صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب إِثْبَاتِ التَّكْبِيرِ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ فِي الصَّلاَةِ إِلاَّ رَفْعَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَيَقُولُ فِيهِ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ:
باب: نماز میں ہر دفعہ اٹھتے اور جھکتے وقت تکبیر پڑھنے کا ثبوت سوائے رکوع سے اٹھتے وقت، اس وقت «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے۔
ترقیم عبدالباقی: 392 ترقیم شاملہ: -- 867
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، " كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ، فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے تو جب بھی وہ جھکتے اور (سر اور جسم کو اوپر) اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب سلام پھیرتے تو کہا: اللہ کی قسم! میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 867]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھاتے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہر بار جب جھکتے، اور اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، جب انہوں نے نماز سے فراغت حاصل کی تو انہوں نے کہا، اللہ کی قسم! میری نماز تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھتی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 867]
ترقیم فوادعبدالباقی: 392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 392 ترقیم شاملہ: -- 868
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا، حَتَّى يَقْضِيَهَا، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْمَثْنَى بَعْدَ الْجُلُوسِ "، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا: مجھے ابن شہاب نے ابوبکر بن عبدالرحمن سے روایت بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے ہوئے تکبیر کہتے، پھر رکوع کرتے ہوئے تکبیر کہتے، پھر جب رکوع سے کمر اٹھاتے تو «سمع اللّٰه لمن حمده» کہتے، پھر قیام کی حالت میں «ربنا ولك الحمد» کہتے، پھر جب سجدہ کرنے کے لیے جھکتے تو تکبیر کہتے، پھر جب اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر (دوسرا) سجدہ کرتے وقت تکبیر کہتے، پھر جب (سجدے سے) اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، آپ پوری نماز میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ اس کو مکمل کر لیتے اور جب دو رکعتوں سے بیٹھنے کے بعد اٹھتے تو (اس وقت بھی) تکبیر کہتے۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے: میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زیادہ مشابہ ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 868]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے وقت تکبیر کہتے، پھر رکوع کرتے وقت تکبیر کہتے، پھر جب رکوع سے پشت اٹھاتے تو اس وقت «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے، پھر کھڑے ہونے کی حالت میں «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہتے، پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو تکبیر کہتے، پھر جب (سجدہ) سے اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر دوسرا سجدہ کرتے وقت تکبیر کہتے، پھر جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر پوری نماز میں اسی طرح کرتے، یہاں تک کہ اس کو ادا کر لیتے، پھر جب دوسری رکعت کے لیے بیٹھنے کے بعد اٹھتے تو تکبیر کہتے، پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے میری نماز تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 868]
ترقیم فوادعبدالباقی: 392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 392 ترقیم شاملہ: -- 869
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ "، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَبِي هُرَيْرَةَ: إِنِّي أَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے وقت تکبیر کہتے ... آگے ابن جریج کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 869]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے، تکبیر کہتے، ابن جریج رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ میری نماز تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہے، بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 869]
ترقیم فوادعبدالباقی: 392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 392 ترقیم شاملہ: -- 870
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ حِينَ يَسْتَخْلِفُهُ مَرْوَانُ عَلَى الْمَدِينَةِ، إِذَا قَامَ لِلصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَفِي حَدِيثِهِ، فَإِذَا قَضَاهَا وَسَلَّمَ، أَقْبَلَ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جب مروان مدینہ میں اپنا نائب بنا کر جاتا تو جب وہ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے، تکبیر کہتے ... اس کے بعد (یونس نے) ابن جریج کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ ان (یونس) کی حدیث میں (یہ اضافہ) ہے کہ جب وہ نماز پوری کر لیتے اور سلام پھیرتے تو مسجد والوں کی طرف منہ کرتے (اور) کہتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نماز میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 870]
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو جب مردان اپنا جانشین بنا کر جاتا تو جب وہ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تکبیر کہتے، جب وہ نماز ادا کر لیتے اور سلام پھیرتے تو اہل مسجد کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ نماز پڑھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 870]
ترقیم فوادعبدالباقی: 392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 392 ترقیم شاملہ: -- 871
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ : " كَانَ يُكَبِّرُ فِي الصَّلَاةِ، كُلَّمَا رَفَعَ، وَوَضَعَ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا هَذَا التَّكْبِيرُ؟ قَالَ: إِنَّهَا لَصَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز میں جب بھی (سر) اٹھاتے اور جھکتے، تکبیر کہتے، اس پر ہم نے کہا: ابوہریرہ! یہ تکبیر کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یقیناً یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 871]
ابو سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نماز میں جب بھی اٹھتے اور جھکتے تکبیر کہتے، ہم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، یہ تکبیر کیسی ہے؟ انہوں نے جواب دیا، یہ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 871]
ترقیم فوادعبدالباقی: 392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 392 ترقیم شاملہ: -- 872
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ، كُلَّمَا خَفَضَ، وَرَفَعَ وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ".
سہیل کے والد ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ جب بھی (نماز میں سر) جھکتے اور اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 872]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جب بھی (نماز میں) جھکتے اور اٹھتے تکبیر کہتے اور بتاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 872]
ترقیم فوادعبدالباقی: 392
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 393 ترقیم شاملہ: -- 873
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ جميعا، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا، صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوَ قَالَ: قَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا، صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
مطرف سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھی۔ جب وہ سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے اور جب اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو عمران رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا، پھر کہا: انہوں نے ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھائی ہے یا کہا: انہوں نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 873]
مطرف رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھی، جب وہ سجدہ کرتے اللہ اکبر کہتے اور جب اپنا سر اٹھاتے اللہ اکبر کہتے، اور جب دوسری رکعت سے کھڑے ہوتے تکبیر کہتے، جب ہم نماز سے فارغ ہوتے تو عمران رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا، انہوں نے ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم والی نماز پڑھائی ہے یا یہ کہا انہوں نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم والی نماز یاد کرا دی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 873]
ترقیم فوادعبدالباقی: 393
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
11. باب وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ وَلاَ أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا:
باب: ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنے کا وجوب، اور جو شخص سورہ فاتحہ نہ پڑھ سکتا ہو، اس کے لیے قرآن میں اس کے علاوہ جو آسان ہو اس کوپڑھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 394 ترقیم شاملہ: -- 874
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، يَبْلُغُ بِهِا لنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ".
سفیان بن عیینہ نے ابن شہاب زہری سے، انہوں نے محمود بن ربیع سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ اس بات کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے فاتحہ الکتاب نہ پڑھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 874]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی کوئی نماز نہیں ہوتی، جس نے فاتحہ الکتاب نہ پڑھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 874]
ترقیم فوادعبدالباقی: 394
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 394 ترقیم شاملہ: -- 875
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْتَرِئْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے محمود بن ربیع نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے ام القرآن (فاتحہ) نہ پڑھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 875]
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ام القرآن نہ پڑھی اس کی کوئی نماز نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 875]
ترقیم فوادعبدالباقی: 394
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 394 ترقیم شاملہ: -- 876
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ ، الَّذِي مَجّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ مِنْ بِئْرِهِمْ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ أَخْبَرَهُ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ".
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ محمود بن ربیع رحمہ اللہ نے، جن کے چہرے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کنویں سے کلی کر کے پانی کا چھینٹا دیا تھا، انہیں بتایا کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ام القرآن کی قراءت نہ کی، اس کی کوئی نماز نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 876]
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ جس کے چہرے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کنویں سے کلی کی تھی، نے اسے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ام القرآن نہ پڑھی اس کی کوئی نماز نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 876]
ترقیم فوادعبدالباقی: 394
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة