🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 248
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 248
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَوْلادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ , فَكُلُوا مِنْ كَسْبِكُمْ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تمہاری اولاد تمہاری سب سے عمدہ کمائی ہے، تو تم اپنی کمائی میں سے کھا لو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 248]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف فيه جهالة، ولكن الحديث صحيح، وقد استوفينا تخريجه فى موارد الظمآن برقم 1091،1092،1093 وفي صحيح ابن حبان برقم 4259، 4360، 4261»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 249
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 249
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: جَلَسَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي، فَجَعَلَ يُحَدِّثُ، وَيَقُولُ: اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ! فَلَمَّا قَضَتْ صَلاتَهَا قَالَتْ لِي:" يَا ابْنَ أُخْتِي! أَلا تَعْجَبُ إِلَى هَذَا وَإِلَى حَدِيثِهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا كَانَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ أَحْصَاهُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَلَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنَ الزُّهْرِيِّ.
عروہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس آ کر بیٹھے وہ اس وقت نماز ادا کر رہی تھیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کرنا شروع کی اور یہ کہنے لگے: اے حجرے کی مالک خاتون! آپ سنیں جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نماز مکمل کی تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے میرے بھانجے! کیا تمہیں اس شخص پر اور اس کے طرز بیان پر حیرت نہیں ہو رہی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات کرتے تھے، تو اگر کوئی گننے والا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کو) گننا چاہتا تو وہ گن سکتا تھا (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر بیان کرتے تھے)۔
امام حمیدی کہتے ہیں: سفیان نے یہ روایت بھی زہری سے نہیں سنی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 249]
تخریج الحدیث: «إسناده، منقطع، وانظر تعليقا على الإسناد الأسبق، وتعليق الحميدي فى نهاية الحديث والحديث متفق عليه، فقد أخرجه البخاري فى المناقب 3567، 3568، باب: صفة النبى صلى الله عليه وسلم ومسلم فى فضائل الصحابة 2493، باب: من فضائل أبى هزيرة الدوسي .وقد استوفينا تخريجه فى مسند الموصلي برقم 4393، 4677، وفي صحيح ابن حبان، برقم 7153»

الحكم على الحديث:
إسناده منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 250
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 250
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَهْطًا مِنَ الْيَهُودِ دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ! إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ"، قَالَتْ: قُلْتُ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا قَالُوا؟ قَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ:" قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَعَلَيْكُمْ، فَإِذَا وَقَفَ عَلَيْهِ تَرَكَ الْوَاوَ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، کچھ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! سام علیک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علیکم۔“ (تمہیں بھی آئے) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کہا: بلکہ تم کو موت بھی آئے اور تم پر لعنت بھی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند فرماتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا نہیں؟ انہوں نے کیا کہا ہے؟ انہوں نے کہا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں نے یہ کہہ دیا ہے: تمہیں بھی آئے۔“
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان بعض اوقات اس روایت میں یہ الفاظ کہتے تھے ”اور تمہیں بھی آئے“ تو جب انہیں اس پر تنبیہہ کی گئی تو انہوں نے حرف ”و“ کو ترک کر دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 250]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى الجهاد 2935، واطرافه -، ومسلم فى السلام 2165، وقد استوفينا تخريجه فى مسند الموصلي برقم 4421 وانظر صحيح ابن حبان برقم 547،. وتضيف هنا: وأخرجه عبد بن حميد برقم 1471، من طريق عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن الزهري بهذا الإسناد» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 251
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 251
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ , أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ، أَوْ قَالَ: أَخُو الْعَشِيرَةِ"، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلانَ لَهُ الْقَوْلَ، فَلَمَّا خَرَجَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُلْتُ لَهُ الَّذِي قُلْتَ , ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ، أَوْ قَالَ: وَدَعَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ" . قَالَ سُفْيَانُ: فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ: رَأَيْتُكَ أَنْتَ أَبَدًا تَشُكُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک صاحب نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اندر آنے کی اجازت دے دو! یہ اپنے خاندان کا انتہائی برا شخص ہے۔“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) جب وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نرمی سے بات کی جب وہ شخص چلا گیا تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے اس کے بارے میں پہلے ایک بات کہی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نرمی سے گفتگو کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ! قیامت کے دن مرتبے اور مقام کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ برا وہ شخص ہوگا، جس کی بدزبانی سے بچنے کے لیے لوگ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں۔“ سفیان کہتے ہیں: میں نے محمد بن منتظر سے کہا: میں نے آپ کا جائزہ لیا ہے، آپ ہمیشہ اس روایت میں شک کا اظہار کرتے ہیں (یعنی آپ کو اس کے الفاظ میں شک محسوس ہوتا ہے۔) [مسند الحميدي/حدیث: 251]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه،وأخرجه البخاري 6031 وأخرجه مسلم 2591 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4538»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 252
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 252
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا نَفَعَنَا مَالٌ قَطُّ , مَا نَفَعَنَا مَالُ أَبِي بَكْرٍ" , فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ مَعْمَرًا يَقُولُهُ عَنْ سَعِيدٍ، فَقَالَ: مَا سَمِعْنَا مِنَ الزُّهْرِيِّ إِلا عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کسی بھی مال نے ہمیں اتنا نفع نہیں دیا جتنا ابوبکر کے مال نے ہمیں نفع دیا ہے۔“
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان سے کہا گیا: معمر نے یہ روایت سعید کے حوالے سے نقل کی ہے، تو انہوں نے فرمایا: ہم نے تو یہ روایت زہری سے عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول روایت کے طور پر ہی سنی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 252]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وقد أخرجه ابويعلي فى «المسند» برقم 4418،4905»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 253
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 253
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ , أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اسْتَتَرْتُ بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَوَّنَ وَجْهُهُ , ثُمَّ هَتَكَهُ، وَقَالَ: " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے میں نے ایک باریک کپڑے کا پردہ بنایا تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ملاحظہ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سختی سے کھینچا اور ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے شدید عذاب ان لوگوں کو ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہیں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 253]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه أخرجه البخاري 2476، وأخرجه مسلم 2107»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 253
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: M253
قَالَ سُفْيَانُ : فَلَمَّا جَاءَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا بِأَحْسَنَ مِنْهُ وَأَرْخَصَ، وَقَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي , أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سُتِرْتُ عَلَى سَهْوَةِ لِي بِقِرَامٍ لِي فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَعَهُ، وَقَالَ: " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَةً، أَوْ وِسَادَتَيْنِ.
سفیان کہتے ہیں: جب عبدالرحمان بن قاسم ہمارے پاس آئے، تو انہوں نے یہ روایت اس سے زیادہ بہتر طور پر ہمیں سنائی جس میں زیادہ رخصت پائی جاتی ہے، انہوں نے بتایا: میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں نے اپنے اوطاق میں پردہ لٹکایا تھا اس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ملاحظہ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے شدید عذاب ان لوگوں کو ہو گا، جو اس کی مخلوق کے حوالے سے مقابلہ کرتے ہیں۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے اسے کاٹ کے ایک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دو تکیے بنا لئے۔ [مسند الحميدي/حدیث: M253]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2476، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2107، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5843، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 4403»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 254
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 254
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى الإِنْسَانُ الشَّيْءَ مِنْهُ، أَوْ كَانَتْ بِهِ قُرْحَةٌ , أَوْ جُرْحٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُصْبَعِهِ هَكَذَا، وَوَضَعَ أَبُو بَكْرٍ سَبَّابَتَهُ بِالأَرْضِ , ثُمَّ رَفَعَهَا: " بِسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب کسی شخص کو کوئی بیماری لاحق ہوتی یا اسے کوئی پھوڑا نکل آتا یا کوئی زخم لگ جاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی اس طرح رکھتے تھے یہاں پر
امام حمیدی رحمہ اللہ نے اپنی انگلی زمین پر رکھ کر یہ روایت بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھاتے تھے اور یہ فرماتے تھے: ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے ایک شخص کے لعاب کے ہمراہ ہے، جس کے نتیجے میں ہمارے پروردگار کے اذن کے تحت بیمار کو شفا مل جائے گی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 254]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، والحديث متفق عليه أخرجه البخاري 5745، 5746، وأخرجه مسلم 2194» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 255
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 255
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ , أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ كَانَ فِي الأُمَمِ قَبْلَكُمْ مُحَدَّثُونَ، فَإِنْ يَكُنْ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ، فَهُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم سے پہلے کی امتوں میں «محدث» ہوا کرتے تھے اگر اس امت میں بھی ایسا شخص ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہو گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 255]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه مسلم 2398، وابن حبان فى ”صحيحه“: 6894»

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 256
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 256
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ..... قَالَ سُفْيَانُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ زَيْدٍ التَّيْمِيُّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ حَبَشٌ يَلْعَبُونَ بِحِرَابٍ لَهُمْ , فَكُنْتُ أَنْظُرُ مِنْ بَيْنَ أُذُنَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَاتِقِهِ حَتَّى كُنْتُ أَنَا الَّتِي صَدَدْتُ، زَادَ يَعْقُوبُ بْنُ زَيْدٍ فِي حَدِيثِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلا شَّيْطَانُ آخِذٌ بِثَوْبِهِ، يَقُولُ: انْظُرْ، فَلَمَّا جَاءَ عُمَرُ تَفَرَّقَتِ الشَّيَاطِينُ"، قَالَتْ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَبُوا يَا بَنِي أَرْفَدَةَ! تَعْلَمَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى أَنَّ فِي دِينِنَا فُسْحَةً" ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمْ أَحْفَظْ مِنْ قَوْلِهِمْ غَيْرَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ: أَبُو الْقَاسِمِ طَيِّبٌ , أَبُو الْقَاسِمِ طَيِّبٌ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، حبشی لوگ اپنے چھوٹے نیزوں کے ذریعے جنگی کرتب دکھا رہے تھے، تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں اور کندھوں کے درمیان میں سے انہیں دیکھ رہی تھی یہاں تک کہ میں ہی پیچھے ہٹ گئی۔ یعقوب بن زید اپنی روایت میں یہ الفاظ مزید نقل کئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا: ”ان میں سے ہر ایک کے کپڑے کو شیطان پکڑتا ہے اور کہتا ہے تم دیکھو لیکن جب عمر آیا، تو شیاطین ادھر ادھر بکھر گئے۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے بنو ارفدہ! تم اپنے کرتب جاری رکھو تاکہ یہودیوں اور عیسائیوں کو پتہ چل جائے کہ ہمارے دین میں گنجائش ہے۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، وہ لوگ جو الفاظ نکال رہے تھے اس میں مجھے صرف یہی بات یاد رہ گئی وہ یہ کہہ رہے تھے ”حضرت ابولقاسم پاکیزہ ہیں، حضرت ابوالقاسم پاکیزہ ہیں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 256]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وقد استوفينا تخریجه فى مسند الموصلي برقم:4829 وفي ابن حبان فى ”صحيحه“: 5868»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں