🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 257
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 257
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الْبِطِّيخِ وَالرُّطَبِ فَيَأْكُلُهُ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ککڑی اور کھجور کو ملا کر کھا لیتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 257]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وقد استوفينا تخريجه فى ابن حبان فى ”صحيحه“: 5246، 5247»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 258
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 258
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَأَلَ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ:" يَأْتِينِي أَحْيَانًا فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فَيُفْصِمُ عَنِّي، وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ، وَهُوَ أَشَدُّ مَا يَأْتِينِي، وَيَأْتِينِي أَحْيَانًا فِي مِثْلِ صُورَةِ الْفَتَى , فَيَنْبِذُهُ إِلِيَّ , فَأَعِيهُ، وَهُوَ أَهْوَنُهُ عَلَيَّ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، حارث بن ہشام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اوقات وہ مجھ پر گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے، جب یہ کیفیت ختم ہو جاتی ہے، تو میں اس وحی کو یاد کر لیتا ہوں اور یہ مجھ پر آنے والی سب سے سخت ترین کیفیت ہوتی ہے، بعض اوقات فرشتہ میرے سامنے ایک نوجوان کی شکل میں آتا ہے اور وہ کلمات بتا دیتا ہے، تو میں انہیں محفوظ کر لیتا ہوں اور یہ میرے لیے سب سے آسان صورت ہوتی ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 258]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح والحديث متفق عليه أخرجه البخاري 2، أخرجه مسلم 2333» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 259
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 259
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوُ الْبَارِدُ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ مشروب وہ تھا، جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 259]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وقد استوفينا تخريجه فى مسند الموصلي برقم:4516» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 260
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 260
حَدَّثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْتَصِرًا مِنْ مَظْلَمَةٍ ظُلِمَهَا قَطُّ، مَا لَمْ تُنْتَهَكْ مَحَارِمُ اللَّهِ، فَإِذَا انْتُهِكَ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ شَيْءٌ كَانَ أَشَدَّهُمْ فِي ذَلِكَ غَضَبًا، وَمَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ مَأْثَمًا" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف مدد طلب کی ہو، تاوقتیکہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کو پامال نہ کیا گیا ہو اور جب اللہ تعالیٰ کی حرمت میں سے کسی چیز کو پامال کیا جائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں انتہائی شدید غضبناک ہوا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملوں میں اختیار دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے زیادہ آسان کو اختیار کیا، بشرطیکہ وہ کوئی گناہ کا کام نہ ہو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 260]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه مسلم 2327، وفي ابن حبان فى ”صحيحه“: 488»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 261
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 261
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا كَذَا وَكَذَا , يُخَيَّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَأْتِي أَهْلَهُ وَلا يَأْتِيهِمْ، قَالَتْ: فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ:" يَا عَائِشَةُ! أَعَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَفْتَانِي فِي أَمْرٍ اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، أَتَانِي رَجُلانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلِي، وَالآخَرُ عِنْدَ رَأْسِي، فَقَالَ: الَّذِي عِنْدَ رِجْلِي لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي: مَا بَالُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوبٌ، قَالَ: وَمَنْ طَبَّهُ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ، قَالَ: وَفِيمَ؟ قَالَ: فِي جُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ تَحْتَ رَعُوفَةٍ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ"، قَالَتْ: فَجَاءَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا كَأَنَّ رُؤُوسَ , نَخْلِهَا رُؤُوسُ الشَّيَاطِينِ، وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ"، قَالَتْ: فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُخْرِجَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَهَلا...؟ قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي تَنَشَّرْتَ، فَقَالَ:" أَمَا وَاللَّهِ فَقَدْ شَفَانِي، وَأَمَّا أَنَا فَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا" ، قَالَتْ: وَلَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ حَلِيفٌ لِيَهُودَ. قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَاهُ أَوَّلا قَبْلَ أَنْ نَلْقَى هِشَامًا، فَقَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ آلِ عُرْوَةَ، فَلَمَّا قَدِمَ هِشَامٌ حَدَّثَنَاهُ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، کچھ دن تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت رہی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ محسوس ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاید اپنی اہلیہ کے ساتھ صحبت کی ہے، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا ہوتا تھا۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تمہیں پتہ ہے، میں نے اللہ تعالیٰ سے جس چیز کے بارے میں دریافت کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے بارے میں جواب دے دیا ہے، میرے پاس دو آدمی آئے ان میں سے ایک میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے سرہانے بیٹھ گیا تو جو شخص میرے پاؤں کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس نے میرے سرہانے موجود شخص سے دریافت کیا: ان صاحب کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے جواب دیا: ان پر جادو کیا گیا ہے پہلے نے دریافت کیا: ان پر کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے۔ پہلے نے دریافت کیا: کس چیز میں کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: نر کھجور کے شگوفے میں ایک کنگھی میں اور کنگھی کے دوران نکلنے والے بالوں میں جو ذروان کے کنویں کے کنارے پڑے ہوئے پتھر کے نیچے رکھے ہوئے ہیں۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہی وہ کنواں ہے، جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا۔“، تو وہاں کھجور کے درخت کے سر یوں تھے جیسے شیاطین کے سر ہوتے ہیں اور اس کا پانی یوں تھا جیسے اس میں مہندی گھول دی گئی ہو۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں وہاں سے نکالا گیا۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو پھیلایا کیوں نہیں (ابن حجر نے یہ بات بیان کی ہے اس سے مراد یہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ علاج کیوں نہیں کروایا جو جادو کے بعد کروایا جاتا ہے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جہاں تک اس بات کا تعلق ہے، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا عطا کر دی ہے اور میں نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ میں اس حوالے سے لوگوں پر شر پھیلاؤں۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، لبید بن اعصم، بنو زریق سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جو یہودیوں کا حلیف تھا۔ سفیان کہتے ہیں: عبدالملک بن جریج نے پہلے یہ روایت سنائی تھی یہ بات ہماری ہشام سے ملاقات سے پہلے کی ہے انہوں نے کہا تھا کہ آل عروہ سے تعلق والے ایک صاحب نے یہ روایت سنائی ہے، لیکن جب ہشام تشریف لے آئے تو انہوں نے ہمیں یہ روایت سنائی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 261]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، فقد أخرجه البخاري فى الجزية والموادعة 3175، باب: هل يعفي الذمي إذا سحر -وأطرافه-، ومسلم فى السلام 2189، باب: السحر. وقد استوفينا تخريجه وعلقنا عليه فى «مسند الموصلي» برقم 4882، تعليقا بحسن الرجوع إليه، كما أخرجناه فى «صحيح ابن حبان، برقم 6583، و 9089»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 262
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 262
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنْتُ الْعَبُ بِهَذِهِ الْبَنَاتِ، فَكُنَّ جَوَارِيَ يَأْتِيَنِّي يَلْعَبْنَ مَعِي بِهَا، فَلَمَّا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَمَّعْنَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلِيَّ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں گڑیاؤں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی میری سہلیاں میرے پاس آیا کرتی تھیں اور وہ بھی میرے ساتھ ان کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی تھیں، جو جا کر چھپ جاتی تھیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں میری طرف بھجوا دیا کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 262]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، فقد أخرجه البخاري فى الأدب 6130، باب: الانبساط إلى الناس، ومسلم فى فضائل الصحابة 2440، باب: فضل عائشة - رضي الله عنها -وقد استوفينا تخريجه فى «مسند الموصلي» برقم 4908 وفي صحيح ابن حبان، برقم 5863، 5865، 5866. وانظر الكبري للنسائي 305/5 برقم 8946»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 263
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 263
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَابَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ، فَلَمَّا حَمَلْتُ مِنَ اللَّحْمِ سَابَقَنِي، فَسَبَقَنِي، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ! هَذِهِ بِتِلْكَ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا، تو میں آگے نکل گئی پھر جب میرا وزن زیادہ ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ مقابلہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آگے نکل گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! یہ اس کا بدلہ ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 263]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد خرجناه فى صحيح ابن حبان، برقم 4691، وفي «موارد الظمآن برقم 1310،. ونضيف هنا: وأخرجه ابن أبى شيبة 508/12 برقم 15435»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 264
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 264
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: إِنِّي خَبِيثُ النَّفْسِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: إِنِّي لَقِسُ النَّفْسِ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی شخص یہ نہ کہے، میرا نفس خبیث ہو گیا ہے، بلکہ وہ یہ کہے میں تھکاوٹ کا شکار ہو گیا ہوں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 264]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، فقد أخرجه البخاري فى الأدب 6179، باب: لايقل خبثت نفسي، ومسلم فى الأدب 2250، باب: كراهة قول الإنسان: خبثت نفسي، من طريق سفيان بهذا الإسناد. وقد استوفينا تخريجه فى «صحيح ابن حبان برقم 5724، ونضيف هنا أنه عند النسائي فى «الكبرى» 10888، 10889 وفي الباب عن أبى هريرة خرجناه فى «مسند الموصلي» برقم 5854»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 265
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 265
حَدَّثنا حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ :" يَا ابْنَ أُخْتِي! إِنْ كَانَ أَبَوَاكَ لَمِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ سورة آل عمران آية 172، أَبُو بَكْرٍ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ" .
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے فرمایا: تمہارے دو باپ (یعنی تمہارے والد اور تمہارے نانا) ان لوگوں میں شامل ہیں، جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ» (3-آل عمران:172) ”یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے مشکل صورتحال کا سامنا کرنے کے بعد اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر لبیک کہا۔“ (تمہارے وہ دونوں اجداد) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 265]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور برقم 2915، من طريق سفيان، بهذا الإسناد. وأخرجه البخاري فى المغازي 4077، وأخرجه مسلم فى فضائل الصحابة 2418»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 266
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 266
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ظَهَرَ السُّوءُ فِي الأَرْضِ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِأَهْلِ الأَرْضِ بَأْسَهُ"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَنَهْلِكُ وَفِينَا أَهْلُ طَاعَةِ اللَّهِ , قَالَ:" نَعَمْ , ثُمَّ تَصِيرُونَ إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب برائی پھیل جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اہل زمین پر سختی نازل کرتا ہے۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کی: کیا ہم لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے؟ جبکہ ہمارے درمیان اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والے لوگ بھی موجود ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں! پھر تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف چلے جاؤ گے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 266]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه جهالة، وأخرجه أحمد 41/6 - ومن طريق أحمد هده أورده ابن كثير فى التفسير 580/3 . والبيهقي فى «شعب الإيمان،98/6 برقم 7599، من طريق سفيان بن عيينة، عن جامع بن أبى راشد، عن منذر الثوري، عن حسن بن محمد بن علي، عن امرأته لعلها تحرفت عن امرأة- عن عائشة.... ◄ تنبيه: لقد تنحرف «حسن» عند البيهقي إلى «حسين» . وسقط من إسناده عن امرأته. ويشهد له حديث أم سلمة عند الطبراني فى الكبير»

الحكم على الحديث:
مجھول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں