صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
29. باب بَيَانِ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ
باب: اس حدیث کا بیان کہ میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر نہ ہو جانا۔
ترقیم عبدالباقی: 65 ترقیم شاملہ: -- 223
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، سَمِعَ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ جَدِّهِ جَرِيرٍ ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، ثُمَّ قَالَ: " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ".
ابوزرعہ (ہرم بن عمرو بن جریر بن عبداللہ البجلی) نے اپنے دادا حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر مجھ سے فرمایا: ”لوگوں کو چپ کراؤ۔“ اس کے بعد آپ نے فرمایا: ”میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 223]
ترقیم فوادعبدالباقی: 65
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى العلم، باب: الانصاف للعلماء برقم (121) وفي المغازي، باب: حجة الوداع برقم (4143) وفي الديات، باب: قول الله تعالى: ﴿ وَمَنْ أَحْيَاهَا ﴾ برقم (6475) وفى الفتن، باب: قول النبى صلى الله عليه وسلم: ((لا ترجعوا بعدى كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض)) برقم (6669) والنسائي فى ((المجتبى)) 128/7 فى التحريم، باب: تحريم القتل - وابن ماجه فى ((سننه)) فى الفتن باب: ((لا ترجعوا بعدى كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض)) برقم (3942) انظر ((التحفة)) برقم (3236)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 66 ترقیم شاملہ: -- 224
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
معاذ بن معاذ نے شعبہ سے، انہوں نے واقد بن محمد سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کے مطابق روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 224]
ترقیم فوادعبدالباقی: 66
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الادب، باب: ما جاء فى قول الرجل: ويلك برقم (5814) وفى الحدود، باب: ظهر المؤمن حمى الا فى حد او حق مطولا برقم (6403) وفي الديات باب قول الله تعالى ﴿ وَمَنْ أَحْيَاهَا ﴾ برقم (6474) وفي الفتن، باب: قول النبى صلى الله عليه وسلم: ((لا ترجعوا بعدى كفارا يضرب يبعضكم رقاب بعض)) برقم (6666) وابوداؤد فى ((سننه)) فى السنة، باب: الدليل على زيادة الايمان ونقصانه برقم (4686) والنسائي فى ((المجتبى)) 126/7 فى التحريم، باب: تحريم القتل برقم (4136) وابن ماجه فى ((سننه)) فى الفتن، باب: لا ترجعوا بعدى كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض برقم (3943) انظر ((التحفة)) برقم (7418)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 66 ترقیم شاملہ: -- 225
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " وَيْحَكُمْ، أَوَ قَالَ: وَيْلَكُمْ، لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہم سے شعبہ نے واقد بن محمد بن زید سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا، وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کرتے تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”تم پر افسوس ہوتا ہے (یا فرمایا: تمہارے لیے تباہی ہو گی) تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 225]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”تم پر تعجب اور حیرت ہے“ یا فرمایا: ”تم پر افسوس ہے! میرے بعد کافروں کی طرح ایک دوسرے کی گردنیں نہ مارنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 225]
ترقیم فوادعبدالباقی: 66
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث الذى قبله (221)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 66 ترقیم شاملہ: -- 226
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ وَاقِدٍ.
عبداللہ بن وہب نے کہا: ہمیں عمر بن محمد نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح شعبہ نے واقد سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 226]
امام مسلم رحمہ اللہ نے ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 226]
ترقیم فوادعبدالباقی: 66
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث قبل السابق برقم (221)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
30. باب إِطْلاَقِ اسْمِ الْكُفْرِ عَلَى الطَّعْنِ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةِ عَلَى الْمَيِّتِ:
باب: نسب میں طعن کرنے والے اور میت پر نوحہ کرنے والے پر کفر کا اطلاق۔
ترقیم عبدالباقی: 67 ترقیم شاملہ: -- 227
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ كُلُّهُمْ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ، الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں دو باتیں ہیں، وہ دونوں ان میں کفر (کی بقیہ عادتیں) ہیں: (کسی کے) نسب پر طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 227]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی دو باتیں ان میں کفر کی ہیں، نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 227]
ترقیم فوادعبدالباقی: 67
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (12458)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
31. باب تَسْمِيَةِ الْعَبْدِ الآبِقِ كَافِرًا:
باب: بھاگے ہوئے غلام کو کافر کہنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 68 ترقیم شاملہ: -- 228
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: " أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ مِنْ مَوَالِيهِ، فَقَدْ كَفَرَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ "، قَالَ مَنْصُورٌ: قَدْ وَاللَّهِ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يُرْوَى عَنِّي هَاهُنَا بِالْبَصْرَةِ.
منصور بن عبدالرحمن نے شعبی سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں جریر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: ”جو غلام اپنے مالکوں سے بھاگ گیا، اس نے کفر کا ارتکاب کیا یہاں تک کہ ان کی طرف لوٹ آئے۔“ (نہ یہ کہ دوبارہ مسلمان ہو۔) منصور نے کہا: اللہ کی قسم! یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی ہے لیکن میں ناپسند کرتا ہوں کہ یہاں (بصرہ میں) مجھ سے یہ (اس طرح مرفوعاً) روایت کی جائے۔ (کیونکہ بصرہ کے خارجی اس سے مطلق کفر کا استدلال کریں گے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 228]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (”جو غلام اپنے مالکوں سے بھاگ گیا، اس نے کفر کا ارتکاب کیا یہاں تک کہ ان کی طرف لوٹ آئے“) منصور کا قول ہے: اللہ کی قسم! یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی گئی ہے، لیکن یہاں بصرہ میں، میں اس کو بیان کرنا پسند نہیں کرتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 228]
ترقیم فوادعبدالباقی: 68
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد فى ((سننه)) فى الحدود، باب: الحكم فيمن ارتد بلفظ: ((اذا ابق العبد الى الشـرك فــقــد حـل دمـه)) بـرقــم (4360) والنسائي فى ((المجتبي)) 103/7-104 فى التحريم، باب: الاختلاف على ابي اسحاق موقوفا - وأخرجه فى 102/7 فى التحريم، باب: العبد بابق الى ارض الشرك وذكر اختلاف الفاظ الناقلين لخبر جرير فى ذلك الاكتلاف على الشعبي موقوفا - انظر ((التحفة)) برقم (3217)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 69 ترقیم شاملہ: -- 229
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا عَبْدٍ أَبَقَ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ ".
داؤد نے شعبی سے، انہوں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غلام بھگوڑا ہو گیا تو اس (کے تحفظ) سے (اسلامی معاشرے اور حکومت کی) ذمہ داری ختم ہو گئی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 229]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غلام بھگوڑا ہو گیا تو وہ ذمہ داری سے نکل گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 229]
ترقیم فوادعبدالباقی: 69
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (225)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 70 ترقیم شاملہ: -- 230
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: كَانَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ ".
مغیرہ نے شعبی سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کرتے تھے: ”جب غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔“ (جس طرح حرام کھانے والے کی نماز قبول نہیں ہوتی۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 230]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ: ”جب غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 230]
ترقیم فوادعبدالباقی: 70
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث قبل السابق برقم (225)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
32. باب بَيَانِ كُفْرِ مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِالنَّوْءِ:
باب: اس شخص کے کفر کا بیان جو کہے کہ بارش ستاروں کی گردش ہوتی ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 71 ترقیم شاملہ: -- 231
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ السَّمَاءِ، كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: قَالَ: " أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي، مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ ".
حضرت زید بن جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر رات کو ہونے والی بارش کے بعد، ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟“ انہوں نے جواب دیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (آج) میرے بندوں میں سے کوئی مجھ پر ایمان لانے والا اور (کوئی میرے ساتھ) کفر کرنے والا ہو گیا۔ جس نے یہ کہا ہے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے بارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستارے کے ساتھ کفر کرنے والا ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے (کے غروب و طلوع ہونے) کی وجہ سے بارش ہوئی ہے تو وہ میرے ساتھ کفر کرنے والا اور ستارے پر ایمان رکھنے والا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 231]
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر صبح کی نماز پڑھائی، جبکہ رات کو بارش ہو چکی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیر کر لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”کیا جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میرے بندوں میں سے کچھ کی صبح مجھ پر ایمان پر ہوئی اور بعض کی میرے ساتھ کفر پر۔ جس نے تو یہ کہا کہ ہم پر بارش اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کے باعث ہوئی تو اس نے مجھ پر ایمان رکھا اور ستارے کے ساتھ کفر کیا اور جس نے یہ کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے کے غروب و طلوع سے ہوئی ہے، اس نے میرے ساتھ کفر کا برتاؤ کیا اور ستاروں پر ایمان رکھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 231]
ترقیم فوادعبدالباقی: 71
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الصلاة، باب: يستقبل الامام الناس اذا سلم برقم (810) وفي الاستسقاء، باب: قول الله تعالى ﴿وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ﴾ برقم (991) وفي المغازی باب: غزوة الحديبية مطولا برقم (3916) وفى التوحيد، باب: قول الله تعالى: ﴿يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّهِ﴾ برقم (7064) وابوداؤد في ((سننه)) في الطلب، باب: في النجوم برقم (3906) والنسائي في ((المجتبى)) 3/ 165 في الاستسقاء، باب: كراهية الاستمطار بالكوكب برقم (1524) انظر ((التحفة)) برقم (3757)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 72 ترقیم شاملہ: -- 232
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، ومحمد بن سلمة المرادي ، قَالَ الْمُرَادِيُّ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، وَقَالَ الآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى مَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالَ: " مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ، إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ الْكَوَاكِبُ وَبِالْكَوَاكِبِ ".
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے رب عز وجل نے کیا فرمایا؟ اس نے فرمایا: جو نعمت بھی میں بندوں کو دیتا ہوں تو ان میں سے ایک گروہ (سے تعلق رکھنے والے لوگ) اس (نعمت) کے سبب سے کفر کرنے والے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں: فلاں ستارے (نے یہ نعمت دی ہے) یا فلاں فلاں ستاروں کے سبب سے (ملی ہے۔)“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 232]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ اس نے فرمایا: جو نعمت بھی میں بندوں کو دیتا ہوں تو ایک گروہ اس کی ناشکری کرتا ہے، کہتا ہے: وہ فلاں ستارے یا ستاروں سے حاصل ہوئی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 232]
ترقیم فوادعبدالباقی: 72
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه النسائي في ((المجتبى)) 165/3 في الاستسقاء، باب: كراهية الاستمطار بالكوكب انظر۔ ((التحفة)) برقم (14113)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة