صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
25. باب بَيَانِ خِصَالِ الْمُنَافِقِ:
باب: منافق کی خصلتوں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 59 ترقیم شاملہ: -- 213
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ أَبُو زُكَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يُحَدِّثُ بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ، وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ ".
یحییٰ بن محمد بن قیس ابوزکیر نے کہا: میں نے علاء بن عبدالرحمن کو اسی (مذکورہ بالا) سند کے ساتھ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: ”منافق کے علامات تین ہیں، چاہے وہ روزہ رکھے، نماز پڑھے اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 213]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا حدیث بیان کی اور کہا: ”منافق کی علامات تین ہیں، اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو، نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 213]
ترقیم فوادعبدالباقی: 59
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي فى ((جامعه)) فى الايمان، باب: ماجاء فى علامة المنافق ولم يذكر فيه وإن صام وصلي وزعم أنه مسلم۔ وقال: هذا حديث حسن غريب من حديث العلاء برقم (2631) انظر ((التحفة)) برقم (14096)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 59 ترقیم شاملہ: -- 214
وحَدَّثَنِي أَبُو نَصْرٍ التَّمَّار وَعَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ، ذَكَرَ فِيهِ: وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى، وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ.
حماد بن سلمہ نے داؤد بن ابی ہندہ سے، انہوں نے سعید بن مسیب کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی جو یحییٰ بن محمد کی علاء سے بیان کردہ روایت کے مطابق ہے اور اس میں بھی یہ الفاظ ہیں: ”خواہ روزہ رکھے، نماز پڑھے اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 214]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مذکورہ حدیث بیان کی اور اس میں ہے: ”اگرچہ وہ روزہ رکھے، نماز پڑھے اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 214]
ترقیم فوادعبدالباقی: 59
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14096)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
26. باب بَيَانِ حَالِ إِيمَانِ مَنْ قَالَ لأَخِيهِ الْمُسْلِمِ يَا كَافِرُ:
باب: مسلمان بھائی کو کافر کہنے والے کے ایمان کے حال کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 60 ترقیم شاملہ: -- 215
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَفَّرَ الرَّجُلُ أَخَاهُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا ".
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بھائی کو کافر قرار دے تو دونوں میں سے ایک (ضرور) کفر کے ساتھ واپس لوٹے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 215]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ایک آدمی اپنے بھائی کو کافر کہتا ہے تو دونوں میں سے ایک اس کا مستحق ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 215]
ترقیم فوادعبدالباقی: 60
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (8004 و 8095)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 60 ترقیم شاملہ: -- 216
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرِئٍ قَالَ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا، إِنْ كَانَ كَمَا قَالَ، وَإِلَّا رَجَعَتْ عَلَيْهِ ".
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی سے کہا: اے کافر! تو دونوں میں سے ایک (کفر کی) اس (نسبت) کے ساتھ لوٹے گا۔ اگر وہ ایسا ہی ہے جس طرح اس نے کہا (تو ٹھیک) ورنہ یہ بات اسی (کہنے والے) پر لوٹ آئے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 216]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنے بھائی سے کہا: «يَا كَافِرُ» ”اے کافر!“ تو کفر ان دونوں میں سے ایک کی طرف ضرور پلٹے گا، اگر مخاطب واقعی کافر ہے تو ٹھیک ہو گا (ورنہ کہنے والا کافر ہو گا)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 216]
ترقیم فوادعبدالباقی: 60
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (7135)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 61 ترقیم شاملہ: -- 217
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ يَعْمَرَ ، أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ، إِلَّا كَفَرَ، وَمَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّا، وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ دَعَا رَجُلًا بِالْكُفْرِ، أَوَ قَالَ: عَدُوَّ اللَّهِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، إِلَّا حَارَ عَلَيْهِ ".
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جس شخص نے دانستہ اپنے والد کے بجائے کسی اور (کا بیٹا ہونے) کا دعویٰ کیا تو اس نے کفر کیا اور جس نے ایسی چیز کا دعویٰ کیا جو اس کی نہیں ہے، وہ ہم میں سے نہیں، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ اور جس شخص نے کسی کو کافر کہہ کر پکارا یا اللہ کا دشمن کہا، حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو یہ (الزام) اسی (کہنے والے) کی طرف لوٹ جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 217]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جو شخص دانستہ اپنے باپ کی بجائے کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس نے کفر کیا، اور جو ایسی چیز کا دعویٰ کرتا ہے جو اس کی نہیں ہے، وہ ہم میں سے نہیں ہے، اور وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ اور جو شخص کسی کو کافر کہہ کر پکارتا ہے، یا اللہ کا دشمن کہتا ہے، حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو کفر اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 217]
ترقیم فوادعبدالباقی: 61
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى المناقب، باب: نسبة اليمن الي اسماعيل برقم (3317) وفي الادب، باب: ما ينهي من السباب واللعن برقم (5698) انظر ((التحفة)) برقم (11929)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
27. باب بَيَانِ حَالِ إِيمَانِ مَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ:
باب: علم کے باوجود اپنے باپ کے سوا اور کسی کا بیٹا کہلانے والے کے ایمان کا حال۔
ترقیم عبدالباقی: 62 ترقیم شاملہ: -- 218
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے آباء سے بے رغبتی نہ کرو، چنانچہ جس شخص نے اپنے والد سے انحراف کیا تو یہ (عمل) کفر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 218]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے باپوں سے بے رغبتی نہ کرو، کیونکہ اپنے باپ سے بے رغبتی (انحراف) کرنا کفر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 218]
ترقیم فوادعبدالباقی: 62
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الفرائض، باب: من ادعي الی غير أبيه برقم (6386) انظر ((التحفة)) برقم (14154)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 63 ترقیم شاملہ: -- 219
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ؟ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: سَمِعَ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: " مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الإِسْلَامِ غَيْرَ أَبِيهِ، يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
خالد نے ابوعثمان سے نقل کیا کہ جب زیاد کی نسبت (ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی طرف ہونے) کا دعویٰ کیا گیا تھا تو میں جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور پوچھا: یہ تم لوگوں نے کیا کیا؟ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میرے دونوں کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جس نے اسلام کی حالت میں اپنے حقیقی باپ کے سوا کسی اور کو باپ بنانے کا دعویٰ کیا اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے۔“ اس پر حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: خود میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 219]
ابوعثمان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب زیاد کی نسبت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی یا (معاویہ رضی اللہ عنہ نے) اس کے بھائی ہونے کا دعویٰ کیا تو میں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا: تم نے یہ کیا کیا؟ میں نے تو سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: میں نے اپنے کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جس نے اسلام میں اپنے حقیقی باپ کے سوا کسی اور کے باپ ہونے کا یہ جانتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ میرا باپ نہیں ہے، اس کا جنت میں داخلہ نہیں ہے“ تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: خود میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 219]
ترقیم فوادعبدالباقی: 63
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى المغازي، باب: غزوة الطائف برقم (53) وفي الفرائض باب: من ادعى الى غير ابيه برقم (6385) وابوداؤد فى ((سننه)) فى الادب، باب: فى الرجل ينتمى الى غير مواليه برقم (5113) وابن ماجه فى ((سننه)) فى الحدود، باب: من ادعى الى غير ابيه او تولى غير مواليه برقم (2610) - انظر ((التحفة)) برقم (3902)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 63 ترقیم شاملہ: -- 220
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَعْدٍ وأبى بكرة كلاهما، يَقُولُ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ ".
عاصم نے ابوعثمان سے اور انہوں نے حضرت سعد اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ دونوں کہتے تھے: یہ بات میرے دونوں کانوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی (اور میرے دل نے یاد رکھی) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”جس نے اپنے والد کے سوا کسی اور کو والد بنانے کا دعویٰ کیا، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا والد نہیں ہے، تو اس پر جنت حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 220]
حضرت سعد اور حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہما دونوں نے کہا: یہ بات میرے دونوں کانوں نے سنی اور میرے دل نے یاد رکھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کے بارے میں باپ ہونے کا دعویٰ کیا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے، ایسے انسان کے لیے جنت حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 220]
ترقیم فوادعبدالباقی: 63
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (216)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
28. باب بَيَانِ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» :
باب: اس حدیث کا بیان کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 64 ترقیم شاملہ: -- 221
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ "، قَالَ زُبَيْدٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ يَرْوِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، قَوْلُ زُبَيْدٍ لِأَبِي وَائِلٍ.
محمد بن طلحہ، سفیان اور شعبہ تینوں نے زبید سے حدیث سنائی، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔“ زبید نے کہا: میں نے ابووائل سے پوچھا: کیا آپ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے خود سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ شعبہ کی روایت میں زبید کے ابووائل سے پوچھنے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 221]
ترقیم فوادعبدالباقی: 64
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الايمان، باب: خوف المؤمن من ان يحبط عمله وهو لا يشعر برقم (48) وفى الادب برقم (5697) والترمذى فى ((جامعه)) فى الايمان باب: ما جاء فى سباب المؤمن فسوق برقم (2635) وفى البر والصلة، باب ما جاء فى الشتم وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (1983) والنسائي فى ((المجتبى)) 122/7 فى التحريم، باب: قتال المسلم - انظر ((التحفة)) برقم (9243 و 9299)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 64 ترقیم شاملہ: -- 222
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
منصور اور اعمش دونوں نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 222]
ترقیم فوادعبدالباقی: 64
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الفتن، باب: قول النبى: ((لا ترجعوا بعدى كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض)) برقم (6665) والنسائي فى ((المجتبى)) 127/7-128 فى التحريم، باب: تحريم القتل۔ وابن ماجه فى ((سننه)) فى المقدمة، باب: الايمان برقم (69) انظر ((التحفة)) برقم (9251)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة