صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
32. باب اسْتِحْبَابِ الإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ:
باب: سخت گرمی میں ظہر ٹھنڈے وقت پڑھنے کا بیان اس کے لئے جو جماعت کے ساتھ نماز کے لئے جائے اور راہ میں گرمی زیادہ محسوس کرے۔
ترقیم عبدالباقی: 617 ترقیم شاملہ: -- 1401
وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ، أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَهْوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ ".
ابن شہاب سے روایت ہے، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ نے اپنے رب کے حضور شکایت کی اور کہا: اے میرے رب! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھا رہا ہے۔ تو اللہ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت عطا کر دی: ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں، گرمی اور سردی کے موسم میں جو تم شدید ترسین گرمی اور شدید ترسین سردی محسوس کرتے ہو تو یہ وہی (چیز) ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1401]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ نے اپنے رب کے حضور شکایت کی اور کہا: اے میرے رب! میرے بعض حصے نے بعض کو کھا لیا، تو اسے دو سانس لینے کی اجازت دے دی گئی یا اللہ نے اجازت دے دی؛ ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں، پس تم جو گرمی اور سردی کی شدت محسوس کرتے ہو وہ اسی کا نتیجہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1401]
ترقیم فوادعبدالباقی: 617
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 617 ترقیم شاملہ: -- 1402
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، وَذَكَرَ أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِّهَا، فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ ".
اسود بن سفیان کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن یزید نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی ہو تو نماز ٹھنڈے وقت تک مؤخر کر کے پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہوتی ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ بھی) ذکر فرمایا: ”(جہنم کی) آگ نے اپنے رب کے حضور شکایت کی تو اللہ نے اسے سال میں دو سانس لینے کی اجازت دی: ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1402]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: ”آگ نے اپنے رب کے حضور شکایت کی تو اس نے اسے سال میں دو سانس لینے کی اجازت دے دی، ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1402]
ترقیم فوادعبدالباقی: 617
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 617 ترقیم شاملہ: -- 1403
وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَالَتِ النَّارُ: رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأْذَنْ لِي أَتَنَفَّسْ، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَمَا وَجَدْتُمْ مِنْ بَرْدٍ أَوْ زَمْهَرِيرٍ، فَمِنْ نَفَسِ جَهَنَّمَ، وَمَا وَجَدْتُمْ مِنْ حَرٍّ أَوْ حَرُورٍ فَمِنْ نَفَسِ جَهَنَّمَ ".
محمد بن ابراہیم نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”آگ نے عرض کی: اے میرے رب! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھا رہا ہے، مجھے سانس لینے کی اجازت مرحمت فرما۔ تو (اللہ نے) اسے دو سانس لینے کی اجازت دی: ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں۔ تم جو سردی یا ٹھنڈک کی شدت پاتے ہو، وہ جہنم کی سانس سے ہے اور جو تم حرارت یا گرمی کی شدت پاتے ہو تو وہ (بھی) جہنم کی سانس سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1403]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ نے عرض کی: اے میرے رب! میرے بعض نے بعض کو کھا لیا ہے، تو مجھے سانس لینے کی اجازت مرحمت فرمائیے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دے دی، ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں، تو تم جو سردی یا ٹھنڈ کی شدت پاتے ہو وہ جہنم کی سانس سے ہے اور جو تم گرمی یا گرمی کی شدت پاتے ہو وہ جہنم کی سانس سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1403]
ترقیم فوادعبدالباقی: 617
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
33. باب اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ الظُّهْرِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ فِي غَيْرِ شِدَّةِ الْحَرِّ:
باب: جب گرمی نہ ہو تو ظہر اول وقت پڑھنی چاہیئے۔
ترقیم عبدالباقی: 618 ترقیم شاملہ: -- 1404
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ كلاهما، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، وَابْنِ مَهْدِيٍّ . ح، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ . ح، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي الظُّهْرَ، إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ ".
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھلتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1404]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر پڑھتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1404]
ترقیم فوادعبدالباقی: 618
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 619 ترقیم شاملہ: -- 1405
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: " شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فِي الرَّمْضَاءِ، فَلَمْ يُشْكِنَا ".
ابواحوص سلام بن سلیم نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے سعید بن وہب سے اور انہوں نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید گرم ریت پر نماز ادا کرنے کی شکایت کی تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1405]
حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گرمی میں نماز ادا کرنے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ فرمایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1405]
ترقیم فوادعبدالباقی: 619
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 619 ترقیم شاملہ: -- 1406
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ ، قَالَ عَوْنٌ: أَخْبَرَنَا وقَالَ ابْنُ يُونُسَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: " أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ حَرَّ الرَّمْضَاءِ، فَلَمْ يُشْكِنَا "، قَالَ زُهَيْرٌ: قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاق: أَفِي الظُّهْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَفِي تَعْجِيلِهَا؟ قَالَ: نَعَمْ.
زہیر نے کہا: ہمیں ابواسحاق نے سعید بن وہب سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ریت کی گرمی کی شکایت کی تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ فرمایا۔ زہیر نے کہا: میں نے ابواسحاق سے پوچھا: کیا ظہر کے بارے میں (شکایت کی؟) انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا اس کو جلدی پڑھنے (کی مشقت) کے بارے میں؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1406]
حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر گرمی کی حدت و تیزی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری شکایت کو دور نہ فرمایا۔“ زہیر کہتے ہیں: ”میں نے ابواسحاق سے پوچھا: کیا ظہر کی نماز کی شکایت کی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا جلد نماز پڑھنے کی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1406]
ترقیم فوادعبدالباقی: 619
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 620 ترقیم شاملہ: -- 1407
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ جَبْهَتَهُ مِنَ الأَرْضِ، بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم گرمی کی شدت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ سکتا تو اپنا کپڑا پھیلا کر اس پر سجدہ کر لیتا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1407]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ”ہم گرمی کی شدت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ سکتا تو اپنا کپڑا پھیلا کر اس پر سجدہ کر لیتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1407]
ترقیم فوادعبدالباقی: 620
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
34. باب اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ:
باب: عصر اول وقت پڑھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 621 ترقیم شاملہ: -- 1408
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي، فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ "، وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ: فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا: لیث نے ہمیں ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز (ایسے وقت میں) پڑھتے تھے جب سورج بلند اور زندہ (روشنی میں کمی کے بغیر) ہوتا تھا، عوالی کی طرف جانے والا (عصر پڑھ کر) چلتا اور عوالی (مدینہ کے بالائی حصے کی بستیوں میں) پہنچتا تو سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔ یہ بستیاں مدینہ سے دو تا آٹھ میل کی مسافت پر تھیں۔ قتیبہ نے (اپنی حدیث میں) عوالی پہنچنے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1408]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ ”سورج بلند اور زندہ ہوتا تھا، پس عوالی کی طرف جانے والا (عصر پڑھ کر) چلتا تھا تو وہ عوالی ایسے وقت میں پہنچ جاتا تھا کہ آفتاب ابھی بلند ہوتا تھا“ اور قتیبہ رحمہ اللہ نے عوالی پہنچنے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1408]
ترقیم فوادعبدالباقی: 621
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 621 ترقیم شاملہ: -- 1409
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، بِمِثْلِهِ سَوَاءً.
عمرو نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے (آگے) بالکل (اوپر کی) روایت کے مطابق ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1409]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1409]
ترقیم فوادعبدالباقی: 621
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 621 ترقیم شاملہ: -- 1410
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ، فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ".
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم عصر کی نماز پڑھتے تھے، پھر جانے والا قباء جاتا، ان لوگوں کے پاس پہنچتا اور سورج ابھی اونچا ہوتا۔ (قباء مدینہ سے دو میل کی مسافت پر ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1410]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”ہم عصر کی نماز پڑھتے تھے، پھر قباء جانے والا جاتا اور وہاں اس وقت پہنچتا جبکہ آفتاب ابھی بلند ہوتا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1410]
ترقیم فوادعبدالباقی: 621
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة