صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب بَدْءِ الأَذَانِ:
باب: اذان کی ابتداء۔
ترقیم عبدالباقی: 377 ترقیم شاملہ: -- 837
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌمَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: " كَانَ الْمُسْلِمُونَ، حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، يَجْتَمِعُونَ، فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ، وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بِلَالُ، قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ ".
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب مسلمان مدینہ آئے تو وہ اکٹھے ہو جاتے اور نمازوں کے اوقات کا انتظار کرتے، کوئی اس کا اعلان نہیں کرتا تھا۔ ایک دن انہوں نے اس کے بارے میں گفتگو کی تو بعض نے کہا: عیسائیوں کے گھنٹے کے مانند ایک گھنٹا لے لو اور بعض نے کہا: یہود کے قرنا جیسا قرنا، البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ایک آدمی ہی کیوں نہیں بھیج دیتے جو نماز کا اعلان کرے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! اٹھو اور نماز کا اعلان کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 837]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ جب مسلمان مدینہ آئے تو وہ اکٹھے ہو جاتے اور نمازوں کے وقت کا اندازہ کر لیتے، اس کے لیے کوئی پکارتا نہیں تھا، ایک دن انہوں نے اس کے بارے میں گفتگو کی تو بعض نے کہا، عیسائیوں کے ناقوس جیسا ایک ناقوس بنا لو، اور بعض نے کہا، یہود کے قرن جیسا قرن بنا لو، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تم ایک آدمی کیوں مقرر نہیں کر لیتے جو نماز کے لیے منادی کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! اٹھو اور نماز کے لیے بلاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 837]
ترقیم فوادعبدالباقی: 377
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
2. باب الأَمْرِ بِشَفْعِ الأَذَانِ وَإِيتَارِ الإِقَامَةِ:
باب: اذان کے کلمات دو دو مرتبہ، اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ، سوائے اقامت کے کلمہ کے وہ دو مرتبہ ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 378 ترقیم شاملہ: -- 838
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ جَمِيعًا، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " أُمِرَ بِلَالٌ، أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ، وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ "، زَادَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ، فَقَالَ: " إِلَّا الإِقَامَةَ ".
خلف بن ہشام نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: ہمیں اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، ان دونوں (حماد اور اسماعیل) نے خالد حذاء سے، انہوں نے ابوقلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان دہرائیں اور اقامت اکہری کہیں۔ یحییٰ نے ابن علیہ سے (بیان کردہ) اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: میں (اسماعیل) نے یہ روایت ایوب کو سنائی تو انہوں نے کہا: (اذان دہرائیں) اقامت کے سوا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 838]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان کے کلمات دو دو دفعہ کہیں اور اقامت (تکبیر) میں ایک ایک بار، یحییٰ رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں، ابن عطیہ رحمہ اللہ سے یہ اضافہ بیان کیا کہ میں نے یہ روایت، ایوب رحمہ اللہ کو سنائی تو اس نے کہا «قد قامت الصلاة» کے سوا (کیونکہ یہ الفاظ دو دفعہ کہنے ہوتے ہیں)۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 838]
ترقیم فوادعبدالباقی: 378
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 378 ترقیم شاملہ: -- 839
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " ذَكَرُوا أَنْ يُعْلِمُوا وَقْتَ الصَّلَاةِ، بِشَيْءٍ يَعْرِفُونَهُ، فَذَكَرُوا أَنْ يُنَوِّرُوا نَارًا، أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا، فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ ".
عبدالوہاب ثقفی نے خالد حذاء سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ انہوں نے (صحابہ نے) اس پر بات کی کہ کسی ایسی چیز کے ذریعے سے نماز کے وقت کی علامت مقرر کریں جس کو لوگ پہچان لیا کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آگ روشن کریں یا ناقوس (گھنٹی) بجائیں، پھر (آخر کار) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ دہری اذان اور اکہری اقامت کہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 839]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نمازیوں کی تعداد بڑھ گئی تو انہوں نے آپس میں اس مسئلہ پر گفتگو کی کہ کسی ایسی چیز کے ذریعہ نماز کے وقت کا اعلان کریں، جس کو لوگ پہچان لیا کریں (تاکہ نماز کے لیے بروقت آ سکیں) تو انہوں نے اس چیز کا بھی ذکر کیا کہ آگ روشن کریں یا ناقوس بجائیں، آخر کار بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان میں کلمات دو دو دفعہ کہیں اور اقامت میں ایک ایک دفعہ۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 839]
ترقیم فوادعبدالباقی: 378
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 378 ترقیم شاملہ: -- 840
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ ذَكَرُوا، أَنْ يُعْلِمُوا بِمِثْلِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَنْ يُورُوا نَارًا.
وہیب نے کہا: ہمیں خالد حذاء نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ جب لوگ زیادہ ہو گئے تو انہوں نے گفتگو کی کہ وہ علامت مقرر کریں ... آگے (عبدالوہاب) ثقفی کی حدیث کے مانند ہے، فرق صرف اس قدر ہے کہ اس (وہیب) نے (ینوروا نارا ”آگ روشن کریں“ کی جگہ) یوروا نارا ”آگ جلائیں“ کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 840]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں کہ جب نمازیوں کی تعداد بڑھ گئی تو انہوں نے باہمی اعلان کرنے کے بارے میں گفتگو کی، فرق صرف اس قدر ہے کہ اس روایت میں «يُنَوِّرُوا نَارًا» (آگ روشن کریں) کی جگہ «يُورُوا نَارًا» (آگ جلائیں) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 840]
ترقیم فوادعبدالباقی: 378
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 378 ترقیم شاملہ: -- 841
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " أُمِرَ بِلَالٌ، أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ، وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ ".
ایوب نے ابوقلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ دہری اذان اور اکہری اقامت کہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 841]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا، کہ اذان میں کلمات دو دو دفعہ کہے اور اقامت میں ایک ایک دفعہ۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 841]
ترقیم فوادعبدالباقی: 378
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
3. باب صِفَةِ الأَذَانِ:
باب: اذان کا طریقہ۔
ترقیم عبدالباقی: 379 ترقیم شاملہ: -- 842
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، وَقَالَ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ، وحَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ : " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلى اللَّه عليُه وسلم عَلَّمَهُ هَذَا الأَذَانَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ يَعُودُ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ، زَادَ إِسْحَاق اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ".
ابوغسان مسمعی اور اسحاق بن ابراہیم نے مجھے حدیث بیان کی، (کہا:) ابوغسان نے کہا: ہمیں معاذ نے حدیث سنائی اور اسحاق نے کہا: ہمیں دستوائی (کپڑے) والے ہشام کے بیٹے معاذ نے خبر دی، انہوں (معاذ) نے کہا: مجھے میرے والد نے عامر احول سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اذان سکھائی: اللہ أکبر اللہ أکبر، أشہد أن لا إلہ إلا اللہ، أشہد أن لا إلہ إلا اللہ، أشہد أن محمدا رسول اللہ، أشہد أن محمدا رسول اللہ، پھر دو بار کہے: أشہد أن لا إلہ إلا اللہ، پھر دو بار، أشہد أن محمدا رسول اللہ، دو بار حی علی الصلوٰۃ، دو بار حی علی الفلاح۔ اسحاق نے یہ اضافہ کیا: اللہ أکبر اللہ أکبر، لا إلہ إلا اللہ۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 842]
حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ اذان سکھائی: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» پھر لوٹ کر مؤذن دوبارہ کہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» دو دفعہ، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» دو دفعہ، ”نماز کی طرف آؤ، کامیابی و کامرانی کی طرف آؤ“، اسحاق رحمہ اللہ نے اضافہ کیا: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 842]
ترقیم فوادعبدالباقی: 379
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
4. باب اسْتِحْبَابِ اتِّخَاذِ مُؤَذِّنَيْنِ لِلْمَسْجِدِ الْوَاحِدِ:
باب: ایک مسجد میں دو مؤذن رکھنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 380 ترقیم شاملہ: -- 843
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ، بِلَالٌ، وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى،
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور نابینا حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 843]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے، بلال رضی اللہ عنہ اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 843]
ترقیم فوادعبدالباقی: 380
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 380 ترقیم شاملہ: -- 844
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، مِثْلَهُ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 844]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 844]
ترقیم فوادعبدالباقی: 380
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
5. باب جَوَازِ أَذَانِ الأَعْمَى إِذَا كَانَ مَعَهُ بَصِيرٌ:
باب: نابینا آدمی کے ساتھ جب کوئی بینا آدمی ہو تو نابینا کی اذان کے جواز کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 381 ترقیم شاملہ: -- 845
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، يُؤَذِّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَعْمَى "،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اذان دیا کرتے تھے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 845]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اذان دیتے تھے اور وہ نابینا تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 845]
ترقیم فوادعبدالباقی: 381
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 381 ترقیم شاملہ: -- 846
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
یحییٰ بن عبداللہ اور سعید بن عبدالرحمن نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اس (مذکورہ بالا روایت) کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 846]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 846]
ترقیم فوادعبدالباقی: 381
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة