🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب اسْتِحْبَابِ إِتْيَانِ الصَّلاَةِ بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ وَالنَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِهَا سَعْيًا:
باب: نماز کے لئے وقار و سکون سے آنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 602 ترقیم شاملہ: -- 1361
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (سن کر) ہمیں سنائیں، انہوں نے متعدد احادیث ذکر کیں، ان میں سے یہ بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے بلاوا دیا جائے تو اس کے لیے چلتے ہوئے آؤ، اور تم پر سکون (طاری) ہو، جو (نماز کا حصہ) مل جائے، وہ پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے مکمل کر لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1361]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے بلایا جائے تو تم اس کے لیے چلتے ہوئے اطمینان اختیار کرو، تمہیں جو مل جائے پڑھ لو اور جو رہ جائے اس کو پورا کر لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1361]
ترقیم فوادعبدالباقی: 602
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 602 ترقیم شاملہ: -- 1362
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ هِشَامٍ . ح. قَالَ: وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ، فَلَا يَسْعَ إِلَيْهَا أَحَدُكُمْ، وَلَكِنْ، لِيَمْشِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَالْوَقَارُ، صَلِّ مَا أَدْرَكْتَ، وَاقْضِ مَا سَبَقَكَ ".
محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو تم میں سے کوئی شخص اس کی طرف بھاگ کر نہ آئے بلکہ اس طرح چل کر آئے کہ اس پر سکون و وقار طاری ہو، جتنی (نماز) پالو، پڑھ لو اور جو تمہارے (پہنچنے) سے پہلے گزر چکی اسے پورا کر لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1362]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو اس کے لیے تم میں سے کوئی بھاگ کر نہ آئے، لیکن چل کر اطمینان اور وقار کو اختیار کرے، جو مل جائے پڑھ لے اور جو گزر جائے اس کو ادا کر لے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1362]
ترقیم فوادعبدالباقی: 602
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 603 ترقیم شاملہ: -- 1363
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَ جَلَبَةً، فَقَالَ: " مَا شَأْنُكُمْ "؟ قَالُوا: اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: فَلَا تَفْعَلُوا، " إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ، فَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا سَبَقَكُمْ فَأَتِمُّوا ".
معاویہ بن سلام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی، کہا: عبداللہ بن ابی قتادہ نے مجھے خبر دی کہ ان کے والد نے انہیں بتایا، کہا: ہم (ایک بار) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے (جلدی چلنے، دوڑ کر پہنچنے کی) ملی جلی آوازیں سنیں، آپ نے (نماز کے بعد) پوچھا: تمہیں کیا ہوا (تھا؟) لوگوں نے جواب دیا: ہم نے نماز کے لیے جلدی کی۔ آپ نے فرمایا: ایسے نہ کیا کرو، جب تم نماز کے لیے آؤ تو سکون و اطمینان محفوظ رکھو، (نماز کا حصہ) جو تمہیں مل جائے، پڑھ لو اور جو گزر جائے اسے پورا کر لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1363]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس اثنا میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شور سنا، (نماز کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ لوگوں نے جواب دیا: ہم نے نماز کے لیے جلدی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے نہ کرو، جب تم لازم پکڑو، جو تمہیں مل جائے پڑھ لو اور جو گزر جائے اس کو پورا کر لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1363]
ترقیم فوادعبدالباقی: 603
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 603 ترقیم شاملہ: -- 1364
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
(معاویہ کے بجائے) شیبان نے (یحییٰ بن ابی کثیر سے) اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1364]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1364]
ترقیم فوادعبدالباقی: 603
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. باب مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلاَةِ:
باب: نماز کے واسطے نمازی کب کھڑے ہوں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 604 ترقیم شاملہ: -- 1365
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا تَقُومُوا، حَتَّى تَرَوْنِي ". وقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ: إِذَا أُقِيمَتْ أَوْ نُودِيَ.
محمد بن حاتم اور عبیداللہ بن سعید نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے حجاج صواف سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ اور عبداللہ بن ابی قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے نہ دیکھ لو۔ اور ابن حاتم نے کہا: جب اقامت کہی جائے یا (جماعت کے لیے) پکارا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1365]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے تکبیر کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے نہ دیکھ لو، لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اور ابن حاتم نے کہا: جب اقامت کہی جائے یا پکارا جائے (اقامت کو «نُوْدِيَ» سے تعبیر کیا گیا ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1365]
ترقیم فوادعبدالباقی: 604
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 604 ترقیم شاملہ: -- 1366
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَحَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَقَالَ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ شَيْبَانَ كُلُّهُمْ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَادَ إِسْحَاق فِي رِوَايَتِهِ حَدِيثَ مَعْمَرٍ وَشَيْبَانَ: حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خَرَجْتُ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے معمر سے حدیث سنائی، ابوبکر (بن ابی شیبہ نے مزید) کہا: ہمیں ابن علیہ نے حجاج بن ابی عثمان سے حدیث سنائی، نیز اسحاق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں عیسیٰ بن یونس اور عبدالرزاق نے معمر سے خبر دی۔ اسحاق نے (مزید) کہا: ہمیں ولید بن مسلم نے شیبان سے خبر دی، ان سب (معمر، حجاج بن ابی عثمان اور شیبان) نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ اسحاق نے معمر اور شیبان سے جو حدیث روایت کی اس میں یہ اضافہ کیا ہے: یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو کہ میں باہر نکل آیا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1366]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا حدیث بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنائی اور اسحاق نے معمر اور شیبان کی روایت میں «حَتّٰى تَرَوْنِي» کے بعد کہا «قَدْ خَرَجْتُ» یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو کہ میں نکل آیا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1366]
ترقیم فوادعبدالباقی: 604
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 605 ترقیم شاملہ: -- 1367
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَقُمْنَا، فَعَدَّلْنَا الصُّفُوفَ، قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ، قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ، ذَكَرَ، فَانْصَرَفَ، وَقَالَ لَنَا: مَكَانَكُمْ، فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ، حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا، وَقَدِ اغْتَسَلَ يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً، فَكَبَّرَ، فَصَلَّى بِنَا ".
یونس نے ابن شہاب (زہری) سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں) اقامت کہی گئی، ہم اپنی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے ہی کھڑے ہو گئے اور اپنے مصلے پر کھڑے ہو گئے، آپ نے اللہ اکبر نہیں کہا تھا کہ آپ کو (کچھ) یاد آگیا، اس پر آپ واپس پلٹ گئے اور ہمیں فرمایا: اپنی جگہ پر رہو۔ ہم آپ کے انتظار میں کھڑے رہے یہاں تک کہ آپ تشریف لے آئے، آپ غسل کیے ہوئے تھے اور آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا اور ہمیں نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1367]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اقامت ہو گئی تو ہم نے صفوں کو برابر کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک ہمارے سامنے نہیں آئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر اپنے مصلے پر کھڑے ہو گئے، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے نہیں کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (غسل کرنا) یاد آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹ گئے اور ہمیں فرمایا: اسی جگہ پر جمے رہو، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں کھڑے رہے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہہ کر ہمیں جماعت کرائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1367]
ترقیم فوادعبدالباقی: 605
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 605 ترقیم شاملہ: -- 1368
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الأَوْزَاعِيَّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، وَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ مَقَامَهُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ، أَنْ مَكَانَكُمْ فَخَرَجَ، وَقَدِ اغْتَسَلَ، وَرَأْسُهُ يَنْطُفُ الْمَاءَ، فَصَلَّى بِهِمْ ".
زہیر بن حرب نے بیان کیا کہ ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث سنائی، (کہا): ابوعمرو، یعنی اوزاعی نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں زہری نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی، کہا: نماز کی اقامت کہہ دی گئی، لوگوں نے اپنی صفیں باندھ لیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے پھر آپ نے لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے فرمایا: اپنی جگہ پر رہو۔ اور خود (مسجد سے) باہر نکل گئے، پھر (آئے تو) آپ غسل فرما چکے تھے اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1368]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز کھڑی ہو گئی، لوگوں نے اپنی صفیں باندھ لیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے کہا: اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں واپس آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہا چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے پانی گر رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کرائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1368]
ترقیم فوادعبدالباقی: 605
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 605 ترقیم شاملہ: -- 1369
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ الصَّلَاةَ، كَانَتْ تُقَامُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْخُذُ النَّاسُ مَصَافَّهُمْ، قَبْلَ أَنْ يَقُومَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامَهُ ".
ابراہیم بن موسیٰ نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ولید بن مسلم نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اقامت کہی جاتی تو اس سے پہلے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی جگہ پر) کھڑے ہوں لوگ صفوں میں اپنی اپنی جگہ لے لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1369]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کھڑی کی جاتی اور لوگ صفوں میں اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو جاتے، لیکن ابھی تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ کھڑے نہیں ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1369]
ترقیم فوادعبدالباقی: 605
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 606 ترقیم شاملہ: -- 1370
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ بِلَالٌ، " يُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتْ، فَلَا يُقِيمُ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا خَرَجَ، أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ ".
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سورج ڈھل جاتا تو بلال رضی اللہ عنہ ظہر کی اذان دیتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکلنے تک اقامت نہ کہتے۔ جب آپ حجرے سے نکلتے تو آپ کو دیکھ کر اقامت کہتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1370]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سورج ڈھل جاتا تو بلال رضی اللہ عنہ ظہر کی اذان کہتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری تک تکبیر نہ کہتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ سے نکلتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر وہ تکبیر شروع کر دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1370]
ترقیم فوادعبدالباقی: 606
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں