صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
31. باب أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ:
باب: پنجگانہ اوقات نماز کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 613 ترقیم شاملہ: -- 1391
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنِ الأَزْرَقِ ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ، عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ: " صَلِّ، مَعَنَا هَذَيْنِ يَعْنِي الْيَوْمَيْنِ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلَالًا، فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي، أَمَرَهُ فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ، فَأَبْرَدَ بِهَا، فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، وَصَلَّى الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ، قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَمَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا "، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ.
سفیان نے ہمیں علقمہ بن مرثد سے حدیث بیان کی، انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد (بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے وقت کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے اس سے فرمایا: ”ہمارے ساتھ یہ دو دن نماز پڑھو۔“ جب سورج ڈھلا تو آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کہنے کا حکم دیا، انہوں نے اذان کہی، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے ظہر کے لیے اقامت کہی، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عصر کے لیے اقامت کہی، اور اس وقت سورج بلند، روشن اور صاف تھا، پھر آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے مغرب کے لیے اقامت کہی، پھر آپ نے ان کو حکم دیا تو انہوں نے عشاء کے لیے اقامت کہی، اس وقت شفق غائب ہو گئی تھی، پھر جب فجر طلوع ہوئی تو آپ نے حکم دیا تو انہوں نے فجر کے لیے اقامت کہی، پھر جب دوسرا دن ہوا تو آپ نے انہیں (بلال رضی اللہ عنہ کو) حکم دیا تو انہوں نے ظہر کے لیے دن ٹھنڈا ہونے دیا، انہوں نے اسے ٹھنڈا کیا اور خوب ٹھنڈا کیا اور عصر کی نماز پڑھی جبکہ سورج بلند تھا (البتہ) پہلے کی نسبت زیادہ تاخیر کی اور مغرب کی نماز شفق (سرخی) کے غروب ہونے سے (کچھ ہی) پہلے پڑھی اور عشاء کی نماز تہائی رات گزر جانے کے بعد پڑھی اور فجر کی نماز پڑھی تو روشنی پھیلنے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ تو اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”تمہاری نمازوں کا وقت ان اوقات کے درمیان ہے جو تم نے دیکھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1391]
حضرت سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے وقت کے بارے میں سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”ہمارے ساتھ دو دن نماز پڑھو۔“ جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے ظہر کے لیے تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عصر کا وقت ہونے پر) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے (پہلے اذان دی پھر) عصر کے لیے اقامت کہی، (اور یہ عصر اس وقت ہوئی کہ) سورج بلند، روشن اور صاف تھا (یعنی اس کی روشنی میں فرق نہیں پڑا تھا)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے غروب ہونے پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا (انہوں نے پہلے اذان کہی اور پھر) مغرب کے لیے اقامت کہی، پھر جب سرخی غائب ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا اور انہوں نے (عشاء کی اذان دی پھر) عشاء کے لیے اقامت کہی، پھر (رات کے ختم ہونے پر) فجر کے طلوع ہونے پر انہیں حکم دیا اور انہوں نے (فجر کی اذان کہنے کے بعد) فجر کے لیے اقامت کہی، پھر جب دوسرا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں قائم کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے اسے ٹھنڈا کیا اور خوب ٹھنڈا کیا، اور عصر کی نماز پڑھی جبکہ سورج بلند تھا لیکن پہلے دن سے زیادہ تاخیر کی، اور مغرب کی نماز شفق (سرخی) کے غروب ہونے سے پہلے پڑھی، اور عشاء کی نماز تہائی رات گزرنے کے بعد پڑھی، اور فجر کی نماز روشنی پھیلنے پر پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ تو اس آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری نمازوں کا وقت اس کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1391]
ترقیم فوادعبدالباقی: 613
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 613 ترقیم شاملہ: -- 1392
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " اشْهَدْ مَعَنَا الصَّلَاةَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ بِغَلَسٍ، فَصَلَّى الصُّبْحَ، حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ، حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ حِينَ وَقَعَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ الْغَدَ فَنَوَّرَ بِالصُّبْحِ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ، فَأَبْرَدَ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ، وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، لَمْ تُخَالِطْهَا صُفْرَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ، قَبْلَ أَنْ يَقَعَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ عِنْدَ ذَهَابِ ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ بَعْضِهِ "، شَكَّ حَرَمِيٌّ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ؟ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتَ وَقْتٌ.
حرمی بن عمارہ نے کہا: ہمیں شعبہ نے علقمہ بن مرثد سے حدیث سنائی، انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا، آپ نے فرمایا: ”نمازوں میں ہمارے ساتھ موجود رہو۔“ پھر آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اندھیرے میں اذان کہی، جب فجر طلوع ہوئی آپ نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر جب سورج آسمان کے درمیان سے ڈھلا تو آپ نے انہیں ظہر کا حکم دیا، پھر جب سورج (ابھی) اونچا تھا، آپ نے انہیں عصر کا حکم دیا، پھر جب سورج غروب ہو گیا تو آپ نے انہیں مغرب کا حکم دیا، پھر جب شفق نیچے چلی گئی تو آپ نے انہیں عشاء کا حکم دیا، پھر اگلے دن آپ نے صبح کو روشن ہونے دیا (پھر فجر ادا کی)، پھر انہیں ظہر کا حکم دیا تو انہوں نے اسے ٹھنڈا ہونے دیا، پھر انہیں عصر کا حکم دیا جبکہ سورج ابھی سفید اور صاف تھا، اس میں زردی کی کوئی آمیزش نہ تھی، پھر انہیں شفق غروب ہونے سے قبل مغرب کے بارے میں حکم دیا، پھر تہائی رات یا رات کا کچھ حصہ گزر جانے کے بعد انہیں عشاء کے بارے میں حکم دیا۔ حرمی کو شک ہوا۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے پوچھا: ”سائل کہاں ہے؟ جو تم نے دیکھا، ان کے درمیان (نمازوں کا) وقت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1392]
سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نمازوں میں ہمارے ساتھ حاضر ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، اس نے «غَلَس» (اندھیرا) میں اذان کہی، جب فجر طلوع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، جب سورج آسمان کے درمیان سے مغرب کی طرف ڈھل گیا تو اسے ظہر کے بارے میں حکم دیا، سورج ابھی بلند ہی تھا کہ اسے عصر کے بارے میں حکم دیا، پھر جب سورج غروب ہو گیا تو اسے مغرب کے بارے میں حکم دیا، پھر جب شفق غروب ہو گیا تو اسے عشاء کے بارے میں حکم دیا، پھر اگلے دن حکم دیا تو اس نے صبح کو روشن کیا، پھر اسے ظہر کے بارے میں حکم دیا، اس نے اس کو ٹھنڈا کیا، پھر اسے عصر کے بارے میں حکم دیا جبکہ سورج ابھی سفید اور صاف تھا، اس میں زردی کی آمیزش نہیں ہوئی تھی (دھوپ ابھی زرد نہیں ہوئی تھی)، پھر اسے شفق کے غروب سے پہلے مغرب کے بارے میں حکم دیا، پھر اسے تہائی رات کے گزرنے یا قدرے کم وقت پر عشاء کے بارے میں حکم دیا (شک حرمی کو ہے)، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”سائل کہاں ہے؟ جو تم نے دیکھا، نمازوں کا وقت اس کے درمیان ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1392]
ترقیم فوادعبدالباقی: 613
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 614 ترقیم شاملہ: -- 1393
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ أَتَاهُ سَائِلٌ، يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، قَالَ: " فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ، وَالنَّاسُ لَا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، وَالْقَائِلُ، يَقُولُ: قَدِ انْتَصَفَ النَّهَارُ، وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ، ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ، حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ، حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: قَدِ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلِ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَدَعَا السَّائِلَ، فَقَالَ: الْوَقْتُ بَيْنَ هَذَيْنِ ".
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث سنائی (کہا:) میرے والد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بدر بن عثمان نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ابوبکر بن ابی موسیٰ نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ کے پاس ایک سائل نمازوں کے اوقات پوچھنے کے لیے حاضر ہوا تو آپ نے اسے (زبانی) کچھ جواب نہ دیا۔ کہا: جب فجر کی پھوٹ پھوٹی تو آپ نے فجر کی نماز پڑھائی جبکہ لوگ (اندھیرے کی وجہ سے) ایک دوسرے کو پہچان نہیں پا رہے تھے، پھر جب سورج ڈھلا تو آپ نے انہیں (بلال رضی اللہ عنہ کو) حکم دیا اور انہوں نے ظہر کی اقامت کہی جبکہ سورج ابھی بلند تھا، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عصر کے لیے اقامت کہی، پھر جب سورج نیچے چلا گیا تو آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر جب شفق غائب ہوئی تو آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، پھر اگلے دن فجر میں تاخیر کی، یہاں تک کہ اس وقت سے فارغ ہوئے جب کہنے والا کہے: سورج نکل آیا ہے یا نکلنے کو ہے، پھر ظہر کو مؤخر کیا حتی کہ گزشتہ کل کی عصر کے قریب کا وقت ہو گیا، پھر عصر کو مؤخر کیا کہ جب سلام پھیرا تو کہنے والا کہے: آفتاب میں سرخی آگئی ہے، پھر مغرب کو مؤخر کیا حتی کہ شفق غروب ہونے کے قریب ہوئی، پھر عشاء کو مؤخر کیا حتی کہ رات کی پہلی تہائی ہو گئی، پھر صبح ہوئی تو آپ نے سائل کو بلوایا اور فرمایا: ”(نماز کا) وقت ان دونوں (وقتوں) کے درمیان ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1393]
حضرت ابوبکر بن ابی موسیٰ رحمہ اللہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سائل نمازوں کے اوقات پوچھنے کے لیے حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زبانی کوئی جواب نہیں دیا، فجر پھوٹنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کھڑی کی، جبکہ لوگ (تاریکی کی بنا پر) ایک دوسرے کو پہچان نہیں رہے تھے، پھر جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ظہر کھڑی کرنے کا حکم دیا، کہنے والا کہہ رہا تھا: ”آدھا دن گزر گیا ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ان سے زیادہ جانتے تھے، سورج ابھی بلند تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کا حکم دیا اور عصر کی نماز ادا کی، پھر جب شفق غروب ہو گئی تو اسے حکم دیا اور عشاء کی نماز پڑھی، پھر اگلے دن فجر میں تاخیر کی اور کہنے والا کہہ رہا تھا: ”سورج نکل آیا ہے یا نکلنے کو ہے“، پھر ظہر کو مؤخر کیا حتیٰ کہ گزشتہ کل کی عصر کے قریب وقت ہو گیا، پھر عصر کو مؤخر کیا، حتیٰ کہ سلام پھیرا تو کہنے والا کہہ رہا تھا: ”آفتاب سرخ ہو گیا“، پھر مغرب کو مؤخر کیا حتیٰ کہ شفق غروب ہونے کے قریب ہو گئی، پھر عشاء کو مؤخر کیا حتیٰ کہ رات کا پہلا تہائی ہو گیا، پھر صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کو بلوایا اور فرمایا: ”نماز کا وقت ان دونوں اوقات کے درمیان ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1393]
ترقیم فوادعبدالباقی: 614
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 614 ترقیم شاملہ: -- 1394
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى سَمِعَهُ مِنْ عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ سَائِلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي.
وکیع نے بدر بن عثمان سے روایت کی، انہوں نے ابوبکر بن ابی موسیٰ سے سن کر یہ حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک سائل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا (آگے ابن نمیر کی روایت کی طرح ہے، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: دوسرے دن آپ نے مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھی۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1394]
حضرت ابو بکر بن ابی موسیٰ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”ایک سائل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا، پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی، ہاں یہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے دن مغرب کی نماز شفق کے غروب ہونے سے پہلے پڑھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1394]
ترقیم فوادعبدالباقی: 614
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
32. باب اسْتِحْبَابِ الإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ:
باب: سخت گرمی میں ظہر ٹھنڈے وقت پڑھنے کا بیان اس کے لئے جو جماعت کے ساتھ نماز کے لئے جائے اور راہ میں گرمی زیادہ محسوس کرے۔
ترقیم عبدالباقی: 615 ترقیم شاملہ: -- 1395
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ".
لیث نے ابن شہاب سے، انہوں نے (سعید) بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی شدید ہو جائے تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت دوزخ کی لپٹوں (گرمی کے پھیلاؤ) میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1395]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب شدید گرمی ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت دوزخ کی بھاپ یا آتشِ دوزخ کے جوش سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1395]
ترقیم فوادعبدالباقی: 615
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 615 ترقیم شاملہ: -- 1396
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ سَوَاءً.
یونس نے بتایا، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ اور سعید بن مسیب نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بالکل اسی طرح جیسے سابقہ حدیث میں ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1396]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1396]
ترقیم فوادعبدالباقی: 615
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 615 ترقیم شاملہ: -- 1397
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ عَمْرٌ: وَأَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَسَلْمَانَ الأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ الْيَوْمُ الْحَارُّ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، قَالَ عَمْرٌو : وَحَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ "، قَالَ عَمْرٌو : وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ ذَلِكَ.
عمرو (بن حارث بن یعقوب انصاری) نے خبر دی کہ بکیر (بن عبداللہ مخزومی) نے انہیں بسر بن سعید اور سلیمان اغر سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرم دن ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں (پڑھو) کیونکہ گرمی کی شدت دوزخ کی لپٹوں میں سے ہے۔“ عمرو نے کہا: اور مجھے ابویونس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو ٹھنڈے وقت تک مؤخر کرو کیونکہ گرمی کی سختی جہنم کی گرمی کے پھیلاؤ (لپٹوں) میں سے ہے۔“ عمرو نے کہا: مجھے ابن شہاب نے بھی (سعید) بن مسیب اور ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح اوپر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1397]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرم دن ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں لے جاؤ، کیونکہ گرمی کی شدت آتش دوزخ کے جوش کے سبب سے ہے۔“ عمرو نے کہا: مجھے ابو یونس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو ٹھنڈے وقت تک مؤخر کرو کیونکہ گرمی کی سختی جہنم کی گرمی کے انتشار کی بنا پر ہے۔“ عمرو نے کہا: مجھے ابن شہاب نے ابن مسیب اور ابو سلمہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت اوپر کے مفہوم والی سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1397]
ترقیم فوادعبدالباقی: 615
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 615 ترقیم شاملہ: -- 1398
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ هَذَا الْحَرَّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ ".
علاء نے اپنے والد (عبدالرحمن بن یعقوب) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گرمی آتش دوزخ کی لپٹوں میں سے ہے، اس لیے نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1398]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گرمی، آتشِ دوزخ کے جوش سے ہے، اس لیے نماز ٹھنڈے وقت پر پڑھا کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1398]
ترقیم فوادعبدالباقی: 615
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 615 ترقیم شاملہ: -- 1399
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْرِدُوا عَنِ الْحَرِّ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے کئی احادیث بیان کیں، ان میں سے (ایک) یہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نمازوں میں گرمی سے بچنے کے لیے (وقت) ٹھنڈا ہونے دو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹوں میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1399]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے لیے گرمی کو ٹھنڈے وقت میں لے جاؤ، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی آگ کے جوش کی بنا پر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1399]
ترقیم فوادعبدالباقی: 615
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 616 ترقیم شاملہ: -- 1400
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُهَاجِرًا أَبَا الْحَسَنِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظُّهْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْرِدْ أَبْرِدْ، أَوَ قَالَ: انْتَظِرِ، انْتَظِرِ، وَقَالَ: " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ "، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ.
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤذن ظہر کی اذان دینے لگا تو آپ نے فرمایا: ”(وقت کو) ٹھنڈا ہونے دو، ٹھنڈا ہونے دو۔“ یا فرمایا: ”انتظار کرو، انتظار کرو۔“ اور فرمایا: ”بلاشبہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹوں میں سے ہے، اس لیے جب گرمی شدید ہو جائے تو نماز ٹھنڈے وقت تک مؤخر کرو۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: (نماز میں اتنی تاخیر کی گئی) حتی کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1400]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے ظہر کی اذان دینا چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھنڈا وقت ہونے دو، ٹھنڈا وقت ہونے دو۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انتظار کرو، انتظار کرو۔“ اور فرمایا: ”گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ کے سبب سے ہے، اس لیے جب گرمی شدید ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔“ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ”حتیٰ کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1400]
ترقیم فوادعبدالباقی: 616
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة