صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب بَيَانِ نُقْصَانِ الإِيمَانِ بِنَقْصِ الطَّاعَاتِ وَبَيَانِ إِطْلاَقِ لَفْظِ الْكُفْرِ عَلَى غَيْرِ الْكُفْرِ بِاللَّهِ كَكُفْرِ النِّعْمَةِ وَالْحُقُوقِ:
باب: عبادات کی کمی سے ایمان کا گھٹنا، اور کفر کا کفران نعمت پر اطلاق کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 80 ترقیم شاملہ: -- 243
وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عیاض بن عبداللہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور (سعید) مقبری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی جس طرح حضرت اعمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 243]
ترقیم فوادعبدالباقی: 80
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحـه)) في الحيض، باب: ترك الحائض الصوم برقم (298) - وفى العيدين، باب: الخروج الى المصلى بغير منبر - مطولا برقم (913) وفي الزكاة، باب: الزكاة على الاقارب مطولا برقم (1393) وفى الصوم، باب: الحائض تترك الصوم والصلاة، مختصراً برقم (1850) وفى الشهادات، باب: شهادة النساء برقم (2515) و (المولف) [مسلم] في صلاة العيدين برقم (2050) والنسائي في ((المجتبی)) 187/3 في العيدن، باب: استقبال الامام الناس بوجهه، في باب: حث الامام على الصدقة في الخطبة 188/3 وابن ماجه في ((سننه)) في اقامة الصلاة والسنة فيها، باب: ما جاء في الخطبة في العيدين برقم ((1288) انظر ((التحفة)) برقم (13006 و 4271)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
35. باب بَيَانِ إِطْلاَقِ اسْمِ الْكُفْرِ عَلَى مَنْ تَرَكَ الصَّلاَةَ:
باب: تارک الصلاۃ پر کفر کے اطلاق کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 81 ترقیم شاملہ: -- 244
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ، اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي، يَقُولُ: يَا وَيْلَهُ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ: يَا وَيْلِي، أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ، فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِي النَّارُ ".
حضرت ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ابن آدم سجدے کی آیت تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتے ہوئے وہاں سے ہٹ جاتا ہے، وہ کہتا ہے: ہائے اس کی ہلاکت! (اور ابوکریب کی روایت میں ہے، ہائے میری ہلاکت!) ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا تو اس نے سجدہ کیا، اس پر اسے جنت مل گئی اور مجھے سجدے کا حکم ملا تو میں نے انکار کیا، سو میرے لیے آگ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 244]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ابنِ آدم (انسان) سجدہ کی آیت تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے، شیطان روتے ہوئے وہاں سے ہٹ جاتا ہے اور کہتا ہے: ہائے اس کی ہلاکت۔“ اور ابو کریب کی روایت میں ہے: ”ہائے میری تباہی! ابنِ آدم کو سجدہ کا حکم ملا، تو وہ سجدہ کر کے جنت کا مستحق ٹھہرا اور مجھے سجدہ کا حکم ملا، تو میں انکار کر کے دوزخ کا حق دار ٹھہرا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 244]
ترقیم فوادعبدالباقی: 81
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، وابن ماجه في ((سننه)) في كتاب اقامة الصلاة والسنة فيها، باب: سجود القرآن برقم (1052) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (12524)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 81 ترقیم شاملہ: -- 245
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَعَصَيْتُ فَلِي النَّارُ.
وکیع نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی۔ فرق یہ ہے کہ وکیع نے ( «فأبيت» ..... ”میں نے انکار کیا“ کے بجائے) فعصیت فعلی النار ”میں نے نافرمانی کی تو میرے لیے جہنم (مقدر) ہوئی“ کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 245]
امام مسلم رحمہ اللہ ایک دوسری سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، اتنا فرق ہے کہ اس میں «أَبَيْتُ» کی بجائے «عَصَيْتُ» ”(میں نے نافرمانی کی) اس لیے میرے لیے آگ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 245]
ترقیم فوادعبدالباقی: 81
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (12473)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 82 ترقیم شاملہ: -- 246
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كلاهما، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ، وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ، تَرْكَ الصَّلَاةِ ".
ابوسفیان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 246]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”انسان کو شرک و کفر سے جوڑنے والی چیز نماز چھوڑنا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 246]
ترقیم فوادعبدالباقی: 82
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذى في ((جامعه)) في الايمان، باب: ما جاء في ترك الصلاة وقال هذا حدیث حسن صحیح برقم (2618) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (2303)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 82 ترقیم شاملہ: -- 247
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بَيْنَ الرَّجُلِ، وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ، تَرْكُ الصَّلَاةِ ".
ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز چھوڑنا ہے۔“ (اس روایت میں «إن» ”بے شک“ کا لفظ نہیں، باقی وہی ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 247]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”آدمی کو شرک و کفر سے جوڑنے والی چیز نماز چھوڑنا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 247]
ترقیم فوادعبدالباقی: 82
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه النسائي في ((المجتبى)) 232/1 في الصلاة، باب: الحكم في تارك الصلاة انظر ((التحفة)) برقم (2817)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
36. باب بَيَانِ كَوْنِ الإِيمَانِ بِاللَّهِ تَعَالَى أَفْضَلَ الأَعْمَالِ:
باب: اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 83 ترقیم شاملہ: -- 248
وحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: حَجٌّ مَبْرُورٌ "، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.
منصور بن ابی مزاحم اور محمد بن جعفر بن زیاد نے کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے حدیث سنائی، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل پر ایمان لانا۔“ پوچھا گیا: پھر اس کے بعد کون سا؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“ پوچھا گیا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”حج مبرور (ایسا حج جو سراسر نیکی اور تقوے پر مبنی اور مکمل ہو۔)“ محمد بن جعفر کی روایت میں ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 248]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان باللہ۔“ پوچھا گیا: پھر اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد (اللہ کے راستے میں جہاد کرنا)۔“ پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”حجِ مقبول۔“ اور محمد بن جعفر کی روایت میں ہے: ”اللہ اور رسول پر ایمان لانا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 248]
ترقیم فوادعبدالباقی: 83
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الايمان، باب: من قال: ان الايمان هو العمل برقم (26) وفي الحج، باب: فضل الحج المبرور برقم (1447) والنسائي في كتاب: الايمان، باب: ذکر افضل الاعمال 93/8-94 - انظر ((التحفة)) برقم (13101)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 83 ترقیم شاملہ: -- 249
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
(ابراہیم بن سعد کے بجائے) معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 249]
امام مسلم رحمہ اللہ یہی روایت ایک دوسری سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 249]
ترقیم فوادعبدالباقی: 83
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه النسائي في ((المجتبى)) 113/5 فی الحج، باب: فضل الحج، وفي الجهاد، في باب ما يعدل الجهاد في سبيل الله عز وجل 19/6 - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (13280)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 84 ترقیم شاملہ: -- 250
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ؟ قَالَ: تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ ".
ہشام بن عروہ نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے ابومراوح لیثی سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ کہا: میں نے (پھر) پوچھا: کون سی گردن (آزاد کرنا) افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جو اس کے مالکوں کی نظر میں زیادہ نفیس اور زیادہ قیمتی ہو۔“ کہا: میں نے پوچھا: اگر میں یہ کام نہ کر سکوں تو؟ آپ نے فرمایا: ”کسی کاریگر کی مدد کرو یا کسی اناڑی کا کام (خود) کر دو۔“ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ غور فرمائیں اگر میں ایسے کسی کام کی طاقت نہ رکھتا ہوں تو؟ آپ نے فرمایا: ”لوگوں سے اپنا شر روک لو (انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ) یہ تمہاری طرف سے خود تمہارے لیے صدقہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 250]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ پھر میں نے پوچھا: کون سی گردن (آزاد کرنا) افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے مالکوں کو زیادہ پسندیدہ اور قیمت میں زیادہ ہو۔“ میں نے پوچھا: اگر میں یہ کام نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کاریگر کی مدد کرو یا اناڑی کا کام کر دو۔“ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں کوئی کام نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں سے اپنا شر روک لو (ان کو تکلیف نہ پہنچاؤ)، یہ بھی تیرا اپنے اوپر صدقہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 250]
ترقیم فوادعبدالباقی: 84
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في العتق باب: اى الرقاب افضل برقم (2382) والنسائي في ((المجتبى)) 19/6 في الجهاد، باب: ما يعدل الجهاد في سبيل الله مختصراً۔ وابن ماجه في ((سننه)) في العتق، باب: العتق برقم (2523) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (12004)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 84 ترقیم شاملہ: -- 251
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عبد: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ غَيْرَ، أَنَّهُ قَالَ: فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ للأَخْرَقَ.
(ہشام کے بجائے) عروہ بن زبیر کے آزاد کردہ غلام حبیب نے سابقہ سند سے یہی روایت بیان کی، فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے (تعین صانع کے بجائے) «فتعین الصانع» (الف لام کے ساتھ) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 251]
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، فرق یہ ہے کہ اس میں «فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ» ”پس تم کسی کاریگر کی مدد کرو یا کسی بے ہنر کے لیے کچھ بنا دو“ کے الفاظ ہیں (اوپر کی روایت میں «تُعِينُ صَانِعًا» ”تم کسی کاریگر کی مدد کرو“ کے الفاظ تھے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 251]
ترقیم فوادعبدالباقی: 84
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (246)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 85 ترقیم شاملہ: -- 252
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَمَا تَرَكْتُ أَسْتَزِيدُهُ، إِلَّا إِرْعَاءً عَلَيْهِ ".
(ابواسحاق سلیمان بن فیروز کوفی) شیبانی نے ولید بن عیزار سے، انہوں نے سعد بن ایاس ابوعمرو شیبانی سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔“ میں پوچھا: اس کے بعد کون؟ فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ میں نے مزید پوچھنا صرف اس لیے چھوڑ دیا کہ آپ پر گراں نہ گزرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 252]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز اپنے وقت پر۔“ میں نے پوچھا: اس کے بعد کون سا؟ فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسنِ سلوک۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رعایت و لحاظ کی خاطر مزید سوالات نہ کیے۔ (کہ آپ پر گراں نہ گزرے) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 252]
ترقیم فوادعبدالباقی: 85
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في مواقيت الصلاة، باب: فضل الصلاة لوقتها برقم (504) وفي الجهاد، باب: فضل الجهاد والسير برقم (2630) وفي الادب، باب: البر والصلة برقم (5625) وفي التوحيد،باب: وسمى النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة عملا وقال: ((لاصلاة لمن لمن يقرا بفاتحة الكتاب)) برقم (7096) والترمذى في ((جامعه)) في الصلاة، باب: ما جاء في الوقت الاول من الفضل۔ وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (173) والنسائي في ((المجتبى)) 1//292 في المواقيت، باب فضل الصلاة لمواقيتها - انظر ((تحفة الاشراف)) (9232)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة