صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب الإِمْسَاكِ عَنِ الإِغَارَةِ عَلَى قَوْمٍ فِي دَارِ الْكُفْرِ إِذَا سُمِعَ فِيهِمُ الأَذَانُ:
باب: دارالکفر میں کسی قوم کے علاقہ میں جب اذان کی آواز سنی جائے تو اس قوم پر حملہ کرنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 382 ترقیم شاملہ: -- 847
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُغِيرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، وَكَانَ يَسْتَمِعُ الأَذَانَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا، أَمْسَكَ، وَإِلَّا أَغَارَ، فَسَمِعَ رَجُلًا، يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى الْفِطْرَةِ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ فَنَظَرُوا، فَإِذَا هُوَ رَاعِي مِعْزًى ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (دشمن پر) طلوع فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور اذان کی آواز پر کان لگائے رکھتے تھے، پھر اگر اذان سن لیتے تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے، (ایسا ہوا کہ) آپ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا: اللہ أکبر اللہ أکبر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فطرت (اسلام) پر ہے۔“ پھر اس نے کہا: أشہد أن لا إلہ إلا اللہ، أشہد أن لا إلہ إلا اللہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو آگ سے نکل گیا۔“ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دیکھا تو وہ بکریوں کا چرواہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 847]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (دشمن پر) طلوع فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور اذان کی آواز پر کان لگائے رکھتے تھے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان سن لیتے تو حملہ کرنے سے رک جاتے، ورنہ حملہ کر دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا، «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ فطرت اسلام پر ہے۔“ پھر اس نے کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو آگ سے آزاد ہو گیا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس شخص کو دیکھا تو وہ بکریوں کا چرواہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 847]
ترقیم فوادعبدالباقی: 382
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
7. باب اسْتِحْبَابِ الْقَوْلِ مِثْلَ قَوْلِ الْمُؤَذِّنِ لِمَنْ سَمِعَهُ ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَسْأَلُ اللَّهَ لَهُ الْوَسِيلَةَ:
باب: اذن سننے والے کے لئے اسی طرح کہنا چاہیے جس طرح مؤذن نے کہا اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وسیلہ کی دعا کرنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 383 ترقیم شاملہ: -- 848
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہتا ہے اسی کی طرح کہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 848]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اذان سنو تو جو کلمات مؤذن کہتا ہے وہی تم کہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 848]
ترقیم فوادعبدالباقی: 383
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 384 ترقیم شاملہ: -- 849
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَيْوَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ وغيرهما، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : " أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ، حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ ".
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا، چنانچہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے (میری) شفاعت واجب ہو گئی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 849]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم مؤذن سے اذان سنو تو مؤذن کے کلمات کو تم بھی کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو، کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے بلند مقام کی درخواست کرو، کیونکہ وہ جنت کا ایک ایسا بلند مقام ہے، جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ہی مل سکے گا، اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا تو جس نے میرے لیے وسیلہ کی دعا کی، اس کو میری سفارش حاصل ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 849]
ترقیم فوادعبدالباقی: 384
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 385 ترقیم شاملہ: -- 850
حدثني إسحاق بن منصور أخبرنا أبو جعفر محمد بن جَهْضَمٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسَافٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ أَحَدُكُمُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مؤذن «اللہ أکبر، اللہ أکبر» کہے تو تم میں سے (ہر) ایک «اللہ أکبر، اللہ أکبر» کہے، پھر وہ (مؤذن) کہے «أشہد أن لا إلہ إلا اللہ» تو وہ بھی کہے: «أشہد أن لا إلہ إلا اللہ»، پھر (مؤذن) «أشہد أن محمدا رسول اللہ» کہے تو وہ بھی «أشہد أن محمدا رسول اللہ» کہے، پھر وہ (مؤذن) «حي على الصلاة» کہے تو وہ «لا حول ولا قوة إلا باللہ» کہے، پھر مؤذن «حي على الفلاح» کہے، تو وہ «لا حول ولا قوة إلا باللہ» کہے، پھر (مؤذن) «اللہ أکبر، اللہ أکبر» کہے، تو وہ بھی «اللہ أکبر، اللہ أکبر» کہے، پھر (مؤذن) «لا إلہ إلا اللہ» کہے تو وہ بھی اپنے دل سے «لا إلہ إلا اللہ» کہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 850]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مؤذن «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ» کہے تو تم میں سے کوئی ایک «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ» کہے، پھر مؤذن «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہے تو وہ بھی «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہے، پھر مؤذن «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» کہے تو وہ بھی «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» کہے، پھر وہ مؤذن «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» کہے تو وہ «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہے، پھر مؤذن «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» کہے، تو وہ «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہے، پھر مؤذن «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ» کہے، تو وہ بھی «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ» کہے، پھر مؤذن «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہے تو وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہے اور یہ کہنا دل سے ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 850]
ترقیم فوادعبدالباقی: 385
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 386 ترقیم شاملہ: -- 851
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْقُرَشِيِّ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ "، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَتِهِ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ، وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ قَوْلَهُ: وَأَنَا.
محمد بن رمح اور قتیبہ بن سعید کی دو الگ الگ سندوں سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے مؤذن کی آواز سنتے ہوئے یہ کہا: «أشہد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ» (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔) «وأن محمدا عبده ورسوله» (اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔) «رضیت باللہ ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دینا» (میں اللہ کے رب ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں۔) تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ ابن رمح نے اپنی روایت میں کہا: جس نے مؤذن کی آواز سنتے ہوئے یہ کہا: «وأنا أشہد» اور قتیبہ نے وأنا کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 851]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت سنائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مؤذن کی اذان سننے کے وقت کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» میں گواہی دیتا ہوں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یگانہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ «وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ «رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا» میں اللہ کو رب مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول مان کر اور اسلام کو دستور زندگی مان کر راضی اور مطمئن ہوں۔ تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ ابن رمح رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں کہا، جس نے مؤذن سے اذان سننے وقت کہا: «وَأَنَا أَشْهَدُ» میں بھی شہادت دیتا ہوں، اور قتیبہ رحمہ اللہ نے سامع کے لیے «وَأَنَا» کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 851]
ترقیم فوادعبدالباقی: 386
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
8. باب فَضْلِ الأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ:
باب: اذان کی فضیلت اور اذان سن کر شیطان کے بھاگنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 387 ترقیم شاملہ: -- 852
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ يَدْعُوهُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "،
عبدہ نے طلحہ بن یحییٰ (بن طلحہ بن عبید اللہ) سے اور انہوں نے اپنے چچا (عیسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان کے پاس مؤذن انہیں نماز کے لیے بلانے آیا۔ تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”قیامت کے دن مؤذن، لوگوں میں سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 852]
طلحہ بن یحییٰ رحمہ اللہ اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان کے پاس مؤذن آیا اور ان کو نماز کے لیے بلایا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں سب لوگوں سے لمبی ہوں گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 852]
ترقیم فوادعبدالباقی: 387
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 387 ترقیم شاملہ: -- 853
وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
سفیان نے طلحہ بن یحییٰ سے اور انہوں نے (اپنے چچا) عیسیٰ بن طلحہ سے روایت کی، کہا: میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (آگے سابقہ روایت کی مانند ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 853]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 853]
ترقیم فوادعبدالباقی: 387
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 388 ترقیم شاملہ: -- 854
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ، ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ "، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ؟ فَقَالَ: هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ، سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ مِيلًا،
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان (طلحہ بن نافع) سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بلاشبہ شیطان جب نماز کی پکار (اذان) سنتا ہے تو (بھاگ کر) چلا جاتا ہے یہاں تک کہ روحاء کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔“ سلیمان (اعمش) نے کہا: میں نے ان (اپنے استاد ابوسفیان طلحہ بن نافع) سے روحاء کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ مدینہ سے چھتیس میل (کے فاصلے) پر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 854]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”شیطان جب نماز کے لیے اذان سنتا ہے تو مقام روحاء تک بھاگ جاتا ہے۔“ سلیمان (اعمش) رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے اپنے استاد سے روحاء کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے بتایا یہ مدینہ سے تقریباً چھتیس میل کے فاصلے پر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 854]
ترقیم فوادعبدالباقی: 388
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 388 ترقیم شاملہ: -- 855
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 855]
ہمیں یہی روایت ابو بکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ اور ابو کریب رحمہ اللہ دونوں نے ابو معاویہ رحمہ اللہ کے واسطہ سے اعمش رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا سند سے سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 855]
ترقیم فوادعبدالباقی: 388
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 389 ترقیم شاملہ: -- 856
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ، إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ، أَحَالَ لَهُ ضُرَاطٌ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَهُ، فَإِذَا سَكَتَ، رَجَعَ فَوَسْوَسَ، فَإِذَا سَمِعَ الإِقَامَةَ، ذَهَبَ حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَهُ، فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ ".
اعمش نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان جب نماز کے لیے پکار (کی آواز) سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ مؤذن کی آواز نہ سن سکے، پھر جب مؤذن خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آتا ہے اور (نمازیوں کے دلوں میں) وسوسہ پیدا کرتا ہے، پھر جب اقامت سنتا ہے تو چلا جاتا ہے تاکہ اس کی آواز نہ سنے، پھر جب وہ خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آتا ہے اور (لوگوں کے دلوں میں) وسوسہ ڈالتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 856]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان جب نماز کے لیے پکار سنتا ہے تو زور سے ہوا خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے، تاکہ مؤذن کی آواز نہ سنائی دے، جب مؤذن چپ ہو جاتا ہے تو واپس آ جاتا ہے اور (نمازیوں کے دلوں میں) وسوسہ پیدا کرتا ہے۔ تو جب تکبیر سنتا ہے تو پھر بھاگتا ہے تاکہ اس کی آواز سنائی نہ دے، جب وہ خاموش ہو جاتا ہے واپس آ جاتا ہے، اور لوگوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 856]
ترقیم فوادعبدالباقی: 389
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة