🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(جھوٹی قسم سے مال ہتھیانے پر غضب کا بیان)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 95
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ ، وَجَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ كَاذِبَةٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ سورة آل عمران آية 77 .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے گا، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا۔“ سیدنا عبداللہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مصداق کے طور پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی یہ آیت ہمارے سامنے تلاوت کی: ”بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں“ [مسند الحميدي/حدیث: 95]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 7445، ومسلم: 138، 2184، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 5114، 5197، وصحيح ابن حبان: 572، 5084»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(سلام کے بعد سجدہ سہو کرنے کا بیان)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 96
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مَنْصُورٌ غَيْرَ مَرَّةٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ " سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلامِ، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهَا بَعْدَ السَّلامِ" . قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ طَوِيلا فَهَذَا الَّذِي حَفِظْتُ مِنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کیا اور یہ بات بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے بعد یہ سجدے کیے تھے۔ سفیان کہتے ہیں: یہ روایت طویل ہے، تاہم اس کا صرف یہ حصہ مجھے یاد ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 96]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى "صحيحه" برقم: 401،404،1226، 6671، 7249، ومسلم: 572، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:5002، وصحیح ابن حبان: 2656»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(گودنے اور گودوانے پر لعنت کی آیت کی وضاحت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 97
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ " أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَتَتِ ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالَتْ لَهُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ ذَيْتَ وَذَيْتَ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ، وَإِنِّي قَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَلَمْ أَجِدِ الَّذِي تَقُولُ، وَإِنِّي لأَظُنُّ عَلَى أَهْلِكَ مِنْهَا، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: فَادْخُلِي وَانْظُرِي، فَدَخَلَتْ وَنَظَرَتْ، فَلَمْ تَرَ شَيْئًا، قَالَ: فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: أَمَا قَرَأْتِ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7، قَالَتْ: بَلَى! قَالَ: فَهُوَ ذَلِكَ" .
علقمہ بیان کرتے ہیں: بنو اسد سے تعلق رکھنے والی ایک عورت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے ان سے کہا: مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ آپ فلاں، فلاں پر اور جسم گودنے والی اور گودوانے والی عورتوں پر لعنت کرتے ہیں؟ حالانکہ میں نے قرآن پڑھ لیا ہے مجھے اس میں یہ حکم نہیں ملا، جو آپ کہتے ہیں اور میرا خیال ہے آپ کی بیگم بھی ایسا کرتی ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس خاتون سے کہا: تم جاؤ اور جا کر خود جائزہ لو۔ وہ عورت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر گئی اس نے وہاں کا جائزہ لیا تو اسے وہاں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے کہا: کیا تم نے یہ آیت پڑھی ہے: ”رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے حاصل کر لو اور جس سے تمہیں منع کر دیں اس سے باز آ جاؤ۔“ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ وہی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 97]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 4886،4887،5931،5939،5943،ومسلم:2125، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:5141، وصحيح ابن حبان: 5504»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(معمولی گناہوں سے ہلاکت اور سواروں کی مثال)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 98
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ أَبُو إِسْحَاقَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الأَحْوَصِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ تُعْبَدَ الأَصْنَامُ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ , أَوْ بِبَلَدِكُمْ هَذَا، وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِالْمُحَقَّرَاتِ مِنْ أَعْمَالِكُمْ، فَاتَّقُوا الْمُحَقَّرَاتِ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْمُوبِقَاتِ , أَوَلا أُخْبِرُكُمْ بِمَثَلِ ذَلِكَ؟ مَثَلُ رَكْبٍ نَزَلُوا فَلاةً مِنَ الأَرْضِ لَيْسَ بِهَا حَطَبٌ، فَتَفَرَّقُوا , فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ، وَجَاءَ ذَا بِعَظْمٍ، وَجَاءَ ذَا بِرَوْثَةٍ حَتَّى أَنْضَجُوا الَّذِي أَرَادُوا، فَكَذَلِكَ الذُّنُوبُ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ تمہاری اس سرزمین پر (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تمہارے اس شہر میں بتوں کی عبادت کی جائے تاہم وہ تم سے تمہارے معمولی اعمال کے حوالے سے راضی ہو جائے گا، تو تم معمولی گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنا، کیونکہ یہ ہلاکت کا شکار کر دیتے ہیں۔ کیا میں تمہیں اس کی مثال دوں؟ اس کی مثال یوں ہے جیسے کچھ سوار کسی بے آب و گیاہ زمین پر پڑاؤ کرتے ہیں وہاں کوئی لکڑی نہیں ہے، وہ لوگ بکھر جاتے ہیں، تو ایک شخص عود لے کر آتا ہے ایک ہڈی لے کر آتا ہے ایک مینگنی لے کر آتا ہے، یہاں تک کہ وہ لوگ جو چاہتے ہیں اسے جمع کر لیتے ہیں، تو گناہ بھی اسی طرح ہوتے ہیں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 98]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه الحاكم فى "مستدركه"، برقم: 2234، والبيهقي فى "سننه الكبير"، برقم: 20819، وأحمد فى "مسنده"، برقم: 3895، والطيالسي فى "مسنده"، برقم: 400، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:، برقم: 5122، وابن أبى شيبة فى "مصنفه"، برقم: 35670، والطبراني فى "الكبير"، برقم: 10500، والطبراني فى "الأوسط"، برقم: 2529»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(حسد کے دو مستحق افراد کی حکمت کا بیان)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 99
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَلَى غَيْرِ مَا حَدَّثَنَا بِهِ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا حَسَدَ إِلا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ مَالا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا , أَوْ يُعَلِّمُهَا" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسد (یعنی رشک صرف دو طرح کے آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے) ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا ہو اور پھر اس شخص کو وہ مال حق کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق دی ہو، یا ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی ہو اور وہ اس کے مطابق فیصلہ دیتا ہو یا وہ اس کی تعلیم دیتا ہو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 99]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 73، 1409، 7141، 7316، ومسلم: 815، 816، وأحمد فى "مسنده"، برقم: 3725، برقم: 4191، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: برقم: 5078، 5186، 5227»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(جنگ میں خصی ہونے سے منع کرنے کا بیان)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 100
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ , أَنَّهُ سَمِعَ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: " كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَخْتَصِيَ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہوا کرتے تھے۔ ہمارے ساتھ خواتین نہیں ہوتی تھیں، تو ہم نے خصی ہونے کا ارادہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کر دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 100]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ”صحيحه“برقم: 4615، 5071 5075، ومسلم فى”صحيحه“ برقم: 1404، وابن حبان فى ”صحيحه“برقم: 4141، 4142، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:برقم: 5382»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(سورہ نساء کی تلاوت پر آنسوؤں کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 101
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : " اقْرَأْ"، فَقَالَ: أَقْرَأُ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ:" إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي"، قَالَ: فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41، اسْتَعْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَفَّ عَبْدُ اللَّهِ .
قاسم بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تلاوت کرو! تو انہوں نے عرض کی: کیا میں تلاوت کروں؟ جبکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے اپنے علاوہ کسی دوسرے کی زبانی سننا چاہتا ہوں۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سورہ نساء پڑھنی شروع کی، یہاں تک کہ جب یہ آیت تلاوت کی: ”تو اس وقت کیا عالم ہو گا کہ جب ہم امت میں سے ایک گواہ کو لے کر آئیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہنے لگے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ رک گئے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 101]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، فيه عبد الرحمن بن عبدالله المسعودي، والقاسم بن عبدالرحمن لم يدرك النبى صلى الله عليه وسلم، فالإسناده منقطع۔ غيران الحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري فى ”صحيحه“ برقم: 4582، 5049، 5050،5055، 5056، ومسلم فى ”صحيحه“، برقم: 800، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 5019، وابن حبان فى "صحيحه" برقم: 735، 7065» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(گواہ اور نگہبان ہونے کی آیت کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 102
قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ الْمَسْعُودِيُّ : وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مَا دُمْتُ فِيهِمْ، فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ , وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تک میں ان کے درمیان تھا میں ان پر گواہ رہا جب تو نے مجھے موت دے دی تو ان کا نگہبان تھا، اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 102]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وانظر أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:5020، والطبراني فى ”الكبير“، برقم: 9781»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(فضیلت والے اعمال اور کبیرہ گناہوں کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 103
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا مِنَ النَّخْعِ يُسَمَّى عَمْرًا، وَيُكْنَى بِأَبِي مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودِ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ"، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" ثُمَّ الصَّلاةُ لِوَقْتِهَا"، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ"، قُلْتُ: فَأَيُّ الْكَبَائِرِ أَكْبَرُ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنَ يَأْكُلَ مَعَكَ"، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ"، ثُمَّ تَلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا سورة الفرقان آية 68 .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ میں نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر نماز کو وقت پر ادا کرنا۔“ میں نے عرض کی: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔“ میں نے دریافت کیا: کون سا کبیرہ گناہ بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی اولاد کو اس اندیشے سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک ہو گی۔“ میں نے عرض کیا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ”اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے ہیں اور ایسی جانوں کو قتل نہیں کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ لوگ زنا کا ارتکاب نہیں کرتے ہیں جو شخص ایسا کرے گا وہ گناہ تک پہنچ جائے گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 103]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 4477، 527، 2782، 5970، 7564، ومسلم: 85، 86، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:5098، 5130، 5167، 5286، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 1474، 1475، 1476،1477، 1478، 1479، 4416 وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 3967»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(مسلمان کو گالی دینے اور قتل کی مذمت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 104
حَدَّثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کا قتل کرنا کفر ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 104]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري: 48، 6044، 7076 ومسلم: 64، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4988، 4991، 5119، 5276، 5332 وابن حبان فى ”صحيحه“، برقم: 5939،وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 3721»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں