🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا» :
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 101 ترقیم شاملہ: -- 283
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ كِلَاهُمَا، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ، فَلَيْسَ مِنَّا، وَمَنْ غَشَّنَا، فَلَيْسَ مِنَّا ".
سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھایا، وہ ہم میں سے نہیں اور جس نے ہمیں دھوکا دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 283]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے، اور جس نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 283]
ترقیم فوادعبدالباقی: 101
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابن ماجه، في الحدود، من شهر السلاح برقم (2575) انظر ((التحفة)) برقم (12692)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 102 ترقیم شاملہ: -- 284
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟ "، قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ كَيْ يَرَاهُ النَّاسُ، مَنْ غَشَّ، فَلَيْسَ مِنِّي ".
علاء نے اپنے والد عبدالرحمن بن یعقوب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلے کی ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے تو آپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا، آپ کی انگلیوں نے نمی محسوس کی تو آپ نے فرمایا: ”غلے کے مالک! یہ کیا ہے؟“ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تو تم نے اسے (بھیگے ہوئے غلے) کو اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکا کیا، وہ مجھ سے نہیں۔“ (ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں میرے ساتھ وابستہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 284]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلہ کے ایک ڈھیر سے گزرے تو اس میں اپنا ہاتھ داخل فرمایا، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو تری محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے غلہ کے مالک! یہ کیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! رات اس پر بارش برسی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اس بھیگے ہوئے غلہ کو اوپر کیوں نہ کیا کہ لوگ دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکا کیا وہ مجھ سے نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 284]
ترقیم فوادعبدالباقی: 102
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في البيوع، باب: في كراهية الفتن في البيوع، وقال: حدیث حسن صحيح برقم (1315) انظر ((التحفة)) برقم (13979)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. باب تَحْرِيمِ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ وَالدُّعَاءِ بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ:
باب: رخسار پر مارنا، گریبان چاک کرنا، اور جاہلیت کی چیخ و پکار کرنا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 103 ترقیم شاملہ: -- 285
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا، مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ، أَوْ شَقَّ الْجُيُوبَ، أَوْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ "، هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى، وَأَمَّا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو بَكْرٍ، فَقَالَا: وَشَقَّ وَدَعَا بِغَيْرِ أَلِفٍ.
یحییٰ بن یحییٰ اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابومعاویہ اور وکیع نے حدیث بیان کی، نیز (محمد بن عبداللہ) ابن نمیر نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، ان سب (ابومعاویہ، وکیع اور ابن نمیر) نے اعمش سے، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رخسار پیٹے یا گریبان چاک کیا یا اہل جاہلیت کی طرح پکارا، وہ ہم میں سے نہیں۔“ یہ یحییٰ کی حدیث ہے (جو انہوں نے ابومعاویہ کے واسطے سے بیان کی۔) البتہ (محمد) ابن نمیر اور ابوبکر بن ابی شیبہ (جنہوں نے ابومعاویہ اور وکیع دونوں سے روایت کی) نے ”او“ کے بجائے الف کے بغیر ’و‘، (”یا“ کے بجائے ”اور“) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 285]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رخسار پیٹے یا گریبان چاک کیا یا جاہلیت کی پکار پکاری، تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ یہ یحییٰ رحمہ اللہ کی حدیث ہے، لیکن ابن نمیر رحمہ اللہ اور ابوبکر رحمہ اللہ دونوں نے کہا: «شَقَّ» اور «دَعَا» الف کے بغیر (یعنی ”أَوْ“ کی جگہ ”وَ“ کہا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 285]
ترقیم فوادعبدالباقی: 103
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الجنائز، باب: ليس منا من ضرب الخدود برقم (1235 و 1236) وفى ((المناقب)) باب: ما ينهى من دعوى الجاهلية برقم (3331) والنسائي في ((المجتبى)) 19/4 في الجنائز، باب: دعوى الجاهلية، وابن ماجه في ((سننه)) في الجنائز، باب: ما جاء في النهى عن ضرب الخدود وشق الجيوب برقم (1584) انظر ((التحفة)) برقم (9569)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 103 ترقیم شاملہ: -- 286
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَا: وَشَقَّ وَدَعَا.
جریر اور عیسیٰ نے اعمش سے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ روایت کی اور دونوں نے کہا: ”اور گریبان چاک کیا اور پکارا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 286]
امام مسلم رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا روایت مختلف سندوں سے بیان کی، انہوں نے کہا: «وَشَقَّ وَدَعَا» ”گریبان چاک کیا اور واویلا کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 286]
ترقیم فوادعبدالباقی: 103
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (281)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 104 ترقیم شاملہ: -- 287
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ، وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ، فَصَاحَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: " أَنَا بَرِيءٌ مِمَّا بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ، وَالْحَالِقَةِ، وَالشَّاقَّةِ ".
قاسم بن مخیمرہ نے بیان کیا کہ مجھے ابوبردہ بن ابی موسیٰ (اشعری) نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا: ”حضرت ابوموسیٰ (اشعری) نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا: حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ایسے شدید بیمار ہوئے کہ ان پر غشی طاری ہو گئی، ان کا سر ان کے اہل خانہ میں سے ایک عورت کی گود میں تھا، (اس موقع پر) ان کے اہل میں سے ایک عورت چیخنے لگی، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ (شدید کمزوری کی وجہ سے) اسے کوئی جواب نہ دے سکے۔ جب افاقہ ہوا تو کہنے لگے: میں اس بات سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براءت کا اظہار فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلا کر ماتم کرنے والی، سر منڈانے والی اور گریبان چاک کرنے والی (عورتوں) سے لا تعلقی کا اظہار فرمایا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 287]
ابو بردہ بن ابی موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اس قدر شدید بیمار ہوئے کہ ان پر غشی طاری ہوگئی، اور ان کا سر ان کے خاندان کی کسی عورت کی گود میں تھا، تو ان کے خاندان کی ایک عورت چیخنے لگی۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ (بے ہوشی کی وجہ سے) اس کو کچھ کہہ نہ سکے (منع نہ کر سکے)، جب ہوش میں آئے، تو کہنے لگے: میں اس سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیزاری کا اظہار فرمایا، یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”چلّانے والی، سر منڈوانے والی اور گریبان چاک کرنے والی سے براءت کا اظہار فرمایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 287]
ترقیم فوادعبدالباقی: 104
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الجنائز، باب ما ينهی عن الحلق عند المصيبة برقم (1234) انظر ((التحفة)) برقم (9125)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 104 ترقیم شاملہ: -- 288
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ يَذْكُرُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وأبى بردة بن أبي موسى ، قَالَا: أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى ، وَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ، قَالَا: ثُمَّ أَفَاقَ، قَالَ: أَلَمْ تَعْلَمِي، وَكَانَ يُحَدِّثُهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ، حَلَقَ، وَسَلَقَ وَخَرَقَ ".
ابوصخرہ نے عبدالرحمن بن یزید اور ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں) ذکر کیا، ان دونوں نے کہا: حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہوئی اور ان کی بیوی ام عبداللہ رضی اللہ عنہا چیختے ہوئے رونے کی آواز نکالتی آئیں، کہا: پھر انہیں افاقہ ہوا تو اسے حدیث سناتے ہوئے بولے: کیا تو نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ میں اس سے بری ہوں جو (غم کے اظہار کے لیے) سر مونڈتے، چیخے چلائے اور کپڑے پھاڑے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 288]
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ اور ابو بردہ رحمہ اللہ بن ابی موسیٰ اشعری دونوں نے بتایا کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہو گئی اور ان کی بیوی ام عبداللہ بلند آواز سے روتی ہوئی آئیں، دونوں نے کہا کہ پھر انہیں ہوش آیا تو انہوں نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں ہے؟ وہ انہیں یہ حدیث بتایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سر منڈانے والے، چلانے والے اور کپڑے پھاڑنے والے سے بیزار ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 288]
ترقیم فوادعبدالباقی: 104
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه النسائي في الجنائز، باب: الحلق 18/4 - وابن ماجه في ((سننه)) في الجنائز، باب: ما جاء في النهى عن ضرب الخدود وشق الجيوب برقم (1586) انظر ((التحفة)) برقم (9020 و 9081)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 104 ترقیم شاملہ: -- 289
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عِيَاضٍ الأَشْعَرِيِّ ، عَنِ امْرَأَةِ أَبِي مُوسَى ، عَنِ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيَاضٍ الأَشْعَرِيِّ، قَالَ: لَيْسَ مِنَّا، وَلَمْ يَقُلْ: بَرِيءٌ.
امام مسلم رضی اللہ عنہ نے تین دیگر سندوں سے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کی جن میں عیاض اشعری نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی زوجہ سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور باقی دو سندوں میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے صفوان بن محرز اور ربعی بن حراش ہیں جبکہ عیاض اشعری کی حدیث میں: ”بری ہوں“ کے بجائے: ”ہم میں سے نہیں“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 289]
ترقیم فوادعبدالباقی: 104
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه النسائي في ((المجتبي)) 21/4 في الجنائز، باب: شق الجيوب عن أبي موسی عن طريق امراته ام عبدالله - انظر ((التحفة)) برقم (9153)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. باب بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ النَّمِيمَةِ:
باب: چغل خوری کی شدید اور سخت حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 105 ترقیم شاملہ: -- 290
حَدَّثَنِي شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الأَحْدَبُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا يَنُمُّ الْحَدِيثَ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ ".
ابووائل نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کی کہ ان کو پتہ چلا کہ ایک آدمی (لوگوں کی باہمی) بات چیت کی چغلی کھاتا ہے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے: ”چغل خور جنت میں داخل نہ ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 290]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ ایک آدمی لگائی بجھائی کرتا ہے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ”چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 290]
ترقیم فوادعبدالباقی: 105
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (3347)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 105 ترقیم شاملہ: -- 291
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَنْقُلُ الْحَدِيثَ إِلَى الأَمِيرِ، فَكُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: هَذَا مِمَّنْ يَنْقُلُ الْحَدِيثَ إِلَى الأَمِيرِ، قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ ".
منصور نے ابراہیم سے اور انہوں نے ہمام بن حارث سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی (لوگوں کی) باتیں حاکم تک پہنچاتا تھا، ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو لوگوں نے کہا: یہ ان میں سے ہے جو باتیں حاکم تک پہنچاتے ہیں۔ (ہمام نے) کہا: وہ شخص آیا اور ہمارے پاس بیٹھ گیا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”چغل خور جنت میں داخل نہ ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 291]
ہمام بن حارث رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی لوگوں کی باتیں حاکم تک پہنچاتا تھا، ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، تو لوگوں نے کہا: یہ ان میں سے ہے جو باتیں حاکم تک پہنچاتے ہیں، اور وہ آکر ہمارے پاس بیٹھ گیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: ”لگائی بجھائی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 291]
ترقیم فوادعبدالباقی: 105
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري ((صحيحه)) في الادب، باب: ما يكره من النميمة برقم (5709) وابوداؤد في ((سننه)) في الادب، باب: في القتات برقم (4871) والترمذي في ((جامعه)) في البر والصلة باب: ما جاء في النمام، وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (2026) انظر ((التحفة)) برقم (3386)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 105 ترقیم شاملہ: -- 292
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ حُذَيْفَةَ فِي الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا، فَقِيلَ لِحُذَيْفَةَ: إِنَّ هَذَا يَرْفَعُ إِلَى السُّلْطَانِ أَشْيَاءَ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : إِرَادَةَ أَنْ يُسْمِعَهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ ".
اعمش نے ابراہیم سے اور انہوں نے ہمام بن حارث سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک آدمی آکر ہمارے پاس بیٹھ گیا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا کہ یہ شخص (لوگوں کی) باتیں حکمران تک پہنچاتا ہے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے سنانے کی غرض سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”چغل خور جنت میں داخل نہ ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 292]
ہمام بن حارث رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک آدمی آ کر ہمارے پاس بیٹھ گیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا کہ یہ انسان بادشاہ تک لوگوں کی باتیں پہنچاتا ہے، تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کو سنانے کے لیے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ: ”چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 292]
ترقیم فوادعبدالباقی: 105
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (287)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں