🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 239
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 239
حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا خَالَطَتِ الصَّدَقَةُ مَالا قَطُّ إِلا أَهْلَكَتْهُ , قَالَ: قَدْ يَكُونُ قَدْ وَجَبَ عَلَيْكَ فِي مَالِكَ صَدَقَةٌ، فَلا تُخْرِجُهَا فَيُهْلِكَ الْحَرَامُ الْحَلالَ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: صدقہ (یعنی زکوٰۃ کا مال) جس بھی مال کے ساتھ مل جاتا ہے وہ اسے ہلاکت کا شکار کر دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض اوقات تمہارے مال میں تم پر زکوٰۃ دینا لازم ہوتا ہے اور اگر تم اسے نہیں نکالتے ہو، تو حرام حلال کو ضائع کر دیتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 239]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده ضعيف: محمد بن عثمان بن صفوان الجمحي ترجمه البخاري فى الكبير، 180/1 ولم يورد فيه جرحاً ولا تعديلاً، وقال ابن أبى حاتم فى «الجرح والتعديل» 24/8: سألت أبى عنه فقال: منكر الحديث، ضعيف الحديث . وقال الدار قطني: «ليس بقوي» .‏‏‏‏ وقال الذهي فى «كاشفه» : « «‏‏‏‏لين» .‏‏‏‏ وذكره ابن حبان فى الثقات 24/7 وقال الذهبي فى الميزان 641/3 ”قال أبو حاتم: منكر الحديث“» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر Q240
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q240
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ الْعَالِمُ الزَّاهِدُ الْحَافِظُ تَقِيُّ الدِّينِ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْغَنَيِّ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ سُرُورٍ الْمَقْدِسِيُّ أَحْسَنَ اللَّهُ تَوْفِيقَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ سَعْدُ اللَّهِ بْنُ نَصْرِ بْنِ الدَّجَّاجِيِّ، وَأَبُو الْمَعَالِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْغَنِيِّ بْنِ حَنِيفَةَ الْبَاجِسْرَائِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اْلْإِمَامُ أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِي الْمَعْرُوفُ بِالْخَيَّاطِ رَحِمَهُ اللَّهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ زَيْدٍ الْمُؤَدِّبُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ مِنْ سَنَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَأَرْبَعِمِائَةٍ، فَأَقَرَّ بِهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الصَّوَّافِ قِرَاءَةُ عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، فَأَقَرَّ بِهِ، قَالَ: ثنا أَبُو عَلِيٍّ بِشْرُ بْنُ مُوسَي قَالَ:
تخریج الحدیث:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 240
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 240
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: اخْتَصَمَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَخِي عُتْبَةَ أَوْصَانِي، فَقَالَ: إِذَا قَدِمْتَ مَكَّةَ فَانْظُرِ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَاقْبِضْهُ فَإِنَّهُ ابْنِي، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي، وَوُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، وَقَالَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ" , فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ مَالِكًا، يَقُولُ: وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، فَقَالَ سُفْيَانُ: لَكِنَّا لَمْ نَحْفَظْ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور عبدبن زمعہ نے مقدمہ پیش کیا جو زمعہ کی کنیز کے بیٹے کے بارے میں تھا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ!میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی اس نے یہ کہا تھا کہ جب تم مکہ جاؤ تو زمعہ کی کنیز کے بیٹے کا جائزہ لینا اور اسے اپنے قبضے میں لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے، تو عبدبن زمعہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ میرا بھائی ہے میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے، جو میرے والد کے فراش پر پیدا ہوا ہے (راوی کہتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کی عتبہ کے ساتھ واضح مشابہت ملاحظہ فرما لی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عبدبن زمعہ! یہ تمہیں ملے گا کیونکہ بچہ فراش والے کو ملتا ہے۔ اے سودہ! تم اس سے پردہ کرو۔ سفیان سے کہا گیا: امام مالک تو اس روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کرتے ہیں: زنا کرنے والے کو محرومی ملتی ہے۔ تو سفیان نے کہا: ہم نے زہری سے یہ الفاظ یاد نہیں رکھے ہیں کہ انہوں نے اس روایت میں یہ الفاظ بھی بیان کیے ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 240]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، فقد أخرجه البخاري فى البيوع 2053، وأطرافه -، ومسلم فى الرضاع 1457، وقد استوفينا تخريجه فى مسند الموصلي، برقم 4419، وفي صحيح ابن حبان، برقم 4105، وانظر التعليق التالي»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 241
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 241
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ! أَلَمْ تُرِي أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ، فَرَأَى زَيْدًا وَأُسَامَةَ وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءوسَهُمَا , وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش میرے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تمہیں پتہ ہے محزز مدلجی میرے پاس آیا اس نے زید اور اسامہ کو دیکھا ان پر چادر پڑی ہوئی تھی جس نے ان کے سروں کو ڈھانپا ہوا تھا اور ان دونوں کے پاؤں ظاہر تھے تو وہ بولا: یہ باپ بیٹے کے پاؤں ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 241]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، فقد أخرجه البخاري فى المناقب 3555، - وأطرافه -، ومسلم فى الرضاع 1459، وقد استوفينا تخريجه وعلقنا عليه فى مسند الموصلي برقم 4422 وفي صحيح ابن حبان، برقم 4102،4103» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 242
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 242
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يُحَدِّثُ بِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، فَقَالَ فِيهِ: أَلَمْ تَرَى أَنَّ مُحَرِّزًا الْمُدْلِجِيَّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِنَّمَا هُوَ مُجَزِّزٌ الْمُدْلِجِيُّ , فَانْكَسَرَ وَرَجَعَ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: کیا تم نے محزز مدلجی کو دیکھا؟ راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے استاد سے کہا: ابوالولید اس کا نام محزز مدلجی ہے تو انہوں نے انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے (اپنی غلطی سے) رجوع کر لیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 242]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وأخرجه الدار قطني فى «المؤتلف والمختلف» 2064/4-2065»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 243
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 243
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَأُعْتِقَهَا فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ مَوَالِيهَا أَنْ أَعْتِقَهَا وَيَكُونُ الْوَلاءُ لَهُمْ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ , فَقَالَ:" اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ , فَقَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ فَمَنْ شَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ، إِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے بریرہ کو خریدنے کا ارادہ کیا، تاکہ اسے آزاد کر دوں، تو اس کے مالکان نے یہ شرط عائد کی کہ میں اسے آزاد کر دوں گی لیکن ولاء ان کے لیے رہے گی، میں نے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے خرید کر اسے آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ ایسی شرائط عائد کرتے ہیں، جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے، تو جو شخص کوئی ایسی شرط عائد کرے جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے، تو اسے حق نہیں ہو گا اگرچہ اس نے سو مرتبہ یہ شرط عائد کی ہو، ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 243]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، فقد أخرجه البخاري فى الصلاة 456، واطرافه -، ومسلم فى العتق 1504، وقد استوفينا تخريجه فى مسند الموصلي برقم 4435، وفي صحيح ابن حبان برقم 4269،5115، 5116»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 244
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 244
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَلَيْسَ لِي مِنْهُ إِلا مَا أُدْخِلَ عَلَى بَيْتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہند بنت عتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ابوسفیان ایک کنجوس آدمی ہے مجھے ان کی طرف سے وہی کچھ ملتا ہے، جو وہ گھر میں لا کر دیتے ہیں، لیکن مجھے مزید خرچ کی ضرورت ہوتی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اتنا حاصل کر لیا کرو جو تمہارے اور تمہاری اولاد کے لیے مناسب طور پر کافی ہو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 244]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى البيوع 2211، -وأطرافه-، ومسلم فى الألضية 1714، وقد استوفينا تخريجه فى «مسند الموصلي» برقم 4636، وفي «صحيح ابن حبان» رقم 4255،4256،4257،4258 أيضاً» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 245
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 245
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَجُلا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ لَتَصَدَّقَتْ، فَهَلْ لَهَا مِنْ أَجْرٍ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ" , قَالَ سُفْيَانُ: وَحَفِظَ النَّاسُ عَنْ هِشَامٍ كَلِمَةً لَمْ أَحْفَظْهَا، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، فَمَاتَتْ وَلَمْ أَحْفَظْ مِنْ هِشَامٍ , إِنَّمَا هَذِهِ الْكَلِمَةُ أَخْبَرَنِيهَا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ , عَنْ هِشَامٍ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ان کے بارے میں میرا گمان یہ ہے، اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ صدقہ کرنے کے لیے کہتیں اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انہیں اجر ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ یہاں سفیان نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے لوگوں نے ہشام کے حوالے سے ایک کلمہ یاد رکھا ہے جسے میں یاد نہیں رکھ سکا، ان صاحب نے یہ عرض کی تھی: میری والدہ کا اچانک انتقال ہو گیا، لیکن ہشام کے حوالے سے مجھے یہ لفظ یاد نہیں ہیں۔ ایوب سختیانی نے ہشام کے حوالے سے اس لفظ کے بارے میں مجھے بتایا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 245]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، فقد أخرجه البخاري فى الجنائز 1388، -وطرفه -، ومسلم فى الوصية 1004، وقد استوفينا تخريجه فى مسند الموصلي برقم 4434، وفي صحيح ابن حبان، برقم 3353»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 246
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 246
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرض کے غلبے سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 246]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، فقد أخرجه البخاري فى الأذان 832، - وأطرافه -، ومسلم فى المساجد 589، وقد استوفينا تخريجه فى مسند الموصلي برقم 4545،و 4474، وفي صحيح ابن حبان برقم:1968»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 247
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 247
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَلَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنَ الزُّهْرِيِّ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نے یہ روایت زہری سے نہیں سنی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 247]
تخریج الحدیث: «إسناده منقطع، وانظر تعليق الحميدي فى نهاية الحديث وهذا يعني: أن سفيان بن عيينة فد صرح للحميدي بأنه لم يسمع هذا الحديث عينه من الزهري، وإن كان سمع من غيره. غير أن الحديث صحيح، وانظر التعليق السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں