مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1276. وَمِنْ حَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أُخْتِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27333
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , قَالَ: كَتَبْتُ ذَاكَ مِنْ فِيهَا كِتَابًا , قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَنِي الْبَتَّةَ , فَأَرْسَلْتُ إِلَى أَهْلِهِ أَبْتَغِي النَّفَقَةَ , فَقَالُوا: لَيْسَ لَكِ عَلَيْنَا نَفَقَةٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِمْ نَفَقَةٌ , وَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ , انْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ , وَلَا تَفُوتِينِي بِنَفْسِكِ" , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِخْوَتُهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأُوَلِ , انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , فَإِنَّهُ رَجُلٌ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ , فَإِنْ وَضَعْتِ مِنْ ثِيَابِكِ شَيْئًا , لَمْ يَرَ شَيْئًا" , قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ , خَطَبَنِي مُعَاوِيَةُ وَأَبُو جَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا مُعَاوِيَةُ , فَعَائِلٌ لَا مَالَ لَهُ , وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ , فَإِنَّهُ رَجُلٌ لَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ , أَيْنَ أَنْتُمْ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ" , وَكَانَ أَهْلُهَا كَرِهُوا ذَلِكَ , قَالَتْ: لَا أَنْكِحُ إِلَّا الَّذِي دَعَانِي إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَكَحَتْهُ .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا اور اس کے ساتھ پانچ صاع کی مقدار میں جَو بھی بھیج دئیے، میں نے کہا: میرے پاس خرچ کرنے کے لئے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور میں تمہارے گھر میں ہی عدت گزار سکتی ہوں؟ اس نے کہا: نہیں، یہ سن کر میں نے اپنے کپڑے سمیٹے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں؟“ میں نے بتایا تین طلاقیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہو چکی ہے، تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے بتانا۔“ عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا جن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابوجہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں جبکہ ابوجہم عورتوں کو مارتے ہیں (ان کی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27333]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1480، إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 27334
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا أَبِى , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ أَخُو بَنِي عَامِرِ ابْنِ لُؤَيٍّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أُخْتِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ , قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ , وَكَانَ قَدْ طَلَّقَنِي تَطْلِيقَتَيْنِ , ثُمَّ إِنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْيَمَنِ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، فَبَعَثَ إِلَيَّ بِتَطْلِيقَتِي الثَّالِثَةِ، وَكَانَ صَاحِبَ أَمْرِهِ بِالْمَدِينَةِ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ , قَالَتْ: فَقُلْتُ لَهُ: نَفَقَتِي وَسُكْنَايَ؟ فَقَالَ: مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ نَفَقَةٍ وَلَا سُكْنَى , إِلَّا أَنْ نَتَطَوَّلَ عَلَيْكِ مِنْ عِنْدِنَا بِمَعْرُوفٍ نَصْنَعُهُ , قَالَتْ: فَقُلْتُ: لَئِنْ لَمْ يَكُنْ لِي , مَالِي بِهِ مِنْ حَاجَةٍ , قَالَتْ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي , وَمَا قَالَ لِي عَيَّاشٌ , فَقَالَ: " صَدَقَ , لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِمْ نَفَقَةٌ وَلَا سُكْنَى , وَلَيْسَتْ لَهُ فِيكِ رَدَّةٌ , وَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ , فَانْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ ابْنَةِ عَمِّكِ , فَكُونِي عِنْدَهَا حَتَّى تَحِلِّي" , قَالَتْ: ثُمَّ قَالَ:" لَا , تِلْكَ امْرَأَةٌ يَزُورُهَا إِخْوَتُهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ , وَلَكِنْ انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , فَإِنَّهُ مَكْفُوفُ الْبَصَرِ , فَكُونِي عِنْدَهُ , فَإِذَا حَلَلْتِ , فَلَا تَفُوتِينِي بِنَفْسِكِ" , قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُرِيدُنِي إِلَّا لِنَفْسِهِ , قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ، خَطَبَنِي عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , فَزَوَّجَنِيهِ , قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: أَمْلَتْ عَلَيَّ حَدِيثَهَا هَذَا , وَكَتَبْتُهُ بِيَدِي.
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے دو طلاق کا پیغام بھیج دیا، پھر وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن چلا گیا اور وہاں سے مجھے تیسری طلاق بھجوا دی، اس وقت مدینہ منورہ میں اس کے ذمہ دار عیاش بن ابی ربیعہ تھے، میں نے کہا کہ میرے پاس خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے اور میں تمہارے ہی گھر میں عدت گزار سکتی ہوں؟ اس نے کہا: نہیں، یہ سن کر میں نے اپنے کپڑے سمیٹے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں؟“ میں نے بتایا، تین طلاقیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہو چکی ہے، تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے بتانا۔“ عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا جن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابوجہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں، جبکہ ابوجہم عورتوں کو مارتے ہیں (ان کی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27334]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1480، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 27335
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , مِثْلَ ذَلِكَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27335]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1480، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس
حدیث نمبر: 27336
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ , أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ , وَكَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ , فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا , وَخَرَجَ إِلَى بَعْضِ الْمَغَازِي , وَأَمَرَ وَكِيلًا لَهُ أَنْ يُعْطِيَهَا بَعْضَ النَّفَقَةِ , فَاسْتَقَلَّتْهَا , وَانْطَلَقَتْ إِلَى إِحْدَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهِيَ عِنْدَهَا , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , طَلَّقَهَا فُلَانٌ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِبَعْضِ النَّفَقَةِ فَرَدَّتْهَا , وَزَعَمَ أَنَّهُ شَيْءٌ تَطَوَّلَ بِهِ , قَالَ: " صَدَقَ" , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْتَقِلِي إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , وقَالَ أَبِي: وَقَالَ الْخَفَّافُ: أُمِّ كُلْثُومٍ , فَاعْتَدِّي عِنْدَهَا" , ثُمَّ قَالَ:" لَا , أُمُّ كُلْثُومٍ يَكْثُرُ عُوَّادُهَا , وَلَكِنْ: انْتَقِلِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , فَإِنَّهُ أَعْمَى" , فَانْتَقَلَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ , فَاعْتَدَّتْ عِنْدَهُ , حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا , ثُمَّ خَطَبَهَا أَبُو جَهْمٍ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ , فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَأْمِرُهُ فِيهِمَا , فَقَالَ:" أَبُو جَهْمٍ , أَخَافُ عَلَيْكِ قَسْقَاسَتَهُ لِلْعَصَا , وقَالَ الخفَافُ: قَصْقَاصَتَهُ لِلْعَصَا , وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ , فَرَجُلٌ أَخْلَقُ مِنَ الْمَالِ" , فَتَزَوَّجَتْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ بَعْدَ ذَلِكَ .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا اور اپنے وکیل کے ساتھ پانچ صاع کی مقدار میں جَو بھی بھیج دیئے، میں نے کہا کہ میرے پاس خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے اور میں تمہارے ہی گھر میں عدت گزار سکتی ہوں؟ اس نے کہا: نہیں، یہ سن کر میں نے اپنے کپڑے سمیٹے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں؟“ میں نے بتایا: تین طلاقیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہو چکی ہے، تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے بتانا۔“ عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام ِ نکاح بھیجا جن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابوجہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں، جبکہ ابوجہم عورتوں کو مارتے ہیں (ان کی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔" [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27336]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح على اختلاف فى قوله: ابن أم مكتوم أو أم كلثوم، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن عاصم
حدیث نمبر: 27337
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ خَرَجَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْيَمَنِ , فَأَرْسَلَ إِلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِتَطْلِيقَةٍ كَانَتْ بَقِيَتْ مِنْ طَلَاقِهَا , وَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِنَفَقَةٍ , فَقَالَا لَهَا: وَاللَّهِ مَا لَكِ مِنْ نَفَقَةٍ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا , فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ قَوْلَهُمَا , فَقَالَ: " لَا , إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا" , وَاسْتَأْذَنَتْهُ لِلِانْتِقَالِ , فَأَذِنَ لَهَا , فَقَالَتْ: أَيْنَ تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" , وَكَانَ أَعْمَى , تَضَعُ ثِيَابَهَا عِنْدَهُ , وَلَا يَرَاهَا , فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا , أَنْكَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَرْوَانُ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ , يَسْأَلُهَا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ , فَحَدَّثَتْهُ بِهِ , فَقَالَ مَرْوَانُ: لَمْ نَسْمَعْ بِهَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا مِنَ امْرَأَةٍ , سَنَأْخُذُ بِالْعِصْمَةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ حِينَ بَلَغَهَا قَوْلُ مَرْوَانَ: بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ الْقُرْآنُ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ حَتَّى بَلَغَ لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا سورة الطلاق آية 1 , قَالَتْ: هَذَا لِمَنْ كَانَ لَهُ مُرَاجَعَةٌ , فَأَيُّ أَمْرٍ يُحْدِثُ بَعْدَ الثَّلَاثِ؟ .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا، اس وقت وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن گیا ہوا تھا، اس نے حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نفقہ دینے کے لئے بھی کہا لیکن وہ کہنے لگے کہ واللہ! تمہیں اس وقت تک نفقہ نہیں مل سکتا جب تک تم حاملہ نہ ہو، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہو چکی ہے، تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے بتانا۔“ عدت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا، ایک مرتبہ مروان نے قبیصہ بن ذؤیب کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ حدیث پوچھنے کے لئے بھیجا، تو انہوں نے یہی حدیث بیان کر دی، مروان کہنے لگا کہ یہ حدیث تو ہم نے محض ایک عورت سے سنی ہے، ہم عمل اسی پر کریں گے، جس پر ہم نے لوگوں کو عمل کرتے پایا ہے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات معلوم ہوئی، تو انہوں نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان قرآن فیصلہ کرے گا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ حَتَّى بَلَغَ لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا» ”تم انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، الاّ یہ کہ وہ واضح بےحیائی کا کوئی کام کریں“، شاید اس کے بعد اللہ اس کے سامنے کوئی نئی صورت پیدا کردے، انہوں نے فرمایا: یہ حکم تو اس شخص کے متعلق ہے جو رجوع کر سکتا ہو، یہ بتاؤ کہ تین طلاقوں کے بعد کون سی نئی صورت پیدا ہو گی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27337]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، رجاله ثقات
حدیث نمبر: 27338
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , قَالَ حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا عَامِرٌ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا , فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهِ , " فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً" , قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَا نَدَعُ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ , لَعَلَّهَا نَسِيَتْ , قَالَ: قَالَ عَامِرٌ: وَحَدَّثَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ محض ایک عورت کی بات پر ہم کتاب اللہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ نہیں سکتے، ہو سکتا ہے کہ وہ عورت بھول گئی ہو اور امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا تھا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27338]
الحكم على الحديث:
حديث فاطمة صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم، وقد توبع
حدیث نمبر: 27339
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ , أَنَّ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ بِنْتَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , خَالَتَهَا , " وَكَانَتْ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , طَلَّقَهَا ثَلَاثًا , فَبَعَثَتْ إِلَيْهَا خَالَتُهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , فَنَقَلَتْهَا إِلَى بَيْتِهَا , وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ عَلَى الْمَدِينَةِ , قَالَ قَبِيصَةُ: فَبَعَثَنِي إِلَيْهَا مَرْوَانُ , فَسَأَلْتُهَا مَا حَمَلَهَا عَلَى أَنْ تُخْرِجَ امْرَأَةً مِنْ بَيْتِهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؟ قَالَ: فَقَالَتْ: لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِذَلِكَ , قَالَ: ثُمَّ قَصَّتْ عَلَيَّ حَدِيثَهَا , ثُمَّ قَالَتْ: وَأَنَا أُخَاصِمُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ , يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ: إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ إِلَى لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا سورة الطلاق آية 1 , ثُمَّ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ الثَّالِثَةَ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ سورة الطلاق آية 2 , وَاللَّهِ مَا ذَكَرَ اللَّهُ بَعْدَ الثَّالِثَةِ حَبْسًا , مَعَ مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى مَرْوَانَ , فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا , فَقَالَ: حَدِيثُ امْرَأَةٍ , حَدِيثُ امْرَأَةٍ , قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِالْمَرْأَةِ , فَرُدَّتْ إِلَى بَيْتِهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا علیہم ”جو کہ بنت سعید زید کی خالہ تھیں اور وہ عبداللہ بن عمرو بن عثمان کے نکاح میں تھیں“ سے مروی ہے کہ انہیں ان کے شوہر نے تین طلاقیں دے دیں، ان کی خالہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان کے پاس ایک قاصد بھیج کر انہیں یہاں بلا لیا، اس زمانے میں مدینہ منورہ کا گورنر مروان بن حکم تھا، قبیصہ کہتے ہیں کہ مروان نے مجھے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ آپ نے ایک عورت کو اس کی عدت پوری ہونے سے پہلے اس کے گھر سے نکلنے پر مجبور کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی یہی حکم دیا تھا، پھر انہوں نے مجھے وہ حدیث سنائی، پھر فرمایا کہ میں اپنی دلیل میں قرآن کریم سے بھی اجتہاد کرتی ہوں، اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ «إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ إِلَى لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا» ”اگر تم اپنی بیویوں کو طلاق دے دو، تو زمانہ عدت (طہر) میں طلاق دیا کرو اور عدت کے ایام گنتے رہا کرو اور اللہ سے جو تمہارا رب ہے ڈرتے رہو، نہ تم انہیں اپنے گھر سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، الاّ یہ کہ وہ کھلی بےحیائی کا کوئی کام کریں۔“ شاید اس کے بعد اللہ کوئی نیا فیصلہ فرما دے۔ تیسرے درجے میں فرمایا: «فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ الثَّالِثَةَ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ» ”جب وہ اپنی عدت پوری کر چکیں تو تم انہیں اچھی طرح رکھو یا اچھے طریقے سے رخصت کرو۔“ بخدا اللہ تعالیٰ نے اس تیسرے درجے کے بعد عورت کو روک کر رکھنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی یہی حکم دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں مروان کے پاس آیا اور اسے یہ ساری بات بتائی، اس نے کہا کہ یہ تو ایک عورت کی بات ہے، یہ تو ایک عورت کی بات ہے، پھر اس نے ان کی بھانجی کو اس کے گھر واپس بھیجنے کا حکم دیا چنانچہ اسے واپس بھیج دیا یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27339]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس
حدیث نمبر: 27340
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ مُجَالِدٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ , فَخَاصَمَتْهُ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: فَلَمْ يَجْعَلْ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً , وَقَالَ:" يَا بِنْتَ آلِ قَيْسٍ , إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ عَلَى مَنْ كَانَتْ لَهُ رَجْعَةٌ" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا اور فرمایا کہ اے بنت آل قیس! رہائش اور نفقہ اسے ملتا ہے جس سے رجوع کیا جا سکتا ہو۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27340]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله : يا بنت آل قيس .. كانت له رجعة ، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، وقد توبع، وهشيم مدلس، وقد عنعن، وقد توبع
حدیث نمبر: 27341
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو ابْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ , فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ , فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا , " فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى" , فَأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصَدِّقَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا , وَقَالَ عُرْوَةُ: أَنْكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو“، مروان اس حدیث سے انکار کرتا تھا اور مطلقہ عورت کو اس کے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دیتا تھا اور بقول عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اس کا انکار کرتی تھیں۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27341]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1480
حدیث نمبر: 27342
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ , وَحُصَيْنٌ , وَمُغِيرَةُ , وَأَشْعَثُ , وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ , وَدَاوُدُ , وَحَدَّثَنَاهُ مُجَالِدٌ , وَإِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ سَالِم , عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا , فَقَالَتْ: طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ , قَالَتْ: فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ , قَالَتْ: " فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً , وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27342]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1480