صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
30. باب مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلاَةِ فَقَدْ أَدْرَكَ تِلْكَ الصَّلاَةَ:
باب: جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے وہ نماز پالی۔
ترقیم عبدالباقی: 607 ترقیم شاملہ: -- 1371
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ ".
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے ابن شہاب زہری سے روایت کردہ حدیث پڑھی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پالی، یقینا اس نے نماز پالی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1371]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز کی ایک رکعت کو پا لیا، اس نے نماز پا لی۔” [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1371]
ترقیم فوادعبدالباقی: 607
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 607 ترقیم شاملہ: -- 1372
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ مَعَ الإِمَامِ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ ".
(امام مالک کے بجائے) یونس نے ابن شہاب زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے امام کے ساتھ نماز کی ایک رکعت پالی، اس نے نماز پالی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1372]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز کی ایک رکعت امام کے ساتھ پا لی تو اس نے نماز پا لی۔” [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1372]
ترقیم فوادعبدالباقی: 607
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 607 ترقیم شاملہ: -- 1373
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَالأَوْزَاعِيِّ ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَيُونُسَ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ، مَعَ الإِمَامِ، وَفِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ كُلَّهَا.
سفیان بن عیینہ، معمر، اوزاعی، یونس اور عبیداللہ سب نے زہری سے روایت کی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یحییٰ کی امام مالک سے مذکورہ بالا روایت کی طرح حدیث بیان کی اور ان میں سے کسی کی حدیث میں «مع الإمام» (امام کے ساتھ) کے الفاظ نہیں ہیں۔ اور عبیداللہ کی حدیث میں ہے: ”تو یقینا اس نے مکمل نماز پالی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1373]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور ان میں کسی کی حدیث میں «مَعَ الْإِمَامِ» (”امام کے ساتھ“) کا لفظ نہیں ہے اور عبیداللہ کی حدیث میں «فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ» کے بعد «كُلَّهَا» کا لفظ ہے یعنی (”مکمل نماز پا لی“)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1373]
ترقیم فوادعبدالباقی: 607
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 608 ترقیم شاملہ: -- 1374
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَعَنِ الأَعْرَجِ ، حَدَّثُوهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ، قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ، قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ ".
امام مالک نے زید بن اسلم سے روایت کی، انہیں عطاء بن یسار، بسر بن سعید اور اعرج نے حدیث بیان کی، ان سب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورج نکلنے سے پہلے صبح کی ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے صبح (کی نماز) پالی اور جس نے سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے عصر (کی نماز) پالی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1374]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورج نکلنے سے پہلے صبح کی ایک رکعت پا لی تو اس نے صبح کی نماز کو پا لیا اور جس نے سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لی تو اس نے عصر کی نماز پا لی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1374]
ترقیم فوادعبدالباقی: 608
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 608 ترقیم شاملہ: -- 1375
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
معمر نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی جس طرح امام مالک نے زید بن اسلم سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1375]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1375]
ترقیم فوادعبدالباقی: 608
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 609 ترقیم شاملہ: -- 1376
وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح، قَالَ: وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ وَهْبٍوَالسِّيَاقُ لِحَرْمَلَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ سَجْدَةً، قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَوْ مِنَ الصُّبْحِ، قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَالسَّجْدَةُ إِنَّمَا هِيَ الرَّكْعَةُ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز کا ایک سجدہ پالیا یا سورج کے نکلنے سے پہلے صبح کی نماز کا تو یقینا اس نے اس نماز کو پالیا۔“ (ابن شہاب نے کہا:) سجدے سے مراد رکعت ہی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1376]
ترقیم فوادعبدالباقی: 609
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 609 ترقیم شاملہ: -- 1377
وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً، قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ، وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً، قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ ".
عبداللہ بن مبارک نے معمر سے، انہوں نے ابن طاؤس سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز میں سے ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے (نماز) پالی اور جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے (نماز) پالی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1377]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پالی اور جس نے سورج کے نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پالی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1377]
ترقیم فوادعبدالباقی: 609
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 609 ترقیم شاملہ: -- 1378
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْمَرًا بِهَذَا الإِسْنَادِ.
معتمر نے کہا: میں نے معمر سے سنا (آگے اسی سند سے روایت کی۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1378]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1378]
ترقیم فوادعبدالباقی: 609
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
31. باب أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ:
باب: پنجگانہ اوقات نماز کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 610 ترقیم شاملہ: -- 1379
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، " أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ : أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ، قَدْ نَزَلَ، فَصَلَّى إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " نَزَلَ جِبْرِيلُ، فَأَمَّنِي، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ".
لیث نے ابن شہاب سے روایت کی کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز میں کچھ تاخیر کر دی تو عروہ نے ان سے کہا: بات یوں ہے کہ جبریل نازل ہوئے اور امام بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی۔ تو عمر نے ان سے کہا: اے عروہ! جان لیں (سمجھ لیں) آپ کیا کہہ رہے ہیں! انہوں نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے ابومسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”جبریل اترے اور انہوں نے (نماز میں) میری امامت کی، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔“ وہ اپنی انگلیوں سے پانچ نمازیں شمار کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1379]
امام ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز کچھ تاخیر سے پڑھی تو عروہ نے ان سے کہا: ”جبریل علیہ السلام نے نازل ہو کر، امام بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی۔“ تو عمر نے ان سے کہا: ”اے عروہ! سوچ سمجھ کر بات کرو۔“ تو انہوں نے کہا: ”میں نے بشیر بن ابی مسعود سے سنا، انہوں نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل اترے اور مجھے نماز پڑھائی، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔“ وہ اپنی انگلیوں سے پانچ نمازیں شمار کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1379]
ترقیم فوادعبدالباقی: 610
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 610 ترقیم شاملہ: -- 1380
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ؟ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ، أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: بِهَذَا أُمِرْتُ، فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ: انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةُ، أَوَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام، هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ .
امام مالک نے ابن شہاب زہری سے روایت کی کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز نے نماز میں تاخیر کر دی تو عروہ بن زبیر ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن نماز دیر سے پڑھی، اس وقت وہ کوفہ میں تھے، ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: مغیرہ! یہ کیا ہے؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جبریل اترے تھے، انہوں نے نماز پڑھائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے ساتھ) نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے ساتھ) نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے ساتھ) نماز پڑھی، پھر (جبریل نے) کہا: مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے۔ تو عمر نے عروہ سے کہا: عروہ! دیکھ لو، کیا کہہ رہے ہو؟ کیا جبریل نے خود (آکر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (ہر) نماز کا وقت متعین کیا تھا؟ تو عروہ نے کہا: بشیر بن ابی مسعود اپنے والد سے اسی طرح بیان کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1380]
امام ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے نماز مؤخر کر دی (دیر سے پڑھی) تو ان کے پاس عروہ بن زبیر رحمہ اللہ حاضر ہوئے اور انہیں بتایا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن کوفہ میں نماز دیر سے پڑھی تو ان کے پاس ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور پوچھا: ”یہ کیا کیا؟ اے مغیرہ! کیا تمہیں علم نہیں ہے جبریل علیہ السلام اترے اور نماز پڑھائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز (ان کے ساتھ) پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر جبریل علیہ السلام نے کہا: ”آپ کو اس کا حکم دیا گیا ہے۔““ تو عمر رحمہ اللہ نے عروہ سے کہا: ”اے عروہ! سوچو کیا بیان کر رہے ہو، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے اوقات جبریل علیہ السلام نے سکھائے تھے؟“ تو عروہ نے کہا: ”بشیر بن ابی مسعود رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے ایسے ہی بیان کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1380]
ترقیم فوادعبدالباقی: 610
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة