مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(قیامت کے علم سمیت پانچ چیزوں کی روایت)
حدیث نمبر: 124
حَدَّثنا حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَدْ أُوتِيَ نَبِيُّكُمْ عِلْمَهُ إِلا مِنْ خَمْسٍ: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ سورة لقمان آية 34" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر چیز کا علم عطا کیا گیا تھا صرف پانچ چیزوں کا (حکم مختلف ہے)۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «إن الله عنده علم الساعة» ”بے شک قیامت کا علم اللہ تعالیٰ کے ہی پاس ہے۔“ یہ سورہ آخر تک ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 124]
تخریج الحدیث: «إسنادہ حسن، أخرجه أحمد فى ”مسنده“، برقم: 3733 برقم: 4252 برقم: 4339، والطيالسي فى مسنده، برقم: 385، وأبو يعلى فى ”مسنده“: برقم: 5153، وابن أبى شيبة فى مصنفه، برقم: 32385»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
(لمبی زندگی کی دعا پر جہنم سے نجات کی ہدایت)
حدیث نمبر: 125
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مِسْعَرٌ ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعَوْتِ اللَّهَ لآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ، وَلآمَادٍ مَبْلُوغَةٍ، وَلأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لا يَتَقَدَّمُ مِنْهَا شَيْءُ قَبْلَ أَجَلِهِ، وَلا يَتَأَخَّرُ مِنْهَا شَيْءٌ بَعْدَ حِلِّهِ، وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهِ أَنْ يُنْجِيَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ، وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ كَانَ خَيْرًا , أَوْ أَفْضَلَ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی: ”اے اللہ! تو میرے شوہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، میرے والد ابوسفیان اور میرے بھائی معاویہ کو لمبی زندگی دینا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اللہ تعالیٰ سے ایسی چیز کے بارے میں دعا کی ہے، جس کا وقت متعین ہے، جس کی آخری حد مقرر ہے اور جس کا رزق مقرر شدہ ہے۔ اس کی متعین مدت سے پہلے کوئی چیز نہیں آ سکتی اور کوئی چیز اس سے تاخیر نہیں کر سکتی۔ جب وہ وقت ختم ہو جائے گا۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے نجات دے تو یہ زیادہ بہتر تھا۔“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”افضل تھا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بندروں اور خنزیروں کے بارے میں دریافت کیا گیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے کہ یہ ان لوگوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جنہیں مسخ کر دیا گیا تھا؟ یا یہ اس سے پہلے کی کوئی چیز ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! یہ اس سے پہلے کی کوئی چیز ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جب بھی کسی قوم کو ہلاکت کا شکار کرتا ہے، تو ان کی نسل اور ان لوگوں کا انجام ان لوگوں کی شکل میں ہوتا ہے، جو ان سے پہلے بھی موجود ہوں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 125]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم 2663، وابن حبان فى ”صحيحه“: برقم: 2969، وأبو يعلى فى ”مسنده“: برقم: 5313، 5314، 5315»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
(جہنم اور قبر کے عذاب سے نجات کی دعا)
حدیث نمبر: 125
قَالَ: وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِرَدَةِ، وَالْخَنَازِيرِ تْرَاهُمْ مِنْ نَسْلِ الَّذِينَ كَانُوا مُسِخُوا , أَوْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ:" لا , بَلْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يُهْلِكْ قَوْمًا قَطُّ، فَيَجْعَلُ لَهُمْ نَسْلا وَلا عَاقِبَةً، وَلَكِنَّهُمْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی: ”اے اللہ! تو میرے شوہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، میرے والد ابوسفیان اور میرے بھائی معاویہ کو لمبی زندگی دینا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اللہ تعالیٰ سے ایسی چیز کے بارے میں دعا کی ہے، جس کا وقت متعین ہے، جس کی آخری حد مقرر ہے اور جس کا رزق مقرر شدہ ہے۔ اس کی متعین مدت سے پہلے کوئی چیز نہیں آ سکتی اور کوئی چیز اس سے تاخیر نہیں کر سکتی۔ جب وہ وقت ختم ہو جائے گا۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے نجات دے تو یہ زیادہ بہتر تھا۔“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”افضل تھا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بندروں اور خنزیروں کے بارے میں دریافت کیا گیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے کہ یہ ان لوگوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جنہیں مسخ کر دیا گیا تھا؟ یا یہ اس سے پہلے کی کوئی چیز ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! یہ اس سے پہلے کی کوئی چیز ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جب بھی کسی قوم کو ہلاکت کا شکار کرتا ہے، تو ان کی نسل اور ان لوگوں کا انجام ان لوگوں کی شکل میں ہوتا ہے، جو ان سے پہلے بھی موجود ہوں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 125]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم 2663، وابن حبان فى ”صحيحه“: برقم: 2969، وأبو يعلى فى ”مسنده“: برقم: 5313، 5314، 5315»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
(نطفے کی تخلیق اور تقدیر کے غلبے کی روایت)
حدیث نمبر: 126
حَدَّثنا حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَيَكُونَ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهَ إِلَيْهَ الْمَلَكَ بِأَرْبَعٍ كَلِمَاتٍ، فَيَقُولُ: اكْتُبْ عَمَلَهُ، وَأَجَلَهُ، وَشَقِيًّا أَوْ سَعِيدًا، ثُمَّ يَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الرَّجُلَ ليعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَيَسبِقَ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الجَنَّةِ فَيَدْخَلَهَا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقْ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلَهَا" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حدیث سنائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر شخص کے نطفے کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک رکھا جاتا ہے، پھر وہ اتنے ہی عرصے تک جمے ہوئے خون کی صورت میں رہتا ہے، پھر وہ اتنے ہی عرصے تک گوشت کے لوٹھڑے کی صورت میں رہتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ چار چیزوں کے ہمراہ فرشتے کو اس کی طرف بھیجتا ہے اور فرماتا ہے تم اس کا عمل، اس کی زندگی کی آخری حد، اس کا بدبخت یا نیک بخت ہونا تحریر کر دو۔ پھر وہ فرشتہ اس میں روح پھونک دیتا ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، آدمی اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے، تو تقدیر کا لکھا ہوا اس سے آگے نکل جاتا ہے اور وہ اہل جنت کا سا عمل کرتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے، اور ایک شخص زندگی بھر اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور اہل جنت کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے، تو تقدیر کا لکھا ہوا اس سے آگے نکل جاتا ہے اور وہ اہل جہنم کا سا عمل کرتا ہے اور اس میں داخل ہو جاتا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 126]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 3208، 3332، 6594، 7454ومسلم: 2643، وابن حبان فى ”صحيحه“: برقم: 6174، 6177، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 3623، وأبو يعلى فى ”مسنده“ برقم: 5157»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
(نماز میں شیطان کے حصے اور دائیں بائیں اٹھنے کی روایت)
حدیث نمبر: 127
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ قَالَ:" لا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ صَلاتِهِ جُزْءًا، يَرَى أَنَّ حَتْمًا عَلَيْهِ أَنْ لا يَنْصَرِفَ يَعْنِي إِلا عَنْ يَمِينِهِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کوئی بھی شخص نماز میں شیطان کے لیے کوئی حصہ مقرر ہرگز نہ کرے۔ وہ یہ نہ سمجھے کہ اس پر یہ بات لازم ہے کہ وہ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) صرف دائیں طرف سے ہی اٹھ سکتا ہے، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی مرتبہ بائیں طرف سے اٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 127]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 858، ومسلم: 707، وابن حبان فى ”صحيحه“: برقم: 1997، وأبو يعلى فى ”مسنده“: برقم: 5174، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 3705،»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح