صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
38. باب بَيَانِ أَنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ:
باب: مغرب کا اول وقت غروب شمس سے ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 637 ترقیم شاملہ: -- 1441
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ: " كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا، وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ ".
ولید بن مسلم نے کہا: ہم سے اوزاعی نے حدیث بیان کی، کہا: ہم سے ابونجاشی نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تو ہم میں سے کوئی شخص لوٹتا اور وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہیں دیکھ سکتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1441]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھ کر واپس پلٹتے تو ہم میں سے کوئی بھی اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1441]
ترقیم فوادعبدالباقی: 637
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 637 ترقیم شاملہ: -- 1442
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ بِنَحْوِهِ.
شعیب بن اسحاق دمشقی نے اوزاعی سے سابقہ سند کے ساتھ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: ہم مغرب کی نماز ادا کرتے (آگے پچھلی حدیث کی طرح ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1442]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1442]
ترقیم فوادعبدالباقی: 637
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
39. باب وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا:
باب: عشاء کا وقت اور اس میں تاخیر کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 638 ترقیم شاملہ: -- 1443
وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَهِيَ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: " نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ: مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلَامُ فِي النَّاسِ "، زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تَنْزُرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّلَاةِ، وَذَاكَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ.
عمرو بن سواد عامری اور حرملہ بن یحییٰ دونوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے خبر دی کہ انہیں ابن شہاب نے خبر دی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز خوب اندھیرا ہونے تک مؤخر فرمائی اور اسی نماز کو عتمہ (گہری تاریکی کے وقت کی نماز) کہا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس وقت تک) گھر سے نہ نکلے یہاں تک کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: (مسجد میں آنے والی) عورتیں اور بچے سو گئے ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور نکل کر مسجد کے حاضرین سے فرمایا: ”اہل زمین میں سے تمہارے سوا اس نماز کا اور کوئی بھی انتظار نہیں کر رہا۔“ اور یہ لوگوں میں (مدینہ سے باہر) اسلام پھیلنے سے پہلے کی بات ہے۔ حرملہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ ابن شہاب نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے مناسب نہ تھا کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے لیے اصرار کرتے۔“ یہ تب ہوا جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے پکارا۔ (انہوں نے غالباً یہ سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں یا سو گئے ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1443]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کسی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز، جسے «الْعَتَمَةُ» کے نام سے پکارا جاتا ہے، کے لیے آنے میں تاخیر کر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نہ نکلے حتیٰ کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”(مسجد میں آنے والی) عورتیں اور بچے سو گئے ہیں“، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور نکل کر مسجد کے حاضرین سے فرمایا: ”اہل زمین سے تمہارے سوا اس نماز کا کوئی بھی منتظر نہیں ہے۔“ یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ ابھی لوگوں میں اسلام نہیں پھیلا تھا، حرملہ نے اپنی روایات میں ابن شہاب سے یہ اضافہ بیان کیا: مجھے بتایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے روا نہ تھا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے لیے اصرار کرتے“، یہ اس وقت فرمایا جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے پکارا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1443]
ترقیم فوادعبدالباقی: 638
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 638 ترقیم شاملہ: -- 1444
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الزُّهْرِيِّ، وَذُكِرَ لِي وَمَا بَعْدَهُ.
عقیل نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی لیکن اس میں زہری کا قول: «وذکر لی» (مجھے بتایا گیا) اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1444]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں زہری رحمہ اللہ کا حرملہ رحمہ اللہ والا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1444]
ترقیم فوادعبدالباقی: 638
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 638 ترقیم شاملہ: -- 1445
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ كلاهما، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالُوا جَمِيعًا: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ، وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى، فَقَالَ: إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي "، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: لَوْلَا أَنَّ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي.
محمد بن بکر، حجاج بن محمد اور عبدالرزاق، سب کے الفاظ باہم ملتے جلتے ہیں۔ سب نے کہا: ابن جریج سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے مغیرہ بن حکیم نے ام کلثوم بنت ابی بکر سے خبر دی کہ انہوں نے انہیں (مغیرہ کو) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے خبر دی، انہوں نے کہا: ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دیر کر دی یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا اور اہل مسجد سو گئے، پھر آپ باہر تشریف لے گئے، نماز پڑھائی اور فرمایا: ”اگر (مجھے) یہ (ڈر) نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈالوں گا تو یہی اس کا (بہترین) وقت ہے۔“ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے: ”اگر یہ (ڈر) نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے مشقت کا سبب بنے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1445]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات دیر کر دی، حتیٰ کہ رات کا کافی حصہ گزر گیا، حتیٰ کہ اہل مسجد سو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لا کر نماز پڑھائی اور فرمایا: ”یہی اس کا بہتر وقت ہے، اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا ڈر نہ ہوتا۔“ اور عبدالرزاق کی حدیث میں «أَنْ أَشُقَّ» کی بجائے «أَنْ يَشُقَّ» ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1445]
ترقیم فوادعبدالباقی: 638
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 639 ترقیم شاملہ: -- 1446
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا وَقَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا: جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا، حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ، فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ، أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ، فَقَالَ حِينَ خَرَجَ: " إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِرُونَ صَلَاةً، مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ، وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي، لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ "، ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى ".
حکم نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک رات ہم عشاء کی آخری نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، جب رات کا تہائی حصہ گزر گیا یا اس کے (بھی) بعد آپ تشریف لائے، ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کو گھر والوں (کے معاملے) میں کسی چیز نے مشغول رکھا تھا یا کوئی اور بات، جب آپ باہر آئے تو فرمایا: ”بلاشبہ تم ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو جس کا تمہارے سوا کسی اور دین کے پیروکار انتظار نہیں کر رہے، اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے گراں ہو گا تو میں انہیں اسی گھڑی میں (یہ) نماز پڑھایا کرتا۔“ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے اقامت کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1446]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات ہم عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں رکے رہے، تو رات کا تہائی گزرنے پر یا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، ہمیں معلوم نہیں کہ گھر کی کوئی مشغولیت تھی یا کچھ اور تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکل کر فرمایا: ”بے شک تم ایسی نماز کے انتظار میں ہو کہ کسی اور دین والے اس کے منتظر نہیں، اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے گرانی کا سبب ہو گا تو میں انہیں اسی گھڑی نماز پڑھایا کرتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے نماز کے لیے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1446]
ترقیم فوادعبدالباقی: 639
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 639 ترقیم شاملہ: -- 1447
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً فَأَخَّرَهَا، حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ اللَّيْلَةَ، يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ ".
ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھے نافع نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کسی بنا پر) اس (عشاء کی نماز) سے مشغول ہو گئے، آپ نے اسے مؤخر کر دیا یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر آپ (گھر سے) نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”آج رات تمہارے سوا اہل زمین میں سے کوئی نہیں جو نماز کا انتظار کر رہا ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1447]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے مشغول ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیر کر دی، حتیٰ کہ ہم مسجد میں سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”آج رات تمہارے سوا اہل زمین سے کوئی اس نماز کا انتظار نہیں کر رہا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1447]
ترقیم فوادعبدالباقی: 639
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 640 ترقیم شاملہ: -- 1448
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسًا ، عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، أَوْ كَادَ يَذْهَبُ شَطْرُ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ، مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ "، قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ، وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُسْرَى بِالْخِنْصِرِ.
ثابت سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر (یا انگوٹھی) کے بارے میں پوچھا تو (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز آدھی رات تک مؤخر کی یا آدھی رات گزرنے کو تھی، پھر آپ تشریف لائے اور فرمایا: ”بلاشبہ (دوسرے) لوگ نماز پڑھ چکے اور سو چکے، اور تم ہو کہ نماز ہی میں ہو جب تک نماز کے انتظار میں بیٹھے ہو۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا: جیسے میں (اب بھی) آپ کی چاندی سے بنی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں اور انہوں نے بائیں ہاتھ کی انگلی اٹھاتے ہوئے چھوٹی انگلی سے (اشارہ کیا کہ انگوٹھی اس میں تھی۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1448]
حضرت ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز آدھی رات تک مؤخر کی، یا آدھی رات گزرنے کو تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہیں اور تم نماز ہی میں تصور ہو گے جب تک نماز کے انتظار میں بیٹھے رہو گے۔“ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا، گویا کہ ابھی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں، اور انہوں نے بائیں ہاتھ کی چھنگلی اٹھا کر اشارہ کیا کہ انگوٹھی اس میں تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1448]
ترقیم فوادعبدالباقی: 640
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 640 ترقیم شاملہ: -- 1449
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " نَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، حَتَّى كَانَ قَرِيبٌ مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ فِي يَدِهِ مِنْ فِضَّةٍ ".
ابوزید سعید بن ربیع نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں قرہ بن خالد نے قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا حتی کہ آدھی رات کے قریب (کا وقت) ہو گیا، پھر آپ آئے اور نماز پڑھائی۔ پھر آپ نے ہماری طرف رخ فرمایا، ایسا لگتا ہے کہ میں (اب بھی) آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں، وہ آپ کے ہاتھ میں تھی، چاندی کی بنی ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1449]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ہم نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا، حتیٰ کہ وقت آدھی رات کے قریب ہو گیا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف توجہ فرمائی، گویا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1449]
ترقیم فوادعبدالباقی: 640
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 640 ترقیم شاملہ: -- 1450
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ.
عبیداللہ بن عبدالمجید حنفی نے قرہ سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی اور یہ بیان نہ کیا: ”پھر آپ نے ہماری طرف رخ فرمایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1450]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں لیکن اس میں یہ نہیں بیان کیا کہ ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1450]
ترقیم فوادعبدالباقی: 640
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة