🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. باب بَيَانِ أَنَّ الإِسْلاَمَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا وَأَنَّهُ يَأْرِزُ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ:
باب: اسلام ابتداء میں اجنبی تھا اور انتہاء میں بھی اجنبی ہو جائے گا اور دو مسجدوں میں سمٹ جائے گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 146 ترقیم شاملہ: -- 373
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الأَعْرَجُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا، كَمَا بَدَأَ وَهُوَ يَأْرِزُ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ فِي جُحْرِهَا".
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ نے فرمایا: ”بے شک اسلام کا آغاز اجنبی کی حیثیت سے ہوا تھا اور عنقریب یہ پھر سے اجنبی ہو جائے گا جیسے شروع ہوا تھا اور وہ دو مسجدوں کے درمیان یوں سمٹ آئے گا جیسے سانپ آپنے بل میں سمٹ اتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 373]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مرفوع روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کا آغاز غربت میں ہوا اور ابتدا کی طرح آخر میں غریب ٹھہرے گا، اور وہ دونوں مسجدوں کے درمیان سمٹ آئے گا جیسا کہ سانپ اپنے بل میں آ جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 373]
ترقیم فوادعبدالباقی: 146
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (7430)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 147 ترقیم شاملہ: -- 374
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ ایمان مدینہ کی جانب یوں سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنے بل کی جانب سمٹ آتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 374]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان مدینہ میں لوٹ آئے گا جیسا کہ سانپ اپنے بل کی طرف لوٹ آتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 374]
ترقیم فوادعبدالباقی: 147
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في فضائل المدينة، باب: الايمان يارز الی المدينة برقم (1876) وابن ماجه في ((سننه)) في المناسك، باب: فضل المدينة برقم (3111) انظر ((التحفة)) برقم (12266)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. باب ذَهَابِ الإِيمَانِ آخِرَ الزَّمَانِ:
باب: آخر زمانے میں ایمان کا رخصت ہو جانا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 148 ترقیم شاملہ: -- 375
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ، حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الأَرْضِ: اللَّهُ اللَّهُ ".
حماد نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ (وہ وقت آ جائے گا جب) زمین میں اللہ اللہ نہیں کہا جا رہا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 375]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ زمین پر «اللهُ، اللهُ» ”اللہ، اللہ“ کی آواز بھی نہیں آئے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 375]
ترقیم فوادعبدالباقی: 148
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (344)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 148 ترقیم شاملہ: -- 376
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى أَحَدٍ، يَقُولُ: اللَّهُ اللَّهُ ".
معمر نے ثابت سے خبر دی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی ایسے شخص پر قیامت قائم نہ ہو گی جو اللہ اللہ کہتا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 376]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی ایسے انسان پر قیامت قائم نہیں ہو گی جو «اللهُ اللهُ» ”اللہ اللہ“ کہتا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 376]
ترقیم فوادعبدالباقی: 148
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (474)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. باب جَوَازِ الاِسْتِسْرَارِ لِلْخَائِفِ:
باب: خوف زدہ کے لیے ایمان کو پوشیدہ رکھنے کا جواز۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 149 ترقیم شاملہ: -- 377
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، اللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَحْصُوا لِي كَمْ يَلْفِظُ الإِسْلَامَ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّ مِائَةِ إِلَى السَّبْعِ مِائَةِ؟ قَالَ: " إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلَوْا، قَالَ: فَابْتُلِيَنَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لَا يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا ".
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے فرمایا: ”میرے لیے شمار کرو کہ کتنے (لوگ) اسلام کے الفاظ بولتے ہیں (اسلام کا کلمہ پڑھتے ہیں)؟“ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تب ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو ہم پر (کوئی مصیبت نازل ہو جانے کا) خوف ہے جبکہ ہم چھ سات سو کے درمیان ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم نہیں جانتے، ہو سکتا ہے تم کسی آزمائش میں ڈال دیے جاؤ۔“ پھر ہم آزمائش میں ڈال دیے گئے یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی شخص پوشیدہ رہے بغیر نماز بھی نہیں پڑھ سکتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 377]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اسلام کے نام لیوا لوگوں کی تعداد گن کر بتاؤ۔“ تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے بارے میں اندیشہ ہے؟ اور ہماری تعداد چھ سات سو کے درمیان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھیں پتا نہیں، شاید تم آزمائش میں ڈال دیے جاؤ۔“ پھر ہم آزمائش میں مبتلا ہو گئے، یہاں تک کہ ہم میں بعض لوگ نماز بھی چھپ کر پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 377]
ترقیم فوادعبدالباقی: 149
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الجهاد، باب: كتابة الامام الناس برقم (3060 و 3061) وابن ماجه في ((سننه)) في الفتن، باب: الصبر علی البلاء برقم (4029) انظر ((التحفة)) برقم (3338)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. باب تَأَلُّفِ قَلْبِ مَنْ يَخَافُ عَلَى إِيمَانِهِ لِضَعْفِهِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْقَطْعِ بِالإِيمَانِ مِنْ غَيْرِ دَلِيلٍ قَاطِعٍ.
باب: کمزور ایمان والے کی تالیف قلبی کرنا، اور بغیر دلیل کے کسی کو قطعی مومن کہنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 150 ترقیم شاملہ: -- 378
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِ فُلَانًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: أَوْ مُسْلِمٌ، أَقُولُهَا ثَلَاثًا، وَيُرَدِّدُهَا عَلَيَّ ثَلَاثًا، أَوْ مُسْلِمٌ، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، مَخَافَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ".
سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے عامر بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم کا کچھ مال بانٹا تو میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! فلاں کو بھی دیجیے کیونکہ وہ مومن ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلمان ہے۔“ میں تین بار یہ بات کہتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین بار میرے سامنے یہی الفاظ دہراتے ہیں: ”یا مسلمان ہے۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”میں ایک آدمی کو دیتا ہوں جبکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے، اس ڈر سے کہ کہیں اللہ اس کو منہ کے بل آگ میں (نہ) ڈال دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 378]
عامر بن سعد رحمہ اللہ اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں کو بھی دیجیے وہ مومن ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلمان ہے۔“ میں نے تین دفعہ گزارش کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تینوں دفعہ یہی جواب دیا: ”یا مسلمان۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک آدمی کو دیتا ہوں حالانکہ اس کے مقابلے میں دوسرا آدمی مجھے زیادہ پسند ہوتا ہے، کہ کہیں اللہ اس کو اوندھے منہ جہنم میں نہ ڈال دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 378]
ترقیم فوادعبدالباقی: 150
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الايمان، باب: اذا لم يكن الاسلام على الحقيقة، وكان الاستسلام أو الخوف من القتل لقوله تعالى: ﴿ قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ... الآية ﴾ برقم (27) وفى الزكاة، باب: قول الله تعالى ﴿ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ﴾ وكم الغنى ... الخ برقم (1478) والمولف [مسلم] في الزكاة، باب: اعطاء من يخاف علی ایمانه برقم (2430 و 2431) وابوداؤد في ((سننه))، باب: الدليل على زيادة الايمان ونقصانه برقم (4683 و 4685) والنسائي في ((المجتبى)) 104/8 في الايمان، باب: تاویل قوله عز وجل ﴿ قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا ... الآية ﴾ - انظر ((التحفة)) برقم (3890)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 150 ترقیم شاملہ: -- 379
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعْطَى رَهْطًا، وَسَعْدٌ جَالِسٌ فِيهِمْ، قَالَ سَعْدٌ: فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ مُسْلِمًا، قَالَ: فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ مُسْلِمًا، قَالَ: فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا عَلِمْتُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْ مُسْلِمًا، إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ ".
ابن شہاب (زہری) کے بھتیجے نے اپنے چچا سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے بن ابی وقاص نےاپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو کچھ عطا فرمایا، سعد رضی اللہ عنہ بھی ان میں بیٹھے تھے، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کو چھوڑ دیا، اسے کچھ عطا نہ فرمایا، حالانکہ ان سب سے وہی مجھے زیادہ اچھا لگتا تھا، چنانچہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے فلاں سے اعراض کیوں فرمایا؟ اللہ کی قسم! میں اسے مومن سمجھتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلمان۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو گیا، پھر مجھ پر اس بات کا غلبہ ہوا جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایا؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلمان۔“ تو میں تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو گیا، پھر مجھ پر اس بات کا غلبہ ہوا جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا، چنانچہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایا؟ کیونکہ اللہ کی قسم! میں نے اسے مومن سمجھتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلمان۔ بلاشبہ میں ایک آدمی کو (عطیہ) دیتا ہوں، حالانکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے، اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ اسے منہ کے بل آگ میں ڈال دیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 379]
عامر بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو کچھ مال عطا فرمایا اور سعد رضی اللہ عنہ بھی ان میں بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک آدمی کو چھوڑ دیا، اس کو کچھ نہ دیا حالانکہ وہ مجھے ان سب سے زیادہ اچھا لگتا تھا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں سے اعراض کی وجہ کیا ہے؟ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کیوں نہیں دیا؟) میں تو اللہ کی قسم اس کو مومن سمجھتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلمان۔“ تو میں کچھ دیر کے لیے چپ ہو گیا، پھر میں اس کے بارے میں جو کچھ جانتا تھا، اس کا مجھ پر غلبہ ہوا تو میں نے دوبارہ عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو کیوں چھوڑ دیا؟ اللہ کی قسم! میں تو اس کو مومن جانتا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلمان۔“ تو پھر کچھ وقت خاموش رہا، پھر میں اس کے بارے میں جو علم رکھتا تھا اس نے غلبہ کیا، میں نے تیسری بار عرض کیا: (پہلی بات دہرائی) کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو کیوں نظر انداز فرمایا؟ اللہ کی قسم! میں تو اس کو مومن سمجھتا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلمان، میں ایک آدمی کو دیتا ہوں حالانکہ دوسرا مجھے زیادہ پسند ہوتا ہے اس اندیشہ سے کہ اللہ اس کو اوندھے منہ آگ میں نہ ڈال دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 379]
ترقیم فوادعبدالباقی: 150
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (376)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 150 ترقیم شاملہ: -- 380
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ وَزَادَ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَسَارَرْتُهُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ؟.
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد (حضرت سعد) رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو (عطیہ) دیا اور میں ان میں بیٹھا تھا ..... آگے ابن شہاب (زہری) کے بھتیجے کی اپنے چچا سے روایت کی طرح ہے اور اتنا اضافہ ہے: ”میں اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ سے عرض کی: فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایا؟“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 380]
عامر بن سعد رحمہ اللہ اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال دیا اور میں بھی ان میں بیٹھا ہوا تھا۔ اوپر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کی، اور عرض کیا: فلاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض کیوں فرمایا؟ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 380]
ترقیم فوادعبدالباقی: 150
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (376)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 150 ترقیم شاملہ: -- 381
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ ، يُحَدِّثُ هَذَا، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي، ثُمَّ قَالَ: أَقِتَالًا، أَيْ سَعْدُ، إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ.
(عامر بن سعد کے بھائی) محمد بن سعد یہ حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے اپنی حدیث میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری (سعد بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ کی گردن اور کندھے کے درمیان اپنا ہاتھ مارا، پھر فرمایا: ”کیا لڑائی کر رہے ہو سعد؟ کہ میں ایک آدمی کو دیتا ہوں .....“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 381]
محمد بن سعد رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ کہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن اور کندھے کے درمیان اپنا ہاتھ مارا، پھر فرمایا: ”اے سعد! کیا لڑائی کرو گے؟ میں ایک آدمی کو دیتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 381]
ترقیم فوادعبدالباقی: 150
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الزكاة، باب: قول الله تعالی ﴿ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ﴾ برقم (1478) والمولف [مسلم] في الزكاة، باب: اعطاء من يخاف علی ايمانه برقم (2432) انظر (((التحفة)) برقم (3921)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. باب زِيَادَةِ طُمَأْنِينَةِ الْقَلْبِ بِتَظَاهُرِ الأَدِلَّةِ:
باب: دلائل کے اظہار سے دل کو زیادہ اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 151 ترقیم شاملہ: -- 382
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ، إِذْ قَالَ: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260، قَالَ: وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ، لَبْثِ يُوسُفَ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ.
یونس نے ابن شہاب زہری سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور سعید بن مسیب سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کا حق رکھتے ہیں، جب انہوں نے کہا تھا: «رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ» ”اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «أَوَلَمْ تُؤْمِن» ”کیا تمہیں یقین نہیں؟“ کہا: «بَلَىٰ وَلَٰكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي» ”کیوں نہیں! لیکن تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔““ آپ نے فرمایا: ”اور اللہ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے، (وہ کسی سہارے کی تمنا کر رہے تھے) حالانکہ انہوں نے ایک مضبوط سہارے کی پناہ لی ہوئی تھی۔ اور اگر میں قید خانے میں یوسف علیہ السلام جتنا طویل عرصہ ٹھہرتا تو (ہو سکتا ہے) بلانے والے کی بات مان لیتا۔“ (عملاً آپ نے دوسرے انبیاء سے بڑھ کر ہی صبر و تحمل سے کام لیا۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 382]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم ابراہیم علیہ السلام سے شک کرنے کے زیادہ مستحق ہیں، جب انہوں نے کہا تھا: ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾ [سورة البقرة: 260] ”اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا: کیوں نہیں (مجھے یقین ہے) لیکن میں چاہتا ہوں میرا دل (مشاہدہ سے) اور زیادہ مطمئن ہو جائے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا» ”اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے! وہ ایک مضبوط ستون کی پناہ چاہتے تھے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر قید خانہ میں، میں یوسف علیہ السلام جتنا طویل عرصہ ٹھہرتا تو بلانے والے کے بلاوے پر فوراً عمل کرتا۔““ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 382]
ترقیم فوادعبدالباقی: 151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: ﴿ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ ﴾ برقم (4537) وفي باب: ﴿ فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ ..... ﴾ برقم (4694) والمؤلف (مسلم) في الفضائل، باب: من فضائل ابراهيم الخليل عليه السلام برقم (6094) وابن ماجه في ((سننه)) في الفتن، باب: الصبر على البلاء برقم (4026) انظر ((التحفة)) برقم (13325 و 15313)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں