مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 277
حدیث نمبر: 277
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ سورة المؤمنون آية 60 أَهُمُ الَّذِينَ يَزْنُونَ، وَيَسْرِقُونَ، وَيَشْرَبُونَ الْخَمْرَ؟ قَالَ:" لا يَا ابْنَةَ الصِّدِّيقِ، وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ يُصَلُّونَ، وَيَصُومُونَ، وَيَتَصَدَّقُونَ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا: ”اور وہ لوگ جو اس چیز کو دیتے ہیں جو انہیں دیا گیا ہے اور ان کے دل لرز رہے ہوتے ہیں۔“ (23-المؤمنون:60) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: کیا یہ وہ لوگ ہیں جو زنا کا ارتکاب کریں گے اور چوری کریں گے اور شراب پئیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔ اے صدیق کی صاحبزادی! یہ وہ لوگ ہیں جو نمازیں پڑھیں گے، روزے رکھیں گے اور صدقہ دیا کریں گے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 277]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وقد استوفينا تخريجه فى مسند الموصلي برقم 4917. وقد سبقنا الوهم هناك إلى أن ابن حميد هو عبد فقلنا: ورجاله لقات، غير أن ابن حميد هو شيخ الطبراني وهو ضعيف، فتعالى ربي الذى لا يضل ولا ينسي»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر 278
حدیث نمبر: 278
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهُ بِمَا اكْتَسَبَ، وَكَانَ لَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی خرابی پیدا کئے بغیر (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتی ہے، تو اس شوہر کو اس کے کمانے کا اجر ملتا ہے، عورت کو اس کے خرچ کرنے کا اجر ملتا ہے اور خزانچی کی مثال بھی اسی طرح ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 278]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه،وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1425، 1437، 1439، 1440، 1441، 2065، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1024، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3358، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2538، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2331، 9152، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1685، والترمذي فى «جامعه» برقم: 671، 672، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2294، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7942، 7943، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24806، 24813، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 4359»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 279
حدیث نمبر: 279
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: رَأَيْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاضِعًا يَدَكَ عَلَى مِعْرَفَةِ فَرَسٍ، وَأَنْتَ قَائِمٌ تُكَلِّمُ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ، فَقَالَ:" وَقَدْ رَأَيْتِيهِ؟" , قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلامَ"، قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , وَجَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ زَائرٍ وَمِنْ دَخِيلٍ , فَنِعْمَ الصَّاحِبُ، وَنِعْمَ الدَّخِيلُ .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کی پیشانی پر ہاتھ رکھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر حضرت کلبی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے اسے دیکھا تھا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: انہیں بھی سلام ہو اور ان پر اللہ کی رحمتیں ہوں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے جو کسی بھی ملاقاتی اور مہمان کو دی جاتی ہے، وہ کتنے اچھے ساتھی اور کتنے اچھے مہمان ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 279]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، ولكن الحديث متفق عليه، وقد استولينا تخريجه فى «مسند الموصلي» برقم 4781، وفي صحيح ابن حبان برقم 7098،. وانظر أيضا تخريج الحديث 4498. فى مسند الموصلي»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر 280
حدیث نمبر: 280
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَيَّ كَرَاهِيَةً، فَقَالَ:" أَرْضِعِيهِ"، فَقَالَتْ: كَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ؟ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ"، قَالَتْ: فَأَرْضَعَتْهُ، ثُمَّ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتٍ: مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا أَكْرَهُهُ مُنْذُ أَرْضَعْتُهُ . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، سہلہ بنت سہیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کیا: میں نے سالم کے اپنے ہاں آنے کی وجہ سے اپنے شوہر سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے (یعنی سالم) کو اپنا دودھ پلا دو۔“ میں نے عرض کی: میں اسے کیسے دودھ پلا سکتی ہوں؟ حالانکہ وہ بڑی عمر کا شخص ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پتہ ہے وہ بڑی عمر کا شخص ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، تو اس خاتون نے اس لڑکے کو دودھ پلا دیا پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو اس نے عرض کی جب سے میں نے اس لڑکے کو دودھ پلایا ہے اس کے بعد مجھے سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ میں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی جو نا پسند ہو۔ عبدالرحمان بن قاسم کہتے ہیں: سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 280]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه،وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 4000، 5088، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1453، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4213، 4214، 4215، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2707، 5034، 6995، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3223، 3224، 3319، 3320، 3321، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2061، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2303، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1943، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12656، 13897،وأحمد فى «مسنده» برقم: 24742، 26052»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 281
حدیث نمبر: 281
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ (قیمتی چیز چوری کرنے) پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 281]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه،وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6789، 6790، 6791، 6792، 6792 م، 6793، 6794، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1684، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4455، 4459، 4460، 4462، 4464، 4465، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8231، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4929، برقم: 4930، 4931، 4932، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4383، 4384، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1445، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2346، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2585، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17253، 17254، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2342، 4379، 4411، 4554، 4836»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 282
حدیث نمبر: 282
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: وَحَدَّثَنَاهُ أَرْبَعَةٌ عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، لَمْ يَرْفَعُوهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَرُزَيْقُ بْنُ حُكَيْمٍ الأَيْلِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدِ , وَالزُّهْرِيُّ، أَحْفَظُهُمْ كُلُّهُمْ إِلا أَنَّ فِي حَدِيثِ يَحْيَى مَا دَلَّ عَلَى الرَّفْعِ , مَا نَسِيتُ وَلا طَالَ عَلَيَّ الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا.
سفیان نے کئی راویوں کے حوالے سے اس روایت کو نقل کیا ہے جن میں سے اکثر نے اسے ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا تاہم ایک راوی نے ایسی بات نقل کی ہے، جو اس بات پر دلالت کرتی ہے یہ ”مرفوع“ حدیث ہے (جس کے الفاظ یہ ہیں) ”ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ قیمت والی چیز (چوری کرنے پر) ہاتھ کاٹا جائے گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 282]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وانظر التعليق السابق»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 283
حدیث نمبر: 283
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ، فَهُوَ حَرَامٌ" , فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ مَالِكًا وَغَيْرَهُ يَذْكُرُونَ الْبِتْعَ، فَقَالَ: مَا قَالَ لَنَا ابْنُ شِهَابٍ الْبِتْعَ، مَا قَالَ لَنَا ابْنُ شِهَابٍ إِلا كَمَا قُلْتُ لَكَ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر وہ مشروب جو نشہ پیدا کر دے وہ حرام ہے۔“ سفیان سے کہا گیا: مالک اور دیگر راویوں نے اس میں بتع (شہد سے بنی ہوئی شراب) کا تذکرہ کیا ہے، تو سفیان نے کہا: ابن شہاب نے ہمارے سامنے بتع کا تذکرہ نہیں کیا۔ ابن شہاب نے ہمارے سامنے وہی الفاظ ذکر کئے تھے جو میں نے تمہارے سامنے بیان کئے ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 283]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، فقد أخرجه البخاري فى الأشربة 5585، ومسلم فى الأشربة 2001، وقد استوفينا تخريجه فى «مسند الموصلي» برقم 4360، وفي صحيح ابن حبان برقم 5345،5372,5393,5397»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 284
حدیث نمبر: 284
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى، فَقَالَ:" لَقَدَ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ" , وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا شَكَّ فِيهِ، فَقَالَ: عَنْ عَمْرَةَ , أَوْ عُرْوَةَ لا يَذْكُرُ فِيهِ الْخَبَرَ , ثُمَّ ثَبَتَ عَلَى عُرْوَةَ، وَذَكَرَ الْخَبَرَ فِيهِ غَيْرَ مَرَّةٍ , وَتَرَكَ الشَّكَّ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی قرأت سنی تو ارشاد فرمایا: ”اسے آل داؤد کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔“
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان اس روایت کو نقل کرتے ہوئے بعض اوقات اس میں شک کا شکار ہو جاتے تھے اور وہ یہ کہتے تھے کہ یہ عمرہ نامی خاتون سے منقول ہے یا شاید عروہ نامی صاحب سے منقول ہے، تاہم وہ اس روایت کے الفاظ ذکر نہیں کرتے تھے، پھر اس کے بعد انہوں نے اعتماد کے ساتھ عروہ سے منقول ہونے کا تذکرہ کیا اور پھر کئی مرتبہ اس روایت کو بیان کیا انہوں نے اس شک کو ترک کر دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 284]
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان اس روایت کو نقل کرتے ہوئے بعض اوقات اس میں شک کا شکار ہو جاتے تھے اور وہ یہ کہتے تھے کہ یہ عمرہ نامی خاتون سے منقول ہے یا شاید عروہ نامی صاحب سے منقول ہے، تاہم وہ اس روایت کے الفاظ ذکر نہیں کرتے تھے، پھر اس کے بعد انہوں نے اعتماد کے ساتھ عروہ سے منقول ہونے کا تذکرہ کیا اور پھر کئی مرتبہ اس روایت کو بیان کیا انہوں نے اس شک کو ترک کر دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 284]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد استوفينا تخريجه فى موارد الظمآن برقم 2263، وفي صحيح ابن حبان برقم 7195»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 285
حدیث نمبر: 285
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ ذَهَبًا كَانَتْ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ وَهِيَ أَكْثَرُ مِنَ السَّبِعَةِ، وَأَقَلُّ مِنَ التِّسْعَةِ فَلَمْ يُصْبِحْ حَتَّى قَسَمَهَا، ثُمَّ قَالَ:" مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ بِرَبِّهِ لَوْ مَاتَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ!" . قَالَ سُفْيَانُ: أُرَاهَا صَدَقَةً كَانَتْ أَتَتْهُ , أَوْ حَقًّا لإِنْسَانٍ خَشِيَ أَنْ يَتْوَى.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ سونا آیا، وہ رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تھا وہ سات سے زیادہ تھا اور نو سے کم تھا، تو صبح ہونے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تقسیم کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”محمد کا اپنے پروردگار کے بارے میں کیا گمان ہو گا کہ اگر وہ انتقال کر جائے اور یہ سونا اس کے پاس ہو۔“ سفیان کہتے ہیں: میرا خیال ہے یہ زکوٰۃ کا سونا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تھا یا پھر یہ کسی انسان کا حق تھا جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ ضائع نہ ہو جائے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 285]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه أحمد 49/6، 182، وابن سعد فى الطبقات 32/2, 33/2، وابن أبى شيبة برقم 16218 وابن حبان برقم 3212، بتحقيقناً، والبغوي فى «شرح السنة، برقم 1658، من طرف: حدثنا محمد بن عمرو، بهذا الإسناد»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر 286
حدیث نمبر: 286
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ وَائلِ بْنِ دَاوُدَ ، عَنِ ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" يَا عَائِشَةَ! إِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ، فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَلَمَّ بِذَنْبٍ , ثُمَّ تَابَ وَاسْتَغَفَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ:" إِنْ كُنْتَ بِذَنْبٍ أَلْمَمْتِ، فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ، فَإِنَّ التَّوْبَةَ النَّدَمُ وَالاسْتِغْفَارُ..."، وَأَكْثَرُ ذَلِكَ يَقُولُ عَلَى الأَوَّلِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے عائشہ! اگر تم نے گناہ کا ارتکاب کیا تھا، تو تم اللہ سے مغفرت طلب کرو، کیونکہ جب انسان گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور یہ پھر توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے۔“
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کئے ہیں: ”اگر تم نے گناہ کا ارادہ کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو کیونکہ توبہ ندامت کا اظہار اور استغفار کرنا ہوتا ہے۔“ تاہم سفیان اکثر اوقات پہلے والے الفاظ ہی نقل کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 286]
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کئے ہیں: ”اگر تم نے گناہ کا ارادہ کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو کیونکہ توبہ ندامت کا اظہار اور استغفار کرنا ہوتا ہے۔“ تاہم سفیان اکثر اوقات پہلے والے الفاظ ہی نقل کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 286]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى المغازي برقم:4141، ومسلم فى التوبة 2770، وقد استوفينا تخریجه ضمن حديث الإفك الطويل فى مسند الموصلي برقم 4931. وفي ربيع ابن حبان» برقم 634»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح