🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(تنخواہ کو صدقہ کرنا اور مال قبول کرنے کی ہدایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ , وَغَيْرِهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ، عَنِ ابْنِ السَّعْدِيِّ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنَ الشَّامِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَلِي أَعْمَالا مِنْ أَعْمَالِ الْمُسْلِمِينَ، فَتُعْطَى عُمَالَتَكَ، فَلا تَقْبَلُ؟ فَقُلْتُ: أَجَلْ، إِنَّ لِي أَفْرَاسًا , أَوْ لِي أَعْبُدً وَأَنَا بِخَيْرٍ، وَأُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَلا تَفْعَلْ، فَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُ مِثْلَ الَّذِي أَرَدْتَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ، فَأَقُولُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَحْوَجُ مِنِّي، وَإِنَّهُ أَعْطَانِي مَرَّةً مَالا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ:" يَا عُمَرُ مَا أَتَاكَ اللَّهُ بِهِ مِنْ هَذَا الْمَالِ عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلا إِشْرَافِ نَفْسٍ , فَخُذْهُ، فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا لا , فَلا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ" .
ابن سعدی بیان کرتے ہیں: وہ شام سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: مجھے پتہ چلا ہے تم کوئی سرکاری فرائض انجام دیتے رہے ہو اور جب تمہیں تنخواہ دی جانے لگی، تو تم نے اسے قبول نہیں کیا؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، میرے پاس گھوڑے ہیں۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میرے پاس غلام ہیں اور میں اچھی حالت میں ہوں۔ تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں کے لیے صدقہ ہو جائے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو، کیونکہ جو ارادہ تم نے کیا ہے اس طرح کا ارادہ ایک مرتبہ میں نے بھی کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مجھے کچھ عطا کرتے تھے، تو میں یہ گزارش کرتا تھا کہ آپ یہ اسے دے دیں جس کو مجھ سے زیادہ اس کی ضرورت ہو۔ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مال دیا تو میں نے عرض کی: آپ یہ اسے عطا کر دیجئے جسے مجھ سے زیادہ اس کی ضرورت ہو، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمر! اللہ تعالیٰ مانگے بغیر اور تمہاری دلچسپی ظاہر کیے بغیر اس مال میں سے، جو کچھ تمہیں عطا کرتا ہے اسے حاصل کر لو اور اس کے ذریعے سے اپنے مال میں اضافہ کرو، اسے صدقہ کرو اور جو مال ایسا نہ ہو، تم اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ لگاؤ۔ [مسند الحميدي/حدیث: 21]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري: 7163، صحيح ابن حبان: 3405، وصححه ابن خزيمة: 2365، وأحمد: 17/1، وعبدالرزاق فى المصنفه: 20045»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عبد الله بن قدامة السعدي، أبو محمد
Newعبد الله بن قدامة السعدي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥حويطب بن عبد العزيز العامري، أبو محمد، أبو الأصبغ
Newحويطب بن عبد العزيز العامري ← عبد الله بن قدامة السعدي
صحابي
👤←👥السائب بن يزيد الكندي، أبو يزيد
Newالسائب بن يزيد الكندي ← حويطب بن عبد العزيز العامري
صحابي صغير
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← السائب بن يزيد الكندي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥اسم مبهم
Newاسم مبهم ← محمد بن شهاب الزهري
0
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← اسم مبهم
ثقة ثبت فاضل
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 21 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:21
فائدہ:
اس حدیث میں دینی امور کی ملازمت میں اجرت لینے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
انسان کو لالچی نہیں ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں کے مالوں پر نظر رکھے اور ہر موقع پر ان سے مانگتا پھرے، اور اپنی تنخواہ کو بڑھانے کا مطالبہ ہی کرتا پھرے۔
اس طرز عمل سے انسان لوگوں کی نظروں سے گر جاتا ہے، اور اپنا مقام کھو بیٹھتا ہے، کیونکہ رزق جو مقدر میں لکھا ہے، اس سے نہ زیادہ ملے گا اور نہ کم۔
اللہ تعالی ہمیں لالچی نگاہوں سے محفوظ رکھے، آمین
اس کے برعکس بعض لوگوں کی صورت حال غنا کی ہوتی ہے، ان لوگ کو دینا بھی چاہیں تو وہ لینے سے انکار کر دیتے ہیں، یہ بھی صورت حال محل نظر ہے، بلکہ بغیر مطالبے کے کوئی دے تو اس کو لے لینا چاہیے، جب انسان کے پاس مال و دولت وافر ہو گی تو لوگوں پر خرچ کرے گا۔
اگر اللہ تعالیٰ رزق کی فراونی کرے تو دین کی نشر و اشاعت میں پیسہ صرف کرنا چاہیے، جس طرح مجدد العصر علامہ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ نے کیا، اور ہمارے زمانے میں بھی بعض لوگ کر رہے ہیں۔ فجزاهم اللہ خیرا
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 21]