🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. باب نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ حَاكِمًا بِشَرِيعَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے اور ان کے شریعت محمدی کے موافق چلنے اور اللہ تعالیٰ کا اس امت کو عزت اور شرف عطا فرمانا اور اس بات کی دلیل کہ اسلام سابقہ ادیان کا ناسخ ہے اور قیامت تک ایک جماعت اسلام کی حفاظت میں کھڑی رہے گی۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 155 ترقیم شاملہ: -- 393
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ، فِيكُمْ، وَأَمَّكُمْ؟ ".
ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا (ابن شہاب) کے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیسے ہو گے جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) تمہارے درمیان اتریں گے اور تمہاری پیشوائی کریں گے؟“ (جب امامت کرائیں گے تو بھی امت کے ایک فرد کی حیثیت سے کرائیں گے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 393]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کیا حالت ہو گی جب تم میں مریم کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) اتریں گے، اور تمہارا مقتدا اور رہنما ہوں گے؟“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 393]
ترقیم فوادعبدالباقی: 155
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (390)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 155 ترقیم شاملہ: -- 394
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ، فَأَمَّكُمْ مِنْكُمْ؟ "، فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ: إِنَّ الأَوْزَاعِيَّ ، حَدَّثَنَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ، وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ، قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ: تَدْرِي مَا أَمَّكُمْ مِنْكُمْ؟ قُلْتُ: تُخْبِرُنِي، قَالَ: فَأَمَّكُمْ بِكِتَابِ رَبِّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابن ابی ذئب نے ابن شہاب سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیسے ہو گے جب ابن مریم (عیسیٰ علیہ السلام) تم میں اتریں گے اور تم میں سے (ہو کر) تمہاری امامت کرائیں گے؟“ میں (ولید بن مسلم) نے ابن ابی ذئب سے پوچھا: اوزاعی نے ہمیں زہری سے حدیث سنائی، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح بیان کیا: ”اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا“ (اور آپ کہہ رہے ہیں، ابن مریم امامت کرائیں گے) ابن ابی ذئب نے (جواب میں) کہا: جانتے ہو ”تم میں تمہاری امامت کرائیں گے“ کا مطلب کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ مجھے بتا دیجیے۔ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے رب عزوجل کی کتاب اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے ساتھ (تم میں ایک فرد کی حیثیت سے یا تمہاری امت کا فرد بن کر) تمہاری قیادت یا امامت کریں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 394]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کیا شان ہوگی، جب تم میں ابنِ مریم علیہ السلام اتریں گے اور تمہارے فرد بن کر امامت کریں گے؟“ ابن ابی ذئب رحمہ اللہ کے شاگرد نے ان سے پوچھا: اوزاعی رحمہ اللہ نے ہمیں زہری رحمہ اللہ کی نافع رحمہ اللہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سنائی، تو یہ الفاظ کہے «وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ» ”تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا۔“ (اور آپ کہہ رہے ہیں: ”ابنِ مریم علیہ السلام امامت کروائیں گے“) ابن ابی ذئب رحمہ اللہ نے جواب دیا: جانتے ہو «وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ» کا مقصد کیا ہے؟ شاگرد نے کہا: مجھے آپ بتا دیں! تو استاد نے جواب دیا: کہ تمہارے رب کی کتاب اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق تمہاری قیادت و رہنمائی فرمائیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 394]
ترقیم فوادعبدالباقی: 155
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (390)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 156 ترقیم شاملہ: -- 395
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ، ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: " فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلام، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ: تَعَالَ صَلِّ لَنَا، فَيَقُولُ: لَا، إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ، تَكْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الأُمَّةَ.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کا ایک گروہ مسلسل حق پر (قائم رہتے ہوئے) لڑتا رہے گا، وہ قیامت کے دن تک (جس بھی معرکے میں ہوں گے) غالب رہیں گے، کہا: پھر عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اتریں گے تو اس طائفہ (گروہ) کا امیر کہے گا: آئیں ہمیں نماز پڑھائیں، اس پر عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے: نہیں، اللہ کی طرف سے اس امت کو بخشی گئی عزت و شرف کی بنا پر تم ہی ایک دوسرے پر امیر ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 395]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر لڑتا رہے گا اور حق پر ہوگا، اور وہ قیامت تک (دشمنوں پر) غالب ہوگا۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے، تو اس طائفہ کا امیر کہے گا: آئیے! ہمیں جماعت کرائیے! تو عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے: نہیں، تم ایک دوسرے پر امیر ہو، اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ عزت و شرف بخشا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 395]
ترقیم فوادعبدالباقی: 156
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه مسلم في ((صحيحه)) في الجهاد، باب: قوله صلی اللہ علیہ وسلم: ((لا تزال طائفة من امتي ظاهرين علی الحق لا يضرهم من خالفهم)) برقم (4931) انظر ((التحفة)) برقم (2840)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. باب بَيَانِ الزَّمَنِ الَّذِي لاَ يُقْبَلُ فِيهِ الإِيمَانُ:
باب: اس زمانے کا بیان جب ایمان مقبول نہ ہو گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 157 ترقیم شاملہ: -- 396
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَتْ مِنْ مَغْرِبِهَا، آمَنَ النَّاسُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ، فَيَوْمَئِذٍ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ".
علاء بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوتا، اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی۔ جب وہ مغرب سے طلوع ہو جائے گا تو سب کے سب لوگ ایمان لے آئیں گے، اس دن”کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا تھا یا اپنے ایمان (کی حالت) میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی۔“ (عمل سے تصدیق نہ کی تھی۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 396]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو قیامت قائم نہیں ہوگی، جب وہ مغرب سے طلوع ہو جائے گا، تو سب کے سب لوگ ایمان لے آئیں گے، تو اس دن ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ [سورة الأنعام: 158] (کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہیں لایا تھا، یا ایمان کے نتیجہ میں کوئی نیکی نہیں کی تھی)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 396]
ترقیم فوادعبدالباقی: 157
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (13988)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 158 ترقیم شاملہ: -- 397
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ وأبو كريب ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ العَلاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوزرعہ، عبدالرحمن اعرج اور ہمام بن منبہ سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت مذکور ہے جو علاء نے اپنے والد کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 397]
امام مسلم رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 397]
ترقیم فوادعبدالباقی: 158
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: ﴿ قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ ﴾ برقم (4635) وابوداود في ((سننه)) في الملاحم، باب: امارات الساعة برقم (4312) وابن ماجه في ((سننه)) في الفتن، باب: طلوع الشمس من مغربها برقم (4068) انظر ((التحفة)) برقم (14897)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 158 ترقیم شاملہ: -- 398
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ جَمِيعًا، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا، إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالُ، وَدَابَّةُ الأَرْضِ ".
ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں ہیں جب ان کا ظہور ہو جائے گا تو اس وقت کسی شخص کو، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اپنے ایمان کے دوران میں کوئی نیکی نہ کی تھی، اس کا ایمان لانا فائدہ نہ دے گا: سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال اور دابۃ الارض (زمین سے ایک عجیب الخلقت جانور کا نکلنا۔)“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 398]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں کا جب ظہور ہو جائے گا تو کسی شخص کو اس کا ایمان، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لا چکا تھا یا اپنے ایمان کے سبب کوئی نیکی نہیں کی تھی، فائدہ نہیں دے گا: سورج کا اپنے غروب کی جگہ سے نکلنا، اور دجال اور «دَابَّةُ الْأَرْضِ» (زمین سے نکلنے والا عجیب و غریب جانور) کا ظہور۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 398]
ترقیم فوادعبدالباقی: 158
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في التفسير، باب: ومن سورة الانعام برقم (3072) انظر ((التحفة)) برقم (13421)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 159 ترقیم شاملہ: -- 399
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوب: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ ، سَمِعَهُ فِيمَا أَعْلَمُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمًا: " أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: إِنَّ هَذِهِ تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَخِرُّ سَاجِدَةً، فَلَا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا: ارْتَفِعِي، ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا، ثُمَّ تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَخِرُّ سَاجِدَةً، وَلَا تَزَالُ كَذَلِكَ، حَتَّى يُقَالَ لَهَا: ارْتَفِعِي، ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا، ثُمَّ تَجْرِي لَا يَسْتَنْكِرُ النَّاسَ مِنْهَا شَيْئًا، حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا ذَاكَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَيُقَالُ لَهَا: ارْتَفِعِي، أَصْبِحِي طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِكِ، فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَدْرُونَ مَتَى ذَاكُمْ ذَاكَ؟ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا، لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ".
(اسماعیل) ابن علیہ نے کہا: ہمیں یونس نے ابراہیم بن یزید تیمی کے حوالے سے حدیث سنائی، میرے علم کے مطابق، انہوں نے یہ حدیث اپنے والد (یزید) سے سنی اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن پوچھا: ”جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے اپنے مستقر پر پہنچ جاتا ہے، پھر سجدے میں چلا جاتا ہے، وہ مسلسل اسی حالت میں رہتا ہے حتی کہ اسے کہا جاتا ہے: اٹھو! جہاں سے آئے تھے ادھر لوٹ جاؤ تو وہ واپس لوٹتا ہے اور اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے، پھر چلتا ہوا عرش کے نیچے اپنی جائے قرار پر پہنچ جاتا ہے، پھر سجدہ ریز ہو جاتا ہے اور اسی حالت میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس سے کہا جاتا ہے: بلند ہو جاؤ اور جہاں سے آئے تھے، ادھر لوٹ جاؤ تو وہ واپس جاتا ہے اور اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے، پھر (ایک دن سورج) چلے گا، لوگ اس میں معمول سے ہٹی ہوئی کوئی چیز نہیں پائیں گے حتی کہ یہ عرش کے نیچے اپنے اسی مستقر پر پہنچے گا تو اسے کہا جائے گا: بلند ہو اور اپنے مغرب (جس طرف غروب ہوتا تھا، اسی سمت) سے طلوع ہو تو وہ اپنے مغرب سے طلوع ہو گا۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا جانتے ہو یہ کب ہو گا؟ یہ اس وقت ہو گا جب ”کسی شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اپنے ایمان کے دوران میں نیکی نہیں کمائی تھی۔““ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 399]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن پوچھا: ”جانتے ہو! یہ سورج کہاں جاتا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی خوب جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے اپنے مستقر پر پہنچ کر سجدہ کرتا ہے، تو وہ اس حالت میں رہتا ہے حتیٰ کہ اس کو کہا جاتا ہے: اٹھو! اور جہاں سے آئے ہو ادھر لوٹ جاؤ! تو وہ واپس لوٹتا ہے اور اگلی صبح اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے۔ پھر اگلے دن چلتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے اپنے جائے قرار پر پہنچ کر سجدہ ریز ہو جاتا ہے اور اسی حالت میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو کہا جاتا ہے: بلند ہو اور جہاں سے آئے ہو لوٹ جاؤ! تو وہ واپس چلا جاتا ہے اور اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے طلوع ہوتا ہے۔ پھر چلتا ہے، لوگ اس میں کچھ نرالا پن نہیں پاتے، اس طرح وہ ایک دن عرش کے نیچے اپنے مستقر پر پہنچے گا، تو اسے کہا جائے گا: بلند ہو اور اپنے مغرب سے طلوع ہو! تو وہ اپنے مغرب سے طلوع ہو گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا جانتے ہو یہ کب ہو گا؟“ یہ اس وقت ہو گا ﴿جب کسی شخص کو جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا یا اپنے ایمان کے باعث نیکی نہیں کی ہو گی، ایمان لانا مفید نہیں ہو گا﴾ [سورة الأنعام: 158] ۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 399]
ترقیم فوادعبدالباقی: 159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في بدء الخلق، باب: صفة الشمس والقمر برقم (3199) وفي التفسير، باب: ﴿ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ﴾ برقم (4802 و 4803) مختصراً - وفى التوحيد، باب: ﴿ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ﴾، ﴿ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ﴾ برقم (7424) وفى باب: قول الله تعالى: ﴿ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ ﴾ برقم (7433) وابوداؤد في ((سننه)) في الحروف والقرات، باب: برقم (4002) والترمذي في ((جامعه)) في الفتن، باب: ما جاء فى طلوع الشمس من مغربها برقم (2186) والترمذي في ((جامعه)) في الفتن، باب: ما جاء فى طلوع الشمس من مغربها برقم (2186) وفي، باب: من سورة يٰس برقم (3227) وقال: هذا حديث حسن صحيح - انظر ((التحفة)) برقم (11994)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 159 ترقیم شاملہ: -- 400
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَوْمًا أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ؟ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّة َ.
خالد بن عبداللہ نے یونس سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟“ ..... اس کے بعد ابن علیہ والی حدیث کے ہم معنی (روایت) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 400]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟“ ابن علیہ رحمہ اللہ کی حدیث کا مفہوم نقل کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 400]
ترقیم فوادعبدالباقی: 159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (397)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 159 ترقیم شاملہ: -- 401
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جالس، فلما غابت الشمس: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ، فَيُؤْذَنُ لَهَا، وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا: ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا "، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ: 0 وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا 0.
ابومعاویہ نے کہا: ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، جب سورج غائب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! کیا تم جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟“ کہا: میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول بہتر جاننے والے ہیں۔ فرمایا: ”یہ جاتا ہے، پھر سجدے کی اجازت مانگتا ہے تو اسے سجدے کی اجازت دی جاتی ہے، (پھر یوں ہو گا کہ) جیسے اس سے کہہ دیا گیا ہو (اس میں اشارہ ہے کہ ہم حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے، ہمیں تمثیلاً اس کی خبر دی جا رہی ہے) کہ جس طرف سے آئے تھے، ادھر لوٹ جاؤ تو یہ اپنی غروب ہونے والی سمت سے طلوع ہو جائے گا۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ نے ( «تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا» کے بجائے) «وذلك مستقرلها» ”یہ اس کا مستقر ہے۔“ عبداللہ بن مسعود کی روایت کردہ قراءت کے مطابق پڑھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 401]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، جب سورج غروب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! جانتے ہو یہ کہاں جاتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جا کر سجدے کی اجازت طلب کرتا ہے، اس کو اجازت مل جاتی ہے، گویا اس کو کہہ دیا گیا ہے: جہاں سے آئے ہو وہیں لوٹ جاؤ۔ (آخر کار) اس کو کہا جائے گا: اپنے مغرب سے طلوع ہو، تو وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔“ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قراءت کے مطابق پڑھا: ﴿ذَلِكَ مُسْتَقَرُّ لَهَا﴾ ”اور یہ اس کا جائے قرار ہے۔“ [سورة يس: 38] [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 401]
ترقیم فوادعبدالباقی: 159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (397)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 159 ترقیم شاملہ: -- 402
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَال الأَشَجُّ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا سورة يس آية 38 قَالَ: مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ".
وکیع نے اعمش سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا: ”سورج اپنے مستقر کی طرف چل رہا ہے۔“ آپ نے جواب دیا: ”اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 402]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا﴾ [سورة يس: 38] کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 402]
ترقیم فوادعبدالباقی: 159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (397)»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں