مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1276. وَمِنْ حَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أُخْتِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27323
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا , عَنْ عَامِرٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا , فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " تَعْتَدَّ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27323]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة زكريا عن الشعبي، وقد توبع
حدیث نمبر: 27324
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , سَمِعَهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ , سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ , قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَحْلَلْتِ فَآذِنِينِي" , فَآذَنَتْهُ , فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ , وَأَبُو الْجَهْمِ , وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ , وَأَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ , وَلَكِنْ أُسَامَةَ" , قَالَ: فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا: أُسَامَةُ! تَقُولُ: لَمْ تُرِدْهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ" , فَتَزَوَّجَتْهُ , فَاغْتَبَطَتْهُ .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے بتانا“، عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا، جن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابوجہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں، جبکہ ابوجہم عورتوں کو مارتے ہیں (ان کی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو“، انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے کہا: اسامہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے حق میں اللہ اور اس کے رسول کی بات ماننا زیادہ بہتر ہے، چنانچہ میں نے اس رشتے کو منظور کر لیا بعد میں لوگ مجھ پر رشک کرنے لگے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27324]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1480
حدیث نمبر: 27325
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أَبِي عَاصِمٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ذَكَرَ الْمَدِينَةَ , فَقَالَ:" هِيَ طَيْبَةُ" .
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ طیبہ ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27325]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27326
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا: " لَيْسَ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةٌ" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طلاق یافتہ عورت کے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27326]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1480
حدیث نمبر: 27327
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، مَالِك ٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ , وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ , فَتَسَخَّطَتْهُ , فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ , فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ: " لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ عَلَيْهِ" , فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ , ثُمَّ قَالَ:" تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي , فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ , فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ , فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي" , فَلَمَّا حَلَلْتُ , ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا الْجَهْمِ خَطَبَانِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ , وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ , انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا اور اس کے ساتھ پانچ صاع کی مقدار میں جَو بھی بھیج دئیے، میں نے کہا: میرے پاس خرچ کرنے کے لئے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور میں تمہارے گھر ہی کی عدت گزار سکتی ہوں؟ اس نے کہا: نہیں، یہ سن کر میں نے اپنے کپڑے سمیٹے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، ”انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں؟“ میں نے بتایا: تین طلاقیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا، تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہوچکی ہے تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے بتانا۔“ عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا، جن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابوجہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں ابوجہم جبکہ عورتوں کو مارتے ہیں (ان کی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27327]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1480
حدیث نمبر: 27328
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ , وَهُوَ غَائِبٌ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ , وَقَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" , فَكَرِهْتُهُ , فَقَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" , فَنَكَحْتُهُ , فَجَعَلَ اللَّهُ لِي فِيهِ خَيْرًا.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27328]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1480
حدیث نمبر: 27329
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ , عَنِ السُّدِّيِّ , عَنِ الْبَهِيِّ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً" ، قَالَ حَسَنٌ: قَالَ السُّدِّيُّ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ، فَقَالَا: قَالَ عمر: لَا تُصَدِّقْ فَاطِمَةَ , لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ.
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طلاق یافتہ عورت کے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا۔ ابراہیم اور شعبی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ فاطمہ کی بات کی تصدیق نہ کرو ایسی عورت کو رہائش اور نفقہ دونوں ملیں گے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27329]
الحكم على الحديث:
قوله: لم يجعل لها سكني ولا نفقة صحيح، م: 1480
حدیث نمبر: 27330
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طلاق یافتہ عورت کے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27330]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 27331
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا دَاوُدُ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ مُسْرِعًا، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَنُودِيَ فِي النَّاسِ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ , فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنِّي لَمْ أَدْعُكُمْ لِرَغْبَةٍ نَزَلَتْ , وَلَا لِرَهْبَةٍ , وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ رَكِبُوا الْبَحْرَ , فَقَذَفَتْهُمْ الرِّيحُ إِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ , فَإِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ أَشْعَرَ , لَا يُدْرَى أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى، مِنْ كَثْرَةِ شَعْرِهِ , فَقَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ , قَالُوا: فَأَخْبِرِينَا , قَالَتْ: مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ , وَلَا، وَلَكِنْ فِي هَذَا الدَّيْرِ رَجُلٌ فَقِيرٌ إِلَى أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَيَسْتَخْبِرَكُمْ , فَدَخَلُوا الدَّيْرَ , فَإِذَا رَجُلٌ ضَرِيرٌ , وَمُصَفَّدٌ فِي الْحَدِيدِ , فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا: نَحْنُ الْعَرَبُ , قَالَ: هَلْ بُعِثَ فِيكُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ , قَالَ: فَهَلْ اتَّبَعَهُ الْعَرَبُ؟ قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ , قَالَ: مَا فَعَلَتْ فَارِسُ؟ هَلْ ظَهَرَ عَلَيْهَا , قَالُوا: لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهَا بَعْدُ , قَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَيْهَا , ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ؟ قَالُوا: هِيَ تَدْفُقُ مَلْأَى , قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ طَبَرِيَّةَ؟ قَالُوا: هِيَ تَدْفُقُ مَلْأَى , قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ نَخْلُ بَيْسَانَ؟ هَلْ أَطْعَمَ بَعْدُ؟ قَالُوا: قَدْ أَطْعَمَ أَوَائِلُهُ , قَالَ: فَوَثَبَ وَثْبَةً ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيَفْلِتُ , فَقُلْنَا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ , أَمَا إِنِّي سَأَطَأُ الْأَرْضَ كُلَّهَا غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْشِرُوا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ , فَإِنَّ هَذِهِ طَيْبَةُ , لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ" .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور ظہر کی نماز پڑھائی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو فرمایا کہ بیٹھے رہو! (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) منبر پر تشریف فرما ہوئے، لوگ حیران ہوئے تو فرمایا: ”لوگو! اپنی نماز کی جگہ پر ہی بیٹھے رہو! میں نے تمہیں کسی بات کی ترغیب یا اللہ سے ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا۔ میں نے تمہیں صرف اس لئے جمع کیا ہے کہ تمیم داری میرے پاس آئے اور اسلام پر بیعت کی اور مسلمان ہو گئے اور مجھے ایک بات بتائی کہ وہ اپنے چچا زاد بھائیوں کے ساتھ ایک بحری کشتی میں سوار ہوئے، اچانک سمندر میں طوفان آ گیا، وہ سمندر میں ایک نامعلوم جزیرے کی طرف پہنچے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا تو وہ چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرے کے اندر داخل ہوئے، تو انہیں وہاں ایک جانور ملا جو موٹے اور گھنے بالوں والا تھا، انہیں سمجھ نہ آئی کہ وہ مرد ہے یا عورت، انہوں نے اسے سلام کیا، اس نے جواب دیا، انہوں نے کہا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: اے قوم! اس آدمی کی طرف گرجے میں چلو کیونکہ وہ تمہاری خبر کے بارے میں بہت شوق رکھتا ہے، ہم نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو اس نے بتایا کہ میں جساسہ ہوں، چنانچہ وہ چلے یہاں تک کہ گرجے میں داخل ہو گئے، وہاں ایک انسان تھا جسے انتہائی سختی کے ساتھ باندھا گیا تھا، اس نے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: ہم عرب کے لوگ ہیں، اس نے پوچھا کہ اہل عرب کا کیا بنا؟ کیا ان کے نبی کا ظہور ہو گیا؟ انہوں نے کہا: ہاں! اس نے پوچھا: پھر اہل عرب نے کیا کیا؟ انہوں نے بتایا کہ اچھا کیا، ان پر ایمان لے آئے اور ان کی تصدیق کی اس نے کہا کہ انہوں نے اچھا کیا، پھر اس نے پوچھا کہ اہل فارس کا کیا بنا؟ کیا وہ ان پر غالب آ گئے؟ انہوں نے کہا کہ وہ ابھی تک تو اہل فارس پر غالب نہیں آئے، اس نے کہا کہ یاد رکھو! عنقریب وہ ان پر غالب آ جائیں گے، اس نے کہا: مجھے زغر کے چشمہ کے بارے میں بتاؤ، ہم نے کہا: یہ کثیر پانی والا ہے اور وہاں کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی باڑی کرتے ہیں، پھر اس نے کہا: نخل بیسان کا کیا بنا؟ کیا اس نے پھل دینا شروع کیا؟ انہوں نے کہا کہ اس کا ابتدائی حصہ پھل دینے لگا ہے، اس پر وہ اتنا اچھلا کہ ہم سجھے یہ ہم پر حملہ کر دے گا، ہم نے اس سے پوچھا کہ تو کون ہے؟ اس نے کہا کہ میں مسیح (دجال) ہوں، عنقریب مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے گی، پس میں نکلوں گا تو زمین میں چکر لگاؤں گا اور چالیس راتوں میں ہر ہر بستی پر اتروں گا مکہ اور طیبہ کے علاوہ کیونکہ ان دونوں پر داخل ہونا میرے لئے حرام کر دیا گیا ہے“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانو! خوش ہو جاؤ کہ طیبہ یہی مدینہ ہے، اس میں دجال داخل نہ ہو سکے گا۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27331]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح إلا أنه اختلف على حماد بن سلمة فى لفظ: فإذا رجل ضرير
حدیث نمبر: 27332
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ , قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ , قَالَ: فَقَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً , قَالَتْ: وَوَضَعَ لِي عَشْرَةَ أَقْفِزَةٍ عِنْدَ ابْنِ عَمٍّ لَهُ: خَمْسَةً شَعِيرٍ , وَخَمْسَةً تَمْرٍ , قَالَتْ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ ذَاكَ لَهُ، قَالَ: فَقَالَ: " صَدَقَ" , فَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ فُلَانٍ , قَالَ: وَكَانَ طَلَّقَهَا طَلَاقًا بَائِنً .
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا اور اس کے ساتھ پانچ قفیز کی مقدار میں جَو اور پانچ قفیز کی مقدار میں کھجور بھیج دی، اس کے علاوہ رہائش یا کوئی خرچہ نہیں دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گزار لو“، یاد رہے کہ ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائن دی تھی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27332]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1480