مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنے کی روایت)
حدیث نمبر: 114
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلاةً إِلا لِوَقْتِهَا إِلا بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَإِنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَصَلَّى الصُّبْحَ يَوْمَئِذٍ فِي غَيْرِ وَقْتِهَا" , وَقَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي فِي غَيْرِ وَقْتِهَا الَّذِي كَانَ يُصَلِّيَهَا فِيهِ قَبْلَ ذَلِكَ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ہمیشہ مخصوص وقت پر ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، البتہ مزدلفہ کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازیں مغرب اور عشاء ایک ساتھ ادا کی تھیں اور اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز اس کے مخصوص وقت سے ہٹ کر ادا کی تھی۔ سفیان کہتے ہیں: یعنی اس وقت سے مختلف وقت میں ادا کی تھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ادا کیا کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 114]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 1675، ومسلم: 1289، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:5176، 5264، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 3711»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
(نوجوانوں کو نکاح اور روزوں کی ہدایت کی روایت)
حدیث نمبر: 115
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَنْكِحْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لا فَلْيَصُمْ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وَجَاءٌ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ فرمایا: ”اے نوجوانوں کے گروہ! تم میں سے جو شخص شادی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے، کیونکہ یہ چیز نگاہ کو جھکا کر رکھتی ہے اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت کرتی ہے اور جو شخص اس کی استطاعت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، کیونکہ روزے اس کی شہوت کو ختم کر دیں گے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 115]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 1905 ومسلم: 1400، وابن حبان فى ”صحيحه“: برقم: 4026، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:5110، 5192»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
(قیامت کے دن دھواں اور کفار کے عذاب کی روایت)
حدیث نمبر: 116
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، أَوْ أُخْبِرْتُ عَنْهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ يَعْنِي عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ: إِنَّ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلا، يَقُولُ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَصَابَ النَّاسَ دُخَانٌ يَأْخُذُ بِأَسْمَاعِ الْكُفَّارِ، وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنِينَ كَالزَّكْمَةِ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ، فَلْيَقُلْ لِمَا لَمْ يَعْلَمِ اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ مِنْ عِلْمِ الْمَرْءِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86، إِنَّ قُرَيْشًا لَمَّا أَبْطَئوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ"، فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ، وَحَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ، فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا مِثْلَ الدُّخَانِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ {10} يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة الدخان آية 10-11، قَالَ اللَّهُ: إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15 كَانَ هَذَا فِي الدُّنْيَا أَفَيُكْشَفُ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةٍ؟ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَقَدْ مَضَى الدُّخَانُ، وَمَضَى اللِّزَامُ وَمَضَى الْقَمَرُ، وَمَضَى الرُّومُ، وَمَضَتِ الْبَطْشَةُ .
مسروق بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: مسجد میں ایک شخص یہ کہہ رہا ہے کہ جب قیامت کا دن آئے گا، تو لوگوں تک دھواں پہنچ جائے گا، جو کفار کی سماعت کو اپنی گرفت میں لے گا۔ لیکن اہل ایمان کو اس سے زکام کی سی کیفیت محسوس ہو گی۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور بولے: اے لوگو! تم میں سے جو شخص کسی چیز کا علم رکھتا ہو وہ اس کے مطابق بیان کر دے اور جو علم نہ رکھتا ہو وہ اپنی لاعلمی کے بارے میں یہ کہہ دے کہ اللہ بہتر جانتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی کے علم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جس چیز کے بارے میں وہ علم نہیں رکھتا، وہ یہ کہہ دے کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا ہے: ”تم یہ فرما دو کہ میں اس پر تم سے اجر طلب نہیں کر رہا اور نہ ہی میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں۔“ (پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتایا:) جب قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار نہیں بنے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ تو ان پر حضرت یوسف کے زمانے سے سات سال (قحط سالی کے مسلط کر دے)۔“ تو ان لوگوں کو قحط سالی نے گرفت میں لے لیا، جس نے ہر چیز کو ختم کر دیا، یہاں تک کہ وہ لوگ ہڈیاں کھانے لگے اور یہ کیفیت ہو گئی کہ ان میں سے ایک شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں محسوس ہوتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ارشاد فرمائی: ”تم اس دن کا خیال کرو جب آسمان واضح دھواں لے کر آیا جس نے لوگوں کو ڈھانپ لیا تو یہ دردناک عذاب ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک ہم عذاب کو تھوڑا سا کم کر دیں گے، تو تم لوگ دوبارہ واپس چلے جاؤ گے۔“ تو یہ معاملہ تو دنیا میں پیش آیا، کیا قیامت کے دن ان کفار سے عذاب کو پرے کیا جائے گا؟ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دھواں گزر چکا ہے، لزام گزر چکا ہے، چاند سے متعلق واقعہ گزر چکا ہے۔ روم کا (غالب آنا) گزر چکا ہے اور بطشہ (گرفت) کا واقعہ بھی گزر چکا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 116]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري 1007، ومسلم: 2798، وابن حبان فى "صحيحه" برقم: 4764، 6585، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 5145»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
(تصویر بنانے والوں کے شدید عذاب کی روایت)
حدیث نمبر: 117
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ مَسْرُوقٍ فِي دَارِ يَسَارِ بْنِ نُمَيْرٍ، فَرَأَى مَسْرُوقٌ فِي صُفَّتِهِ تَمَاثِيلَ، فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ" .
مسلم بن صبیح بیان کرتے ہیں: ہم لوگ یسار بن نمیر کے گھر میں مسروق کے ساتھ تھے۔ مسروق نے ان کے گھر میں تصویریں لگی ہوئی دیکھیں، تو یہ بات بیان کی، میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت کے دن سب سے شدید عذاب تصویر بنانے والوں کو ہو گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 117]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 5950، ومسلم 2109 وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:5107، 5209، 5212، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 3628»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
(ظلم سے قتل کا وبال آدم کے بیٹے پر ڈالنے کی روایت)
حدیث نمبر: 118
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا إِلا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا، لأَنَّهُ سَنَّ الْقَتْلَ أَوَّلا" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس بھی شخص کو ظلم کے طور پر قتل کیا جائے گا، تو اس کا وبال آدم علیہ السلام کے اس پہلے بیٹے کے سر ہو گا، وہ اس میں حصہ دار ہو گا، کیونکہ اس نے قتل کا طریقہ سب سے پہلے ایجاد کیا تھا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 118]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 3335، 6867، 7321، ومسلم: 1677، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 5983، وأبو يعلى فى ”مسنده“: برقم: 5179»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
(مسلمان کے خون کے جائز ہونے کی تین صورتیں)
حدیث نمبر: 119
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ شَهِدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلا فِي إِحْدَى ثَلاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ نَفْسٍ بِنَفْسٍ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی بھی مسلمان شخص کا، جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، ایسے مسلمان کا خون تین میں سے ایک صورت میں جائز ہے۔ ایسا شخص جو اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جائے، ایسا شخص جو محصن ہونے کے باوجود زنا کا ارتکاب کرے یا پھر جان کے بدلے میں جان۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 119]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 6878، ومسلم: 1676، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 4407، 4408، 5976، 5977، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4767، 5202»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
(شہداء کی ارواح جنت میں پرندوں کی صورت کی روایت)
حدیث نمبر: 120
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: أَمَا أَنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ يَعْنِي: أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ، فَقِيلَ:" جُعِلَتْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ تَحْتَ الْعَرْشِ، تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلاعَةً، فَقَالَ: هَلْ تَسْتَزِيدُونِي شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ؟ فَقَالُوا: وَمَا نَسْتَزِيدُكَ وَنَحْنُ فِي الْجَنَّةِ نَسْرَحُ مِنْهَا حَيْثُ نَشَاءُ؟ ثُمَّ اطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ إِطِّلاعَةً، فَقَالَ: هَلْ تَسْتَزِيدُونِي شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ؟ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُ لا بُدَّ أَنْ يَسْأَلُوهُ، قَالُوا: تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا، فَنُقْتَلُ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے اس بارے میں سوال کیا تھا یعنی شہداء کی ارواح کے بارے میں سوال کیا تھا، تو یہ بات بتائی گئی کہ یہ سبز پرندوں کے پیٹ میں رکھ دی جاتی ہیں اور عرش کے نیچے قندیلوں میں رہتی ہیں۔ یہ جنت میں جہاں چاہتی ہیں اڑ کے چلی جاتی ہیں ان کا پروردگار ان کی طرف متوجہ ہو کر دریافت کرتا ہے: کیا تم مجھ سے مزید کسی چیز کے طلبگار ہو، تاکہ میں تمہیں وہ مزید چیز عطا کروں؟ تو انہوں نے عرض کی: ہم مزید کس چیز کے طلبگار ہوں گے؟ جبکہ ہم جنت میں ہیں اور ہم اس میں جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔ پھر ان کا پروردگار ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمائے گا: کیا تم مزید کسی چیز کے طلبگار ہو تاکہ میں تمہیں وہ مزید چیز بھی عطا کروں؟ جب ان لوگوں نے یہ بات دیکھی کہ انہیں ضرور کوئی نہ کوئی سوال کرنا پڑے گا، تو انہوں نے عرض کی: تو ہماری ارواح ہمارے جسموں میں واپس کر دے تاکہ ہمیں ایک مرتبہ پھر تیری بارگاہ میں شہید کیا جائے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 120]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم: 1887، والترمذي: 3014، وأبو يعلى فى ”مسنده“ برقم: 5376، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 4031»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
(شہداء کی راضی ہونے اور سلام کی روایت)
حدیث نمبر: 121
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ , وَزَادَ: وَتُقْرِئُ نَبِيَّنَا مِنَّا السَّلامَ، وَتُخْبِرُ قَوْمَنَا أَنْ قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا.
مندرجہ بالا روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”تو ہماری طرف سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک سلام پہنچا دینا اور ہماری قوم کو یہ بتا دینا کہ ہم راضی ہیں اور (پروردگار) ہم سے راضی ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 121]
تخریج الحدیث: «انظر حدیث سابق، وأخرجه مسلم: 1887، والترمذي: 3014، وأبو يعلى فى ”مسنده“ برقم: 5376، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 4031»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
(عمارتیں بنانے اور دنیا میں رغبت سے منع کی روایت)
حدیث نمبر: 122
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الأَخْرَمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا" , ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَبِرَاذَانَ مَا بِرَاذَانَ , وَبِالْمَدِينَةِ مَا بِالْمَدِينَةِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم لوگ عمارتیں نہ بناؤ ورنہ تم دنیا میں راغب ہو جاؤ گے۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: براذان میں جو کچھ ہے (وہ بھی تمہارے سامنے ہے) اور مدینہ میں جو کچھ ہے (وہ بھی تمہارے سامنے ہے)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 122]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه ابن حبان فى ”صحيحه“ 710، والحاكم فى مستدركه، برقم: 8005، والترمذي فى جامعه برقم: 2328، وأحمد فى مسنده، برقم: 3649 وأبو يعلى فى ”مسنده“، برقم: 5200»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
(جنات سے ملاقات کی رات درخت کے ڈرانے کی روایت)
حدیث نمبر: 123
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي مَسْرُوقٌ : أَخْبَرَنِي أَبُوكَ ," أَنَّ شَجَرَةً أَنْذَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِنِّ" .
ابوعبیدہ کہتے ہیں: مسروق نے مجھ سے کہا: مجھے تمہارے والد (یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے یہ بات بتائی ہے کہ جنات سے ملاقات کی رات ایک درخت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈرانے کی کوشش کی تھی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 123]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 3859، ومسلم: 450، وابن حبان فى ”صحيحه“، برقم: 6321»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح