صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
51. باب الْحَثِّ عَلَى الْمُبَادَرَةِ بِالأَعْمَالِ قَبْلَ تَظَاهُرِ الْفِتَنِ:
باب: فتنہ فساد پھیلنے سے پہلے نیک اعمال کی ترغیب۔
ترقیم عبدالباقی: 118 ترقیم شاملہ: -- 313
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا، وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا، وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان فتنوں سے پہلے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح (چھا جانے والے) ہوں گے، (نیک) اعمال کرنے میں جلدی کرو۔ (ان فتنوں میں) صبح کو آدمی مومن ہو گا اور شام کو کافر یا شام کو مومن ہو گا تو صبح کو کافر، اپنا دین (ایمان) دنیوی سامان کے عوض بیچتا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 313]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان فتنوں سے پہلے پہلے جو رات کے تاریک ٹکڑوں کی طرح چھا جائیں گے، نیک اعمال کر لو، صبح کو آدمی مسلمان ہوگا اور شام کو کافر، یا شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کافر، اپنا دین ایمان دنیوی سامان کے عوض بیچ ڈالے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 313]
ترقیم فوادعبدالباقی: 118
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (13990)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
52. باب مَخَافَةِ الْمُؤْمِنِ أَنْ يَحْبَطَ عَمَلُهُ:
باب: مومن کا اپنے اعمال ضائع ہونے سے ڈرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 119 ترقیم شاملہ: -- 314
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ سورة الحجرات آية 2 إِلَى آخِرِ الآيَةِ، جَلَسَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِي بَيْتِهِ، وَقَالَ: " أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَاحْتَبَسَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْرٍو، مَا شَأْنُ ثَابِتٍ، اشْتَكَى؟ قَالَ سَعْدٌ: إِنَّهُ لَجَارِي، وَمَا عَلِمْتُ لَهُ بِشَكْوَى، قَالَ: فَأَتَاهُ سَعْدٌ، فَذَكَرَ لَهُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ثَابِتٌ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي مِنْ أَرْفَعِكُمْ صَوْتًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنَا مِنَ أَهْلِ النَّارِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّة ".
حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب یہ آیت اتری: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ» ”اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اونچی مت کرو۔“ آیت کے آخر تک۔ تو ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھ گئے اور کہنے لگے: میں تو جہنمی ہوں۔ انہوں نے (خود کو) نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کی خدمت میں حاضر ہونے) سے بھی روک لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”ابوعمرو! ثابت کو کیا ہوا؟ کیا وہ بیمار ہیں؟“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرے پڑوسی ہیں اور مجھے ان کی کسی بیماری کا پتہ نہیں چلا۔ حضرت انس نے کہا: اس کے بعد سعد، ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتائی تو ثابت کہنے لگے: یہ آیت اتر چکی ہے اور تم جانتے ہو کہ تم سب میں میری آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے زیادہ بلند ہے، اس بنا پر میں جہنمی ہوں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے اس (جواب) کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ وہ تو اہل جنت میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 314]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بتایا جب یہ آیت اتری: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾ [سورة الحجرات: 2] ”اے ایمان والو! اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو (آیت کے آخر تک)۔“ تو ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھ گئے اور کہنے لگے: میں تو دوزخی ہوں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے سے رک گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”اے ابو عمرو! ثابت کو کیا ہوا؟ کیا وہ بیمار ہے؟“ سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: وہ میرا پڑوسی ہے اور مجھے اس کی بیماری کا علم نہیں ہے۔ اس کے بعد سعد رضی اللہ عنہ، ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنائی تو ثابت رضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا: یہ آیت اتر چکی ہے اور تم جانتے ہو میری آواز تم سب کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند ہے، اس بنا پر میں جہنمی ہوں، اس جواب کا ذکر سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں وہ تو جنتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 314]
ترقیم فوادعبدالباقی: 119
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (343)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 119 ترقیم شاملہ: -- 315
وحَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ خَطِيبَ الأَنْصَار، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ، بِنَحْوِ حَدِيثِ حَمَّادٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْر سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ.
جعفر بن سلیمان نے کہا: ہمیں ثابت (بنانی) نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ انصار کے خطیب تھے۔ جب یہ آیت اتری ..... آگے حماد کی (سابقہ) حدیث کی طرح ہے لیکن اس میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 315]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ انصاریوں کے خطیب تھے، جب یہ آیت اتری، آگے حماد رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح ہے لیکن اس میں سعد رضی اللہ عنہ کا واقعہ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 315]
ترقیم فوادعبدالباقی: 119
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (269)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 119 ترقیم شاملہ: -- 316
وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ سورة الحجرات آية 2 وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي الْحَدِيثِ.
(جعفر بن سلیمان کے بجائے) سلیمان بن مغیرہ نے ثابت (بنانی) سے نقل کرتے ہوئے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کی کہ جب یہ آیت اتری: «لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ» ..... انہوں نے بھی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 316]
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ جب آیت ﴿لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾ [سورة الحجرات: 2] اتری، حدیث میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 316]
ترقیم فوادعبدالباقی: 119
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (412)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 119 ترقیم شاملہ: -- 317
وحَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، وَزَادَ فَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ.
معتمر کے والد سلیمان بن طرخان نے ثابت کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی کہ جب یہ آیت اتری (آگے گزشتہ حدیث بیان کی) لیکن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا اور یہ اضافہ کیا: ہم انہیں (اس طرح) دیکھتے کہ ہمارے درمیان اہل جنت میں سے ایک فرد چل پھر رہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 317]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری، (پھر) انہوں نے مذکورہ حدیث بیان کی اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا، اتنا اضافہ کیا کہ ہم اسے اپنے درمیان چلتا دیکھ کر یہ سمجھتے تھے کہ وہ جنتی آدمی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 317]
ترقیم فوادعبدالباقی: 119
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (402)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
53. باب هَلْ يُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِ الْجَاهِلِيَّةِ:
باب: کیا اعمال جاہلیت پر مؤاخذہ ہو گا؟
ترقیم عبدالباقی: 120 ترقیم شاملہ: -- 318
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ أُنَاسٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: " أَمَّا مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ فِي الإِسْلَامِ، فَلَا يُؤَاخَذُ بِهَا، وَمَنْ أَسَاءَ، أُخِذَ بِعَمَلِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالإِسْلَامِ ".
منصور نے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا جاہلیت کے اعمال پر ہمارا مواخذہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے، اس کا جاہلیت کے اعمال پر مواخذہ نہیں ہو گا اور جس نے برے اعمال کیے، اس کا جاہلیت اور اسلام دونوں کے اعمال پر مؤاخذہ ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 318]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہمارے جاہلیت کے عملوں پر مواخذہ ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے اعمال کیے اس کے جاہلیت کے اعمال کا مواخذہ نہیں ہو گا، اور جس نے برے عمل کیے اس کے جاہلیت اور اسلام دونوں کے اعمال کا مواخذہ ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 318]
ترقیم فوادعبدالباقی: 120
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، البخاري في ((صحيحه)) في استتبابة المرتدين، باب: اثم من اشرك بالله وعقوبته في الدنيا والآخرة برقم (6523) انظر ((التحفة)) برقم (9303)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 120 ترقیم شاملہ: -- 319
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: " مَنْ أَحْسَنَ فِي الإِسْلَامِ، لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الإِسْلَامِ، أُخِذَ بِالأَوَّلِ وَالآخِرِ ".
وکیع نے اعمش کے واسطے سے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے جاہلیت میں جو عمل کیے، کیا ان کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ ہو گا؟ تو آپ نے فرمایا: ”جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے، اس کا ان اعمال پر مواخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے اسلام میں برے کام کیے، وہ اگلے اور پچھلے دونوں طرح کے عملوں پر پکڑا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 319]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہمارا جاہلیت کے عملوں پر مواخذہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے اس کے جاہلیت کے اعمال کا مواخذہ نہیں ہو گا، اور جس نے اسلام میں برا طریقہ اختیار کیا اس کے پہلے اور پچھلے اعمال پر مواخذہ ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 319]
ترقیم فوادعبدالباقی: 120
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في استتابة المرتدين، باب: اثم من اشرك بالله، وعقوبته في الدنيا والآخرة - برقم (6523) وابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: ذكر الذنوب برقم (4242) انظر ((التحفة)) برقم (9258)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 120 ترقیم شاملہ: -- 320
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
اعمش کے ایک اور شاگرد علی بن مسہر نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 320]
امام مسلم رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 320]
ترقیم فوادعبدالباقی: 120
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه بمثل الحديث السابق برقم (315)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
54. باب كَوْنِ الإِسْلاَمِ يَهْدِمُ مَا قَبْلَهُ وَكَذَا الْهِجْرَةُ وَالْحَجُّ:
باب: اسلام، ہجرت، اور حج پہلے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 121 ترقیم شاملہ: -- 321
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ كلهم، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ، فَبَكَى طَوِيلًا وَحَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَى الْجِدَارِ، فَجَعَلَ ابْنُهُ، يَقُولُ: يَا أَبَتَاهُ، أَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا، أَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا؟ قَالَ: فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: إِنَّ أَفْضَلَ مَا نُعِدُّ، شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ عَلَى أَطْبَاقٍ ثَلَاثٍ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا أَحَدٌ أَشَدَّ بُغْضًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، وَلَا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَكُونَ قَدِ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ فَقَتَلْتُهُ، فَلَوْ مُتُّ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، لَكُنْتُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَلَمَّا جَعَلَ اللَّهُ الإِسْلَامَ فِي قَلْبِي، أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: ابْسُطْ يَمِينَكَ فَلأُبَايِعْكَ، فَبَسَطَ يَمِينَهُ، قَالَ: فَقَبَضْتُ يَدِي، قَالَ: مَا لَكَ يَا عَمْرُو؟ قَالَ: قُلْتُ: أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ، قَالَ: تَشْتَرِطُ بِمَاذَا؟ قُلْتُ: أَنْ يُغْفَرَ لِي، قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ " أَنَّ الإِسْلَامَ يَهْدِمُ، مَا كَانَ قَبْلَهُ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلِهَا، وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ "، وَمَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَجَلَّ فِي عَيْنِي مِنْهُ، وَمَا كُنْتُ أُطِيقُ أَنْ أَمْلَأَ عَيْنَيَّ مِنْهُ إِجْلَالًا لَهُ، وَلَوْ سُئِلْتُ أَنْ أَصِفَهُ مَا أَطَقْتُ، لِأَنِّي لَمْ أَكُنْ أَمْلَأُ عَيْنَيَّ مِنْهُ، وَلَوْ مُتُّ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، لَرَجَوْتُ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ وَلِينَا أَشْيَاءَ مَا أَدْرِي مَا حَالِي فِيهَا، فَإِذَا أَنَا مُتُّ، فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ، وَلَا نَارٌ، فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي، فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا، ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جَزُورٌ، وَيُقْسَمُ لَحْمُهَا حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ، وَأَنْظُرَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي.
ابن شماسہ مہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے، وہ موت کے سفر پر روانہ تھے، روتے جاتے تھے اور اپنا چہرہ دیوار کی طرف کر لیا تھا۔ ان کا بیٹا کہنے لگا: ابا جان! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو فلاں چیز کی بشارت نہ دی تھی؟ کیا فلاں بات کی بشارت نہ دی تھی؟ انہوں نے ہماری طرف رخ کیا اور کہا: جو کچھ ہم (آیندہ کے لیے) تیار کرتے ہیں، یقیناً اس میں سے بہترین یہ گواہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔ میں تین درجوں (مرحلوں) میں رہا۔ (پہلا یہ کہ) میں نے اپنے آپ کو اس حالت میں پایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجھ سے زیادہ بغض کسی کو نہ تھا اور نہ اس کی نسبت کوئی اور بات زیادہ پسند تھی کہ میں آپ پر قابوپا کر آپ کو قتل کر دوں۔ اگر میں اس حالت میں مر جاتا تو یقیناً دوزخی ہوتا۔ (دوسرے مرحلے میں) جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا کر دی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اپنا دایاں ہاتھ بڑھایئے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں، آپ نے دایاں ہاتھ بڑھایا، کہا: تو میں نے اپنا ہاتھ (پیچھے) کھینچ لیا۔ آپ نے فرمایا: ”عمرو! تمہیں کیا ہوا ہے؟“ میں نے عرض کی: میں ایک شرط رکھنا چاہتا ہوں۔ فرمایا: ”کیا شرط رکھنا چاہتے ہو؟“ میں نے عرض کی: یہ (شرط) کہ مجھے معافی مل جائے۔ آپ نے فرمایا: ”عمرو! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام ان تمام گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے جو اس سے پہلے کے تھے؟ اور ہجرت ان تمام گناہوں کو ساقط کر دیتی ہے جو اس (ہجرت) سے پہلے کیے گئے تھے اور حج ان سب گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے جو اس سے پہلے کے تھے۔“ اس وقت مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی نہ تھا اور نہ آپ سے بڑھ کر میری نظر میں کسی کی عظمت تھی، میں آپ کی عظمت کی بنا پر آنکھ بھر کر آپ کو دیکھ بھی نہ سکتا تھا اور اگر مجھ سے آپ کا حلیہ پوچھا جائے تو میں بتا نہ سکوں گا کیونکہ میں آپ کو آنکھ بھر کر دیکھتا ہی نہ تھا اور اگر میں اس حالت میں مر جاتا تو مجھے امید ہے کہ میں جنتی ہوتا، پھر (تیسرا مرحلہ یہ آیا) ہم نے کچھ چیزوں کی ذمہ داری لے لی، میں نہیں جانتا ان میں میرا حال کیسا رہا؟ جب میں مر جاؤں تو کوئی نوحہ کرنے والی میرے ساتھ نہ جائے، نہ ہی آگ ساتھ ہو اور جب تم مجھے دفن کر چکو تو مجھ پر آہستہ آہستہ مٹی ڈالنا، پھر میری قبر کے گرد اتنی دیر (دعا کرتے ہوئے) ٹھہرنا، جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جا سکتا ہے تاکہ میں تمہاری وجہ سے (اپنی نئی منزل کے ساتھ) مانوس ہو جاؤں اور دیکھ لوں کہ میں اپنے رب کے فرستادوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 321]
ابن شماسہ المہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی موت کے وقت موجود تھے، تو وہ دیر تک روتے رہے اور چہرہ دیوار کی طرف کر لیا، تو ان کا بیٹا کہنے لگا: اے ابا جان! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو فلاں چیز کی بشارت نہیں دی؟ کیا فلاں بشارت نہیں دی تھی؟ تو وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ہم سب سے بہتر چیز جس کا اہتمام و تیاری کرتے ہیں، اللہ کی الوہیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی ہے اور مجھ پر تین قسم کے حالات گزرے ہیں (پہلا یہ) میں نے اپنے آپ کو اس حالت میں پایا کہ مجھ سے زیادہ کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض نہ تھا اور نہ اس سے زیادہ کوئی چیز مجھے پسند تھی کہ میں آپ پر قابو پا کر آپ کو قتل کر دوں، اگر میں (خدانخواستہ) اس حالت میں مر جاتا تو میں یقیناً دوزخی ہوتا۔ (دوسرا حال) جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا کر دی تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اپنا دایاں ہاتھ بڑھائیے، تاکہ میں بیعت کر سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلا دیا، تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمرو! کیا بات ہے؟“ میں نے عرض کیا: شرط طے کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا: ”کیا شرط چاہتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: مجھے معافی مل جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے معلوم نہیں کہ اسلام پہلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے؟ اور ہجرت پہلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے؟ اور حج پہلے گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے؟“ اس وقت مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی نہ تھا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر میرے نزدیک کوئی جلیل القدر تھا۔ اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی بنا پر آنکھ بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہیں سکتا تھا، اور اگر مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ پوچھا جائے تو میں بیان نہیں کر سکوں گا، کیونکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آنکھیں بھر کر دیکھا ہی نہیں، اور اگر میں اس حالت میں مر جاتا تو مجھے امید ہے کہ میں جنتی ہوتا۔ (تیسرا حال یہ ہے) پھر کچھ امور ہمارے سپرد ہوئے، میں نہیں جانتا ان کی ادائیگی میں میری حالت کیا رہی (ان کی بنا پر میرا انجام کیا ہوگا)، تو جب میں مر جاؤں، کوئی نوحہ کرنے والی میرے ساتھ نہ ہو، اور نہ ہی آگ ہو۔ اور جب تم مجھے دفن کر چکو تو مجھ پر مٹی ڈالنا، پھر میری قبر کے گرد اتنا ٹھہرنا جس میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جا سکے، تاکہ میں تمہاری وجہ سے انس حاصل کر سکوں اور دیکھ لوں اپنے رب کے فرستادوں کو میں کیا جواب دیتا ہوں؟ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 321]
ترقیم فوادعبدالباقی: 121
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (10737)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 122 ترقیم شاملہ: -- 322
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ وَاللَّفْظُ لِإِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ قَتَلُوا، فَأَكْثَرُوا وَزَنَوْا، فَأَكْثَرُوا، ثُمَّ أَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو لَحَسَنٌ، وَلَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً، فَنَزَلَ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا سورة الفرقان آية 68 وَنَزَلَ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ سورة الزمر آية 53 ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (جاہلی دور میں) مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے قتل کیے تھے تو بہت کیے تھے اور زنا کیا تھا تو بہت کیا تھا، پھر وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: آپ جو کچھ فرماتے ہیں اور جس (راستے) کی دعوت دیتے ہیں، یقیناً وہ بہت اچھا ہے۔ اگر آپ ہمیں بتا دیں کہ جو کام ہم کر چکے ہیں، ان کا کفارہ ہو سکتا ہے (تو ہم ایمان لے آئیں گے) اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا“ (ہر مسلمان پر ان ابدی احکام کی پابندی ضروری ہے) اور یہ آیت نازل ہوئی: ”اے میرے بندو! جو اپنے اوپر زیادتی کر چکے ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔“ (جو اسلام سے پہلے یہ کام کر چکے ان کے بارے میں وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 322]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کچھ مشرک لوگوں نے (جاہلیت کے دور میں) بہت قتل کیے اور بہت زنا کیے، پھر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرماتے ہیں اور جس راہ کی دعوت دیتے ہیں، وہ بہت اچھا ہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ بتا دیں کہ جو عمل ہم کر چکے ہیں کیا ان کا کوئی کفارہ ہے؟ (تو ہم ایمان لے آئیں) تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا﴾ [سورة الفرقان: 68] ”جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس جان کو اللہ نے محفوظ قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق کے طور پر اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو ایسا کرے گا اس کو سزا سے سابقہ پڑے گا۔“ اور نازل ہوا: ﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾ [سورة الزمر: 53] ”اے میرے بندو! جو اپنے اوپر زیادتیاں کر چکے ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 322]
ترقیم فوادعبدالباقی: 122
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: قوله تعالى: ﴿ قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴾ برقم (4532) وابوداؤد في ((سننه)) فى الفتن والملاحم، باب: في تعظيم قتل المؤمن برقم (4274) مختصراً، من غير ان يذكر القصة۔ وأخرجه النسائي في ((المجتبى)) 226/7 في التحريم، باب: تعظيم الدم۔ انظر ((التحفة)) برقم (5652)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة