صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
21. باب تَفَاضُلِ أَهْلِ الإِيمَانِ فِيهِ وَرُجْحَانِ أَهْلِ الْيَمَنِ فِيهِ:
باب: ایمان داروں کا ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت، اور یمن والوں کی ایمان میں ترجیح۔
ترقیم عبدالباقی: 53 ترقیم شاملہ: -- 193
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غِلَظُ الْقُلُوبِ، وَالْجَفَاءُ فِي الْمَشْرِقِ، وَالإِيمَانُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ ".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دلوں کی سختی اور جفا (اکھڑپن) مشرق میں ہے اور ایمان اہل حجاز میں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 193]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دلوں کی سختی اور شدت مشرق میں ہے اور ایمان اہلِ حجاز میں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 193]
ترقیم فوادعبدالباقی: 53
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (2839)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
22. باب بَيَانِ أَنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ الْمُؤْمِنُونَ وَأَنَّ مَحَبَّةَ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الإِيمَانِ وَأَنَّ إِفْشَاءَ السَّلاَمِ سَبَبٌ لِحُصُولِهَا:
باب: جنت میں صرف مومن جائیں گے، اور مومنوں سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے، اور سلام کو عام کرنا محبت کا سبب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 54 ترقیم شاملہ: -- 194
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَوَلَا، أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ، أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ ".
ابومعاویہ اور وکیع نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جنت میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ تم مومن ہو جاؤ، اور تم مومن نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔ کیا تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے لگو، آپس میں سلام عام کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 194]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک تم ایمان نہیں لاؤ گے جنت میں داخل نہیں ہو سکو گے، اور تم اس وقت تک صحیح مومن نہیں ہو گے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہیں کرو گے۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اس پر عمل پیرا ہو گے تو باہمی محبت کرنے لگو گے؟ ایک دوسرے کو بکثرت سلام کہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 194]
ترقیم فوادعبدالباقی: 54
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) فى المقدمة، باب: فى الايمان برقم (68) انظر ((التحفة)) برقم (12469)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 54 ترقیم شاملہ: -- 195
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٍ.
(ابومعاویہ اور وکیع کے بجائے) جریر نے اعمش سے ان کی اسی سند سے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم جب تک ایمان نہیں لاؤ گے، جنت میں داخل نہیں ہو سکو گے...“ جس طرح ابومعاویہ اور وکیع کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 195]
امام مسلم رحمہ اللہ اپنے ایک اور استاد سے یہ حدیث یوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! تم جب تک ایمان نہیں لاؤ گے جنت میں داخل نہیں ہو گے۔“ آگے کی عبارت ابو معاویہ رحمہ اللہ اور وکیع رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 195]
ترقیم فوادعبدالباقی: 54
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (12349)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
23. باب بَيَانِ أَنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ:
باب: دین خیرخواہی کا نام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 55 ترقیم شاملہ: -- 196
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: قُلْتُ لِسُهَيْلٍ: إِنَّ عَمْرًا حَدَّثَنَا، عَنْ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِيكَ ، قَالَ: وَرَجَوْتُ أَنْ يُسْقِطَ عَنِّي رَجُلًا، قَالَ: فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنَ الَّذِي سَمِعَهُ مِنْهُ أَبِي، كَانَ صَدِيقًا لَهُ بِالشَّامِ، ثُمَّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الدِّينُ النَّصِيحَةُ، قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَعَامَّتِهِمْ ".
سفیان بن عیینہ نے کہا: میں نے سہیل سے کہا کہ عمرو نے ہمیں قعقاع کے واسطے سے آپ کے والد سے حدیث سنائی (سفیان نے کہا:) مجھے امید تھی کہ وہ (مجھے خود روایت سنا کر) ایک راوی کم کر دے گا (چنانچہ سہیل نے کہا) میں نے اسی سے یہ روایت سنی جس سے میرے والد نے سنی، وہ شام میں ان کا دوست تھا۔ (محمد بن عباد نے کہا) پھر سفیان نے ہمیں سہیل کے واسطے سے عطاء بن یزید کی حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین خیر خواہی کا نام ہے۔“ ہم (صحابہ رضی اللہ عنہم) نے پوچھا: کس کی (خیر خواہی؟) آپ نے فرمایا: ”اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلمانوں کے امیروں کی اور عام مسلمانوں کی (خیر خواہی۔)“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 196]
سفیان رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ میں نے سہیل رحمہ اللہ سے کہا: عمرو رحمہ اللہ نے ہمیں قعقاع رحمہ اللہ کے واسطہ سے آپ کے والد سے حدیث سنائی ہے اور میری خواہش یہ تھی کہ وہ مجھے روایت سنائیں، تاکہ ایک راوی کم ہو جائے، تو سہیل رحمہ اللہ نے کہا: میں نے اپنے والد کے شامی دوست، جس سے وہ روایت بیان کرتے ہیں، خود سنی ہے۔ (اب یہ روایت قعقاع رحمہ اللہ اور سہیل رحمہ اللہ کے باپ ابو صالح رحمہ اللہ کی بجائے سہیل رحمہ اللہ سے ہے اور سند عالی ہو گئی ہے) پھر سفیان رحمہ اللہ نے ہمیں سہیل رحمہ اللہ سے عطاء بن یزید رحمہ اللہ کی تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ» ”دین خیرخواہی کا نام ہے۔“ ہم نے پوچھا: کس کی خیر خواہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلمانوں کے امیروں کی اور عام مسلمانوں کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 196]
ترقیم فوادعبدالباقی: 55
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد فى ((سننه)) فى الادب، باب: فى النصيحة برقم (4944) والنسائي فى ((المجتبي من السنن)) 156/7-157 فى البيعة، باب: النصيحة للامام - انظر ((التحفة)) برقم (2053)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 55 ترقیم شاملہ: -- 197
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
سفیان ثوری نے سہیل بن ابی صالح سے، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے، انہوں نے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 197]
سفیان ثوری رحمہ اللہ نے سہیل بن ابوصالح رحمہ اللہ سے، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی رحمہ اللہ سے، انہوں نے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 197]
ترقیم فوادعبدالباقی: 55
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق (194)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 55 ترقیم شاملہ: -- 198
وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ سَمِعَهُ وَهوُ يُحَدِّثُ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ہمیں روح بن قاسم نے حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں سہیل نے عطاء سے اس وقت سن کر روایت کی جب وہ ابوصالح کو حدیث بیان کر رہے تھے، (کہا:) تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، (کہا:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 198]
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت نقل کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 198]
ترقیم فوادعبدالباقی: 55
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث قبل السابق (194)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 56 ترقیم شاملہ: -- 199
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ".
قیس (بن ابی حازم) نے حضرت جریر (بن عبداللہ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے، زکاۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 199]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 199]
ترقیم فوادعبدالباقی: 56
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الايمان، باب: قول النبى صلى الله عليه وسلم ((الدين النصيحة: لله ولرسوله ولائمة المسلمين ......)) برقم (57) وفى ((المواقيت))، باب: البيعة على اقامة الصلاة برقم (501) وفي الزكاة، باب: البيعة على ايتاء الزكاة برقم (1336) - وفى ((البيوع)) باب: هل ببيع حاضر لباد بغير أجر وهل يعينه او ينصحه برقم (2049) وفى الشروط من باب: ما يجوز فى الشروط فى الاسلام، والاحكام والمبايعة برقم (2566) والترمذى فى ((جامعه)) فى ((البر والصلة))»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 56 ترقیم شاملہ: -- 200
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ سَمِعَ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ".
زیاد بن علاقہ (کوفی) سے روایت ہے، انہوں نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 200]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر مسلمان کی خیر خواہی پر بیعت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 200]
ترقیم فوادعبدالباقی: 56
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الايمان، باب: قول النبى صلى الله عليه وسلم ((الدين باب: ماجاء فى النصيحة)) وقال: حديث صحيح برقم (1925) انظر ((التحفة)) برقم (3226) النصيحة لله والرسوله ...... برقم (58) وفى كتاب الشروط، باب: ما يجوز من الشروط فى الاسلام والاحكام والمبايعة برقم (2565) والنسائى فى ((المجتبى)) 140/7 فى البيعة، باب: البيعة على النصح لكل مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (3210)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 56 ترقیم شاملہ: -- 201
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: " بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فَلَقَّنَنِي فِيمَا اسْتَطَعْتَ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ "، قَالَ يَعْقُوبُ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ.
سریج بن یونس اور یعقوب دورقی نے کہا: ہشیم نے ہمیں سیار کے واسطے سے شعبی سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام) سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ یہ کہلوایا: ”جہاں تک تمہارے بس میں ہو گا۔“ اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی پر۔ یعقوب نے اپنی روایت میں کہا: ہمیں سیار نے حدیث سنائی۔ (یعقوب نے براہ راست سیار سے بھی یہ روایت سنی اور ہشیم کے واسطے سے بھی، لفظ وہی تھے۔) سریج بن یونس اور یعقوب دورقی نے کہا: ہشیم نے ہمیں سیار کے واسطے سے شعبی سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام) سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ یہ کہلوایا: ”جہاں تک تمہارے بس میں ہو گا۔“ اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی پر۔ یعقوب نے اپنی روایت میں کہا: ہمیں سیار نے حدیث سنائی۔ (یعقوب نے براہ راست سیار سے بھی یہ روایت سنی اور ہشیم کے واسطے سے بھی، لفظ وہی تھے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 201]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات سننے اور ماننے پر بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تلقین کی کہ ”جہاں تک تیرے بس میں ہو۔“ اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کی بیعت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 201]
ترقیم فوادعبدالباقی: 56
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحة)) فى الاحكام باب: كيف يبايع الامام الناس برقم (6778) والنسائي فى ((المجتبى)) 152/7 فى البيعة، باب البيعة فيما يستطيع الانسان برقم (4200) انظر ((التحفة)) برقم (3216)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
24. باب بَيَانِ نُقْصَانِ الإِيمَانِ بِالْمَعَاصِي وَنَفْيِهِ عَنِ الْمُتَلَبِّسِ بِالْمَعْصِيَةِ عَلَى إِرَادَةِ نَفْيِ كَمَالِهِ:
باب: گناہوں سے ایمان کے گھٹ جانے اور بوقت گناہ گنہگار سے ایمان کے جدا ہو جانے یعنی گناہ کرتے وقت ایمان کا کامل نہ رہنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 57 ترقیم شاملہ: -- 202
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولَانِ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُحَدِّثُهُمْ هَؤُلَاءِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ثُمَّ يَقُولُ: وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ، يُلْحِقُ مَعَهُنَّ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ، يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ.
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور سعید بن مسیب سے سنا، دونوں کہتے تھے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زانی زنا نہیں کرتا کہ جب زنا کر رہا ہو تو وہ مومن ہو، چور چوری نہیں کرتا کہ جب چوری کر رہا ہو تو وہ مومن ہو، شرابی شراب نہیں پیتا کہ جب شراب پی رہا ہو تو وہ مومن ہو۔“ ابن شہاب نے بیان کیا کہ عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمن نے مجھے خبر دی کہ (اس کے والد) ابوبکر ان کے سامنے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ سب باتیں روایت کرتے، پھر کہتے: اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان میں یہ بات بھی شامل کرتے تھے کہ ”کسی بڑی قدر و قیمت والی چیز کو، جس کی وجہ سے لوگ لوٹنے والے کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے ہوں، وہ نہیں لوٹتا کہ جب لوٹ رہا ہو تو وہ مومن ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 202]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زانی جب زنا کر رہا ہوتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا، اور چور جب چوری کر رہا ہوتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا، اور نہ شراب پیتے وقت (شرابی) مومن ہوتا ہے۔“ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مذکورہ بالا باتوں کے بعد ان کے ساتھ یہ بات بھی ملاتے: ”نہ (لوٹنے والا) کسی بڑی قدر و منزلت والی چیز کو، جس کی طرف لوگ نظر اٹھاتے ہیں، لوٹتے وقت مومن ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 202]
ترقیم فوادعبدالباقی: 57
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الاشربة برقم (5256) كذا فى التحفة برقم (13329 و 15320)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة