اس وقت میں اپنے اسی گھر کی چھت پر تھی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27382]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں