مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(حج اور عمرہ ساتھ کرنے کی سنت کی رہنمائی)
حدیث نمبر: 18
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ حَفِظْنَاهُ مِنْهُ غَيْرَ مَرَّةٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ، يَقُولُ كَثِيرًا مَا يَقُولُ: ذَهَبْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ إِلَى الصُّبَيِّ بْنِ مَعْبَدٍ نَسْتَذْكِرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ الصُّبَيُّ: كُنْتُ رَجُلا نَصْرَانِيًّا، فَأَسْلَمْتُ، فَخَرَجْتُ أُرِيدُ الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنْتُ بِالْقَادِسِيَّةِ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا، فَسَمِعَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَزَيْدُ بْنُ صَوْحَانَ، فَقَالا: لَهَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ، فَكَأَنَّمَا حُمِلَ عَلَيَّ بِكَلِمَتَيْهِمَا جَبَلٌ، فَلَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمَا فَلامَهُمَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ:" هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ , هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ" ، فَقَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي أَنَّهُ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَجَازَهُ وَلَيْسَ أَنَّهُ فَعَلَهُ هُوَ.
ابووائل شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: میں اور مسروق، صبی بن معبد کے پاس گئے تاکہ ان سے اس حدیث کے بارے میں گفتگو کریں، تو صبی بولے: میں ایک عیسائی شخص تھا میں نے اسلام قبول کیا میں حج کرنے کے ارادے سے روانہ ہونے لگا، جب میں قادسیہ پہنچا تو وہاں میں نے حج اور عمرے دونوں کو ساتھ کرنے کا احرام باندھا (یا تلبہ پڑھا)۔ سلمان بن ربعیہ اور زید بن صوحان نے مجھے سنا، تو وہ بولے: یہ شخص اپنے گھر کے اونٹ سے زیادہ گمراہ ہے۔ ان کے ان کلمات کی وجہ سے گویا میرے اوپر پہاڑ کا وزن آ گیا، میری ملاقات جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں اس بارے میں بتایا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان دونوں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان دونوں کو ملامت کی پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف تمہاری رہنمائی کی گئی ہے۔ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف تمہاری رہنمائی کی گئی ہے۔ سفیان کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج اور عمرہ اکھٹے ادا کیے تھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے درست قرار دیا تھا۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ایسا کیا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 18]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 3069، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3910، 3911، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2718، 2719، 2720، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3685، 3686، 3687، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1798، 1799، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2970، 2970 م، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8864، 8873، 8942، وأحمد فى «مسنده» برقم: 84، 171، 232، 260، والطبراني فى «الصغير» برقم: 531»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
(وادی عقیق میں حج اور عمرہ ساتھ کرنے کی تلقین)
حدیث نمبر: 19
حَدَّثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ قَالَا: حَدَّثنا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثنا عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ بِوَادِي الْعَقِيقِ:" أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي، فَقَالَ: صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ: عُمْرَةٌ فِي حِجَّةٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ”وادی عقیق“ میں موجود تھے۔ ”گزشتہ رات میرے پروردگار کا فرستادہ میرے پاس آیا اور بولا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مبارک وادی میں نماز ادا کیجئے اور یہ کہیے عمرہ، حج میں ہے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے ساتھ عمرہ کرنے کا بھی تلبیہ پڑھیے)۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 19]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1534، 2337، 7343، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2617، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3790، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1800، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2976، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8936، 8937، 8938، وأحمد فى «مسنده» برقم: 163»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
(رات دن کے وقت روزہ کھولنے کی ہدایت)
حدیث نمبر: 20
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ" .
عاصم بن عمر بن خطاب اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب رات اس طرف سے آ جائے اور دن اس طرف سے رخصت ہو جائے اور سورج غروب ہو جائے، تو روزہ دار شخص روزہ کھول لے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 20]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، أخرجه البخاري 1954، ومسلم: 1100، وفي مسنده الموصلي:257، 240، وفي صحيح ابن حبان: 3513»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
(تنخواہ کو صدقہ کرنا اور مال قبول کرنے کی ہدایت)
حدیث نمبر: 21
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ , وَغَيْرِهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ، عَنِ ابْنِ السَّعْدِيِّ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنَ الشَّامِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَلِي أَعْمَالا مِنْ أَعْمَالِ الْمُسْلِمِينَ، فَتُعْطَى عُمَالَتَكَ، فَلا تَقْبَلُ؟ فَقُلْتُ: أَجَلْ، إِنَّ لِي أَفْرَاسًا , أَوْ لِي أَعْبُدً وَأَنَا بِخَيْرٍ، وَأُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَلا تَفْعَلْ، فَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُ مِثْلَ الَّذِي أَرَدْتَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ، فَأَقُولُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَحْوَجُ مِنِّي، وَإِنَّهُ أَعْطَانِي مَرَّةً مَالا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ:" يَا عُمَرُ مَا أَتَاكَ اللَّهُ بِهِ مِنْ هَذَا الْمَالِ عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلا إِشْرَافِ نَفْسٍ , فَخُذْهُ، فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا لا , فَلا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ" .
ابن سعدی بیان کرتے ہیں: وہ ”شام“ سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: مجھے پتہ چلا ہے تم کوئی سرکاری فرائض انجام دیتے رہے ہو اور جب تمہیں تنخواہ دی جانے لگی، تو تم نے اسے قبول نہیں کیا؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، میرے پاس گھوڑے ہیں۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”میرے پاس غلام ہیں اور میں اچھی حالت میں ہوں۔“ تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں کے لیے صدقہ ہو جائے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو، کیونکہ جو ارادہ تم نے کیا ہے اس طرح کا ارادہ ایک مرتبہ میں نے بھی کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مجھے کچھ عطا کرتے تھے، تو میں یہ گزارش کرتا تھا کہ آپ یہ اسے دے دیں جس کو مجھ سے زیادہ اس کی ضرورت ہو۔ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مال دیا تو میں نے عرض کی: آپ یہ اسے عطا کر دیجئے جسے مجھ سے زیادہ اس کی ضرورت ہو، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عمر! اللہ تعالیٰ مانگے بغیر اور تمہاری دلچسپی ظاہر کیے بغیر اس مال میں سے، جو کچھ تمہیں عطا کرتا ہے اسے حاصل کر لو اور اس کے ذریعے سے اپنے مال میں اضافہ کرو، اسے صدقہ کرو اور جو مال ایسا نہ ہو، تم اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ لگاؤ۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 21]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري: 7163، صحيح ابن حبان: 3405، وصححه ابن خزيمة: 2365، وأحمد: 17/1، وعبدالرزاق فى المصنفه: 20045»
الحكم على الحديث:
إسناد صحيح
(مال فے کی زمینوں کا خرچ اور اللہ کی راہ میں تیاری)
حدیث نمبر: 22
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَمَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ:" إِنَّ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ كَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلا رِكَابٍ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ، وَمَا بَقِي جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ، وَالسِّلاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَكَانَ سُفْيَانُ إِنَّمَا قَالَ فِي هَذَا الْحديث: يَحْبِسُ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ.
مالک بن اوس بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: بنو نضیر کی زمینیں وہ ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ”مال فے“ کے طور پر عطا کی تھیں۔ مسلمانوں نے ان کے لیے گھوڑے نہیں دوڑائے تھے سواریاں نہیں دوڑائیں تھیں یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آمدن میں سے اپنے اہل خانہ کے سال بھر کا خرچ حاصل کرتے تھے اور جو باقی بچ جاتا تھا اسے گھوڑوں اور اسلحے کے لئے، یعنی اللہ کی راہ میں تیاری کے لیے استعمال کرتے تھے۔ حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے سال بھر کا خرچ روک لیتے تھے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 22]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى الجهاد 4290، ومسلم فى الجهاد والسير 1757، وأبو داود فى الخراج 2965، والترمذي فى الجهاد 1719، والنسائي فى قسم الفيء، وفي الكبرى فى التفسير 484/6 برقم 11576،ولتمام تخريجه انظر وأبو يعلى فى ”مسنده“: 2، 4، وصحيح ابن حبان 6357، 6608، وأحمد 25/1، وابن حبان فى صحيحه 6357، من طريق سفيان، بهذا الإسناد وأخرجه أحمد 25/1»
الحكم على الحديث:
إسناد صحيح
(مہر زیادہ نہ کرنے اور شہادت کا بیان)
حدیث نمبر: 23
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ:" أَلا لا تُغْلُوا صُدُقَ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا، أَوْ تَقْوًى عِنْدَ اللَّهِ كَانَ أَوْلاكُمْ , أَوْ أَحَقُّكُمْ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلا أَنْكَحَ ابْنَةً مِنْ بَنَاتِهِ عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَإِنَّ أَحَدَكُمُ الْيَوْمَ لَيُغْلِي بِصَدَقَةِ الْمَرْأَةِ حَتَّى تَكُونَ لَهَا عَدَاوَةً فِي نَفْسِهِ، ويَقُولُ: كُلِّفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةً، قَالَ: وَكُنْتُ غُلامًا شَابَّا فَلَمْ أَدْرِ مَا عَلَقُ الْقِرْبَةِ" . قَالَ: وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا لِبَعْضِ مَنْ يُقْتَلُ فِي مَغَازِيكُمْ هَذِهِ قُتِلَ فُلانٌ شَهِيدًا، أَوْ مَاتَ فُلانٌ شَهِيدًا، وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ دُفَّ رَاحِلَتِهِ , أَوْ عَجُزَهَا ذَهَبًا، أَوْ وَرِقًا يَلْتَمِسُ التِّجَارَةَ، فَلا تَقُولُوا ذَاكُمْ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ" . قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ أَيُّوبُ أَبَدًا يَشُكُّ فِيهِ هَكَذَا، وَقَالَ سُفْيَانُ: فَإِنْ كَانَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَ بِهِ هَكَذَا، وَإِلا فَلَمْ يُحْفَظْ.
ابوعجفاء سلمی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: خبردار! تم لوگ عورتوں کے مہر زیادہ مقرر نہ کرو، کیونکہ اگر یہ چیز دنیا میں عزت افزائی کا، یا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تقویٰ کا ذریعہ ہوتی، تو تم میں سے زیادہ لائق تم میں سے زیادہ حقدار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میرے علم کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج میں سے جس خاتون کے ساتھ بھی شادی کی، یا اپنی صاحبزادیوں میں سے جس صاحبزادی کی بھی شادی کی، ان میں سے کسی کا مہر ”بارہ اوقیہ“ سے زیادہ نہیں تھا، لیکن آج تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کا مہر زیادہ ادا کرتا ہے، یہاں تک کہ اس کے دل میں اس عورت کے لیے عداوت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ یہ کہتا ہے: تمہاری وجہ سے مجھے پریشانی اٹھانا پڑی ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں ایک نوجوان شخص تھا مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ ”علق القربہ“ سے کیا مراد ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: دوسری بات یہ ہے کہ تم لوگ کسی جنگ میں قتل ہوجانے والے شخص کے بارے میں یہ کہتے ہو فلاں شخص شہادت کی موت مارا گیا ہے یا فلاں شخص شہادت کی موت مرا ہے، حالانکہ ہو سکتا ہے اس نے اپنی سواری کے جانور پر بوجھ لادا ہوا ہو، یا وہ سونے اور چاندی کو لے کر تجارت کرنے جا رہا ہو، تم لوگ یہ بات نہ کہو، بلکہ تم یوں کہو، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اللہ کی راہ میں قتل ہوگا وہ جنت میں جائے گا۔“ سفیان کہتے ہیں: ایوب نامی راوی ہمیشہ اس روایت کے الفاظ میں اسی طرح شک کا اظہار کرتے تھے۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: اگر حماد بن زید نے بھی اس روایت کو انہی الفاظ میں نقل کیا ہے، پھر تو ٹھیک ہے ورنہ یہ روایت محفوظ نہیں ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 23]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد استوفينا تخريجه في موارد الظمآن 184/4-185 برقم 1259، وصحيح ابن حبان برقم 4620»
الحكم على الحديث:
إسناد صحيح
(فراش کے حق میں فیصلہ اور خانہ کعبہ کی تعمیر کا بیان)
حدیث نمبر: 24
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ مِنْ أَهْلِ دَارِنَا قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ، فَجِئْتُ مَعَ الشَّيْخِ إِلَى عُمَرَ وَهُوَ فِي الْحِجْرِ، فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ وِلادٍ مِنْ وِلادِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا النُّطْفَةُ فَمِنْ فُلانٍ، وَأَمَّا الْوَلَدُ فَعَلَى فِرَاشِ فُلانٍ، فَقَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بَالْفِرَاشِ . فَلَمَّا وَلَّى الشَّيْخُ دَعَاهُ عُمَرُ ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي عِنْ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ:" إِنَّ قُرَيْشًا تَقَرَّبَتْ لِبِنَاءِ الْكَعْبَةِ، فَعَجَزُوا وَاسْتَقْصَرُوا، فَتَرَكُوا بَعْضًا فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَ" .
عبید اللہ بن ابویزید بیان کرتے ہیں: میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بنوزہرہ سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ کو پیغام بھیج کر اسے بلوایا وہ ہمارے محلے میں رہتا تھا اس نے زمانہ جاہلیت پایا ہوا تھا۔ میں اس بزرگ کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس وقت حطیم میں موجود تھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے زمانہ جاہلیت میں پیدا ہونے والی (ناجائز اولاد کے بارے میں) دریافت کیا، تو وہ بزرگ بولا: جہاں تک نطفے کا تعلق ہے، تو وہ فلاں شخص کا تھا جہاں تک پیدائش کا تعلق ہے، تو وہ فلاں شخص کے فراش پر ہوئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بولے: تم نے ٹھیک کہا ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فراش کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ جب وہ عمر رسیدہ شخص واپس مڑ گیا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے بلایا اور دریافت کیا: تم مجھے خانہ کعبہ کی تعمیر کے بارے میں بتاؤ؟ اس نے بتایا: قریش خانہ کعبہ کی تعمیر کر کے نیکی حاصل کرنا چاہتے تھے، لیکن وہ اس کو بنانے سے عاجز ہو گئے، ان کے پاس (ساز و سامان) کم ہو گیا تو انہوں نے حطیم والی جگہ کا کچھ حصہ چھوڑ دیا۔ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے سچ کہا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 24]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ازرقي فى أخبار،مكة 158/1، والبيهقي فى المعرفة السنن والآثار 238/7 برقم 9920»
الحكم على الحديث:
إسناد صحيح
(رجم کی آیت اور سنگسار کے عمل کی روایت)
حدیث نمبر: 25
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، وَكَانَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ، فَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ" . قَالَ سُفْيَانُ: فَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ بِطُولِهِ، فَحَفِظْتُ مِنْهُ أَشْيَاءَ، وَهَذَا مِمَّا لَمْ أَحْفَظْ مِنْهَا يَوْمَئِذٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ معبوث کیا ہے اس نے ان پر کتاب نازل کی، تو ان پر جو چیز نازل ہوئی اس میں ”رجم“ سے متعلق آیت بھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنگسار کروایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم نے بھی سنگسار کروایا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے یہ روایت طویل روایت کے طور پر زہری سے سنی تھی، اس وقت میں نے اس میں سے کچھ چیزیں یاد کر لیں لیکن یہ حصہ اس میں شامل ہے، جسے میں نے اس دن یاد نہیں کیا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 25]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري: 6829، 6830، ومسلم: 1691وابن ماجه: 2553، وعبدالرزاق برقم 13329، من طريق معمر، بهذا الإسناد، ومن طريق عبدالرزاق أخرجه أحمد 47/1، والترمذي فى الحدود 1432، وأخرجه مالك فى الحدود 8 والدارمي: 179/2، والبيهقي 212/8»
الحكم على الحديث:
إسناد صحيح
(سقیقہ سے متعلق حدیث کی طویل روایت کا بیان)
حدیث نمبر: 26
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: أَتَيْنَا الزُّهْرِيَّ فِي دَارِ ابْنِ الْجَوَازِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتُمْ حَدَّثْتُكُمْ بِعِشْرِينَ حَدِيثًا، وَإِنْ شِئْتُمْ حَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثِ السَّقِيفَةِ، وَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَاشْتَهَيْتُ أَنْ لا يُحَدِّثَ بِهِ لِطُولِهِ، فَقَالَ الْقَوْمُ حَدِّثْنَا بِحَدِيثِ السَّقِيفَةِ، فَحَدَّثَنَا بِهِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، فَحَفِظْتُ مِنْهُ أَشْيَاءَ، ثُمّ حَدَّثَنِي بَقِيَّتَهُ بَعْدَ ذَلِكَ مَعْمَرٌ.
سفیان کہتے ہیں: ہم ابن جواز کے گھر زہری کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو وہ بولے: اگر تم لوگ چاہو تو میں تمہیں بیس حدیثیں سناتا ہوں اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں ”سقیقہ“ سے متعلق حدیث سناتا ہوں۔ (سفیان کہتے ہیں) میں حاضرین میں سے سب سے کم سن تھا اس لیے میں اس بات کا خواہش مند تھا کہ وہ طویل حدیث نہ سنائیں لیکن حاضرین نے کہا آپ ہمیں ”سقیقہ“ سے متعلق حدیث سنائیں۔ تو انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی جس میں سے کچھ چیزیں میں نے یاد کر لیں اور اس روایت کا بقیہ حصہ اس کے بعد معمر نے مجھے سنایا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 26]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وانظر حديث سابق»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
(عیسائیوں کی طرح بڑھانے سے منع کرنے کی ہدایت)
حدیث نمبر: 27
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا: عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا: وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تم لوگ مجھے اس طرح نہ بڑھا دینا جس طرح عیسائیوں نے ابن مریم کو بڑھا دیا تھا میں (اللہ) کا بندہ ہوں، تو تم لوگ یوں کہو اس کے بندے اور اس کے رسول۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 27]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه البخاري 3445، أخرجه البغوي فى شرح السنة 246/13 برقم 3681، وفي مسنده الموصلي: 153، وعبدالرزاق: 20524، والبيهقي فى دلائل النبوة: 498/5»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح