🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(ندامت کو توبہ قرار دینے کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 105
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: أَأَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: النَّدَمُ تَوْبَةٌ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : نَعَمْ , أَنَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " النَّدَمُ تَوْبَةُ" .
عبداللہ بن معقل بیان کرتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے والد نے ان سے کہا: کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ ”ندامت توبہ ہے۔“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ندامت توبہ ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 105]
تخریج الحدیث: «صحيح، وقد خرجنا وعلقنا عليه فى أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4969، 5081، 5129، 5261، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 612،614»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(عبدالکریم کی روایت کی زیادہ محبوبیت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: M105
قَالَ سُفْيَانُ : وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَالَّذِي حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَحَبُّ إِلَيَّ , لأَنَّهُ أَحْفَظُ مِنْ أَبِي سَعْدٍ.
مندرجہ بالا روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:) عبدالکریم نے جو روایت ہمیں سنائی ہے، وہ ہمارے نزدیک زیادہ محبوب ہے، حالانکہ ابوسعد نامی راوی کے مقابلے میں وہ زیادہ بڑے حافظ ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: M105]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ”العلل“ 192/5 مرفوعاً وموقوفاً، وأبوسعد البقال هو سعيد بن المرزبان ضعيف»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(غار میں سورہ مرسلات کی تلاوت اور سانپ کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 106
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ: وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا، فَأَخَذْتُهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا فَمَا أَدْرِي بِأَيَّتِهَا خَتَمَ: فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ سورة المرسلات آية 50 أَوْ: وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لا يَرْكَعُونَ سورة المرسلات آية 48، قَالَ: وَخَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ مِنْ جُحْرٍ، فَأَفْلَتَتْنَا وَدَخَلَتْ جُحْرًا آخَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ وُقِيتُمْ شَرَّهَا، وَوُقِيَتْ شَرَّكُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ سورہ نازل ہوئی: «والمرسلات عرفا» تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اسے سیکھا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تلاوت کیے ہوئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی، تو مجھے یہ نہیں پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سے کون سی آیت پر اس سورہ کو ختم کیا تھا۔ «فبأی حديث بعده يؤمنون» ”تو اس کے بعد وہ کون سی بات پر ایمان رکھیں گے۔“ یا پھر اس آیت پر ختم ہوئی تھی۔ «وإذا قيل لهم اركعوا لا يركعون» ”جب ان سے کہا جاتا ہے تم لوگ رکوع کرو تو وہ رکوع نہیں کرتے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اسی دوران ایک بل میں سے ایک سانپ نکل کر ہمارے سامنے آیا ہم اسے مارنے کے لیے اٹھے تو وہ دوسرے بل میں داخل ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس کے شر سے بچا لیا گیا ہے اور اسے تمہارے نقصان سے بچا لیا گیا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 106]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده حسن، والمتن صحيح، أخرجه البخاري 1830، 3317، 4930، 4931 ومسلم: 2234، وابن حبان فى ”صحيحه“، برقم: 707، 708، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:برقم: 49705001 5158، 5173، 5374»

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(وعظ کے وقفوں اور اکتاہٹ سے بچنے کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 107
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ، يَقُولُ: كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَأَتَانَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ، فَقَالَ: مَا لَكُمْ؟ قُلْنَا: نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: أَيْنَ تَرَوْنَهُ؟ قُلْنَا: فِي الدَّارِ، قَالَ: أَفَلا أَذْهَبُ فَأُخْرِجُهُ إِلَيْكُمْ؟ قَالَ: فَذَهَبَ , فَلَمْ يُلْبَثْ أَنْ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا وَمَعَهُ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنِّي لأُخْبَرُ بِمَجْلِسِكُمْ فَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ، إِلا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الأَيَّامِ كَرَاهَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا" .
شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ بیٹھے ہوئے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتظار کر رہے تھے، یزید بن معاویہ نخعی ہمارے پاس آئے انہوں نے فرمایا: کیا ہوا ہے؟ ہم نے کہا: ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے دریافت کیا: تمہارے خیال میں وہ کہاں ہوں گے؟ ہم نے کہا: گھر میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا: کیا میں جا کر تمہارے ساتھ بلا کر نہ لاؤں؟ راوی کہتے ہیں: تو وہ گئے اور تھوڑی ہی دیر کے بعد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور ہمارے پاس آ کر کھڑے ہوئے، ان کے ساتھ یزید بن معاویہ بھی تھے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے تمہارے یہاں بیٹھے ہونے کے بارے میں بتایا گیا لیکن میں نکل کر تمہارے پاس اس لیے نہیں آیا، کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ میں تمہیں اکتاہٹ کا شکار کر دوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دنوں کے وقفے کے ساتھ وعظ کیا کرتے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اکتاہٹ کو پسند نہیں کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 107]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 68، 70، 6411، ومسلم: 2821، وابن حبان فى ”صحيحه“: برقم: 4524، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:5032»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(زمانہ جاہلیت کے اعمال پر مواخذہ کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 108
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا كَانَ مِنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ: " مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ أُخِذَ بِالأَوَّلِ وَالآخِرِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! زمانہ جاہلیت میں ہم سے جو کچھ سرزد ہوا تھا کیا اس پر ہمارا مواخذہ ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اچھائی کرے گا، تو زمانہ جاہلیت میں اس نے جو عمل کیا تھا اس پر مواخذہ نہیں ہو گا اور جو شخص برائی کرے گا، تو اس کے پہلے اور بعد والے (تمام اعمال) کا مواخذہ ہو گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 108]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 6921، ومسلم: 120، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:5071، 5113، 5131، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 396»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(سرگوشی سے تیسرے شخص کو غمگین کرنے کی ممانعت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 109
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ , فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے: ”دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی میں بات نہ کریں، کیونکہ یہ چیز (اس تیسرے شخص کو) غمگین کر دے گی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 109]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، أخرجه البخاري فى ”صحيحه“ برقم: 2356، 2416، 25152666، 2669، 2673،2676،4549، 5240،5241،6290، 6659، 6676،7183، 7445، ومسلم فى ”صحيحه“ برقم: 138، 2184،وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:5114، 5132، 5220، 5255، وابن حبان فى ”صحيحه“: 583،4160،4161، 5084،5085، 5086» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(تقسیم پر رضا کی نیت نہ ہونے کی شکایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 110
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ، أَوْ قَالَ لَوْنُهُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَتَمَنَّيْتُ أَنِّي كُنْتُ أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَشَدَّ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز تقسیم کی، تو ایک شخص بولا: یہ ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: مجھے اپنے آپ پر قابو نہیں رہا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کا رنگ تبدیل ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اس وقت یہ آرزو کی کہ کاش میں اس دن مسلمان ہوا ہوتا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو اس سے زیادہ اذیت پہنچائی گئی تھی لیکن انہوں نے صبر سے کام لیا تھا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 110]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 3150،3405، 4335، 4336، 6059، 6100، 6291، 6336، ومسلم فى ”صحيحه“ برقم: 1062 وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 2917، 4829، 6212، وأحمد فى مسنده، برقم: 3678، وأبو يعلى فى ”مسنده“: برقم: 5133 5206، والبزار فى مسنده: برقم: 1666، 1702»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(سورہ بقرہ کا نام لینے اور کنکریاں مارنے کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 111
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَعْمَشَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ، يَقُولُ: لا تَقُولُوا سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَلا سُورَةُ كَذَا، فَذَكَرْتُهُ لإِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ , أَنَّهُ مَشَى مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي بَطْنِ الْوَادِي، فَلَمَّا أَتَى الْجَمْرَةَ جَعَلَهَا عَنْ يَمِينِهِ , ثُمَّ اعْتَرَضَهَا فَرَمَاهَا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا، فَقَالَ:" مِنْ هَاهُنَا , وَالَّذِي لا إِلَهَ غَيْرُهُ رَأَيْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ رَمَاهَا" .
اعمش کہتے ہیں: میں نے حجاج بن یوسف کو یہ کہتے ہوئے سنا: تم لوگ یہ نہ کہو ”سورہ بقرہ“، سورہ فلاں۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم نخعی سے کیا، تو انہوں نے بتایا: عبدالرحمٰن بن یزید نے مجھے یہ بات بتائی ہے، ایک مرتبہ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ وادی کے نشیب میں چل رہے تھے، جب وہ جمرہ کے پاس آئے، تو سیدنا عبداللہ نے اسے اپنے دائیں طرف رکھا اور پھر ان کے مدمقابل آ گئے، پھر انہوں نے اسے کنکریاں ماریں۔ میں نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! لوگ تو اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ ہستی جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی میں نے انہیں یہیں سے کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 111]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 1747، ومسلم: 1296، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4972، 5067، 5185، 5195، وابن حبان فى صحيحه: 3870» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(شرابی کو کوڑوں کی سزا کا بیان)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 112
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَدِمَ عَبْدُ اللَّهِ الشَّامَ، فَقَرَأَ سُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَيْحَكَ , أَوْ وَيْلَكَ قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَحْسَنْتَ"، فَبَيْنَا هُوَ يُرَاجِعُهُ إِذْ وَجَدَ عَبْدُ اللَّهِ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَتَشْرَبُ الْخَمْرَ وَتُكَذِّبُ بِالْقُرْآنِ؟ لا أَبْرَحُ حَتَّى تُجْلَدَ فَجُلِدَ .
علقمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تشریف لائے انہوں نے سورہ یوسف کی تلاوت کی، تو ایک صاحب نے ان سے کہا: یہ اس طرح نازل نہیں ہوئی۔ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تمہاری بربادی ہو، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے تلاوت کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا: ”تم نے ٹھیک پڑھا ہے۔“ ابھی ان دونوں حضرات کی بحث جاری تھی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس شخص سے شراب کی بو محسوس ہوئی۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا تم شراب پیتے ہو اور قرآن کی تکذیب کرتے ہو؟ میں تمہیں ضرور کوڑے لگواؤں گا، تو پھر اس شخص کو کوڑے لگائے گئے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 112]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 5001، ومسلم: 801، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:5068، 5093، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 3661 برقم: 4114»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(خلیل بنانے سے بری الذمہ ہونے کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 113
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ غَيْرَ مَرَّةٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خِلِّهِ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلا لاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلا، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ لَخَلِيلُ اللَّهِ" , يَعْنِي: نَفْسَهُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں ہر ساتھی کے ساتھ سے بری الذمہ ہوں، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا، تو میں ابوبکر کو خلیل بناتا لیکن تمہارے آقا اللہ کے خلیل ہیں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 113]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه مسلم 2383 وابن حبان فى ”صحيحه“برقم: 6426،6855، 6856 وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: برقم: 5149، 5180، 5249، 5308،5345»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں