صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
55. باب بَيَانِ حُكْمِ عَمَلِ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ بَعْدَهُ:
باب: اسلام لانے کے بعد کافر کے سابقہ اعمال کا حکم۔
ترقیم عبدالباقی: 123 ترقیم شاملہ: -- 323
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، هَلْ لِي فِيهَا مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ " وَالتَّحَنُّثُ التَّعَبُّدُ.
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہیں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ان کاموں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو میں جاہلیت کے دور میں اللہ کی عبادت کی خاطر کرتا تھا؟ مجھے ان کا کچھ اجر ملے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نیک کام پہلے کر چکے ہو تم نے ان سمیت اسلام قبول کیا ہے۔“ تخث کا مطلب ہے عبادت گزاری ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 323]
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: بتائیے وہ امور جو میں جاہلیت کے دور میں گناہ سے بچنے کی خاطر کرتا تھا، کیا مجھے ان کا کچھ اجر ملے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم پہلے نیکیاں کر چکے ہو ان کے ساتھ اسلام لائے ہو۔“ «تَحَنُّث»، «تَعَبُّد»: یعنی عبادت و بندگی کو کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 323]
ترقیم فوادعبدالباقی: 123
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) فى الزكاة، باب: من تصدق في الشرك ثم اسلم برقم (1369) وفى البيوع، باب: شراء المملوك من الحربي، وهبته وعتقه برقم (2107) وفي العتق، باب: عتق المشرك برقم (2401) وفى الادب، باب: من وصل رحمه في الشرك ثم اسلم برقم (5646) انظر ((التحفة)) برقم (3432)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 123 ترقیم شاملہ: -- 324
وحَدَّثَنَا حسن الحلواني ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ الْحُلْوَانِيُّ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ عَبد، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صَدَقَةٍ، أَوْ عَتَاقَةٍ، أَوْ صِلَةِ رَحِمٍ، أَفِيهَا أَجْرٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْر ".
(یونس کے بجائے) صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ ان اعمال کے بارے کیا فرماتے ہیں جو میں جاہلیت کے دور میں اللہ کی عبادت کے طور پر کیا کرتا تھا یعنی صدقہ و خیرات، غلاموں کو آزاد کرنا اور صلہ رحمی، کیا ان کا اجر ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھلائی کے کام تم پہلے کر چکے ہو تم ان سمیت اسلام میں داخل ہوئے ہو۔“ (تمہارے اسلام کے ساتھ وہ بھی شرف قبولیت حاصل کر چکے ہیں کیونکہ وہ بھی شہادتین کی تصدیق کرتے ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 324]
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بتائیے وہ امور (نیکیاں) جو میں جاہلیت کے دور میں گناہ سے بچنے کے لیے کرتا تھا یعنی صدقہ و خیرات، غلاموں کی آزادی، صلۂ رحمی تو کیا یہ اجر کا باعث ہوں گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پہلی نیکیوں پر ایمان لایا ہے۔“ (یعنی سابقہ نیکیاں قائم ہیں) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 324]
ترقیم فوادعبدالباقی: 123
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (319)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 123 ترقیم شاملہ: -- 325
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ. ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَشْيَاءَ كُنْتُ أَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ هِشَامٌ: يَعْنِي أَتَبَرَّرُ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ لَكَ مِنَ الْخَيْرِ "، قُلْتُ: فَوَاللَّهِ لَا أَدَعُ شَيْئًا صَنَعْتُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا فَعَلْتُ فِي الإِسْلَامِ مِثْلَهُ.
ابن شہاب زہری کے ایک اور شاگرد معمر نے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی، نیز (ایک دوسری سند کے ساتھ) ابومعاویہ نے ہمیں خبر دی: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: وہ (بھلائی کی) چیزیں (کام) جو میں جاہلیت کے دور میں کیا کرتا تھا؟ (ہشام نے کہا: ان کی مراد تھی کہ میں نیکی کے لیے کرتا تھا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بھلائی سمیت اسلام میں داخل ہوئے جو تم نے پہلے کی۔“ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے جو (نیک) کام جاہلیت میں کیے تھے، ان میں سے کوئی عمل نہیں چھوڑوں گا مگر اس جیسے کام اسلام میں بھی کروں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 325]
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کے ایک اور شاگرد معمر رحمہ اللہ نے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 325]
ترقیم فوادعبدالباقی: 123
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (319)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 123 ترقیم شاملہ: -- 326
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ، أَعْتَقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ رَقَبَةٍ، وَحَمَلَ عَلَى مِائَةِ بَعِيرٍ، ثُمَّ أَعْتَقَ فِي الإِسْلَامِ مِائَةَ رَقَبَةٍ، وَحَمَلَ عَلَى مِائَةِ بَعِيرٍ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
عبداللہ بن نمیر نے ہشام سے سابقہ سند سے روایت کی کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے دور جاہلیت میں سو غلام آزاد کیے تھے اور سو اونٹ سواری کے لیے (مستحقین کو) دیے تھے، پھر اسلام لانے کے بعد (دوبارہ) سو غلام آزاد کیے اور سو اونٹ سواری کے لیے دیے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ..... آگے مذکورہ بالا حدیث کے مطابق بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 326]
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے دورِ جاہلیت میں سو غلام آزاد کیے اور سو اونٹ سواری کے لیے صدقہ کیے، پھر اسلام لانے کے بعد بھی سو غلام آزاد کیے اور سو اونٹ سواری کے لیے خیرات کیے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 326]
ترقیم فوادعبدالباقی: 123
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (319)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
56. باب صِدْقِ الإِيمَانِ وَإِخْلاَصِهِ:
باب: ایمان کی سچائی اور خلوص کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 124 ترقیم شاملہ: -- 327
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالُوا: أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ هُوَ كَمَا تَظُنُّونَ، " إِنَّمَا هُوَ كَمَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ: يَا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13 ".
عبداللہ بن ادریس، ابومعاویہ اور وکیع نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب یہ آیت اتری: ”جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہیں کی۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر یہ آیت گراں گزری اور انہوں نے گزارش کی: ہم میں سے کون ہے جو اپنے نفس پر ظلم نہ کرتا ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس آیت کا مطلب وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو۔ ظلم وہ ہے جس طرح لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا: ”اے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔““ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 327]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت اتری: ﴿جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہیں کی﴾ [سورة الأنعام: 82] تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر یہ آیت بہت شاق (بھاری) گزری۔ انہوں نے گزارش کی کہ ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے نفس پر ظلم نہیں کیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس آیت کا مطلب وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو۔ ظلم سے مراد وہ ہے جیسا کہ لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿اے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کر، شرک بہت بڑا ظلم ہے﴾ [سورة لقمان: 13] ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 327]
ترقیم فوادعبدالباقی: 124
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) فی الایمان، باب: ظلم دون ظلم برقم (32) وفي الانبياء، باب: قول الله تعالى: ﴿ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا ﴾ برقم (3181) وفي باب: قوله تعالى ﴿ وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ ﴾ برقم 3245، 3246 وفي التفسير الأنعام، باب: ﴿ وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ ﴾ برقم (4353) وفي تفسير سورة لقمان، باب: ﴿ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ﴾ برقم (4498) وفى استتابة المرتدين والمعاهدين وقتالهم، باب: اثم من اشرك بالله، وعقوبته في الدنيا والآخرة برقم (6520) وفي باب: ما جاء في المتاولين برقم (6538) والترمذي في ((جامعه)) في التفسير، باب: 7 ومن سورة الانعام وقال: هذا حديث حسن صحیح برقم (3067) انظر ((التحفة)) برقم (9420)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 124 ترقیم شاملہ: -- 328
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنا َ أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ كُلُّهُمْ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ : حَدَّثَنِيهِ أَوَّلًا أَبِي ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
اسحاق بن ابراہیم اور علی بن خشرم نے کہا: ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، نیز منجاب بن حارث تمیمی نے کہا: ہمیں ابن مسہر نے خبر دی، نیز ابوکریب نے کہا: ہمیں ابن ادریس نے خبر دی، پھر ان تینوں (عیسیٰ، ابن مسہر اور ابن ادریس) نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی۔ ابوکریب نے کہا: ابن ادریس نے کہا: پہلے مجھے میرے والد نے ابان بن تغلب سے اور انہوں نے اعمش سے روایت کی، پھر میں نے یہ روایت خود انہی (اعمش) سے سنی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 328]
امام مسلم رحمہ اللہ اپنے بہت سے دوسرے اساتذہ سے مذکورہ بالا حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 328]
ترقیم فوادعبدالباقی: 124
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (323)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
57. باب بَيَانِ تَجَاوُزِ اللَّهِ تَعَالَى عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ وَالْخَوَاطِرِ بِالْقَلْبِ إِذَا لَمْ تَسْتَقِّرَ وَبَيَانِ أَنَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى لَمْ يُكَلِّفْ إِلَّا مَا يُطَاقُ وَبَيَانِ حُكْمِ الْهَمِّ بِالْحَسَنَةِ وَبِالسَّيِّئَةِ
باب: اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور اس بات کا بیان کہ نیکی اور گناہ کے ارادے کا کیا حکم ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 125 ترقیم شاملہ: -- 329
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، وَأُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِأُمَيَّةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سورة البقرة آية 284، قَالَ: فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بَرَكُوا عَلَى الرُّكَبِ، فَقَالُوا: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ كُلِّفْنَا مِنَ الأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ، الصَّلَاةُ، وَالصِّيَامُ، وَالْجِهَادُ، وَالصَّدَقَةُ، وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ الآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ: سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا، بَلْ قُولُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، قَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، فَلَمَّا اقْتَرَأَهَا الْقَوْمُ ذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي إِثْرِهَا آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ سورة البقرة آية 285، فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ، نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَى، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ، رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ، رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ، وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ سورة البقرة آية 286، قَالَ: نَعَمْ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری: ”آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، اللہ ہی کا ہے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تعالیٰ اس پر تمہارا محاسبہ کرے گا، پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر یہ بات انتہائی گراں گزری۔ کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! (پہلے) ہمیں ایسے اعمال کا پابند کیا گیا جو ہماری طاقت میں ہیں: نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ اور اب آپ پر یہ آیت اتری ہے جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم وہی بات کہنا چاہتے ہو جو تم سے پہلے دونوں اہل کتاب نے کہی: ہم نے سنا اور نافرمانی کی! بلکہ تم کہو: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اے ہمارے رب! تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔“ جب صحابہ نے یہ الفاظ دہرانے لگے اور ان کی زبانیں ان الفاظ پر رواں ہو گئیں، تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (ہدایت) پر ایمان لائے جو ان کے رب کی طرف ان پر نازل کی گئی اور سارے مومن بھی۔ سب ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر، (اور کہا:) ہم (ایمان لانے میں) اس کے رسولوں کے درمیان فرق نہیں کرتے اور انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، اے ہمارے رب! تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔“ چنانچہ جب انہوں نے یہ (مان کر اس پر عمل) کیا تو اللہ عزوجل نے اس آیت (کے ابتدائی معنی) منسوخ کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی: ”اللہ کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس نے جو (نیکی) کمائی اور جو (برائی) کمائی (اس کا وبال) اسی پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا ہم خطا کریں تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا۔“ (اللہ نے) فرمایا: ہاں۔ (انہوں نے کہا:) ”اے ہمارے پروردگار! اور ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے (گزر چکے) ہیں۔“ (اللہ نے) فرمایا: ہاں! (پھر کہا:) ”اے ہمارے رب! ہم سے وہ چیز نہ اٹھوا جس کے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔“ (اللہ نے) فرمایا: ہاں! (پھر کہا:) ”اور ہم سے درگزر فرما اور ہمیں بخشش دے اور ہم پر مہربانی فرما۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے، پس تو کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔“ (اللہ نے) فرمایا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 329]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری: آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے اور تمھارے نفسوں (دلوں) میں جو کچھ ہے اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ اس پر تمھارا محاسبہ کرے گا، پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ [سورة البقرة: 284] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر یہ بات شاق گزری، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر دوزانو بیٹھ گئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں ایسے اعمال کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے جو ہماری مقدرت میں ہیں (ہم کر سکتے ہیں) مثلاً: نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ، اور اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری ہے جس پر عمل ہمارے بس میں نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دونوں کتاب والوں (یہود اور نصاریٰ) کی طرح جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی (نہ مانا)؟ بلکہ یوں کہو: «سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» ”ہم نے سنا اور اطاعت کی (مانا)۔ اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش کے طلب گار ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔““ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: «سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» ”ہم نے سن کر مان لیا، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف پہنچنا ہے۔“ جب صحابہ نے یہ الفاظ پڑھے تو ان کے لیے ان کی زبانیں نرم ہو گئیں (آسانی سے الفاظ ان کی زبانوں پر جاری ہو گئے)، اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت کے بعد یہ آیات اتاریں: ﴿اور رسول پر اس کے رب کی طرف سے جو کچھ اتارا گیا اس پر رسول اور مومن ایمان لے آئے، سب ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر۔ ہم اس کے رسولوں کے درمیان (ایمان لانے میں) بالکل فرق نہیں کرتے اور انھوں نے کہا: ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا۔ اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش کے خواستگار ہیں اور تیری ہی طرف واپسی ہے۔﴾ [سورة البقرة: 285] جب انھوں نے یہ کہا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، جس نے پہلی آیت کو منسوخ کر دیا: ﴿اللہ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زائد تکلیف نہیں دیتا (ذمہ داری نہیں ڈالتا) اس کے نفع کے لیے ہیں (جو نیکیاں) اس نے کمائیں اور اسی پر وبال ہے (ان برائیوں کا) جو اس نے کیں۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا یا اگر ہم چوک جائیں (تو پھر بھی نہ پکڑنا)﴾ [سورة البقرة: 286] (اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے“) ﴿اے ہمارے مالک! اور ہم پر بوجھ نہ ڈال ان لوگوں کی طرح جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں﴾ [سورة البقرة: 286] (اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے“) ﴿اے ہمارے آقا! ہم کو ہماری طاقت سے زیادہ احکام کا مکلف نہ ٹھہرا (ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جس کے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں) اور ہم سے درگزر فرما اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر مہربانی فرما! تو ہمارا مولیٰ ہے کافروں کے مقابلہ میں ہماری نصرت فرما۔﴾ [سورة البقرة: 286] (اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے“)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 329]
ترقیم فوادعبدالباقی: 125
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14014)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 126 ترقیم شاملہ: -- 330
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284، قَالَ: دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ، لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا "، قَالَ: فَأَلْقَى اللَّهُ الإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلانَا سورة البقرة آية 286، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ اس پر تمہارا مؤاخذہ کرے گا۔“ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کہا: اس سے صحابہ کے دلوں میں ایک چیز (شدید خوف کی کیفیت کہ احکام الہٰی کے اس تقاضے پر عمل نہ ہو سکے گا) در آئی جو کسی اور بات سے نہیں آئی تھی۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور ہم نے تسلیم کیا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اسی کے لیے ہے جو اس نے کمایا اور اسی پر (وبال) پڑتا ہے جو اس نے ارتکاب کیا۔ ”اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا۔“ اللہ نے فرمایا: میں نے ایسا کر دیا۔ ”اے ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا کہ تو نے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے۔“ فرمایا: میں نے ایسا کر دیا۔ ”ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا مولیٰ ہے۔“ اللہ نے فرمایا: میں نے ایسا کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 330]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب یہ آیت ﴿وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ اللَّهُ﴾ [سورة البقرة: 284] ”تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ اس پر تمہارا مؤاخذہ کرے گا۔“ اتری، تو اس سے صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل میں اس قدر خوف پیدا ہوا جو کسی شے سے پیدا نہیں ہوا تھا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں کہو! ہم نے سنا ہم نے اطاعت کی اور ہم نے مان لیا۔“ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں یقین ڈال دیا، اس پر یہ آیت اتری: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ﴾ [سورة البقرة: 286] ”اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں ٹھہراتا۔ ہر شخص کو (ان کی نیکیوں پر ثواب ملے گا) جو اس نے کی ہیں (اور ان اعمال کا اس پر وبال ہوگا) جو اس نے کیے ہیں۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا (اللہ نے فرمایا: «قَدْ فَعَلْتُ» ”میں نے ایسا کر دیا“) اے ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا کہ تو نے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے (فرمایا: «قَدْ فَعَلْتُ» ”میں نے ایسا کر دیا“) ہم سے درگزر فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا مددگار اور کارساز ہے (اللہ نے فرمایا: «قَدْ فَعَلْتُ» ”میں نے ایسا کر دیا“)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 330]
ترقیم فوادعبدالباقی: 126
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في التفسير، باب: ومن سورة البقرة وقال: حديث حسن برقم (2992) انظر ((التحفة)) برقم (5434)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
58. باب تَجَاوُزِ اللَّهِ عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ وَالْخَوَاطِرِ بِالْقَلْبِ إِذَا لَمْ تَسْتَقِرَّ
باب: اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں۔
ترقیم عبدالباقی: 127 ترقیم شاملہ: -- 331
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وُمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ يَتَكَلَّمُوا، أَوْ يَعْمَلُوا بِهِ ".
ابوعوانہ نے قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان باتوں سے درگزر فرمایا ہے جو وہ (دل میں) اپنے آپ سے کریں: جب تک وہ ان کو زبان پر نہ لائیں یا ان پر عمل نہ کریں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 331]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان باتوں سے درگزر فرمایا ہے جو وہ اپنے نفس میں کریں، جب تک ان کو زبان پر نہ لائیں یا ان پر عمل پیرا نہ ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 331]
ترقیم فوادعبدالباقی: 127
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في العتق، باب: الخطأ والنسيان في العتاقة والطلاق ونحوه، ولا عتاق الا لوجه الله برقم (2391) وفي الطلاق، باب: الطلاق في الاعتراف والكره، والسكران والمجنون وامرهما والغلط والنسيان في الطلاق والشرك وغيره، وما لا يجوز من اقرار الموسوس برقم (4968) وفى الايمان والنذور، باب: اذا حنث ناسيا في الايمان برقم (6287) وابوداؤد في ((سننه)) في الطلاق، باب: في الوسوسة بالطلاق برقم (2209) والترمذي في ((جامعه)) في الطلاق، باب: ما جاء فيمن يحدث نفسه بطلاق امراته وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (1183) والنسائي في ((المجتبى)) في الطلاق، باب: من طلق في نفسه 157/6 وابن ماجه في ((سننه)) في الطلاق، باب: من طلق في نفسه ولم يتكلم به برقم (2040) وفى باب: طلاق المكره والناسى برقم (2044) انظر ((التحفة)) برقم (12896)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 127 ترقیم شاملہ: -- 332
حَدَّثَنَا عمرو الناقد ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كُلُّهُمْ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ: تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ، أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ ".
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان باتوں سے درگزر فرمایا ہے جو وہ دل میں اپنے آپ سے کریں، جب تک اس پر عمل یا کلام نہ کریں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 332]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان باتوں سے درگزر فرمایا ہے جو وہ اپنے نفس سے کرے، جب تک اس پر عمل یا کلام نہ کرے۔“ امام مسلم رحمہ اللہ اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی مذکورہ بالا روایت نقل کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 332]
ترقیم فوادعبدالباقی: 127
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (327)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة